Episode 24 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 24 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
”آپ کی گاڑی میں چلیں“نوشی بولی جیسے فرمائش کر رہی ہو۔ 
توشی نے حیرت سے اپنی بہن کو دیکھا جو کل تک اس گاڑی کو جلانے کی بات کرتی تھی اب اس میں بیٹھنے کی بات کر رہی تھی۔ 
”ضرور…مگر…آپ میری گاڑی میں“بلال حیرت سے بولا۔ 
”چلتی تو ہے نا …“نوشی جذب و مستی سے بولی بلال کو دیکھ کر۔ 
”آج تو ضرور چلے گی “بلال نے جواب دیا۔

 
بلال کی گاڑی Toyota Land Cruiser 1988گرے کلر میں ماڈل پرانا تھا، مگر گاڑی اندر باہر سے صاف ستھری۔ نوشی کو اس گاڑی سے نفرت تھی وہ اکثر کہتی میرا بس چلے تو میں اس کھٹارا کو آگ لگادوں۔ توشی بیک سیٹ پر بیٹھ گئی اور نوشی فرنٹ سیٹ پر بلال کے ساتھ۔ گاڑی گیٹ سے باہر تھی گاڑی میں خاموشی تھی۔
”کوئی گانا شانا لگادو“توشی نے خاموشی توڑی اور فرمائش کردی ۔

(جاری ہے)

 
’وہ آکے پہلو میں ایسے بیٹھے کہ شام رنگین ہوگئی ہے ‘
لتا جی کی مسحور کن آواز نے کانوں کے پردوں پر میٹھی سی دستک دی اور ان کا ساتھ شبیر کمار بخوبی دے رہے تھے۔ میوزک ڈائریکٹر لکشمی کانت پیارے لال کی یہ دھن فلم غلامی سے تھی۔ مگر ان سب خوبیوں کے باوجود بلال اسے صرف گلزار صاحب کی وجہ سے سنتا تھا کیونکہ یہ گلزار صاحب کا لکھا ہوا تھا، بلکہ اس USB کے سارے گانے ہی گلزار صاحب کے لکھے ہوئے تھے۔

 
’ذرا ذرا سی کھلی طبیعت ذرا سی غمگین ہوگئی ہے ‘
یہ شام نہیں تھی …بلکہ رات تھی۔ محبوب پہلو میں ہو تو کیا شام اور کیا رات تب تو اندھیرے بھی رنگین ہوجاتے ہیں۔ پانچ منٹ سے پہلے ہی وہ سینما کی پارکنگ میں تھے ہینڈ بریک کھینچتے ہوئے بلال کا ہاتھ غیر ارادی طور پر نوشی کے ہاتھ سے ٹکراگیا۔ نوشی نے فوراً بلال کی طرف دیکھا بلال بھی اسے دیکھ رہا تھا…نوشی کے لبوں پر جان لیوا مسکراہٹ تھی۔

بلال نے منہ میں Sorryکہا آواز نہیں نکلی مگر نوشی نے سن لیا۔ نوشی نے جاذبیت سے بلال کے رخ پر نور کو دیکھ کر دلفریبی سے مسکرائی پھر اپنی نظریں جھکالیں۔ 
یہ شرم ہے …یا حیا ہے …کیا ہے …نظر اٹھاتے ہی جھک گئی ہے ۔ گانا تو ختم ہوچکا تھا مگر محبت کی کہانی دوسری طرف سے اب شروع ہوئی تھی ۔ نوشی کی طرف سے، بلال تو بچپن ہی سے اسی کا تھا۔ 
”چلو اُترو بھی فلم شروع ہوجائے گی “توشی چلا رہی تھی ۔

 
”ابھی پانچ منٹ باقی ہیں“بلال نے بتایا۔ 
”اندر جانے میں بھی تو ٹائم لگے گا“توشی بول رہی تھی ۔ 
چند منٹوں بعد وہ ڈیفنس کے سینما ہال کے اندر تھے۔ دونوں بہنیں بلال کے ساتھ بیٹھنا چاہتی تھیں، اس لیے بلال خود ہی سینٹر میں بیٹھ گیا…ہاف ٹائم میں بلال نے دونوں سے پوچھا کچھ لاؤں کھانے کے لیے ۔ توشی بولی”مجھے تو کچھ نہیں چاہیے“بلال نے نوشی سے پوچھا۔

 
”Popcornصرف“نوشی نے دھیمی آواز میں کہا۔ 
تھوڑی دیر بعد بلال دو پاپ کارن کے پیکٹ اٹھائے ہوئے واپس اپنی سیٹ پر تھا۔ فلم شروع ہوچکی تھی لائٹ بند۔ بلال غور سے فلم دیکھ رہا تھا۔ اس کے دائیں ہاتھ پر نوشی نے بایاں ہاتھ رکھا اور اس کے کان میں سرگوشی کی ۔
”Popcornکھاؤ نا“
بلال جب بھی Popcorn اٹھاتا اس کا ہاتھ نوشی کے ہاتھ سے ٹکراجاتا جوکہ نوشی اپنی مرضی سے کر رہی تھی، اسے بلال کو چھونا اچھا لگ رہا تھا…فلم ختم ہوگئی۔

 
تالیاں، سیٹیاں، تعریفی جملے، تبصرے، اردو میں ہونی چاہیے تھی مگر پھر بھی زبردست، یقین نہیں آرہا یہ پاکستانی فلم، ایسا لگا HollyWood کی کوئی Movieدیکھ رہے ہیں، Nice Movie, Action Too Much, Very wellہال میں جنتے لوگ تھے، سب کی اپنی اپنی رائے تھی، باہر آتے آتے، کئی تبصرے اور تعریفیں کانوں میں پڑیں مگر یہ تینوں خاموش تھے۔ گاڑی میں بیٹھ کر توشی پھر سے بولنے میں بازی لے گئی۔

 
”کوئی اور پروگرام کریں، آئس کریم کھانے چلتے ہیں“توشی کا مشورہ آیا۔ 
”اس وقت بہت دیر ہوجائے گی“نوشی نے کہا”اور آئس کریم کا موڈ بھی نہیں ہے…ہاں اگر کافی ہوجائے تو…مزہ آجائے…“
”کافی…کافی…کہاں سے …ہاں یاد آیا…بلال صاحب پلائیں گے اپنے ہاتھوں سے بناکر …نوشی تمہیں پتہ ہے…بلال بڑی مزیدار کافی بناتا ہے“توشی نے سارے فیصلے خود ہی کرلیے تھے۔

بلال گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے۔ 
”اب ایسا کرو ایک نیا گانا لگاؤ اگر راحت کا ہو تو کیا بات ہے “توشی پھر سے انسٹرکشن دے رہی تھی ایک ڈکٹیٹر کی طرح۔ 
’ایسی الجھی نظر ان سے ہٹتی نہیں دانت سے ریشمی ڈور کٹتی نہیں‘
راحت فتح علی خاں کی دلفریب آواز سماعتوں سے ٹکرائی۔ 
دھند کی وجہ سے ونڈ اسکرین سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا مگر بلال ایک ماہر ڈرائیور کی طرح گاڑی احتیاط سے چلا رہا تھا۔

گاڑی بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی، دھند اتنی زیادہ تھی کہ باہر کچھ نظر نہیں آرہا تھا، ایسے محسوس ہورہا تھاجیسے بادلوں کے درمیان سے جارہے ہوں، بلال جہاز اڑا رہا ہو اور نوشی اس کے پہلو میں بیٹھی ہو اوپر سے راحت کی آواز کا جادو جیسے نوشی کے دل کا ہی حال بیان کر رہا ہو، گانا ختم ہوتا ہے، نوشی دوبارہ Playکرتی ہے، ایک دفعہ پھر وہی آواز کا جادو نوشی کو ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے وہ کسی اور دنیا میں ہو۔

’واللہ یہ دھڑکن بڑھنے لگی ہے چہرے کی رنگت اڑنے لگی ہے‘
’ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی دل تو بچہ ہے جی ‘
نوشی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور دھڑکن محسوس کرنے کی کوشش کی دھڑکن تو تھی مگر دھک…دھک …کی بجائے …بلال …بلال…کی صدا تھی اس نے مخمور نگاہوں سے بلال کو دیکھا جو گاڑی چلانے میں مصروف تھا۔

(میرا دل آج اس کا نام کیوں لے رہا ہے، کیوں…دھک دھک نہیں کر رہا…اس نے دل کی گستاخی دل ہی سے پوچھی…اس نے دل سے کہا تم اصولوں کو توڑ رہے ہو۔ تم میرے تابع ہو میرا حکم مانو اور دھک دھک کرو اس کا نام لینا بند کرو…ورنہ…میں تمہیں…سزا دوں گی…)
دل مسکرا کر بولا۔ (نسیم جمال تمہاری بھول ہے میں تمہارا غلام نہیں ہوں ہم سے تم ہو …تم سے ہم نہیں۔

رہا سزا کا سوال…تو وہ بھی ہم ہی دلواتے ہیں…ہمیں اس مالک کے علاوہ کوئی سزا نہیں دے سکتا، اسی خالق کے حکم سے ہم دھڑکتے ہیں اور اسی کے حکم سے ہماری دھڑکن بند ہوتی ہے۔ ہاں میری ایک نصیحت یاد رکھنا …دل نے کہا نوشی کو چپکے سے ایک دانشور کی طرح صوفی کی طرح اور ایک درویش کی طرح…میں بہت گہرا ہوں…بڑا ہوں…وسیع ہوں…اللہ کی شان ہے…
دنیا کے سارے راز مجھ میں سماسکتے ہیں دنیا کے سارے علوم میں جذب کرسکتا ہوں مگر میں محبت اور شک میں سے صرف ایک کو رکھتا ہوں…آج بلال کی محبت ہے، اگر شک آیا تو، پھر محبت چلی جائے گی …)
دل کی دو ٹوک، کھری کھری، سچی اور حقیقت پر مبنی باتوں نے نوشی کے ہوش ٹھکانے لگادیے۔

 
گیٹ پر ہارن بجتا ہے دروازہ کھلتا ہے، بلال کی گاڑی اندر پورچ میں کھڑی ہوجاتی ہے۔ پانچ منٹ کا فاصلہ دس منٹ میں طے ہوتا ہے۔تھوڑی دیر بعد وہ تینوں بلال کے روم میں تھے۔ 
”اب جلدی سے کافی پلادو اور ہاں ہیٹر بھی جلادو…بہت سردی ہے…اور یہ دھند…کل تو چھٹی پکی…کسٹمر کدھر نکلتا ہے۔ ایسی دھند میں“بلال خاموشی سے توشی کی بک بک سن رہا تھا اور نوشی ٹک ٹکی باندھے بلال کو دیکھ رہی تھی، توشی بلال کے بیڈ پر بیٹھ گئی اور نوشی اسی جگہ دیوان پر بیٹھی جہاں بلال بیٹھا تھا، بلال ہیٹر جلاچکا تھا اور کافی بنانے میں مصروف تھا۔

”ہائے اللہ …عائشہ خان کی آنکھیں…اور حمزہ علی عباسی کی Smile…اور شان …کی کیا بات ہے…واقعی شاندار ہے…مزہ آگیا“توشی فلم پر تبصرہ کر رہی تھی، نوشی کی طرف دیکھ کر جوکہ چور نگاہوں سے بلال کو دیکھ رہی تھی، توشی مسلسل فلم کی باتیں کر رہی تھی مگر نوشی سنی ان سنی کر رہی تھی،اسے کچھ یاد نہیں توشی نے کس کے بارے میں کیا کہا، چند منٹ بعد بلال ان کو کافی پیش کر رہا تھا۔ 
توشی کو اس نے چھوٹی ٹرے میں کافی اور بسکٹ بیڈ پر ہی دے دیے اور نوشی کو دیوان پر بڑی ٹرے رکھ دی جس میں دو مگ او ر بسکٹ تھے بلال نے کرسی پکڑی اور بیٹھ گیا۔ 

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط