Episode 89 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 89 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
”دادو مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی آپ نے کبھی پاپا کو کچھ نہیں کہا ہمیشہ بلال کو ہی صبر کرنے کو کہا۔ “ توشی اپنی دادی سے کوٹ فتح گڑھ میں اپنی آبائی حویلی میں بیٹھی ہوئی پوچھ رہی تھی۔
”توشی بیٹی ٹھیک کہہ رہی ہو اُس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی یہ تمہارے باپ نے ہمیشہ تمہاری ماں کی بات مانی ہے مجھے ڈر تھا میں اُس سے کچھ کہوں گی اگر اُس نے انکار کردیا تو میرے پلے کیا رہ جائے گا………
اور دوسری وجہ یہ میرا ہی فیصلہ تھا، تمہارے باپ کی شادی کا میں نے ساری زندگی اپنے اس غلط فیصلے کو صحیح ثابت کرنے میں گزار دی………
تمہاری پھوپھو تمہارے دادا کی لاڈلی تھی۔

تمہارے دادا نے تمہاری پھوپھو کی پسند سے ملک جلال احمد کے ساتھ تمہاری پھوپھو کا رشتہ طے کیا تھا، دونوں ساتھ پڑھتے تھے۔

(جاری ہے)

اور تیرا باپ تیری ماں پر لٹو تھا۔ یہ رشتہ میں نے تیرے دادا اور پھوپھو کی مخالفت کے باوجود ضد میں کیا تھا۔“ دادی کی آنکھوں میں نمی تھی اور وہ رُک گئیں بات کرتے کرتے۔
”توشی کبھی بھی اپنے سائیں سے ضد نہ کرنا گھر برباد ہو جاتے ہیں۔

تیرے باپ کی شادی کے بعد چند دنوں کے اندر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ تیرا باپ تیری ماں کے پیچھے ہم سب کو چھوڑ سکتا ہے۔ 
ایک دن تیری ماں اور تیرے دادا میں زمین نہ بیچنے پر بحث ہو گئی تیری ماں نے بڑی بد تمیزی کی تیرے دادا کے ساتھ اور تیرا باپ پاس بیٹھا تماشہ دیکھتا رہا اُس وقت تیرے دادا کو دل کا دورہ پڑ گیا، ہم اس حویلی میں تھے اور تیری پھوپھو لاہور تھی۔

تیرا دادا چل بسا۔
تیری ماں نے تیرے باپ کا حصہ بیچ کر ہی دم لیا تیری پھوپھو نے اپنا حصہ نہیں بیچا تھا۔ پھر تیرے باپ کے لیے میری ممتا جاگ اُٹھی۔ جمال کو جیل سے نکالنے کے لیے تمہاری ماں کے کہنے پر تمہاری پھوپھو کو مجبور کیا تھا۔ تیری پھوپھو نے اپنی زمین اپنے بھائی پر قربان کردی پھر تیری ماں تیری پھوپھو کو بھی کھا گئی تیرا باپ پھر بھی کچھ نہ بول سکا تھا۔

اب تو ہی بتا تیرے باپ کو کیا کہوں۔ اتنا بڑا کاروباری بندہ ہے لیکن اپنے گھر کے فیصلے نہیں کر سکا۔“دادی نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کی توشی کے دیکھنے سے پہلے دادی نہیں چاہتی تھی کہ توشی پھر پرانی باتوں کو یاد کرکے روئے۔
”دادو … آپ نے بلال کے لیے بھی پاپا سے کبھی بات نہیں۔ “
”بیٹا سچ پوچھوں مجھے ڈر تھا، تمہاری ماں سے کہیں وہ بلال کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے اس لیے میں نے کبھی اُس کے لیے آواز نہیں اُٹھائی، میں تیرے باپ کو کچھ سمجھانے کی کوشش بھی کرتی، کرنا اُس نے وہی تھا جو تیری ماں کا حکم ہوتا۔

بہشتی تیرا دادا بڑی نگاہ رکھنے والا بندہ تھا۔ تیرے باپ کے ولیمے والے دن کہنے لگا مجھ سے کان میں جہاں آرا بیگم میری بات یاد رکھنا تیرا بیٹا بہت بڑا (رن مرید ہوگا) میں ہنس پڑی تیرے داد کی بات سن کر میں نے کہا آپ کا بیٹا ہے آپ تو میرے مرید نہیں بنے نہیں یہ تمہارا بیٹا ہے تیرے دادا نے کہا پھر تیری پھوپھو پر نظر پڑی اور بولا میرا بیٹا وہ ہے میری بیٹی لڑکی ہو کر بھی دلیر بہادر سمجھدار اور تیرا بیٹا مرد ہو کر بھی (جھوڈو) ڈر پوک اور لائی لگ۔

)“
دادی کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ تھی انہوں نے اپنی مسکان سے اپنے غم کو چھپانے کی پوری کوشش کی تھی۔
”شکر ہے یہ بارش تو کم ہوئی۔ “ توشی نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دادی دوبارہ بول پڑتی ہیں۔
”بلال میں مجھے تینوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ بلال اپنے باپ کی طرح خود دار اور اپنی ماں کی طرح سمجھدار اور تیرے دادا کی طرح دلیر بہادر مضبوط مرد۔

تیرے باپ کی طرح(جھوڈو) نہیں۔ “
دادی کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ تھی۔
”دادو کیا مضبوط مرد روتے نہیں ہیں۔ میں نے آج تک بلال کو روتے ہوئے نہیں دیکھا کبھی اُس کی آنکھوں سے ایک آنسو گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ “توشی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”وہ کیا کہتی ہو تم ہاں یاد آیا … یہ لو … “ دادی نے بھی توشی کا تکیہ کلام دھرایا۔

مسکراتے ہوئے ۔ ”توشی بیٹی وہ روتا ہے لیکن لوگوں کے سامنے نہیں۔“ دادی نے ٹھنڈی سانس بھری۔
”ایک دفعہ مجھے کہنے لگا نانو دوست کے کندھے پر سر رکھ کر رویا جاتا ہے، یا پھر ماں کی آغوش میں۔ “
”ماں کی آغوش… “ توشی کچھ سوچ کر بولی۔ ”دوست کا کندھا … دادو میں نے کئی بار اپنا کندھا پیش کیا مگر وہ رویا ہی نہیں میرے کندھے پر سر رکھ کے۔

”وہ اپنی ماں کے پاس جا کر روتا ہے۔ “ دادی رنجیدگی سے بولی۔
”ماں کے پاس جا کر۔ “ توشی نے حیرت سے اپنی دادی کے الفاظ دہرائے۔
”بلال کہتا ہے ماں کی قبر پر رونا میرے نبی پاکﷺ کی سنت ہے۔ بلال بھی اپنی ماں کی قبر پر جا کر روتا ہے۔ “
###
اُسی دن رات کو رندھاوا ہاؤس سے نکلنے کے بعد بلال سیدھا ڈیفنس کے S بلاک والے قبر ستان میں واقع اپنی ماں کی قبر پر گیا۔

بارش ہلکی ہو چکی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔
اپنی ماں کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر اپنا سر اپنے گھٹنوں میں لیے ہوئے بلال بلک بلک کر رو رہا تھا۔ بلال کے آنسو زار و قطار بہہ رہے تھے۔ بلال سسکیاں لے رہا تھا۔ جیسے کوئی شیر خوار بچہ ہو۔ آج یہ مضبوط مرد کرچی کرچی ہو چکا تھا۔ بلال کے بدن میں کپکپاہٹ تھی۔ بلال کا دل چھلنی چھلنی ہو چکا تھا۔

اس الزام کی وجہ سے اُس کی عزت نفس مجروح ہو ئی تھی۔
”بلال بھائی کی گاڑی … یہاں اس وقت … “ عادل عقیل نے قبرستان کے باہر کھڑی گاڑی دیکھ کر خود سے کہا عادل نورانی مسجد میں عشاء کی نماز ادا کرکے اپنے گھر جا رہا تھا۔ بابا جمعہ کے انتقال کے بعد سے عادل کا معمول تھا کہ وہ فجر اور عشاء کی نمازیں بابا جمعہ کے موچی خانے کے سامنے واقع نورانی مسجد میں ادا کرتا تھا۔

فجر کے بعد وہ بابا جمعہ کے جنگلی کبوتروں کو دانہ ڈالتا اور کالی بلی کو دودھ، آج بھی وہ عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر کالی بلی کو دودھ ڈالنے کے بعد، اپنے گھر جا رہا تھا، جب اچانک اُس کی نظر بلال کی گاڑی پر پڑی تھی۔ اس قبر ستان سے بابا جمعہ کا موچی خانہ کوئی آدھ کلو میٹر سے بھی کم دوری پر تھا۔
عادل نے اپنی BMW کار بلال کی گاڑی کے ساتھ پارک کی اور گاڑی سے اُتر کر گاڑی کے شیشوں کے پار دیکھنے کی کوشش کرنے لگا عادل کو کچھ نظر نہیں آیا اب بھی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔

عادل کی تشویش بڑھنے لگی، اُس نے بلال کے نمبر پر کال ملائی، بیل جا رہی تھی، موبائل کی روشنی کی وجہ سے اُسے پتہ چل گیا گاڑی میں کوئی نہیں تھا، بلال کا موبائل بھی گاڑی میں ہی تھا۔
عادل کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ کالے سیاہ بادلوں کی وجہ سے رات مزید سیاہ تھی اوپر سے ٹھنڈی ہوا، اور ہلکی ہلکی بوندا باندی بارش کی جہ سے اس سڑک پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔

ویسے بھی یہ سڑک مین غازی روڑ سے نکلتی ہے۔ PTCL ایکسچینج کے پاس سے اس روڑ سے صرف وہ گاڑیاں گزرتی ہیں جن کی منزل S بلاک کا کوئی گھر ہو۔عادل سوچ میں پڑ گیا۔ بلال بھائی کہاں ہو سکتے ہیں۔ ”قبرستان کے اندر“ عادل نے خود کو مخاطب کیا۔
عادل نے قبرستان کے گیٹ کی طرف نظر ڈالی بڑا مین گیٹ بند تھا۔ اُس کے ساتھ چھوٹا گیٹ کھلا ہوا تھا۔ قبرستان کے گیٹ کا رنگ بھی کالی سیاہ رات جیسا ہی تھا یعنی کالا سیاہ۔

عادل قدم اُٹھاتا ہوا قبرستان کی طرف چل دیا۔ عادل چھوٹے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوئے رُکا مڑ کر پیچھے دیکھا کوئی نہیں تھا، اُس کا وہم تھا۔ عادل زندگی میں کبھی دن کے اُجالے میں قبر ستان کے اندر نہیں گیا تھا۔
رات کے اس پہر عشا کے بعد وہ بھی اکیلا اُس نے سامنے کی طرف دیکھا عالم خان پھول فروش کی دُکان چھوٹے گیٹ کے بالکل سامنے جو دُکان کم پان شاپ زیادہ لگتی تھی، گول فٹ بال کی طرح بنی ہوئی پھولوں کی دُکان جس کے سامنے کی طرف شیشے کی کھڑکیاں لگی ہوئی تھیں اور پچھلی سائیڈ پر دیوار کے ساتھ ایک سفید فریزر رکھا ہوا تھا۔

 
(نوٹ: ہم مسہری اور اسٹیج ڈیکوریشن کا تسلی بخش کام بھی کرتے ہیں) ایک چاٹ پیپر پر لکھا ہوا تھا، چاٹ پیپر کے نیچے عالم خان پھول فروش اور ساتھ اُس کا موبائل نمبر بھی تھا۔ مین گیٹ کے بالکل سامنے ایک پختہ راہ داری تھی اور گیٹ کے بائیں طرف سیکورٹی گارڈ کا کیبن مگر اُس میں گارڈ نہیں تھا۔ اُس وقت قبر ستان میں کوئی گھور کن بھی موجود نہیں تھا۔

عادل اُس پختہ راہ داری پر چلتا ہوا قبر ستان کے اندر داخل ہو گیا اُس کے دائیں بائیں دو گرین لان تھے اور ان میں لکڑی اور لوہے کی بنی سیٹیں لگی ہوئیں تھیں ۔ راہ داری پر سرخ چھوٹی ٹف ٹائلیں لگی ہوئیں تھیں۔
عادل دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا، ڈرتے ہوئے اُسے حوصلہ ٹیوب لائٹوں کی وجہ سے تھا بجلی کے چھوٹے کھمبوں پر جا بجا ٹیوب لائٹس لگی ہوئی تھیں اُس کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔

تیس چالیس قدم چلنے کے بعد عادل کی نظر بلال پر پڑی جو ٹیوب لائٹ کے پول سے آگے چھوٹے آم کے پیڑ سے کچھ فاصلے پر ایک قبر کے سرہانے اپنا سر اپنے گھٹنوں میں لیے ہوئے رو رہا تھا۔
جمیلہ جلال قبر کے قطبے پر لکھا ہوا تھا اور نیچے کی طرف قبر کا نمبر لکھا ہوا تھا۔ عادل دبے پاؤں بلال کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اُس کے پیچھے کی طرف وہ چند منٹ اس طرح کھڑا رہا اس کے بعد عادل نے ہمت کی۔

’ بلال بھائی …’ “ عادل نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔ اُس کا دایاں ہاتھ بلال کے بائیں کندھے پر تھا۔ عادل اپنے گھٹنوں پر بیٹھ چکا تھا۔ بلال مسلسل رو رہا تھا۔ چند منٹ عادل دیکھتا رہا، اُس کے بعد عادل نے بلال کو اُٹھایا زور لگا کر، عادل کو ایسے محسوس ہوا جیسے بلال کوئی بے جان بدن ہو جو صرف سانس لے رہا ہو، اور رو رہا ہو۔

عادل نے بلال کو گلے لگا لیا تھا۔ بلال کا سر عادل کے کندھے پر تھا، اور وہ زور زور سے رو رہا تھا۔ عادل سمجھ گیا ضرور بلال کے ساتھ کوئی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ عادل بھی بابا جمعہ کے انتقال کے وقت ایسے ہی رو رہا تھا تب بھی، بلال کی آنکھوں میں کوئی آنسو نہیں آیا تھا۔ عادل نے بلال کو اپنی کار میں بٹھایا اور اپنے گھر لے گیا گیسٹ روم کی بجائے عادل نے بلال کو اپنے بیڈ روم میں لے جانا بہتر سمجھا۔
اپنی ایک شلوار قمیض اُسے دی ”بلال بھائی کپڑے چینج کر لیں ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گئی۔“
عادل نے ہینگر بلال کو تھماتے ہوئے کہا تھا۔ بلال باتھ روم چلا گیا اور چند منٹ بعد گرم پانی سے غسل کرکے لوٹا تھا۔

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط