Episode 63 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 63 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
”گڑ مہنگا ہوگیا اور چینی سستی …… سیب سستے ملتے ہیں اور امرود مہنگے ملتے ہیں …… مرغی سستی ہوگی اور دالیں مہنگی …… چائے سب پیتے ہیں پھر بھی سستی اور لسی کوئی کوئی پیتا ہے پھر بھی مہنگی “ BG تبصرہ کررہی تھی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے ”میرے بچپن میں نوشی بی بی میرا دادا کتنا کتنا گڑ مفت دے دیتا ویلنے پر آئے لوگوں کو سب روپی کر بھی جاتے اور گڑ کھاکر بھی اور گنے بھی ساتھ لے جاتے “ ”ویلنے پر آئے لوگ روپی کر جاتے بس پینے کی سمجھ آئی ہے باقی کچھ نہیں “ توشی نے کہا BG کو دیکھ کر ”ڈفر تم ہو اور کہتی مجھے رہتی ہو۔

بلال نے بتایاتو تھا ویلنا گنے کا رس نکالنے والی مشین جو بیلوں کی مدد سے چلتی ہے اور رو گنے کے رس کو کہتے ہیں “ نوشی نے اپنی ذہانت کا ثبوت پیش کیا ”یہ لو …… اب حافظہ بھی ٹھیک ہوگیا ہے بلال کی محبت میں نوشی میڈم تم رات کو ڈنر تک بھول جاتی ہو، بریک فاسٹ میں کیا کھایا تھا “ توشی ابرو چڑھاتے ہوئے بولی۔

(جاری ہے)


توشی نے BG کو بلایا تھا اپنے کمرے میں وہ BG سے شوہر کو قابو میں رکھنے کا راز جاننا چاہتی تھی مگر اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ BG سے کیا پوچھے اور کیسے بات شروع کرے۔

 
” BG آپ کو پتہ تو ہے نا …… ہماری شادیاں طے ہوگئی ہیں“ توشی ے رُک رُک کر پوچھا شرماتے ہوئے۔
” میرے سامنے تو دن رکھے تھے“ BG نے کچھ سوچ کر جواب دیاBG نے نوشی اور توشی کی طرف دیکھا جو آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کررہیں تھیں۔
” بیٹا سب کچھ بتاوٴں گی ابھی تو دو مہینے پڑے ہیں“ BG سمجھ گئی وہ دونوں کیا پوچھنا چاہتی ہیں۔

” آپ آج ہی بتادیں ہمیں“ اِس بار نوشی نے پوچھا بے قراری سے BG نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ”نوشی بیٹی آپ تو نصیبوں والی ہو۔ بلال بیٹا تو بڑا سیانا ہے۔ بالکل ہمارے گاوٴں کے بڑے میاں جی جیسا …… آپ اُس پر شک کبھی نہ کرنا اور لڑنا مت اُس کے ساتھ ایک بات اور اُس کے مرے ہوئے ماں باپ کی عزت کرنا ہمیشہ پھر دیکھنا وہ تمہیں رانی بناکر رکھے گا کبھی (تتی) گرم ہوا بھی نہیں لگنے دے گا“
”یہ لو …… میں نے بلایا تھا آپ کو BG اور سارے مشورے اسے ہی دے رہیں ہیں“ توشی مصنوعی ناراضی سے بولی منہ بناکر۔

” توشی بیٹی تمہاری بات الگ ہے یہ جو خاندانی لوگ ہوتے ہیں شریکا برداری والے یہ مختلف ہوتے ہیں۔ خواہ ڈاکٹر ہی کیوں نہ بن جائیں…… آپ بٹ صاحب کو ایک بھوک لگنے نہ دینا اور دوسری بھوک ختم نہ کرنا“ BG نے مختصراً جواب دیا توشی کو جو کچھ زیادہ سننا چاہتی تھی نوشی کے مقابلے میں۔
” BG آپ بھی …… بلال کی طرح مشکل مشکل باتیں بتارہی ہیں “توشی نے بیزاری سے کہا۔

” توشی بیٹی یہ تو سیدھی سی بات ہے۔ میری ماں نے مجھے بتائی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے کھانے پینے کا خیال رکھنا مطلب بھوک لگنے نہ دینا ” اور وہ جو بھوک ختم نہ کرنا اُس کا کیا مطلب ہے“ توشی منہ بناکربولی نوشی خاموشی سے BGاور توشی کو دیکھ رہی تھی۔“
”مطلب یہ کہ ہر وقت ڈاکٹر صاحب کے ساتھ چمٹی مت رہنا تھوڑی دوری بناکر رکھنا اس طرح مرد بھوکا رہتا ہے اور اُسے ہر وقت اپنی بیوی کا خیال رہتا ہے اور وہ اُس کی قدر بھی کرتا ہے اور عزت بھی“ BG نے ساری تشریح کردی دونوں باتوں کی توشی کو BG کی بات سمجھ آگئی نوشی کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی توشی یکایک پھر سے بول پڑی فرمائشی انداز سے ۔

”BG کچھ اور بتاوٴنا “
” اور بتاوٴں“BG کے چہرے پر مسکراہٹ تھی”تو سنو ڈاکٹر صاحب کو ہمیشہ بٹ صاحب کہنا اُن کا نام مت لینا اور اُن کی ماں کو آنٹی مت کہنا بلکہ جس طرح ڈاکٹر صاحب بلائیں اُس طرح بلانا اور ڈاکٹر صاحب کو اُن کے رشتے داروں کی موجودگی میں پلٹ کر جواب کبھی نہ دینا گھر آکر بھلے دس سُنا لینا وہ تمہاری سُنے گا۔ محفل میں اُس کی ایک مانو گی تو تنہائی میں وہ تمہاری دس مانے گا، توشی بیٹی یاد رکھنا میری باتوں کو پوری زندگی راج کرو گی ڈاکٹر صاحب کے دل پر“
” BG مجھے بھی راج کرنا ہے بلال کے دل پر میں بھی اِن باتوں پرعمل کروں کیا“ نوشی بھولی صورت بناکر بولی۔

”نہ نہ نوشی بیٹی آپ تو پہلے ہی سے رانی ہو۔ یہ تو توشی کو اُس خاندان میں اپنی جگہ بنانی ہے اِس لیے اُسے یہ باتیں بتارہی ہوں۔ بلال کا خاندان تو تمہارے ساتھ سے شروع ہوگا اور یہ ساری باتیں تو اکھڑمردوں کو قابو کرنے والی ہیں۔ بلال تو درویش ہے۔ بالکل سیدھا سادھا شریف آدمی …… اچھا میں چلتی ہوں کچن میں بہت کام باقی ہے۔ SMSکام چور موبائیل پر گانے سُن رہا ہوگا“ BG یہ کہہ کر کمرے سے چلی گئی۔

 
” میں تو BG کو اینویں ہی سمجھتی تھی یہ تو بڑے کام کی باتیں جانتی ہیں“ توشی بولی BG کے جانے کے بعد ”ٹھیک کہہ رہی ہو “نوشی نے تائید کی۔
###
” ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ خان صاحب“ جمال رندھاوا نے گل شیر خان کی کسی بات کی تصدیق کی جو کہ سیالکوٹ کی طرف جاتے ہوئے گوجرانوالہ شہر سے گزر رہے تھے بلیک مرسڈیز میں پچھلی سیٹ پر جمال رندھاوا بیٹھے ہوئے تھے اور آگے ڈرائیور کے ساتھ گل شیر خان بیٹھے تھے۔

” شکر ہے خدا کا بچیوں کے رشتے طے ہوگئے اب میں شادی تک یہی رہوں گا آپ اپنا اور حسیب خان کا پاسپورٹ بنوالیں اب اگر جانا پڑا امریکہ یا یورپ تو آپ باپ بیٹا جائیں گے“ جمال نے گل شیر خان سے کہا ، گاڑی اب چھچھر والی نہر کے ساتھ ساتھ دوڑ رہی تھی۔ کافی دیر گاڑی میں خاموشی رہی۔ اب وہ ڈسکہ کی طرف جارہے تھے ”ویسے آپ نے اچھا کیا میرے آنے سے پہلے ہی ڈاکٹر محسن کا پتہ کروالیا تھا “ جمال رندھاوا نے گل شیر خان کی تعریف کی گل شیر نے جس دن توشی کو پہلی دفعہ دیکھا تھا محسن کے ساتھ اُس نے اُسی دن سے چھان بین شروع کردی تھی جب اُسے پتہ چلا کہ محسن دوست ہے بلال کا تو وہ مطمئن ہوگیا تھا۔

” رندھاوا صاحب نام تو میرا گل شیر ہے مگر یہ خوبیاں بلال بیٹا میں ہیں۔ وہ گل یعنی پھول کی طرح نرم ہے بات کرتا ہے تو اُس کی باتوں سے خوشبو آتا ہے۔ گل کی طرح حسین ہے۔ اندر باہر سے اور شیر کی طرح بہادر بھی ہے۔ ہم تو اُس کا دلیری دیکھ کر بہت متاثر ہوا اُس دن وہ MNA کے گھر میں جاکر ایسے دلیری سے بات کیا ہم خوش ہوگیا تھا“
گل شیر خان اُردو بول رہے تھے آہستہ آہستہ پشتو کے انداز میں بالکل پختونوں کی طرح جمال نے گل شیر کی بات سُن کر اپنے گلے کی ٹائی سیدھی کی بلال کی تعریف سُن کر اُن کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی۔

 
” رندھاوا صاحب ایک بات اور ہے میرا فرض ہے آپ کو بتانا اس لیے بتا رہا ہوں وہ اپنا شعیب بیٹا کا اُٹھنا بیٹھنا غلط لوگوں کے ساتھ ہے“ گل شیر خان احتیاط سے بات کررہے تھے محتاط ہوکر۔
” خان صاحب آپ کھل کر بات کرو میں سنوں گا۔ مجھے آپ پر اعتماد ہے آپ کوئی غلط بات نہیں کرتے جب تک اُس کی مکمل چھان بین نہ کرلیں“ جمال رندھاوا نے گل شیر کو اعتماد دیا۔

” رندھاوا صاحب شعیب بیٹا شراب اور چرس پیتا ہے۔ کرکٹ کے میچوں پر جواء بھی لگاتا ہے اور بہت ساری لڑکیوں سے دوستی بھی ہے“ گل شیر نے ساری رپورٹ دی۔
” آپ نے ناہید کو بتایا“ جمال رندھاوا نے پوچھا فکر مندی سے۔
” جی وہ …… بیگم صاحبہ کو خبر ہے“ گل شیر خان نے دُکھی انداز سے جواب دیا۔
جمال رندھاوا سن کر دُکھی ہوگئے اور اپنی نظریں گاڑی سے باہر جمادیں جہاں سڑک کے دونوں اطراف گندم کی فصل کے چھوٹے چھوٹے پودے سجے ہوئے تھے زمین کے وشال سینے پر وہ گندم جس کو کھانے کے بعد ہی سے دنیا سجی اور جیسے کھائے بغیر گزارا بھی نہیں …… 
###

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط