Episode 154 - Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 154 - بھیگی پلکوں پر - اقراء صغیر احمد

Bheegi Palkon Par in Urdu
شیری ماں باپ کی ایک ہی ضد سے بے زار ہو کر باہر نکلا تھا اس کے اندر آگ سلگ رہی تھی دل کر رہا تھا کہ عادلہ کو شوٹ کر دے جو پری کے اور اس کے درمیان آ رہی تھی۔ پری کا خوبصورت سراپا اور رعنائی سے بھرپور چہرہ اس کے ذہن سے چپک کر رہ گیا تھا۔ ذہن کو پرسکون کرنے کیلئے اس نے لانگ ڈرائیو کی پھر ڈنر کیلئے ایک ہوٹل میں آ گیا اور مینیو کارڈ پر نگاہ دوڑاتے ہوئے معاً اس کی نگاہ سینٹر میں فیملی ٹیبل پر پڑی تھی۔

وہ چونک گیا فیاض صاحب کی پوری فیملی وہاں تھی مینیو کارڈ اس کے ہاتھ سے گر گیا۔
گلابی سوٹ میں گلابی چہرے والی وہ گلاب کی ادھ کھلی کلی لگ رہی تھی۔ اس کی سیاہ دراز پلکیں گلابی رخساروں پر جھکی ہوئی تھیں۔ یاقوتی لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ تھی اور پھر اس کے برابر میں بیٹھے طغرل نے اس کا ہاتھ تھام کر ایک جگمگاتی انگوٹھی انگلی میں پہنائی تھی یہ سب دیکھ کر شیری ایک دم جنوبی انداز میں اٹھا تھا۔

(جاری ہے)

###
میں تجھ کو چاہ کے کیسے کسی کی چاہ کروں
تجھے نباہ کے کیوں کر کوئی نباہ کروں
تو زندگی ہی نہیں میری بندگی بھی ہے
کسی کو سوچ کے کیسے کوئی گناہ کروں
ایک برق تھی جو چمن دل کو خاکستر کر گئی تھی ،ایک آگ تھی جو رگ و پے میں پھیلتی جا رہی تھی ،وہ متوحش نگاہوں سے پری کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ،جس پر قوس و قزح کے سارے رنگ بکھرے ہوئے تھے ،سرخ عارضوں پر سیاہ دراز پلکیں لرز رہی تھیں۔

یاقوتی لبوں پر حیاء کی دھیمی لرزش تھی ،اس کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں ،لیکن وہ جو سوچ رہا تھا کہ شاید اس کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو ،اس کی منشاء کے بناء یہ فیصلہ صادر ہوا ،یہ صرف اسکی سوچ ہی ثابت ہوئی تھی وہ دیکھ رہا تھا اور پوری شدت سے محسوس کر رہا تھا کہ پری کے انداز میں رضا مندی تھی گو کہ اس کا چہرہ بالکل سنجیدہ تھا ،یہ اس کا اقرار ہی تھا جو اس کا ہاتھ طغرل کے ہاتھ میں تھا ،رنگ پہنانے کے بعد بھی وہ اس کا ہاتھ تھامے بے حد مسرور نظر آ رہا تھا ،مسرت اس کے وجیہہ چہرے کو جگمگا رہی تھی ،فتح یاب ہونے کا نشہ اس کے انگ انگ سے چھلک رہا تھا۔

اس کی وہ راحت و سرفرازی اسے کسی سانپ کی طرح ڈسنے لگی تھی۔
وہ تمام لوگ ہی بے حد خوش تھے ،مسکراہٹیں اور قہقہے تھے ،شوخ نظروں اور فقروں کی بوچھاڑ تھی اس دوران ہی عائزہ نے بڑی مشکل سے پری کا ہاتھ طغرل کے ہاتھ سے چھڑایا تھا۔
”میں تجھے جان سے مار دوں گا حرام زادے!“ اس نے وحشت کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے شرٹ کے نیچے بیلٹ کے ساتھ باندھے گئے ریوالور کو نکالنا ہی چاہتا تھا ،معاً وہاں آتے ویٹر کو دیکھ کر وہ گویا حواسوں میں لوٹ آیا تھا۔

”جی سر! آپ کچھ لیں گے؟“ ویٹر مودبانہ لہجے میں گویا ہوا۔
”کچھ نہی۔“ عین کلائمکس پر ویٹر کی آمد بری لگی تھی اسے۔
”کیا آپ ٹھیک ہیں سر؟“ اس کا چہرہ آگ کی مانند سرخ تھا ،تنفس بھی قدرے تیز اور وہ پسینے میں شرابور وحشت زدہ دکھائی دے رہا تھا ،اس کی اندر کی کیفیت باہر دکھائی دے رہی تھی ،جب ہی ویٹر کو اس کی طرف متوجہ کر گئی تھی اور وہ استفسار کر بیٹھا تھا۔

”دفع ہو جاؤ یہاں سے کچھ نہیں چاہئے۔“ وہ بگڑے تیوروں سے اس سے مخاطب ہوا تھا اژدھوں جیسی پھنکار تھی اس کے لہجے میں ،ویٹر خوفزدہ انداز میں تیزی سے چلا گیا۔ اس نے خونخوار نظروں سے پھر اس خوشگوار ہنگامے کو دیکھا جہاں اب دادی کے اصرار پر فیاض طغرل کی انگلی میں انگوٹھی پہنا رہے تھے پھر مٹھائی کھلا کر انہوں نے اسے سینے سے لگا لیا تھا۔

ریوالور کی طرف جاتا ہوا اس کا ہاتھ رک گیا ،اس نے خونی نگاہوں سے پری کی طرف دیکھا اور کئی لمحوں تک دیکھتا ہی رہا۔ وہاں ویٹر ڈنر سرو کر رہے تھے ،مبارکباد کے تبادلے جاری تھے۔ سب لوگ بے حد خوش تھے صرف ایک چہرہ ان میں ایسا تھا جس کے مسکراتے لبوں کا ساتھ اس کی آنکھیں نہیں دے رہی تھیں ،وہ عادلہ تھی جس کی بھیگی آنکھوں پر اس کی نگاہیں ٹھہر گئی تھیں،وہ بیرونی گیٹ سے باہر نکل گیا۔

###
ماہ رخ! تنہا عورت ہر معاشرے میں غیر محفوظ ہوتی ہے ،تم دیکھ چکی ہو عورت اگر بے سہارا و بے بس ہو تو مردوں کیلئے مال غنیمت بن جاتی ہے۔ ہر مرد اس پر اپنا حق جتاتا ہے ،اپنے مقصد کیلئے استعمال کرتا ہے ،عورت کو محفوظ صرف رشتے بناتے ہیں ،کوئی معتبر سہارا ہی اس کو عزت و توقیر بخشتا ہے۔“ اس کے شادی کے بار بار انکار کے باوجود بھی اعوان اسے سمجھانے کی سعی میں مگن تھا۔

وہ اس کو پھر سے بھٹکتے دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔
”اب مجھے کسی رشتے ،کسی سہارے کی قطعی ضرورت ہے اور نہ ہی تمنا رہی ہے اور رہی بات گدھ نما مردوں کی ،تو ان مردوں میں ہینڈل کرنا جانتی ہوں ،تم میری فکر نہیں کرو میں اپنی حاظت کر سکتی ہوں۔“ اس کے لہجے میں مضبوطی و اعتماد تھا۔
اعوان یک ٹک اسے دیکھے گیا فیروزی جارجٹ کے ملٹی کڑھائی والے سوٹ میں وہ آزردہ سی بیٹھی تھی ،ریشمی بال بے ترتیب انداز میں بکھرے ہوئے تھے اس کی کندن رنگت میں حزن شامل ہو گیا تھا وہ جب سے والدین کی موت سے باخبر ہوئی تھی تب سے بہت بجھی بجھی اور خود سے غافل رہنے لگی تھی اور اس کی اس اداسی میں بھی سحر انگیزی تھی۔

اعوان کا دل اس کی محبت میں اسیر تھا وہ اسے پانے کی جستجو میں مگن تھا۔
”اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو اعوان؟“ وہ اس کی نگاہوں کی حدت محسوس کرکے اس کے قریب جا کر کھڑی ہوئی۔
”تم نے نہ سہی… مگر میں نے تم سے محبت کی ہے ماہ رخ!“ اس کی آواز میں یاسیت بھری ہوئی تھی۔
”میں تمہیں پھر سے اس بے رحم دنیا کے سہارے نہیں چھوڑ سکتا ،تم پلیز اپنے مستقبل کے متعلق سوچو ،کہاں جاؤں گی ،کس کا سہارا تلاش کرو گی؟“ اس کا لہجہ التجائیہ تھا۔

”مجھ جیسی بے سہارا عورتوں کیلئے ٹرسٹ ہیں یہاں پر ،میں وہاں چلی جاؤں گی اور آخری سانس تک گلفام کا انتظام کروں گی۔“
”ان اداروں میں تو بڑے پیمانوں پر غیر اخلاقی سرگرمیاں ہوتی ہیں ،غفران احمر سے بھی زیادہ بڑے مگرمچھ یہاں موجود ہیں۔ جو ایسی غیر قانونی سرگرمیاں مکمل قانونی انداز میں کرتے ہیں۔“
”سب جگہوں پر ایسا نہیں ہوتا ہوگا اعوان!“
”آف کورس… سب ہی لوگ کرپٹ نہیں ہوتے ،کچھ اچھے نیک و ایماندار لوگ پوری دیانتداری سے یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں مگر ایسے لوگ کہاں ہیں ،یہ نہیں معلوم۔

”اعوان ایک بات بالکل سچ سچ بتاؤ گے؟“ وہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
”تم نے شادی نہیں کی؟“
”یہ کیوں پوچھ رہی ہو ،کیا جاننا چاہتی ہو میرے بارے میں؟“
”یہی کہ تم نے شادی کی ہے یا نہیں…“ اس کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی ،اعوان نے چند لمحے توقف کے بعد آہستگی کہا۔
”دراصل بات یہ ہے کہ ممی پپا کے ازحد دباؤ پر مجھے شادی کرنی پڑی تھی ،تم تو جانتی ہو نا میں اکلوتا بیٹا ہوں اپنے والدین کا ،ان کی ساری توقعات و خواہشات کا واحد مرکز میری ذات ہے۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ہم جیسے لوگ اپنی چاہت کے برعکس ایسے لوگوں سے کمپرومائز کر لیتے ہیں جو ہمارے نام کے ساتھ تو جڑ جاتے ہیں مگر دل سے وہ ہمیشہ ہی فاصلوں پر رہتے ہیں ،دل سے کبھی نہیں جڑ پاتے۔“ اس کا لہجہ شکستہ تھا ،وہ نگاہیں چرائے آہستگی سے اعتراف جرم کے انداز میں گفتگو کر رہا تھا ایک بار بھی اس دوران اس نے نگاہ نہ اٹھائی تھی۔

”سات سال ہو گئے ہیں ہماری شادی کو ایک کیوٹ سا بیٹا بھی ہے ،بیٹے سے بے حد محبت کرتا ہوں میں۔ لیکن رعنا سے کبھی وہ انسیت فیل ہی نہیں ہوئی مجھے جو ایک محبت کرنے والی بیوی سے ہونی چاہئے۔“
”کیوں… جب بیٹے سے محبت ہے ،بہت چاہتے ہو اسے تو پھری بیوی سے محبت کیوں نہیں کرتے اعوان۔“ اس کا لہجہ پرسکون و پراعتماد تھا۔
”شاید اس لئے کہ ہم سفر کیلئے میرا آئیڈیل تم تھیں ،میں نے تصور میں تم کو ہی شریک سفر دیکھا تھا ،رعنا تمہاری جگہ کبھی بھی لے نہیں سکتی۔

“ آخری لفظ کہتے ہوئے وہ جذباتی ہو گیا تھا۔
”یہ تم زیادتی کر رہے ہو اعوان! جب عورت بیوی بنتی ہے تو وہ اپنی تمام کشتیاں جلا کر مرد سے منسوب ہوتی ہے اور اگر مرد اس سے بے وفائی کر جائے تو اس کی واپسی صرف اور صرف چار کاندھوں پر ہوتی ہے اور تم رعنا سے بے وفائی کیوں کر رہے ہو؟ وہ صرف تمہاری بیوی ہی نہیں تمہارے بیٹے کی ماں ہے۔ تمہارے خاندان کو وارث دینے والی ایک معتبر عورت ہے ،تم اس کا حق مجھے کس طرح دے سکتے ہو؟ یہ ایک بیوی ،ایک ماں اور ایک عورت کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

”پلیز ماہ رخ! میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو ،میں رعنا کے ساتھ بالکل بھی زیادتی نہیں کر رہا ،آج بھی اسے سارے حقوق حاصل ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ،میں اس کا حق نہیں مار رہا۔ میرا مذہب مجھے چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور جو شرائط عائد ہیں دوسری شادی کیلئے میں وہ افورڈ کرنے کی حیثیت رکھتا ہے ،تم یقین کرو میں رعنا کو کسی شکایت کا موقع نہیں دوں گا اور تم آخری سانس تک میری محبت رہو گی۔

“ وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا پر یقین لہجے میں گویا ہوا۔
”اعوان! محبت میں ملن ضروری تو نہیں ہوتا۔“
”ملن کے بغیر بھی محبت کبھی مکمل ہوئی ہے؟“
”مرد ہونا آخر ،مطلب پر تم کو مذہب بھی یاد آ جاتا ہے اور مقصد برداری کیلئے سنت بھی ازبر ہو جاتی ہے۔ دراصل مرد کے اندر کہیں تاریک گوشے میں ایک عیاش شکاری چھپا ہوتا ہے اور وہ موقع ملتے ہی شکار کو جال میں پھنسانے سے باز نہیں آتا اور تم بھی ایک ایسے ہی شکاری ہو اعوان!“
###
آنسوؤں کا ایک سمندر
ٹھاٹھیں مار رہا ہے من کے اندر
آمد طوفان ہے
غم کا بحر بیکراں ہے
رونا چاہتی ہوں
درد بھلا کر کچھ دیر سونا چاہتی ہوں
رکھ کر سر تیرے کاندھے پر
کچھ نہیں اور طلب دل کو
فقط تیرا محبت بھرا لہجہ
اور ایک شانہ چاہئے
دل تھا کہ بھرے بادلوں کی طرح جل تھل ہو رہا تھا اور وہ روئے جا رہی تھیں، ہر سو سناٹا و خاموشی چھائی ہوئی تھی اور اس سکوت میں ان کے رونے اور سسکیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

وہ بیڈ پر دوپٹے میں منہ چھپائے آنسو بہا رہی تھیں تب ہی دروازہ کھلا تھا۔
”اوہ آپی! کیا ہوا ،خیریت تو ہے نا سب؟“ زینی ان کو اس شدومد سے روتے دیکھ کر چند لمحے ہک دک رہ گئی پھر ہاتھ میں پکڑا بیگ اس نے ٹیبل پر کھا اور صباحت کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا تو صباحت روتی ہوئی اس کے گلے لگ گئی تھیں۔
”خدا کے واسطے آپی! بتائیں تو سہی کیا بات ہے؟ آپ کیوں رو رہی ہیں اور گھر والے کہاں گئے ہیں ،کوئی بھی نہیں پلیز جلدی بتائیں کیا ہوا ہے؟“ زینی بھی روہانسی لہجے میں گھبرا کر پوچھ رہی تھی۔

”تم پریشان مت ہو ،ایسی کوئی بات نہیں ہے۔“ وہ اس سے علیحدہ ہوتی گلوگیر لہجے میں گویا ہوئیں۔
”مجھ سے مت چھپائیں کوئی بات ضرور ہے جو آپ مجھ سے چھپا رہی ہیں، وگرنہ میں نے آپ کو کبھی لائف میں اس طرح روتے ہوئے نہیں دیکھا۔“ اس کے لہجے میں بے اعتباری و تشویش تھی۔
”آج طغرل اور پری کی منگنی ہے ،سب لوگ ہوٹل گئے ہوئے ہیں۔“ انہوں نے چہرہ صاف کرتے ہوئے دھیمے سے مسکرا کر بتایا۔

”اوہ… اچھا ،آپ اس بات پر رو رہی تھیں آپی؟“ بہن کی خود پسند و حاسدانہ مزاج پر اسے بے حد رنج ہوا تھا۔
”اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی آپ پری کی طرف سے اپنا دل صاف نہیں کر سکی ہیں ،میں سمجھ رہی تھی عائزہ اور عادلہ کے طرز عمل سے ملنے والے صدموں سے آپ کا دل پری کیلئے موم ہو گیا ہوگا۔“
”کہہ سکتی ہو تم ،یہ ساری کڑوی باتیں و ناقابل برداشت ہتک آمیز رویہ ،میری بہن ہی کیا سب لوگ مجھ سے بدگمان ہو گئے ہیں۔

میرا انداز میری عادت و مزاج سے سب ہی واقف ہیں ،میرا نام لوگوں کیلئے ناپسندیدہ ہے ،میں ہوں ہی اسی قابل زینی کہ لوگ میرے چہرے پر تھوک دیں ،نفرت کریں مجھ سے ،میں اسی قابل ہوں۔“ وہ رو رہی تھیں ان کے آنسوؤں میں پچھتاوے و ندامت تھی سیاہ و زرد رنگ کے امتزاج والے پرنٹڈ سوٹ میں سیاہ دوپٹے کو سر پر ڈالے وہ سادہ اور بدلی ہوئی لگ رہی تھیں۔ شدت گریہ و زاری سے آنکھیں سوج گئی تھیں اس نے پہلی بار بہن کی آنکھوں میں حقیقی دکھ دیکھا تھا ،زینی اس سے لپٹ کر روتے ہوئے گویا ہوئی۔

”شکر ہے آپی! آپ کی واپسی ان راستوں پر تو ہوئی ،یہ راستے آپ کے کب سے منتظر ہیں۔“
”ہاں زینی! ان راستوں پر ہی چل کر مجھے فیاض کے دل کے دروازے پر بھی دستک دینی ہو گی ،اتنے قیمتی ماہ وصال میں نے شک کی آگ میں جلتے ہوئے گزار دیئے اور بدلے میں صرف تباہی میری اور میری بچیوں کی زندگی میں پھیلتی چلی گئی ،اب جتنی زندگی بچی ہے اس وقت کو میں فیاض کی محبت میں گزارنا چاہتی ہوں۔

“ اس سے علیحدہ ہوتے ہوئے وہ پرعزم لہجے میں گویا ہوئی۔
”میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں آپی! مجھے یقین ہے فیاض بھائی آپ کی محبت کا جواب محبت سے ضرور دیں گے۔ وہ درگزر کرنے والے شخص ہیں آپ کی غلطیاں وہ زیادہ دنوں تک یاد نہیں رکھ سکیں گے۔“
”وہ بے حد ضدی بھی ہیں ،دیکھ لو آج فقط ایک بار مجھ سے سرسری لہجے میں ساتھ چلنے کو کہا میں نے تکلفاً انکار کیا تو فوراً چلے گئے اور اماں تک کو مجھ سے اصرار کرنے کو منع کر دیا تھا۔

”اس کی وجہ جانتی ہیں آپ آپی! پھر کیوں دل جلا رہی ہیں۔“
”میں شرمندہ ہوں ،کسی سے نگاہیں ملانے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں اور پارس کی تو پرچھائیں سے بھی میں کبھی نگاہ نہ ملا پاؤں گی ،جب کبھی بھی میں نے اسے ماں ہونے کی خوش نہ دی تو اب کس منہ سے اس کی خوشیوں میں شریک ہو سکتی ہوں؟“
”اب سب اچھا ہو جائے گا آپی! ہمارے معاملات کا دارو مدار ہماری نیت پر ہوتا ہے آپ کی نیت اچھی ہے تب ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کی پریشانیوں کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔

میں ایک بہت بڑی خوشخبری لے کر آئی ہوں آپ کے پاس ،سنیں گی تو خوش ہو جائیں گی۔“
”خوشخبری لے کر آئی ہو تم؟ پروردگار اس قدر مہربان ہے ابھی میں نے توبہ کی ہے اور رب نے مجھے اپنی رحمتوں سے نوازنا بھی شروع کر دیا۔“
”فاخر کراچی آ گیا ہے ،وہ عائزہ کو ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔“

Chapters / Baab of Bheegi Palkon Par By Iqra Sagheer Ahmed

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

قسط نمبر 115

قسط نمبر 116

قسط نمبر 117

قسط نمبر 118

قسط نمبر 119

قسط نمبر 120

قسط نمبر 121

قسط نمبر 122

قسط نمبر 123

قسط نمبر 124

قسط نمبر 125

قسط نمبر 126

قسط نمبر 127

قسط نمبر 128

قسط نمبر 129

قسط نمبر 130

قسط نمبر 131

قسط نمبر 132

قسط نمبر 133

قسط نمبر 134

قسط نمبر 135

قسط نمبر 136

قسط نمبر 137

قسط نمبر 138

قسط نمبر 139

قسط نمبر 140

قسط نمبر 141

قسط نمبر 142

قسط نمبر 143

قسط نمبر 144

قسط نمبر 145

قسط نمبر 146

قسط نمبر 147

ذقسط نمبر 148

قسط نمبر 149

قسط نمبر 150

قسط نمبر 151

قسط نمبر 152

قسط نمبر 153

قسط نمبر 154

قسط نمبر 155

قسط نمبر 156

قسط نمبر 157

قسط نمبر 158

قسط نمبر 159

قسط نمبر 159

قسط نمبر 160

قسط نمبر 160

قسط نمبر 161

قسط نمبر 162

قسط نمبر 163

قسط نمبر 164

قسط نمبر 165

قسط نمبر 166

قسط نمبر 167

آخری قسط