Episode 59 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 59 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
”اُس کی بڑی عادتیں میرے دادا جی سے ملتی ہیں، وہ بھی ہفتے میں دو روزے رکھتے تھے۔ میرے دادا جی نے سارے علاقے کے بچوں کو قرآن شریف پڑھایا۔ سال میں تین چار بار ایسے ہی ہاسپٹل میں خون دے آتے نماز کی پابندی کرتے ہر سال زکوٰة دیتے۔ میرے دادا جی کے پاس کوئی ضرورت مند آگیا وہ اُسے خالی ہاتھ نہ جانے دیتے ہمارے ڈیرے پر رونق لگی رہتی مہمانوں کی جس کو پھونک مار دیتے وہ ٹھیک ہوجاتا دادا جی نے کبھی ایک روپیہ حدیہ، نذرانہ، یا تحفہ نہیں لیا تھا کسی سے بلکہ اُلٹا اپنی جیب سے دیتے تھے۔

میں دو ماہ سے بلال کا پیچھا کررہا ہوں مجھے کوئی عیب یا بُرائی نظر نہیں آتی اُس میں “ ولید ہاشمی بتا رہا تھا اِرم واسطی کو۔
”ساری محنت ضائع گئی، DJ بتارہا تھا آج دونوں بہنوں کی بات پکی ہوجائے گی“اِرم واسطی نے افسردگی سے کہا ”کچھ ہاتھ بھی نہیں آیا“
”ہاتھ تو بہت کچھ آئے گا تم تیل دیکھو اور اُس کی دھار دیکھو …… تم نے نام سُنا ہے انڈسٹریلسٹ عقیل ہاشمی کا وہ میرے سگے چچا ہیں“
”وہ جو فیز 5 میں رہتے ہیں اور اُن کی سرامکس کی فیکٹری ہے“ اِرم واسطی نے حیرت سے ولید ہاشمی کو دیکھا ”وہ تمہارے سگے چچا ہیں“ ولید نے اپنے سر کو اثبات میں جنبش دی ”اُن کی کسی بیٹی پر نظر ہے“ اِرم واسطی نے جانچی نگاہوں سے سوال کیا۔

(جاری ہے)

”نہیں نہیں اُن کا صرف ایک بیٹا ہی ہے عادل عقیل ہاشمی“ولید ہاشمی نے بتایا۔
”تو …… پھر …… کیسے “اِرم واسطی ولید کا پلان جاننا چاہتی تھی۔ کسی پارٹی میں ناہید رندھاوا کی ولید ہاشمی سے ملاقات ہوئی تھی اور کسی نے اُن سے ولید کا تعارف اِس طرح سے کروایا تھا کہ یہ مشہور انڈسٹریلسٹ عقیل ہاشمی کا بھتیجا ہے۔ تب سے ولید اُن کی آنکھوں میں آگیا تھا ناہید رندھاوا عقیل ہاشمی کی نیک نامی کو اچھی طرح جانتی تھی۔

تب سے وہ ولید میں انٹرسٹیڈ تھی نوشی کے لیے۔
”یہ شرافت بھی بڑے کام کی چیز ہوتی ہے۔ میرے دادا کی نیک نامی اور شرافت کو میرے باپ نے کیش کیا بلکہ کررہے ہیں۔ پیر صاحب بن کر، بڑے میاں جی جلیل احمد ہاشمی کا بیٹا پیر داوٴد ہاشمی میرے ابا ڈبہ پیر۔ چچا عقیل نے بہت سمجھایا کہ اباجی نیک بندے تھے وہ اللہ کے فقیر تھے فقیری کی جگہ پیری کو نہ لاوٴ مگر اباجی کو نذرانوں کا چسکا لگ چکا تھا اور وہ جھوٹے پیر بن گئے چچا چھوٹی عمرمیں گھر چھوڑ کر لاہور آگئے دادی کو بھی ساتھ لے آئے پھر مڑ کر حجرہ شاہ مقیم کی طرف نہیں دیکھا، دادا کی نیک نامی اُن کے ساتھ آئی اب اُن کی نیک نامی کو کیش کرنے کا وقت آگیا ہے“ ولید دور دیکھ رہا تھا اپنے تصور سے مستقبل میں جہاں وہ شارٹ کٹ سے پہنچنا چاہتا تھا۔

 
###
”اب ہر بندہ شارٹ کٹ سے امیر بننا چاہتا ہے محنت کرنے سے سارے گھبراتے ہیں بہن جی“ جمال رندھاوا ڈاکٹر بٹ کی والدہ سے مخاطب تھے، جوکہ ڈنر سے فارغ ہوچکے تھے اور گپ شپ لگارہے تھے ڈاکٹر محسن رضا بٹ کی والدہ اپنے خاوند رضابٹ کی محنت کی داستان سُنارہی تھیں انہوں نے ساری بات ایمانداری سے بتا دی اپنے فیملی بیک گراوٴنڈ کے بارے اپنے کاروبار کے بارے میں اور اپنے بیٹوں کے بارے میں اور اُن کی محسن کے ساتھ زیادتی کے بارے میں ”بلال نے ہمارا شادباغ گول چکر کے پاس والا مکان دیکھا ہوا ہے اکثر یہ محسن کے ساتھ آتا تھا۔

سامنے ملک جلال کے چھوٹے بھائیوں سے بھی اِس کی سلام دُعا تھی“ ڈاکٹر بٹ کی والدہ نے بلال سے اپنے دیرینہ تعلقات کے بارے میں بتایا۔
جمال رندھاوا ناہید اور جہاں آرا نے بلال کی طرف دیکھا توشی اور محسن آنکھوں سے چیٹنگ کررہے تھے۔ شعیب اپنے Mobile پر بزی تھا۔ اور نوشی بلال کو دیکھ رہی تھی جو خاموش گردن جھکائے بیٹھا ہوا تھا، دراصل بلال کی چوری پکڑی گئی تھی۔

کالج کے دنوں میں بلال محسن کے ساتھ شادباغ اپنے دونوں چچاوٴں سے ملنے کے لیے جاتا رہتا تھا بغیر اپنا تعارف کروائے ہوئے اُس نے اپنے چچاوٴں کو کبھی نہیں بتایا تھا کہ وہ اُن کا بھتیجا ہے ملک جلال احمد کا بیٹا ملک بلال احمد وہ صرف بلال بن کر ملتا رہا تھا۔ وہ اس لیے اُن سے ملتا تھا وہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ اپنے کیے پر نادم ہیں کہ نہیں اُس کی ماں کو گھر سے کیوں نکالا تھا اور اُن کا ایک بھتیجا بھی تھا۔

اُن کا اپنا خون اُن کے بھائی جلال کی نشانی بلال نے اس دن سے اُدھر جانا چھوڑ دیا جب اُسے پتہ چلا کہ اُس کے چچاوٴں کو اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔ اب وہ مہینے میں ایک بار ضرور شادباغ جاتا تھا اپنے باپ کی قبر پر دعا کے لیے۔
”آپ جانتی ہیں ملک جلال احمد کو …… “ جمال رندھاوا نے پوچھا عذرا محسن کی ماں سے ”جانتی …… وہ میرا چھوٹا بھائی بنا ہوا تھا۔

بھابھی نہیں کہتا تھا۔ باجی عذرا کہاکرتا تھا۔ دوست تو وہ بٹ صاحب کا تھا حالانکہ بٹ صاحب سے کوئی آٹھ دس سال چھوٹا ہوگا پھر بھی دونوں میں بہت دوستی تھی۔ ایک دن اچانک کہنے لگا باجی پرسوں میرا نکاح ہے اُسی دن یہ ڈاکٹر محسن پیدا ہوا تھا۔ میں لیڈی ایچی سن ہسپتال سے واپس گھر پہنچی تھی۔ میرے جسم میں اب بھی اُس کا خون ہے۔ ایک بوتل خون بھی دیا تھا۔

میری ڈلیوری کے وقت۔ اُس کی بیوی بھی لاکھوں میں ایک تھی۔ پھر کس کی نظر لگ گئی…… 
رات کو جلال کو درد ہوا سینے میں بٹ صاحب لے کر گئے ہسپتال پر رستے مین ہی دم دے دیئے اُس کی بیوی بھری جوانی میں اُجڑ گئی۔ جلال کے بھائیوں نے گھر سے نکال دیا بیچاری کو۔ بٹ صاحب نے کہا تم میری بہن ہو میر ے گھر پر رہو کہنے لگی میرا لالہ زندہ ہے آپ بھی میرے بھائی ہو میں اپنے لالہ کے گھر پر رہوں گی۔

میرا لالہ جلال کے بھائیوں جیسا نہیں ہے بہت اچھا ہے میرا لالہ“
جمال رندھاوا کی آنکھیں آنسووٴں سے چمک اُٹھی تھیں۔ عذرا نے اُن کی طرف دیکھا تو جمال نے نظریں جھکالیں وہ جمال کے چمکتے آنسو نہیں دیکھ سکی۔
”اپنے جس لالہ پر اُسے مان تھا۔ وہ بھی نکھٹو نکلا۔ اُس کی بھرجائی ظلم کرتی رہی جمیلہ پر اور وہ تماشہ دیکھتا رہا۔ پھر ایک دن خبر آئی کہ جمیلہ پاگل ہوگئی ہے۔

چند دن بعد اُس کے مرنے کی خبر ملی لعنت ہے ایسے بھائی پر لکھ لعنت فٹے منہ، میں بھی پاگل ہوں کون سی باتیں اِس خوشی کے موقعے پر لے کر بیٹھ گئی بس آپ نے جلال کا نام لیا تو میرا دل بھر آیا …… مگر آپ کیسے جانتے ہیں ملک جلال کو“ عذرا نے پوچھا جمال سے جو گردن جھکائے بیٹھا تھا اور خاموش تھا ”بس جاننے والا تھا ملک جلال“ جمال نے جواب دیا جُھکی ہوئی گردن کے ساتھ۔

”میں تو جب بھی اُن کے بیٹے کا سوچتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے بلال نام تھا اُس کا …… “ بلال نام نے عذرا کے دماغ کا فلیش بیک کا بٹن ON کردیا اُن کے ذہن میں پروجیکٹر ON ہوگیا تھا جس پر یادوں کا نیگٹو چل رہا تھا وہ کھلی ہوئی آنکھوں سے ماضی دیکھ رہیں تھیں۔
اُس نے بلال کی طرف دیکھا جو وہاں سے اُٹھ کر چلا گیا تھا۔ جہاں آرا اپنے پلو سے آنسو صاف کررہیں تھیں۔

نوشی اور توشی بھی آبدیدہ تھیں۔ جمال کے اشک اُس کے اپنے گھٹنوں پر گر رہے تھے۔ ناہید اور شعیب پھٹی پھٹی نگاہوں سے ایک دوسرے کو تک رہے تھے ۔ عذرا سب کچھ جان چکی تھی۔ اِس خاندان کے بارے میں اُس نے ڈاکٹر محسن سے کہا جو حیرت کی تصویر بنا ہوا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ 
”اٹھو بیٹا یہ بڑے لوگ ہیں …… ہمارا اِن کے ساتھ نبھا نہیں ہوسکتا ہے“ ڈاکٹر محسن نے اپنی ماں کے حکم کی تعمیل کی اور اُٹھ گیا بغیر کچھ بولے ہوئے توشی جاتے ہوئے اُن کو دیکھ رہی تھی ڈاکٹر بٹ نے لاوٴنج سے نکلنے سے پہلے مڑ کر دیکھا اُس کی ماں آگے تھی اور وہ پیچھے تھا توشی نم آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔

ڈاکٹر بٹ نے توشی کو آنکھوں سے تسلی دی اور ہاتھ سے اشارہ کیا فکر نہ کرنا۔
بلال اپنے کمرے میں اپنے ماں باپ کی تصویر ہاتھ میں لیے ہوئے کھڑا تھا جو کہ ایک خوبصورت فریم میں سجی ہوئی تھی۔ یہ تصویر ہمیشہ وہ اپنے تکیے کے نیچے رکھتا تھا کبھی کسی کو پتہ نہیں چلا اُس کے روم کے دروازے پر دستک ہوئی اُس نے وہ تصویر تکیے کے نیچے رکھی اور آواز لگائی زخمی آواز کے ساتھ ”آجائیں دروازہ کُھلا ہے“
جمال رندھاوا کمرے میں داخل ہوتا ہے بلال کا چہرہ ٹیرس کی طرف تھا جمال چلتا ہوا اُس کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور اپنے دونوں ہاتھ بلال کے کندھوں پر رکھتے ہوئے لرزتی آواز میں بولا ”اپنی ماں کے نالائق لالہ کو معاف کردو …… بلال صاحب …… معاف کردو اپنی ماں کے نالائق لالہ کو …… “
جمال رندھاوا بلک بلک کر رورہا تھا۔

ایک شیر خوار بچے کی طرح۔ بلال کی آنکھوں میں آنسو جم چکے تھے گلیشیر کی برف کی طرح وہ خاموش تھا۔ دروازہ کُھلا ہوا تھا جہاں آرا بھی کمرے میں داخل ہوئیں اور اُس کے پیچھے نوشی اور توشی بھی تھیں۔
”بلال بیٹا معاف کردو اپنے مامے کو“ جہاں آرا نے بلال سے کہا۔

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط