Episode 7 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 7 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
بلال اپنے آفس میں داخل ہوتا ہے۔ فوزیہ اس کے استقبال میں کھڑی ہوجاتی ہے۔ بڑا خوبصورت اور دلکش آفس ہے ۔ روشن اور خوبصورت رنگوں کا امتزاج آفس میں داخل ہوتے ہی آپ کی نظر دو خوبصورت بڑی بڑی تصویروں پر پڑتی ہے جوکہ سامنے والی دیوار پر آویزاں ہیں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی تصاویر خوبصورت فریموں میں سجی ہوئی ہیں۔ 
دائیں طرف کی دیوار پر سی گرین کلر ہوا ہے۔

اس کے اوپر چھوٹے بڑے سائز کی بہت سی تصاویر آپ کو نظر آئیں گی جن میں سب سے اوپر بانی پاکستان محمد علی جناح اور شاعر مشرق علامہ اقبال، نیچے خان لیاقت علی خان، ڈاکٹر ثمر مبارک، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، فیض احمد فیض، احمد فراز، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، فاطمہ ثریا بجیا، انور مقصود، انور مسعود، عبدالستار ایدھی، مہدی حسن، نور جہاں، نصرت فتح علی خان، احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، کیپٹن محمد سرور شہید، میجر طفیل محمد شہید، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید، راشد منہاس شہید، شبیر شریف شہید، سوار محمد حسین شہید، میجر محمد اکرم شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، کرنل شیر خان شہید، حوالدار لالک جان شہید اور بائیں طرف کی دیوار پر ایک گھڑی ہے اور اس کے ساتھ دیوار کے اوپر World Mapبنا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

داخلی دروازے کی طرف فائلز کے لیے کیبن بنے ہوئے ہیں دائیں طرف کی دیوار سے پہلے ایک صوفہ سیٹ اور درمیان میں شیشے کی ٹیبل پڑی ہوئی ہے۔ 
بائیں دیوار کی طرف فوزیہ کا ٹیبل ہے جس کے اوپر کمپیوٹر LCDکے ساتھ پرنٹر اور سکینر ہیں۔ 
”السلام علیکم سر“فوزیہ نے جوش کے ساتھ کہا ”سر آج آپ پہلی دفعہ لیٹ ہوئے ہیں“
”وعلیکم السلام ۔

جتنا تم مسکا لگاتی ہو ااتنا کام بھی کیا کرو ۔“بلال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”سرگیسٹ آئے ہیں“فوزیہ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ بلال نے صوفے کی طرف دیکھا۔ دو ویل ڈریس اور فیشن ایبل خواتین صوفے پر بیٹھی تھیں اس سے پہلے بلال اُن سے بات شروع کرتا پنڈی ایکسپریس اندر آچکی تھی ”کہاں ہے بلال بھائی“ وہ زور سے بولی، بلال کو دیکھ کر رک گئی جیسے اس کی چین کسی نے کھینچ دی ہو۔

بلال نے اپنائیت سے کہا۔ 
”جی بھابھی آپ آئیں ادھر بیٹھیں“اپنے ٹیبل کے سامنے والی کرسیوں کی طرف اشارہ کیا اور ترچھی نگاہوں سے ان دو خواتین کی طرف منہ کرکے بولا۔ 
”معاف کیجیے میں آتا ہوں Excuse me, I will be back“فوزیہ کو چائے بسکٹ وغیرہ کے لیے کہا اور خود بھابھی فرح کے سامنے اپنی چیئر پر بیٹھ گیا اور مسکراتے ہوئے بولا۔ 
”جی بھابھی آپ کیسے راستہ بھول گئیں“
”بلال یہ کیا بات ہے میرے بچوں کے ساتھ غریب غربا لوگوں کے بچے پڑھیں گے بچوں کا ماحول خراب ہوتا ہے اس سے “خفگی سے کہا بھابھی فرح نے۔

 
”اچھا یہ بات ہے …بھابھی وہ سارے بچے انتہائی لائق اور ذہین ہیں میں نے خود سب کا ٹیسٹ لیا تھا اس کے بعد ہی انہیں ایڈمیشن ملا“بلال نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا۔ 
”لیکن ہیں تو وہ سارے غریب گھرانوں کے بچے “بھابھی فرح نے دوٹوک کہہ دیا۔ 
”صرف غربت …اس کے علاوہ کوئی اور عیب یا برائی ان بچوں میں “بلال نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔

 
”یہ کیا کم ہے “بھابھی فرح نے شانے اچکاتے ہوئے کہا۔ 
”ایک بڑے آدمی نے کہا ہے غریب کے گھر پیدا ہونا کوئی گناہ نہیں مگر غریب ہی مرجانا گناہ ہے۔ اور میں صرف ان کی مدد کر رہا ہوں کہ بچے صرف غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں اور غریب ہی نہ مرجائیں “
”تم اسکول چلارہے ہو یا خیراتی ادارہ “بھابھی فرح نے ابرو چڑھاتے ہوئے تیکھا سا جواب دیا۔

 
”میں صرف اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔“ بلال نے کہا۔ وہ دونوں عورتیں ٹکٹکی باندھے یہ ساری گفتگو سن رہی تھیں۔ فوزیہ واپس آچکی تھی اور آفس بوائے ان کے سامنے چائے اور بسکٹ وغیرہ رکھ رہا تھا۔ 
”بھابھی آپ کے والد صاحب سے میری ملاقات ہوئی تھی پچھلے سال جب ہم لوگ مری گئے تھے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت سے سول سروس میں آئے اور اسی احساس نے انہیں اعجاز جنجوعہ کی مدد کے لیے رہنمائی دی ۔

اعجاز جنجوعہ آ پ کے خاوند نے مجھے بتایا کہ اگر میرے خالو چوہدری جبار ہماری مدد نہ کرتے تو نہ تو وہ پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی اس شہر کے بڑے ٹھیکیدار بن سکتے تھے۔ یہ آپ کے ساتھ دو خواتین بیٹھی ہیں مسز نقوی اور مسز عباسی۔ نقوی صاحب اس شہر کے بڑے ڈاکٹروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے والد صاحب لاہور مصری شاہ میں گیس کٹر چلاتے تھے۔ اور میجر عباسی نے بھی مجھے خود بتایا ان کے ابا گجر پورہ لاہور میں ٹانگہ چلاتے تھے۔

مجھے آ پ سے زیادہ آپ کے بچوں کی فکر ہے مجھ پر اعتماد کریں میں آپ کے اعتماد کو کبھی شرمندہ نہیں ہونے دوں گا انشاء اللہ ۔“ بلال نے دھیمے لہجے میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا ۔
”چلیں بھابھی ادھر آئیں چائے پیتے ہیں “بلال نے احترام سے کہا ۔ چائے پینے کے دوران مسز عباسی نے انگلش پر ہاتھ صاف کیا۔ 
”You provide me some information about this“کیا اس بارے میں مجھے کچھ معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔

 
”ہاں بالکل “بلال نے تفصیل بتانا شروع کی ۔ 
”ہم نے کل 40بچوں کا انتخاب کیا ہے۔ ہر کلاس میں چار بچے۔ ان تمام بچوں کو کتابیں اور یونیفارم اسکول فراہم کرے گا فیس ان کی معاف ہوگی اور انہیں پاکٹ منی بھی دی جائے گی اور سب سے بڑی بات ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو اس لیے ان بچوں کا علم میرے اور فوزیہ صاحبہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے۔

اور سچی بات یہ ہے اس سے ہر کلاس کا ماحول بہتر ہوا ہے کیونکہ میں نے بچوں کو احساس دلانے کی کوشش کی ہے۔ تعلیم سب کا حق ہے ۔ امیر ہو یا غریب…“ مسز نقی بول اٹھی جو کہ اب تک خاموش تھیں۔ 
”کتنا زبردست خیال ہےWhat a Wonderful Idea“مسز عباسی نے ان کی ہاں میں ہاں ملادی۔ 
###
بلال کا یہ اسکول الگ طرح کی درسگاہ تھی۔ جہاں تعلیم سے زیادہ تربیت دی جاتی تھی۔

کتابیں کم تھیں۔ جہاں اردو، عربی اور انگلش پڑھائی نہیں جاتی تھی بلکہ بچوں سے صرف بولی جاتی تھی اس اسکول کے Subjectبھی مختلف تھے۔ 
قرآن مجید پہلا مضمون تھا جوکہ اردو ترجمے کے ساتھ پڑھایا جاتا اور سمجھایا جاتا اس کے علاوہ صرف تین مضمون اور تھے سائنس، میتھ اور کمپیوٹر۔ 
بلال احمد کا ماننا تھا کہ عمل کی زبان سب سے آسان ہوتی ہے ۔

وہ ٹیچرز کا انتخاب خود کرتا تھا۔ وہ ان ٹیچرز کا انتخاب کرتا جو باعمل ہوتے انہیں کسی ایک زبان پر عبور حاصل ہوتا اور وہ کسی بھی ایک فیلڈ میں ماہر ہوتے یا کسی ہنر میں مہارت ہوتی۔ اس کا ماننا تھا کہ جو انسان اپنی ذات سے محبت نہیں کرتا وہ دوسروں سے خاک محبت کرے گا ۔اس کے نزدیک اپنی ذات سے محبت کا پیمانہ بھی الگ تھا۔ 
جو ورزش نہ کرتا ہو، جو اپنے گھر والوں کو وقت نہ دیتا ہوَ جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اور جو فرائض نہ ادا کرتا ہو جو اس کے ذمے شریعت نے لگائے ہیں وہ اچھا ٹیچر تو کیا اچھا انسان بھی نہیں بن سکتا۔

وہ ہر کلاس میں ہفتے میں ایک بار ضرور جاتا بچوں سے ہر ٹاپک پر بات کرتا ان کی سنتا اور اپنی سمجھاتا۔ وہ بچوں کو ہنر سکھاتا اور اپنا کام خود کرنے کی تلقین کرتا۔ اسی لیے اس نے ہنر والے استاد بھی رکھے تھے۔ اس کا ماننا تھا ۔ علم والا وہی ہے جو عمل کرتا ہے۔ 
Man is as much educated as he looks.
آدمی اتنا ہی پڑھا لکھتا ہوتا ہے جتنا وہ نظر آتا ہے۔

 
جب وہ ٹیچر رکھتا تو ان باتوں کا خیال رکھتا۔ 
-1 نماز روزہ کا پابند ہو۔ 
-2 جو اپنے بیوی بچوں کو وقت دیتا ہو روزانہ دو گھنٹے اور ہفتہ میں ایک پورا دن ۔ 
-3 طلاق یافتہ اور کنوارے استاد بالکل نہیں رکھتا تھا۔ 
-4 وہ کوئی ورزش ضرور کرتا ہو، صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ کا مالک ہوسکتا ہے۔ 
-5 اور وہ مطالعہ ضرور کرتا ہو۔اس کا ماننا تھا جو خود پڑھتا نہیں وہ پڑھا نہیں سکتا۔ 
###

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط