Episode 96 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 96 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
”نانو جان! میں گھر واپسی جا رہی ہوں۔“ وہ چائے پی کر فارغ ہو کر عشرت جہاں سے گویا ہوئی۔
”اتنے عرصے بعد آئی ہو ٹھہر جاؤ، ابھی چند دن اور بیٹا!“
”دادی کی طبیعت بہتر نہیں ہے، گھٹنوں کے دردنے بہت بے چین کیا ہوا ہے، ان کو اٹھنے بیٹھے میں تکلیف ہو رہی ہے۔“
”جوڑوں کے درد کی وہ پرانی مریضہ ہیں اور اسپیشلی ونٹر میں تو بے حد تکلیف دیتی ہے یہ بیماری، اچھا ہے ان کے لیے جو آپ اتنا ان کا خیال رکھتی ہیں۔

“ مثنیٰ نے پری کو ستائشی نگاہوں سے دیکھا تھا۔
”دادی بھی میرا بے حد خیال کرتی ہیں مما! وہ مجھ سے اتنی محبت کرتی ہیں کہ میری حمایت میں عامرہ پھپو اور آصفہ پھپو کو بھی بے بھاؤ کی سناتی ہیں اور وہ دادی سے اسی بات پر ناراض ہوتی ہیں۔“ وہ مسکرا کر بتاتی ہوئی اپنے روم کی طرف جاتے ہوئے گویا ہوئی۔

(جاری ہے)

”میں اپنا سامان پیک کرتی ہوں نانو! آپ شوفر کو کہیں مجھے ڈراپ کر آئے رات سے پہلے میں گھر جانا چاہتی ہوں۔

”ٹھیک ہے پری! میں شوفر سے کہتی ہوں۔“ وہ ڈائننگ روم سے چلی گئیں ملازمہ نے ٹیبل سے برتن اٹھانا شروع کیے تو مثنیٰ جو کرسی پر بیٹھی سوچوں میں گم تھیں وہاں سے پری کے پاس چلی آئیں پری نے بیگ میں کپڑے اور دیگر سامان رکھتے ہوئے ایک نگاہ ان کی طرف دیکھا تھا وہ اس کو ہی دیکھ رہی تھیں۔
”کیا ہوا مما! آپ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہی ہیں؟“
”آپ مجھ سے ابھی بھی خفا ہیں پری؟“ زپ بند کرتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے، مثنیٰ کے لہجے میں ایک گہرادرد تھا۔

وہ درد جو اس کے وجود کا ایک حصہ بن گیا تھا۔ اس نے ان کی طرف دیکھا جہاں چہرے کے نقوش میں یا سیت تھی، دکھ کی ایک ایسی کسک جو سنجیدگی بن کر ان کے وجود پر چھاگئی تھی۔
پچھتاوے کی ایک ایسی آنچ جو نمی بن کر اکثر ان کی آنکھوں میں رہتی تھی اور یہی یا سیت، ایسی ہی کسک، ایسی ہی آنچ دیتی ہوئی نمی اس نے اپنے پاپا کے چہرے پر اور ان کی آنکھوں میں دیکھی تھی اور جس کا حصہ وہ بھی تھی، ان کے درد میں بڑا حصہ اس کا بھی تھا۔

”پری! میری جان……میری روح!“ مثنیٰ نے آگے بڑھ کر اس کے ساکت وجود کو سینے سے لگا لیا پہلی باران کی ممتا کا یہ پُر جوش اظہار تھا س سے قبل وہ چاہنے کے باوجود بھی اسے سینے سے لگانے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی تھیں ان کے درمیان جو خاموش تکلف بھری بے گانگی تھی وہ آج ان کیا اشکوں میں بہہ گئی دونوں ہی اپنے جذبات سنبھال نہ سکی تھیں۔
”میں آپ کو چھوڑنا چاہتی تھی اور نہ فیاض کو میں نے ہر ممکن سعی کی تھی تعلقات کو نبھانے، اپنے آشیا نے کو بچانے کی لیکن کچھ بھی نہ بچ سکا سب ٹوٹ کر اس طرح بکھرا کہ جڑنہ سکا۔

“ ان کے لہجے میں حسرتوں کے جلے ہوئے چراغوں کا دھواں تھا۔
”مما! کیا صرف یہی ریزن تھا آپ کا اور پاپا کی طلاق کا یا کوئی اور بھی وجہ تھی؟“ وہ آہستگی سے استفسار کر بیٹھی تھی۔
”یہی ریزن تھا بیٹا!وہاں فیاض کی ماں، بہنوں کی میں ناپسندیدہ تھی تو یہاں ممی اور آنٹی (صفدر کی ماں) فیاض کے خلاف محاذ تیار کر کے بیٹھے ہوئے تھے وہاں فیاض کی ماں اپنی بہن کی بیٹی صباحت کو ہر صورت فیاض کی بیوی بنانا چاہتی تھیں تو اس طرف مما اور آنٹی گویا قسم کھا کر بیٹھی تھیں کہ فیاض کی جگہ میری زندگی میں صفدر کو دلوا کر رہیں گی پھر بھیانک طریقوں سے سازشیں تیار ہوتی گئیں فیاض کو صفدر کی جانب سے شک وشبہے میں مبتلا کیا جانے لگا تو میری سماعتوں میں بھی صباحت کی جانب سے زہر بھرا جانے لگا، شروع شروع میں ہم ایک دوسرے پر یقین ہی نہ کرتے تھے مگر کب تک؟ مسلسل گرنے والا پانی کا قطرہ بھی پتھروں میں سوراخ کرکے کمزور بنا دیتا ہے پھر ہم تو انسان تھے نرم و نازک احساس رکھنے والے، ہماری محبت کی بنیاد بھی ایسی زہر آلود باتوں سے کمزور پڑنے لگی۔

”یہ کیسی محبت تھی مما! آپ نے اور پاپا نے دنیا سے ٹکرلے کر شادی کی اور پھر اتنی جلد لوگوں کی باتوں میں آکر جدا بھی ہو گئے۔ کیا محبت ایک دوسرے پر اعتبار نہ کرنے کا نام ہے؟ کیا محبت اس کو کہتے ہیں؟“ پری کے لہجے میں عجیب حیرانی تھی۔
”آپ نہیں سمجھو گی میری جان! اس جذبے کو ابھی۔“ وہ بھیگی آنکھوں سے مسکرائیں اور شوخ لہجے میں گویا ہوئیں۔

”جب محبت ہو گی کسی سے پھر معلوم ہوگا آپ کو محبت کس قدر بہادر بناتی ہے اور کس قدر کمزور بھی یہ اعتبار بھی بخشتی ہے اور بے اعتباری بھی یہ راحت بھی دیتی ہے اور تکلیف بھی۔“
”میں محبت نہیں کروں گی مما!“ وہ بے حد سنجیدگی سے بولی۔
”کیوں؟ محبت کے بغیر زندگی ادھوری ہوتی ہے پری۔“
”محبت کرکے بھی جب زندگی ادھوری ہی رہے تو مما۔

“ چند ساعتیں تو وہ کچھ کہہ ہی نہ سکیں کہ وہ سیدھے ان کی زندگی پر سچائی بیان کر رہی تھیں، کچھ توقف کے بعد گویا ہوئیں۔
”میری بہت ساری دعائیں ہیں آپ کے ساتھ بیٹا! آپ کی زندگی کبھی ادھوری نہیں ہو گی، آپ کی زندگی میں خوشیوں کے گلاب ہمیشہ مہکیں گے روشنیاں ساتھ رہیں گی آپ کے اور پھر مجھے توقع ہے فیاض کبھی بھی آپ کے لیے غلط فیصلہ نہیں کریں گے۔

”مجھے شادی نہیں کرنی ممی!“ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
”شادی نہیں کرنی ہے……مگر کیوں؟“ وہ متعجب ہوئیں۔
”یہ ضروری تو نہیں ہے کہ شادی کی جائے بہت سے لوگ ہوتے ہیں دنیا میں جو اپنی زندگی آزادی سے جیتے ہیں اور میں بھی اپنی زندگی دادی جان کی خدمت کرتے ہوئے گزارنا چاہتی ہوں۔“
###
ایک، دو، تین تواتر سے لوہے کی سلاخ راحیل کے سر پر پڑی تھی وہ عائزہ کو چھوڑ کر درد سے کراہتا ہوا پہلے گھٹنوں کے بل بیٹھا پھر سر پر پڑنے والی پے دریے ضربوں سے چکرا کر دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر گرتا چلا گیاتھا، تیزی سے نکلنے والے خون نے اس کے چہرے اور آسمانی رنگ کی شرٹ کو سرخ کر ڈالا تھا وہ فرش پر گرا ہوا درد سے تڑپ رہا تھا۔

عائزہ پہلے ہی اس کی بدلتی نیت سے شاکڈ تھی مستزاداس ملنے والی امداد غیبی پر کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی۔ اس کی نگاہیں ہاتھ میں سلاخ پکڑے کھڑی ایک بے حد دبلی پتلی عمررسیدہ خاتون پر تھیں جو خون میں لت پت راحیل کو تڑپتے ہوئے وحشت ودیوانگی بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”رات دن تماشہ کرتا تھا تو یہاں کتنا سمجھایا میں نے تجھے باز آجا اپنے گناہوں سے تو بہ کرلے، عورت کی عزت کرنا سیکھ، حرام سے باز آجا لیکن تو باز نہیں آیا تیری پرواز ہرگزرتے دن کے ساتھ بلند ہوتی گئی اور تجھے معلوم ہی نہ تھا۔

ایک حد قائم ہوتی ہے بلندی کی بھی جو اس حد سے تجاوز کرتا ہے اس کے پر ٹوٹ جاتے ہیں۔“ اس عورت کے کپڑے ملجگے اور سفید بال بے تماشا الجھے ہوئے تھے۔ ان کے انداز میں دیوانگی واشتعال انگیزی شامل تھی، وہ ہوش و خرد سے بے گانہ تڑپتے ہوئے راحیل سے لفظ جما جما کر کہہ رہی تھیں۔
”ماں……ماں!“ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

”ماں!“ وہ اسے گھورتے ہوئے قہقہے لگانے لگی تھی، ان کی نگاہ راحیل پر تھی اردگرد سے ان کو کوئی سروکار نہ تھا حتیٰ کہ کونے میں دیوار سے لگی عائزہ کو بھی وہ نہیں دیکھ رہی تھیں اور عائزہ نے اپنے حواس درست کرتے ہوئے اپنے کانپتے وجود کو آہستہ آہستہ باہر کی سمت دھکیلنا شروع کیا تھا۔
”میں تیری ماں نہیں ہوں، میں تیری ماں ہوتی تو تو مجھے رسیوں سے باندھ کر رکھتا؟“ تو مجھے روٹی سے پانی سے ترساتا تو مجھے مارتا؟ جانوروں جیسا سلوک کرتا میرے ساتھ……بول…… جواب دے؟“ وہ ہذیانی انداز میں کہہ رہی تھیں جب کہ راحیل کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔

فرش پر خون پھیلتا جا رہا تھا وہ عورت ہذیانی انداز میں بولے جا رہی تھیں۔ عائزہ نے اپنا پرس اٹھایا اور دبے قدموں وہاں سے نکل آئی۔
###
عادلہ……عادلہ! اری او عادلہ… کہاں بیٹھ گئی ہو جا کر؟“ خاصی دیر تک وہ پلٹ کر نہ آئی تو دادی آوازیں دینے لگیں۔
”اوہو! ہر وقت دادی کی خدمت میں حاضر رہو بس۔“ عادلہ شیری کی مدھ بھری باتوں میں گم لاؤنج میں بیٹھی مسکرا رہی تھی۔

معاًان کی کراری آوازوں نے اسے بڑبڑا نے پر مجبورکر دیا۔
”جی دادی!“ وہ ان کے کمرے میں آکر بولی۔
”تم تو شہریار کو گیٹ تک چھوڑنے گئی تھیں، گھنٹہ بھر ہو گیا پلٹ کر ہی نہیں آئی۔“
”وہ تو کب کے چلے گئے میں تو لاؤنج میں بیٹھی تھی۔“
”لڑکیوں کا خوامخواہ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر بیٹھنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، پری کو دیکھتی ہو کبھی اس طرح فارغ بیٹھے ہوئے؟ کسی نہ کسی کام میں لگی رہتی ہے ملازمہ کی موجودگی میں بھی۔

“ پری کے نام پر ان کے منہ میں شہد ساگھل گیا تھا۔
”مجھے کیا کرنا ہے یہ بتائیے دادی جان؟“ وہ جل کر بولی۔
”بیڈ شیٹ بدل دو پان لگاتے ہوئے کتھا گر گیا ہے۔“
”جی!ابھی بدلتی ہوں۔“ وہ منہ بناتی ہوئی دیوار گیر الماری کی طرف بڑھی تھی، جہاں ایک حصے میں پری نے ترتیب سے تہہ در تہہ بیڈ شیٹ رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے ایک بیڈ شیٹ اٹھائی تو ایک طرف رکھی کچھ فائلز کے نیچے اس کو ایک لفافہ دبا ہوا نظر آیا تھا۔

”دادی! کون سی بیڈ شیٹ نکالوں؟“ اس نے محتاط نگاہوں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے سرعت سے وہ لفافہ نکال کر اپنے سوئیٹر کی جیب میں ڈالا تھا۔ اماں جو صوفے پر بیٹھیں تسبیح پڑھ رہی تھیں ان کی نگاہ سے اس کی یہ حرکت اوجھل رہی تھی۔
”کوئی سی بھی نکال لے عادلہ!“ ان کا لہجہ نرم تھا۔
”دادی جان! میں آتی ہوں شاید کسی کا فون آرہا ہے۔

“ وہ دادی کا جواب سنے بغیر وہاں سے تیزی سے نکلی تھی اور تقریباً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آکر دروازہ لاکڈ کرنے کے بعد جیب سے وہ لفافہ کالا تھا اور اس کو بیڈ پر الٹ دیا تھا۔
”واؤ! یہ ہوئی نابات، مجھے ان کی ہی تلاش تھی۔“ وہ خوشی سے چہکی تھی بیڈ پر پری کی وہ فوٹو گراف تھیں جو شیری نے اتاری تھیں اور دادی اور پری کی ناراضگی پر مسنر عابدی وہ فوٹوز دادی کو دے گئی تھیں جس کی تلاش اس کو اور صباحت کو تب سے ہی تھی، پری کی موجودگی میں ان کو موقع نہیں ملا تھا ان فوٹوز کو حاصل کرنے کا ور قسمت سے آج عادلہ ان کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

”تھوڑا صبر کرو ابھی دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی ہوں پری صاحبہ! پہلے طغرل اور اب شیری کو بھی تم اپنی مٹھی میں جکڑ کر رکھنا چاہتی ہو۔ ہونہہ! میں شیری کو تم سے بچا لوں گی، خوا اس کی کوئی بھی قیمت مجھے ادا کرنی پڑے۔“ اس نے پری کی تصویروں کو نفرت سے دیکھتے ہوئے دوبارہ سمیٹا اور بیڈ کی سائیڈ دراز میں حفاظت سے رکھ دیں۔
”کہاں ہو بھئی تم؟“ وہ کمرے سے باہر آئی تو صباحت لاؤنج سے نکل کر اس طرف ہی آرہی تھیں عادلہ کو دیکھ کر وہ بولیں۔

”کمرے میں تھی ممی! آپ کب آئی ہیں؟“
”ابھی آئی ہوں عائزہ کو بلاؤ۔“ وہ خاصی ایکسائیٹڈ تھیں۔
”عائزہ…! گھر پر نہیں ہے ممی!“ وہ اٹکتے ہوئے گویا ہوئی۔
”گھر پر نہیں ہے؟“ وہ رک کر حیرانی سے گویا ہوئیں۔
”کہاں گئی ہے وہ……اور کس کے ساتھ؟“
”راحیل سے ملنے گئی ہے اور وہ بھی تنہا۔“ وہ بے پروا انداز میں بولی۔

”راحیل سے ملنے؟ اور تم نے جانے دیا، میں نے کتنی سختی سے منع کیا تھا وہ اب راحیل سے نہیں ملے گی پھر بھی تم نے روکا نہیں اس کو۔“ غم و غصے سے ان کی آواز بلند ہو کر رہ گئی تھی۔
”روکا تھا……مگر وہ مجھے کوئی اہمیت ہی کہاں دیتی ہے جو میری بات مان کر رک جائی میں نے روکنے کی بے حد کوشش کی مگر……“ وہ شانے اچکا کران کی پیروی میں تیز لہجے میں بولی تھی۔

”آہستہ بات کرو فاخر آیا ہے مجھے ڈراپ کرنے اگر اس نے کچھ سن لیا تو مسئلہ ہو جائے گا۔“ ا ن کو ابھی یاد آیا کہ فاخر اُن کے ساتھ آیا ہے۔
”فاخر بھائی آئے ہیں اور آپ اب بتا رہی ہیں۔“
”آتے ہی تو تم نے ایسی بات سنائی ہے جس سے دماغ الٹ کر رہ گیا ہے میرا، نامعلوم بیٹیاں ہیں یا سزائیں ہیں میرے لیے۔“ وہ بڑ بڑاتی ہوئی کچن کی طرف گئی تھیں اور عادلہ لاؤنج میں۔

”السلاعلیکم! فاخر بھائی کیسے ہیں آپ؟“ وہ لاؤنج میں داخل ہو کر بولی۔
”میں ٹھیک ہوں، تم سناؤ کیسی ہو؟ بہت بزی رہے لگی ہو گھر آنا ہی بھول بیٹھی ہو تم۔“ وہ جواب دے کر اس سے شکایت کرنے لگا تھا۔
”ایسی کوئی خاص مصروفیت تو نہیں ہوتی، جلد ہی آؤں گی آپ کے گھر یہ بتائیں پہلے کیا لیں گے آپ؟“ عادلہ کو اس کی خاطر ومدارات کا خیال آیا۔

”آنٹی زینب کے ہاں سے چائے پی کر آرہا ہوں، ممی کو لے کر گیا تھا وہاں صباحت آنٹی شوفر کا انتظار کر رہی تھیں، میں ان کو یہاں ڈراپ کرنے چلا آیا اور سوچا آج عائزہ سے بھی ملاقات کر لی جائے، بلاؤ تو اس کو میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔“
”آج سے پہلے تو آپ نے کبھی یہ خوہش کی نہیں ہے فاخر بھائی!“ اس کی غیر متوقع خواہش نے اس کے اوسان خطا کر ڈالے تھے وہ جبراً مسکرا کر شوخ لہجے میں گویا ہوئی۔

فاخر کے لب مسکراہٹ سے نا آشنا ہو رہے تھے۔
”دیر آیددرست آید۔ دیر ہی سہی مجھے خیال تو آیا اپنی فیانسی سے ملنے کا، تم دیر مت کرواب پلیز۔“
”اچھا میں دیر نہیں کروں گی، دراصل عائزہ گھر پر نہیں ہے۔“
”کہاں ہے وہ؟ تم گھر پر ہو دادی ہیں پھر انٹی میرے ساتھ آئی ہیں۔ پھر وہ کہاں ہے؟ میں جانتا ہوں ہماری فیملی اتنی ماڈ نہیں ہوئی ہے جو اپنی لڑکیوں کو گھر سے تنہا نکلنے کی اجازت دے دیں۔

“ اس کا لہجہ کسی حد تک سرد ہو گیا تھا۔
”وہ کہیں دور نہیں گئی ہے فاخر بھائی! سائیڈ میں جو فرینڈ ہیں ہمارے ان کے گھر گئی تھی شوفر کے ساتھ میں دیکھتی ہوں اسے۔“ عادلہ گویا جان چھڑا کر وہاں سے کچن میں آئی تھی۔
”ممی! مارے گئے لگتا ہے فاخر بھائی کو شک ہو گیا ہے وہ عائزہ سے ملنا چاہ رہے ہیں، حالاں کہ آج سے قبل ایسا نہیں ہوا تھا۔“
”تم مزید پریشان مت کرو مجھے اس نے پہلے بھی مجھ سے کہا تھا وہ عائزہ سے ملنا چاہتا ہے اور میں نے اس خوف سے کہ عائزہ کچھ الٹا سیدھانہ کہہ دے فاخر کو اسی لیے ٹالتی رہی تھی لیکن اب مجھے کچھ سوچنا ہی پڑے گا، عائزہ دن بہ دن ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے۔“ وہ اندر آتی عائزہ کو دیکھ کر سخت لہجے میں بولیں۔

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط