Episode 93 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 93 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
”عادلہ! تم بزی تو نہیں ہو؟“ عائزہ نے بہت خوش گوار لہجے میں اس سے دریافت کیا تھا جو چیئر پر اداس سی بیٹھی تھی۔ ”کوئی خاص مصروفیت تو نہیں ہے مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟“
”پھر میرے ساتھ چلو آج تم۔“ وہ اس کے قریب بیٹھ گئی۔
”کہاں چلوں بھئی؟“ عادلہ کے لہجے میں خودبخود بے زادی امڈ آئی۔
”اوہ! جیسے جانتی نہیں ہو میں کہاں جا سکتی ہوں؟“ عادلہ کی طرف دیکھ کر وہ بھی طنزیہ لہجے میں گویا ہوئی۔

”میں نے تم کو منع کیا تھا میں نہ وہاں جاؤں گی اور نہ تم کو جانے دوں گی یاد آیا تم کوَ“
”اوہ! بھر م دے رہی ہو؟ جیسے میں ڈر جاؤں گی تم سے۔“ عائزہ استہزائیہ انداز میں اس کو گھوڑتے ہوئے گویا ہوئی۔
”پہلے وہ طغرل راہ کا پتھر بنا ہوا تھا ور اب تم اس کی جگہ لوگی……ہو نہہ یہ تمہارے لیے ممکن نہیں ہے۔

(جاری ہے)

”تمہارے لیے راستہ کلیئر ہے تو جاؤ پھر میرا دماغ کیوں خراب کر رہی ہو۔

“ عادلہ نے بے پروائی سے کہا۔
”عادلہ پلیز میرا موڈ آف مت کرو راحیل سے ملے ایک عرصہ گزرا گیا ہے وہ بار بار کال کر رہا تھا وہ مجھ سے ملنا چاہتا تھا اور میں بہت کوشش کے باوجود بھی اس سے ملنے نہ جا سکی اس نے ناراض ہو کر مجھ سے بات کرنا ہی چھوڑ دی اب نہ اس کی کال آتی ہے اور نہ ہی میسج یہ اس کی ناراضگی کی انتہا ہے۔“ وہ اس کی طرف دیکھ کر منت بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔

”چلو اچھا ہے اس طرح تمہاری اس سے جان چھوٹ گئی ویسے بھی اس میں ایسی کوئی اسپیشلیٹی نہیں جو اس سے دوری کا فسوس کیا جائے وہ بہت بد کردار اور بددماغ شخص ہے۔“
”شٹ اپ عادلہ! اگر میں تم سے نرمی سے بات کر ہی ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو منہ میں آئے وہ بکتی چلی جاؤ۔“ عائزہ نے تلملا کر کہا۔
”عائزہ! ہوش میں آؤ تمہاری منگنی ہو چکی ہو اور مما کی کوشش ہے وہ جلد از جلد تمہاری شادی سے فارغ ہو جائیں اور ایک تم ہو جو ابھی تک راحیل جیسے فلرٹ سے توقعات وابستہ کرکے بیٹھی ہو۔

“ عادلہ بے حد نرمی سے اسے سمجھانے کی سعی میں مصروف تھی۔
”میں نے تم سے کوئی ایڈوائز نہیں مانگی ہے اور نہ ہی تم دادی جان کی طرح نصیحتیں کرتی اچھی لگ رہی ہو۔“
”پھر مجھ سے یہ توقع بھی مت کرو میں تمہارے ساتھ جاؤں گی۔“ عادلہ نے اس کی ہٹ دھرمی دیکھ کر اٹل لہجے میں کہا۔
”تو مت جاؤ میں تمہارے آگے ہاتھ بھی نہیں جوڑوں گی ہو نہہ! بڑی پارسا سمجھ رہی ہو خود کو۔

پہلے طغرل کو الو بنانے کی کوشش کرتی رہیں اس نے منہ نہیں لگایا تو اب شیری کے لیے جال بچھا رہی ہو یہ یاد ہے تم کو؟“
”یہ سب میں ممی کے کہنے پر کرتی ہوں ممی گائیڈ کرتی ہیں مجھے تمہاری طرح میں چھپ کر نہیں کرتی کچھ بھی۔“ عادلہ نے مسکرا کر اطمینان سے جتایا۔
”یہاں ہی تو ممی کا دو غلا پن مجھے ہرٹ کرنے لگتا ہے وہ تم کو کچھ کہتی ہیں بلکہ مدد کرتی ہیں اور پھر بھی کامیاب نہیں ہوتی ہیں۔

“ اس نے گہری طنزیہ لہجے میں کہا۔
###
بدلتے موسم کی خوش گوار شام تھی۔ کچھ دیر قبل تیز بارش ہلکی پھلکی پھوار میں بدل گئی تھی۔ گلابی شام سیاہ بادلوں کی اوٹ میں گم ہو گئی تھی۔ خوش گوار ہوا کے جھونکے پھولوں کی مہک سے بوجھل دل کو ایک گونہ سکون عطا کر رہے تھے۔ وہ چائے کا بھاپ اڑاتا کپ تھامے کھڑکی سے نیچے لان میں دیکھ رہی تھی معاً اس کی سماعتوں میں بھاری سحرا نگیز آواز گونجی تھی۔

”پارس! تم یہاں بیٹھی ہو اور باہر اتنی زبردست بارش ہو رہی ہے بہت اچھا لگ رہا ہے۔“ و اس کے پاس آکر بولا۔
”مجھے بارش اچھی نہیں لگتی۔“
”کیا کہا تم نے؟ ذرا دوبارہ کہنا؟“ وہ حیرت سے اچھل پڑا تھا۔
”میں نے کہا مجھے بارش اچھی نہیں لگتی یہ کوئی ایسی انوکھی بات تو نہیں ہے جو آپ کی حالت ایسی ہو گئی ہے گویا ابھی آپ حیرت سے فوت ہو جائیں گے طغرل بھائی!“ طغرل کو پاکستان آئے چند دن ہوئے تھے اور آتے ہی اس نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا تھا ور دوسرے اسے اپنے کمرہ بدر ہونے کا گہرا دکھ لگا تھا اس لیے طغرل کو اس نے کرارا سا جواب دیا تھا۔

”میں تمہاری کسی بھی اسٹوپڈ بات کو مائنڈ نہیں کروں گا کیونکہ میں جانتا ہوں تمہاری اپراسٹوری آلو یز کلین رہی ہے۔“ کہتے ہوئے اس نے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑا اور زبردستی باہر لے جانے لگا مگر پری کی تمام مزاحمت بے کار ہی رہی تھی۔
”چھوڑیں مجھے طغرل بھائی!“ وہ غصے سے چیخی تھی۔
”لان میں سب بارش انجوائے کر رہے ہیں اور تم بلاوجہ غم کی تصویر بنی کمرے میں قید ہو۔

“ وہ مزے سے کہتا ہوا اسے لان کی طرف لے کر جا رہا تھا۔
”آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر اپنی مرضی مسلط کرنے والے؟“ اس کی گرفت میں خود کو بے دست وپامحسوس کر کے وہ جھنجلائی۔
”تمہارا خیر خواہ! کبھی بارش میں تنہا ہو گی تو معلوم ہو گا تم کو میں کون ہوں؟“ ہوا کا تیز جھونکا تیز پھوار کے کئی قطرے اس کے چہرے پر اچھال گیا اور وہ چونک کر سوچوں سے حال میں آئی تھی۔

”اوہ! یہ کیا ہوا آج طغرل بھائی کی یاد کس طرح میرے دل میں جاگی……کیوں یاد آئے وہ اور میں اس وقت کیوں خود کو تنہا اور اداس محسوس کر رہی ہوں……؟“ وہ حیران تھی طغرل کی یاد کیوں آئی تھی؟ چند لمحے وہ خود سے پوچھتی رہی مگر جواب ندارد اس نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا مگ آگے بڑھ کر ٹیبل پر رکھا جو ہوا سے ٹھنڈا ہو چکا تھا، ذہن پر عجیب سی کسلمندی طاری ہو گئی تھی۔

اس کیفیت کو وہ سمجھ ہی نہ سکی تھی۔ معادروازہ ناک کرکے ملازمہ اندر آئی جس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔
”آپ کی کال آرہی ہے۔“ اس نے موبائل پری کی طرف بڑھایا جو وہ نانو سے باتوں کے دوران ان کے روم میں بھول آئی تھی۔
”شکریہ۔“ پری نے موبائل لیتے ہوئے کہا۔ اسکرین پر نمبر دیکھ کر وہ بے ساختہ بڑبڑائی تھی۔
”نام لیا اور شیطان حاضر۔

‘ اس نے کال ریسیوکی اور دوسری طرف سے اس کے سلام کے جواب میں پوچھا گیا۔
”پارس! کہاں ہو تم؟“ لہجہ بے حد سنجیدہ تھا۔
”نانو کے ساتھ ہوں۔“
”کیا مقصد ہے اس کا نانو کے ساتھ ہوں؟“ اس کے سنجیدہ لہجے میں خفگی بھی شامل ہو گئی تھی۔
”کیا مطلب ہے آپ کا طغرل بھائی! میں نانو کے گھر آئی ہوں۔“
”پورے ویک اینڈ سے میں سن رہا ہوں تم کس کی اجازت سے یہاں آئی ہو؟ اور آکر یہاں بیٹھ گئی ہو۔

”دادی جان کی اجازت سے یہاں آئی ہوں میں۔“
”تم کو دادی کا خیال نہیں ہے؟ وہ اکیلی محسوس کر رہی ہوں ں گی ان کی طبیعت بھی نارمل نہیں رہتی ہے تم کو سب معلوم ہے پھر بھی تم وہاں چیونگم کی طرح چپک کر رہ گئی ہو۔“ وہ بڑے استحقاق بھرے لہجے میں رعب جھاڑ رہا تھا۔
‘’دادی کے پاس ممی اور پاپا کے علاوہ عادلہ اور عائزہ بھی موجود ہیں دادی سب کی موجودگی میں تنہائی کیوں محسوس کریں گی۔

“ پری بھی غصے سے گویا ہوئی تھی۔
”تم اچھی طرح جانتی ہو دادی تمہاری جگہ کسی کو نہیں دیتی ہیں اور شاید وہ لوگ ڈیزرو بھی نہیں کرتیں یہ سب کہ تمہاری جگہ ان کو دی جائے۔“ اس کے لہجہ میں کچھ نرمی درآئی تھی جب کہ پری بے اعتنائی سے بولی۔
”یہ دادی کی مرضی ہے اور میں ان کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتی اور نہ ہی یہ پسند کرتی ہوں کہ کوئی میری زندگی میں خوامخواہ دخل اندازی کرنے کی کوشش کرے۔

”رئیلی! تم خود کسی کی زندگی میں دخل اندازی کرو اور کسی کی لائف کو اتنا بے رنگ کردو کہ زندگی پھر زندگی نہ لگے۔“اس کا بھاری لہجہ ایک آنچ سی دینے لگا تھا۔
”کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ سمجھ نہیں آرہی ہے مجھے۔“ طغرل کا مدھم لہجہ اس کی سماعتوں سے ٹکرایا تھا، پہلی بار اس کے دل کی دھڑکنیں عجیب انداز میں بے ترتیب ہوئیں اور لہجہ لرزاں ہوا تھا وہ بے اختیار بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔

”آئی مس یو پارس! مجھے یہاں کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے، کیا تم کو میری یاد آرہی ہے؟“ اس کے بوجھل انداز میں ایک میٹھا میٹھا درد تھا کچھ شوخی تھی۔
”مجھے آواز نہیں آرہی ہے آپ کی۔“ وہ انجانے احساسات کا شکار ہوئی۔ اس کو جذباتی دیکھ کر پری نے جھوٹ بولا۔
”اوہ! آواز نہیں آرہی یا تم سننا نہیں چاہتی؟ خیر یہ باتیں جلد از جلد سننا شروع کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہے بلکہ میرے لیے تو بے حد اچھا ہے اب تم فوراً یہاں سے دادو کے پاس جانے کی تیار کرواو کے ٹیک کیئر۔

“ اس کے سنجیدہ لہجے میں ایک دم ہی شوخی درآئی تھی۔ پری نے موبائل بیڈ پر رکھا اور پھر کتنی دیر تک گم صم انداز میں وہ دل کی بے تربیت دھڑکنوں کو سنتی رہی تھی۔
”اوہ! آج یہ دل کی دھڑکنیں اتنی بے ترتیب کیوں ہو رہی ہیں؟ کیا ہوا ہے یہ اپنے آپ پر چھائی اداسی کا تنہائی کا دکھ مجھے کیوں طغرل بھائی کے لہجے میں محسوس ہوا ہے؟“
###
”ارے آپ؟“ عادلہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔

”ارے آپ اس قدر حیران کیوں ہو رہی ہیں؟“ شہریار عادلہ کو ازحد حیران دیکھ کر شوخی سے گویا ہوا تھا۔
”اوہ سوری! آئیے آئیے پلیز۔“ عادلہ کہتی ہوئی لیونگ روم کی طرف بڑھی اور دروازہ کھول کر اسے اندر آنے کا کہا۔
”بائی داوے میں یہاں دادی جان سے ملنے آیا ہوں ملاقات ہو سکتی ہے ان سے؟ میرا مطلب ہے وہ گھر پر موجود ہیں؟“ وہ بیٹھا نہیں تھا کھڑے کھڑے اس نے مدعا بیان کیا۔

”جی میں نے یہ کب کہا کہ آپ مجھ سے ملنے آئے ہیں آپ تشریف تو رکھیں دادی سے بھی آپ کی ملاقات ہو جائے گی۔“ اس نے لفظ جما کر مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکراتے ہوئے بیٹھ کر گویا ہوا۔
”شاید آپ مائنڈ کر گئی ہیں میرا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔“
”خیر چھوڑیں میرے مائند کرنے نہ کرنے سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے یہ بتائیں کیا لیں گے آپ؟“ عادلہ کے لہجے میں شکایت درآئی تھی، جس کا شیری پر کوئی اثر نہ ہوا تھا وہ ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے بولا۔

”جو دادی جان پئیں گی میں بھی وہی پیوں گا۔ آنٹی کیا مصروف ہیں؟ انکل تو ڈیڈ کے ساتھ آفس میں ہیں۔“
”ممی گھر پر نہیں ہیں وہ عائزہ کے ساتھ آنٹی کے ہاں گئی ہیں اگر آپ انفارم کر دیتے آنے کا تو ممی بالکل نہیں جاتیں۔ “ وہ اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے گویا ہوئی۔
”بہت نائس لیڈی ہیں صباحت آنٹی! میری وجہ سے ان کا پروگرام برباد ہو یہ مجھے کچھی پسند نہیں ہوتا۔

اب تو دادی جان سے ملنے آتا رہا کروں گا پھر آنٹی سے بھی ملاقات ہوتی رہے گی۔“ اس نے پراعتماد اندازمیں آئندہ کا لائحہ عمل بھی بتا دیا تھا۔
”ہاں کیوں نہیں۔“ عادلہ جبرامسکرائی تھی۔ اس کے اندر حسد و نفرت کی سرد آگ مزید بھڑک اٹھی تھی۔ وہ جانتی تھی اس کی آمد کی وجہ دادی جان کی ذات ہرگز نہیں ہے وہ پری کی طلب میں یہاں کھنچا کھنچا آرہا ہے۔

”دادی جان مصروف ہیں کیا اس وقت؟“
”بہت بے قرار ہو رہے ہیں دادی جان سے ملنے کے لیے بہت محبت ہو گئی ہے ان سے آپ کو۔“ وہ ذومعنی لہجے میں بولی۔
”ہوں کچھ ایسا ہی معاملہ ہے محبت ہو گئی ہے مجھے۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس کی آنکھوں میں پری کا عکس تھا۔
”کس سے……؟“
”بتایا تو ہے ابھی دادی جان سے۔“ وہ پکڑ میں آنے والا نہ تھا۔

”دراصل عصر سے مغرب تک دادی جان عبادت کرتی ہیں اس دوران وہ کسی سے ملنا پسند نہیں کرتیں۔ اب وہ مغرب کی نماز سے فارغ ہونے والی ہیں میں آپ کو ان کے روم میں لے جاؤں گی تب تک آپ کولڈڈرنک پئیں۔“ وہ کہہ کر وہاں سے نکل آئی تھی تا کہ ملازمہ سے کہہ کر کولڈڈرنگ منگوائے اور اس کے جاتے ہی شیری پری سے کچھ دیر قبل ہونے والی ملاقات کے تصور میں گم ہو گیا۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط