Episode 121 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 121 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
”شیری… شیری، کہاں گم رہنے لگے ہیں آپ؟“ مسز عابدی اس کو پکارتی ہوئیں روم میں آئی تھیں وہ خاموش بیٹھا ہوا فانوس کو تک رہا تھا اس کے انداز میں وحشت آمیز بے گانگی تھی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر وہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھیں۔
”شیری! کیا ہوا ہے آپ کو یہ کیا حالت بنا رکھی ہے طبیعت تو ٹھیک ہے میری جان۔“ وہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پریشانی سے گویا ہوئی تھی جب کہ شیری اسی طرح بیٹھا رہا نہ ماں کے احترام میں اٹھا نہ ہی رخ بدلا تھا۔

عجیب بیگانگی تھی اس کے انداز میں گویا سوچنے سمجھنے سے عاری ہو۔
”میں ٹھیک ہوں، کیا ہوگا مجھے مما۔“
”آپ ٹھیک نہیں ہیں، کوئی ڈپریشن ہے؟“
”کیا آپ دور کر سکتی ہیں میرے ڈپریشن؟“ وہ جھنجلا کر گویا ہوا۔
”ڈاکٹر کو کال کرتی ہوں ابھی۔

(جاری ہے)

“ وہ سراسیمہ ہو کر اٹھیں۔

”بیٹھ جائیں مما! مجھے کسی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے۔

”لیکن آپ کی کنڈیشن نارمل نہیں ہے شیری میں تو آپ سے یہ کہنے آئی تھی کہ فیاض بھائی کے ہاں چلتے ہیں، عائزہ کی شادی کے بعد سے ایک بار بھی وہاں جانا نہیں ہوا، صباحت بھابی کی آج بھی کال آئی تھی وہ بہت یاد کر رہی ہیں۔“ انہوں نے بیٹھ کر اپنے آنے کی غرض بیان کی۔
”ریڈی ہو جائیں آپ، میں چینج کرکے آتا ہوں پانچ منٹ میں۔“ پری کی طرف جانے کا سن کر اس چہرہ کھل اٹھا تھا۔

نامعلوم وہ کیسے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا پری کے متعلق سب کچھ جان کر بھی وہ چند دنوں تک اس سے نفرت کرتا رہا تھا پھر وہ نفرت ازخود ہی شیشے پر گری گرد کی طرح صاف ہو گئی تھی۔ وہ اس سے جتنا دور بھاگتی تھی دل اس کی طرف اتنا ہی بڑھتا تھا، عائزہ کے ولیمے میں صرف اس کی موہنی صورت دیکھنے کی خاطر ہی وہ صباحت سے ہامی بھر بیٹھا تھا اور وہاں پری کو نہ پا کر اس کا موڈ اس قدر آف ہوا کہ وہ عادلہ کی بے حد منت و سماجت کے باوجود ڈنر سے پہلے ہی گھر آ گیا اور تب سے اس کا موڈ اتنا خراب تھا کہ وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہنے لگا تھا۔

آفس بھی نہیں جا رہا تھا اس کے موڈ سے سب ہی واقف تھے اس لئے کسی نے بھی اس کو نہیں کہا تھا ویسے بھی وہ بہت اکھڑ مزاج و تند خو طبیعت کا مالک تھا، غیروں میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد وہ روڈ ہو گیا تھا ، کوئی بات مرضی کے خلاف ہو جائے تو سامنے والے کی بے عزتی کرنے میں لمحہ نہیں لگاتا تھا خواہ سامنے اس کے مما پپا کیوں نہ ہوں ، کوئی اس کی زندگی میں مداخلت نہ کرتا تھا ماسوائے اس کی مما کے جو ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کے اکلوتے بیٹے کے پاس چلی آتی تھیں۔

”ڈیٹس گڈ! وہاں جانے کا سن کر تو آپ بالکل فریش ہو گئے ہیں ، کیا خیال ہے پھر میں آج ہی بھابی سے ٓپ کے پروپوزل کا کہہ آؤں؟“ مسز عابدی ایک دم خوش ہو کر شرارتی لہجے میں گویا ہوئیں۔
”ابھی نہیں مما! ابھی مجھے کچھ وقت چاہئے ٹائم آنے پر میں آپ سے خود کہہ دوں گا ، آپ فکر نہیں کریں۔“
”میں کہتی ہوں نیک کام میں دیر کرنا مناسب نہیں ہے۔

“ انہوں نے قدرے سنجیدگی سے کہا تھا۔
”مگر پہلے آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا ، کس کو پرپوز کریں گے پری کو یا عادلہ کو؟“ ان کی بات پر وہ چونک کر گویا ہوا۔
”کیا مطلب ہے آپ کا مما؟ عادلہ کا نام کیوں لے رہی ہیں آپ؟“
”عادلہ کی آپ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے پھر آپ بھی اس کو امپورٹنس دے رہے ہیں۔“
”لیکن مما وہ کوئی اسپیشلی امپورٹنس نہیں ہے وہ میری ایسی ہی فرینڈ ہے جس طرح میری اور فرینڈز ہیں ، میں اس سے محبت نہیں کرتا۔

”لیکن عادلہ تو آپ کی فرینڈ شپ کو کوئی اور ہی نام دے بیٹھی ہے اور یہ ہمارے لئے پرابلم ہو جائے گی۔“ وہ فکری مندی سے گویا ہوئیں کہ وہ صباحت و عادلہ کے مزاج کو سمجھنے لگی تھیں صباحت کی آؤ بھگت کے معنی وہ جانتی تھیں۔
”مجھے پرابلمز کو حل کرنا آتا ہے ابھی آپ کچھ نہ کہیں ان سے۔“
###
مثنیٰ کی طبیعت بیٹی کی تیمار داری سے چند دنوں میں ہی بہتر ہو گئی تھی ان کے چہرے کی زردیاں سرخیوں میں بدل رہی تھیں پری بھی ان سے برسوں کی خفگی و شکایتیں فراموش کرکے دل سے ان کے قریب ہو گئی تھی ، ویسے بھی ان دنوں صباحت کے سوتیلے رویہ نے اس کو اس قدر دلبرداشتہ کیا تھا کہ وہ ماں کے پہلو میں آکر سکون محسوس کر رہی تھی۔

صفدر جمال نے بھی اس کو بیٹی تسلیم کر لیا تھا اور جب سگے و سوتیلے کی کدورت نکل جاتی ہے تو رشتے مضبوط و پاکیزہ ہو جاتے ہیں وہ اس کا خیال باپ کی طرح رکھ رہے تھے پری نے بھی ان کی شفقت کا جواب محبت سے دیا تھا گھر گویا جنت بن گیا تھا۔
اس ہفتے میں ان چاروں نے کئی بار پکنک منائی تھی ہوٹلنگ کی تھی وہ پہلی بار دل کھول کر ہنسی تھی۔ پہلی بار اس کا دل یہاں سے واپس جانے کو نہیں چاہ رہا تھا ، دادی جان نے کئی دفعہ کالز کیں ، دبے دبے لفظوں میں واپس آنے کو کہا وہ ٹالتی رہی ، بہانے بناتی رہی دو کالز طغرل نے بھی کی تھیں وہ دادی کی بے قراری کے قصے سنا رہا تھا ان کی بے کلی بیان کر رہا تھا اور وہ جانتی تھی کہ درحقیقت وہ اپنے دل کی بے چینی ظاہر کر رہا تھا اس کی بھاری آواز میں ایک ایسی آنچ تھی جو اس کے دل کو بھی دھیرے دھیرے سلگانے لگی تھی۔

وہ اس آگ میں جلنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ جس طرح اس کی محبت کو ٹھکراتی رہی تھی آئندہ بھی اس سے دگنی شدت سے ان جذبوں کو کچلنے کا ارادہ کر چکی تھی۔
اس دن صبح سے ہی موسم ابر آلود تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ، سورج گہرے سیاہ بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا تھا ، ہر سو سناٹا طاری تھا نانو کے گھر میں ویسے بھی خاموشی طاری رہتی تھی کہ نانو کی عادت آہستہ لہجے میں بات کرنے کی تھی تو مثنیٰ ان سے بھی زیادہ دھیمے لہجے کی عادی تھیں۔

ایسے ابر آلود موسم میں ویسے بھی ایک عجیب سی خاموشی ہوتی ہے اور ایسی خاموشی سے وہ گھبراتی تھی ، اس کا دم گھٹنے لگتا تھا۔ اس نے دادی کے پاس جانے کا سوچا اور اجازت لینے کیلئے مما کے کمرے میں جانا ہی چاہتی تھی کہ ملازمہ نے آکر نانو کا پیغام دیا کہ وہ بلا رہی ہیں۔
وہ دوپٹہ درست کرتی لاؤنج میں چلی آئی اسے ٹھٹک کر روکنا پڑا تھا مماکے قریب صوفے پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر اسے دھوکے کا گمان ہوا۔

”ارے وہاں کیوں رک گئیں پری! یہ طغرل آپ کو لینے کیلئے آئے ہیں۔“ مما نے بے حد خوشی سے طغرل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا بلو جینز اور گرے لائنز والی شرٹ میں ملبوس وہ بے حد موٴدب انداز میں اٹھ کھڑا ہا تھا ، سینٹرل ٹیبل پر اس کے لائے گئے خوبصورت بکے رکھے ہوئے تھے۔
”السلام علیکم! طغرل بھائی…“ وہ ایک دم دل کی بدلتی کیفیت پر حیران سی نانو کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی۔

”دادی جان نے بلایا ہے ، چل رہی ہو نا تم؟“ وہ سلام کا جواب دیتے ہوئے خاصا موٴدب دکھائی دے رہا تھا۔
”جی ہاں میں ابھی خود مما اور نانو سے اجازت لینے آ رہی تھی۔“ اس نے گردن جھکائے جھکائے جواب دیا تھا۔
”آپ کی مرضی ہے پری! اگر آپ جانا چاہتی ہیں تو ہم آپ کو روکیں گے نہیں مگر ڈنر کئے بغیر جانے نہیں دیں گے۔“ عشرت جہاں نے پری کے بعد طغرل کے وجیہہ چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ، ان کی نگاہوں میں اس کیلئے خاصی پسندیدگی ابھری تھی۔

”جی مما! آپ کھانا لگوائیں ، طغرل فرسٹ ٹائم یہاں آئے ہیں پھر بھلا ڈنر کئے بنا کس طرح جانے دیا جائے گا ان کو۔“
”شکریہ آنٹی! لیکن مجھے پہلے ہی دیر ہو چکی ہے ، پارس کو دادی جان کے پاس ڈراپ کرکے مجھے میٹنگ میں جانا ہے ، موسم خراب ہے کبھی بھی بارش ہو سکتی ہے۔“ اس نے مسکراتے ہوئے معذرت کی تھی۔
”ملازمہ منٹوں میں کھانا لگاتی ہے آپ کو دیر نہیں ہو گی۔

“ عشرت جہاں نے اتنے پیار بھرے اصرار سے کہا تھا وہ پھر انکار نہ کر سکا۔
کھانے کے دوران مثنیٰ طغرل کے بچپن کے قصے سناتی رہیں جس کو وہ مسکرا کر سنتا رہا تھا ان کی پرشوق نگاہیں گاہے بگاہے پری کے چہرے کی جانب اٹھ رہی تھیں وہ چپ چاپ پلیٹ پر جھکی ہوئی تھی۔
مثنیٰ اور عشرت جہاں کی زیرک نگاہوں سے اس کی بولتی نگاہوں کا محور مخفی نہ رہ سکا تھا ، ان کی نگاہوں میں اطمینان بھی تھا افکار بھی۔

جب وہ ڈنر سے فارغ ہوئے تو ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی تھی۔ طغرل نے فوراً ہی جانے کی اجازت چاہی تھی۔
”کہیں ایسا نہ ہو راستے میں بارش تیز ہو جائے رک جائیں بیٹا!“ مثنیٰ نے کھڑکی سے گرتی بوندوں کو دیکھ کر کہا۔
”ہم گھر پہنچ جائیں گے انشاء اللہ آپ پریشان نہ ہوں۔“ وہ پراعتماد لہجے میں بولا وہ دونوں انہیں رخصت کرنے گیٹ تک آئی تھیں پری خاصی دیر تک ان کے سینے سے لگی رہی تھی۔

”کیسا سونا ہو گیا گھر پری کے جانے کے بعد ، کتنی رونق تھی اس کے دم سے۔“ عشرت جہاں اندر آتے ہوئے اداسی سے گویا ہوئیں۔
”ٹھیک کہہ رہی ہیں ممی آپ ، پہلی بار اس نے مجھے اپنے ہونے کا احساس دلا کر زندگی کے قریب کر دیا ہے ، میری دعا ہے وہ ہمیشہ خوش رہے اس کے نصیب میں لاکھوں خوشیاں ہوں ، آمین۔“
###
ہلکی ہلکی بوندا باندی جا رہی تھی ونڈ اسکرین کو وائپرز تیزی سے صاف کر رہے تھے ، سڑک پر اکا دکا گاڑیاں رواں دواں تھیں۔

طغرل خلاف عادت خاموشی سے کار چلا رہا تھا اس کے وجیہہ چہرے پر سنجیدگی تھی کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کچھ دیر قبل وہ باتیں بناتا و مسکراتا رہا تھا ، پری کو اس کی یہ خاموشی وحشت زدہ کرنے لگی۔
”دادی جان کی طبیعت کیسی ہے… وہ اپنی میڈیسن ٹائم پر لے رہی تھیں؟“ اس نے خاموشی کو توڑنے کیلئے پہل کی۔
”دادی جان کی طبیعت کی تم کو کیا پروا… وہ دوا ٹائم پر لیں یا نہ لیں اس سے تم کو کیا فرق پڑتا ہے؟“ وہ دیکھے بنا درشت لہجے میں بولا۔

”تم اپنی دنیا میں مگن رہو تم کو ان کی پروا کیوں ہونے لگی۔“
”ارے ابھی تو آپ بالکل ٹھیک تھے ، مزے سے مما اور نانو سے باتیں کر رہے تھے پھر یہ اچانک ہی کیا ہوا ہے آپ کو؟“ وہ حیرانی سے تیز لہجے میں گویا ہوئی۔
”تم سے تو نہیں کر رہا تھا نا…“ اس نے لٹھ مار انداز میں جواب دیا۔
”ہاں ہاں مجھ سے کیوں کریں گے ہنس کر باتیں ، میں تو صرف آپ کی جلی کٹی باتیں سننے کیلئے ہی رہ گئی ہوں یا برے برتاؤ کیلئے اور آپ کو آتا ہی کیا ہے اس کے علاوہ۔

“ وہ بھی بری طرح تپ کر بولی تھی طغرل نے اس کی طرف دیکھا اور روڈ کے درمیان میں ہی کار روک دی۔
”اب یہ کیا حرکت ہے… کیا چاہتے ہیں آپ طغرل بھائی۔“
”بہت تڑپایا ہے تم نے مجھے پری۔“ وہ اس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔“ خود یہاں آکر بیٹھ گئیں اور وہاں اپنی یادیں میرے پاس چھوڑ آئیں ، بتاؤ تم کو اب کیا سزا دوں؟“ وہ ایک جذب کے عالم میں تھا اس کی آنکھوں میں ہوشربا چمک تھی۔

اس کے چہرے پر جذبوں کی سرخی تھی ، نگاہوں میں چراع سے جل رہے تھے۔ پری دم بخود سی ہو گئی اس کا دل بغاوت پر آمادہ تھا ، وہ خیالوں میں رہنے والی کوئی کمزور سی لڑکی ہوتی تو بہک جاتی کہ موسم بھی بھیگا بھیگا خمار لئے ہوئے جذبوں کو بے قابو کرنے والا تھا پھر اس شخص کی مہکی مہکی قربت و دیوانگی وہ کوئی عام شخص نہ تھا ، صنف مخالف اس کو حاصل کرنے کی چاہ کرتی تھی اور وہ اس کی چاہ میں مبتلا تھا اس کو حاصل زندگی سمجھ کر اس کو حال دل سنا رہا تھا مگر وہ اس کے جذبوں کی پذیرائی کو تیار نہ تھی۔

”مجھے ایسی باتیں بالکل بھی پسند نہیں ہیں ، کتنی مرتبہ آپ سے کہہ چکی ہوں مجھ سے ایسا بھونڈا مذاق بالکل مت کیا کریں۔“ اس نے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا۔
”پلیز آپ کار چلائیں بارش تیز ہوتی جا رہی ہے ، گھر پر دادی جان پریشان ہو رہی ہوں گی ، بہت دیر ہو گئی ہے۔“ پری کی کسی بات کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ اسی طرح اسٹیئرنگ پر چہرا رکھے اس کو دیکھتا رہا ، یک ٹک بنا پلکیں جھپکائے۔
”پلیز طغرل بھائی پریشان مت کریں۔“
”پہلے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو… کیا تم مجھ سے پیار نہیں کرتیں؟“

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط