Episode 107 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 107 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
”میں نے کہا کار روکیں، میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی“وہ اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی تھی ۔ 
”میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی ، تم خوامخواہ بات بڑھارہی ہو۔ میرا یہ مقصد بالکل بھی نہیں تھا جو تم سمجھ رہی ہو، میں تمہارے اندر تبدیلیاں دیکھ کر بے حد خوش ہوں لاسٹ ٹائم میں یہاں سے گیا تھا تم ڈسٹرب تھیں، تمہاری پرسنالٹی میں کمپلیکس نظر آتا تھا“وہ نرمی سے اس کو سمجھانے لگا اور وہ بھی سیدھی ہوکر بیٹھ گئی میں جانتا ہوں، تم ان لوگوں سے کتنی محبت کرتی ہو، تم ان کے لیے برا چاہوگی میں یہ کبھی سوچ نہیں سکتا۔

 
”سوری طغرل بھائی! میں سمجھی آپ مجھے عائزہ …“
”پلیز کچھ مت کہو، میں جانتا ہوں تم کو بہت اچھی طرح سے“اس کے وجیہہ چہرے پر محبت تھی ۔ نگاہوں میں دیپ روشن ہونے لگے تھے عجیب سی لو تھی ان آنکھوں میں ، پری نے گھبرا کر نگاہیں جھکالیں۔

(جاری ہے)

دل تھا کہ بے ہنگم انداز میں دھڑکے جارہا تھا وہ غیر ارادی طور پر کچھ اور سمٹ کر بیٹھ گئی ۔ 

”ارے کیا گیٹ توڑ کر باہر نکلنے کا ارادہ ہے ؟“وہ اس کی طرف دیکھے بنا شوخی سے بولا۔

 
”ایزی ہوکر بیٹھ جاؤ، آدم خور ہر گز نہیں ہوں“جواباً وہ کچھ نہیں بولی، کچھ توقف کے بعد طغرل کی بھاری آواز اس خاموشی کے آئینے کو توڑتی ہوئی ابھری ۔ 
”پری…میں نے ڈیڈی سے بات کی ہے“
”کیسی بات ؟“وہ خود کو سنبھال چکی تھی ۔ 
”تم کو ان کی بہو بنانے کی“
”دماغ درست ہے آپ کا طغرل بھائی ؟“
ٍاس کے چہرے پر شدید ناپسندیدگی ابھری اور لہجہ سخت ہوگیا۔

 
”میری مرضی کے بغیر آپ یہ فیصلہ تنہا کس طرح کرسکتے ہیں ؟کس نے حق دیا ہے آپ کو میرے متعلق تاؤ سے بات کرنے کا؟کیا سمجھا ہوا ہے آپ نے مجھے بے سہارا…لاوارث؟کوئی نہیں کیا اس دنیا میں میرا جو آپ کو من مانی کرنے سے باز رکھ سکے ؟“
”پلیز…پلیز پارس! ایسی میں نے کون سی اسٹوپڈ بات کہہ دی ہے جس پر تم اپنا بھڑک رہی ہو لگتا ہے حسن مزاح بالکل ہی کھوچکی ہو اور میں کیوں تمہیں بے سہارا سمجھنے لگا ؟“اس کے مسکراتے وجیہہ چہرے پر ایک دم ہی غصے کی سرخی چھانے لگی تھی، جس کی آنچ اس کے بھاری لہجے میں نمایاں ہوئی ۔

 
”مجھ سے زیادہ تم رشتوں کے معاملے میں امیر ہو، مجھ سے زیادہ تم کو چاہنے والے موجود ہیں لیکن تم خود ترسی کا شکار ہوگئی ہو۔ تم کو اچھا لگتا ہے کہ سب تم پر ترس کھائیں کہ کتنی مظلوم ہو جو سوتیلی ماں کے ساتھ گزارہ کر رہی ہو۔ ماں کے ہوتے ہوئے بھی ان سے دور ہو، دادی کی خدمت کرکے زندگی گزار رہی ہو“
”وہ میری دادی ہیں ان کی خدمت کرنا میرا حق ہے، آپ فضول باتیں مت کریں تو بہتر ہے، مجھے اس طرح کی باتیں پسند نہیں“طغرل کے بگڑتے مزاج نے اس کے غصے پر دھاک بٹھادی تھی وہ نرمی سے گویا ہوئی۔

 
”مجھے پروا نہیں تم کو کس طرح کی باتیں پسند ہیں اور کس طرح کی نہیں مگر اپنی میموری میں فیڈ کرلو اس بات کو آئندہ مجھ سے اس لہجے میں بات مت کرنا“اس نے بھی لحاظ و مروت ایک طرف رکھ کر سخت لہجے میں کہا۔ 
”کیا کرلیں گے آپ ؟“وہ بھلا اس لہجے و انداز کی کہاں عادی تھی ۔ 
طغرل نے کوئی جواب نہیں دیا صرف ایک جلتی نگاہ اس کے سرخ چہرے پر ڈال کر ڈرائیونگ کرنے لگا۔

 
”خود کو بہت تیس مار خان سمجھتے ہیں آپ؟میں ڈرنے والوں میں سے نہیں ہوں اور نہ ہی ان لڑکیوں کی طرح ہوں جو شادی کرنا ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی ہیں“
”اٹس ویری انٹرسٹنگ!“طغرل کے چہرے پر دھوپ چھاؤں کی طرح غصہ اور شوخ طنز کے رنگ پھیلے وہ استہزائیہ لہجے میں گویا ہوا۔ 
”آپ کا ارادہ کنواری بی بی بننے کا ہے ؟شادی نہیں کریں گے آپ ؟دادی کی خدمت کرتے ہوئے زندگی گزارنے کا عزم ہے آپ کا ؟“
”ہاں …بالکل!،،اس نے سر سے پھسلتے ہوئے آنچل کو درست کرتے ہوئے سرد مہری سے جواب دیا، طغرل نے پھر کوئی بات نہیں کی وہ ہونٹ بھینچے ڈرائیو کرتا رہا اس کی آنکھوں میں سوچ کے سائے پھیل گئے تھے وہ اس لڑکی کی خاطر اپنی ذات کو فراموش کرچکا تھا۔

 
اس کی خاطر وہ بدل گیا تھا، اپنی شوخی، شرارتیں سب ہی تو بھول گیا تھا، اس کے اندر ایک بڑی دلفریب ، بے حدجاں فزاں لگن بیدار ہوچکی تھی ۔ اس بے حس و بے مروت لڑکی کو پانے، شریک سفر بنانے کی آروزو تھی کہ کسی خود رو پودے کی مانند جڑ مضبوط کرتی جارہی تھی اور ایک وہ تھی جو بے اعتنائی و سنگ دلی کی انتہاؤں پر تھی، اس کا دل پری کے رویے سے بری طرح دکھی ہوا تھا پھر اسی سنجیدگی اور بگڑے موڈ کے ساتھ وہ شاپنگ کے بلز ادا کرتا گیا۔

 
###
دلربا اس کے لیے ایک بڑی مصیبت ثابت ہوئی تھی غفران احمر کی ماہ رخ پر عناتیں اور چاہتیں اسے بہت پریشان و فکر مند کیے ہوئے تھیں جن کا اظہار وہ زبان سے نہیں کرسکتی تھی کہ اس کو اپنا انجام معلوم تھا اگر غفران تک ناپسندیدگی و حسد کی خبر پہنچ گئی تو وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوگا۔ اپنی زندگی کے خیال سے وہ غفران احمر کے سامنے ماہ رخ پر بہت مہربان رہتی تھی اس کے حسن کی تعریفیں کرتی اور اس کے دل کے حالت سے بے خبر غفران احمر اپنی اس پرانی محبوبہ کو بہت زیادہ اعلیٰ ظرف و وفادار سمجھتا تھا۔

 
ابھی بھی وہ کئی چکر غفران احمر کے بیڈ روم کے بند دروازے کے لگا چکی تھی ۔ ماہ رخ کے ساتھ غفران احمر جہاں موجود تھا یہ سوچ کر اس کے اندر انگارے سے دہکنے لگے تھے اور دل کر رہا تھا ماہ رخ کو کسی طرح جان سے مار کر پھینک دے اور اس کی جگہ خود لے لے ۔ 
”یہ سب کوئی نیا تو نہیں ہے دلبرا! سالوں سے ہم یہ سب دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں پھر اس بار تم کو کیا ہوا ہے جو تم دن رات بے چین و بے سکون رہنے لگی ہو ؟“ہاجرہ بھی غفران احمر کی لائی ہوئی عورتوں میں سے ایک تھی ۔

دلربا کو مضطرب پریشان دیکھ کر وہ اس سے پوچھنے لگی جو ابھی بیڈ پر آکر بیٹھی تھی ۔ 
”اس بار کچھ نیا ہی معاملہ ہے ہاجرہ، اس حرام خور بڈھے کی نیت سیر ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے مجھے، کئی ہفتے گزرنے کے باوجود بھی وہ اس چنڈال سے دور نہیں ہوا ہے ہر وقت اس بدبخت کا سایہ بنا رہتا ہے ، ایسا لگتا ہے جیسے اس کی محبت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اس حسین بلا سے“وہ ایک سانس میں بولتی چلی گئی ۔

 
”ارے وہ اس کی پاؤں کی جوتی بن بھی جائے تو ہمیں اس سے کیا ؟غفران احمر نہ کل ہمارا تھا، نہ آج ہمارا ہے ، نہ ہی کل ہمارا ہوگا یہ وہ بھنورے ہیں جو پھول پھول منڈلاتے ہیں، کہیں رکتے نہیں ہیں“
”میرا نام بھی دلربا ہے اس بھنورے کو اُڑنے نہیں دوں گی ۔ پر توڑدوں گی اس کے“اس نے ہذیانی انداز میں کہا۔ 
###
”اس دور کی اولادیں ماں باپ کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں ہیں شازمہ! بہت عجیب دور آگیا ہے نہ اپنی عزت کا پاس ہے اور نہ ماں باپ کی عزت و وقار کا خیال اور نہ ہی دوسروں کا فکر و خیال رکھا جارہا ہے ۔

”آپ بہت زیادہ اداس لگ رہی ہیں ممی! کیا پھر شیری نے کوئی ٹینشن کری ایٹ کی ہوئی ہے گھر میں ؟،،شازمہ نے مسز عابدی کی جانب دیکھتے ہوئے دریافت کیا۔ 
”کیا بتاؤں بیٹا! شیری کو یہاں آئے چھ ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور میں آج تک شیری کے مزاج کو نہیں سمجھ پائی ۔ صبح ان کا مزاج کچھ ہوتا اور شام کچھ“
”ڈونٹ وری ممی! آپ شیری کی فکر مت کیا کریں، وہ اب بچہ نہیں رہا اپنی حفاظت کرسکتا ہے اچھے اور برے کی تمیز ہے اس کو“
”میں جانتی ہوں شازمہ وہ بڑے ہوگئے ہیں مگر ان میں ابھی تک لاابالی پن موجود ہے وہ کسی چیز کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے“وہ شیری کے لیے بہت زیادہ فکر مند تھیں۔

 
”ممی تو آپ نے خود ہی ان کو بے بی بنایا ہوا ہے اس طرح وہ خود کو کیسے بڑا سمجھیں گے ؟آپ ایسا کریں ان کی شادی کردیں پھر دیکھیے گا کس طرح وہ ذمہ داریاں پڑنے پر ٹھیک ہوتا ہے“اس نے مسکراتے ہوئے ماں کو سمجھایا۔ 
”بابا کی شادی کرنے کا میرا بہت ارمان ہے اور میں نے ان کے لیے لڑکی بھی پسند کرلی ہے“وہ ایک دم ہی اس ذکر پر کھل اتھیں۔

 
”اوہ رئیلی ممی! کون ہے وہ لڑکی ؟“وہ پرجوش انداز میں بولی۔ 
”دیکھا ہے آپ نے اس کو، فیاض بھائی کی بیٹی ہے، پری بے حد اچھی لڑکی ہے بہت نائس اور چارمنگ ہے ۔“
”پری؟یہ وہی لڑکی ہے نا ممی! جس کی پارٹی میں شیری نے بلااجازت تصویریں اتار لی تھیں اور جب اس کو معلوم ہوا تو اس نے کتنا ہنگامہ کیا تھا ؟شیری پر کس قدر بگڑی تھی ؟،،شازمہ نے اپنے دماغ پر زور دیا تو پارٹی کے وہ مناظر اس کے ذہن کی اسکرین پر یکے بعد دیگرے حرکت کرنے لگے تھے ۔

 
”جی بیٹا! میں اس کی ہی بات کر رہی ہوں“
”مگر ممی! یک بات یاد رکھیے گا پری کو بہو بنانے سے پہلے آپ کو اچھی طرح سوچنا ہوگا، بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا“اس کے لہجے میں گہری سوچ کی پرچھائی تھی ۔ 
”یہ آپ کیوں کہہ رہی ہیں ؟پری فیاض بھائی کی بیٹی ہے ان کا فیملی بیک گراؤنڈ بے حد مضبوط ہے ۔ اعلیٰ عزت دار گھرانہ ہے پھر پری معصوم لڑکی ہے عام لڑکیوں سے بالکل مختلف ہے ذمہ دار و حساس محبت کرنی والی ہے اور مجھے پسند بھی ہے ۔

“مسز عابدی بیٹی کے انداز پر چونک کر گویا ہوئی تھیں۔ 
”رئیلی ممی! پری میں وہ تمام اچھائیاں موجود ہیں جو ہم چاہتے ہیں، میرے کہنے کا مقصد یہ ہے شیری نے بھی پری میں انٹرسٹ لیا ہے، پارٹی والے دن ہی اس کی آنکھوں میں پسندیدگی موجود تھی پھر اس رات ڈنر پر فیاض انکل کی فیملی میں پری کو ساتھ نہ دیکھ کر جو اس کا موڈ آف ہوا تھا وہ جس طرح دکھی ہوا تھا میں نے اور شمع نے شدت سے محسوس کیا تھا اور اب اس کا گاہے بگاہے فیاض انکل کے گھر جاتے رہنا، یہ سب ثابت کرتا ہے وہ پری سے کتنی شدید محبت کرتا ہے اور ایسے لڑکے شادی کے بعد صرف اور صرف بیوی کے غلام بن جاتے ہیں اور سب رشتوں کو فراموش کردیتے ہیں“
”اوہ! آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا شازمہ! یہ بھی کوئی سوچنے کی بات ہے بھلا! میرے لیے اس سے اچھی بات کیا ہوگی ؟میرے بیٹے و بہو بہت خوش و خرم زندگی گزاریں، خوش باش رہیں،،وہ سر ہلاتیں مسکرا کر گویا ہوئیں۔

 
”ممی! شیری ہمارا اکلوتا بھائی اور آپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ اگر ہم سے غافل ہوگیا ہم کو چھوڑ بیٹھا تو پھر کیا ہوگا ؟“
”بلاوجہ کے وسوسے دل میں نہ لاؤ بیٹا! پری پڑھی لکھی، اعلیٰ ظرف لڑکی ہے پھر وہ ایک اچھے رکھ رکھاؤ اور مخلص فیملی سے وابستہ ہے میں یقین سے کہہ سکتی ہوں وہ بہت پرخلوص اور قابل فخر بہو و بیوی ثابت ہوگی“
”بہت اعتماد ہے آپ کو اس پر ممی! چلیں تھوڑا صبر کریں ذرا میری نند پنکی کا معاملہ حل ہوجائے تو ڈیڈ سے بات کرتے ہیں“

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط