Episode 95 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 95 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
” توشی میں نے تم سے کچھ نہیں چھپایا تھا، اپنے ماضی کے بارے میں وہ بھی بلال کے کہنے پر میں نے اپنی زندگی میں صرف دو ایسے افراد یکھے ہیں، جو صرف دیکھ کر حالات کو جان جاتے تھے اُن کے اندازے غلط بھی ہوں گے مگر میں نے کبھی نہیں دیکھا ایسا ہوتے ہوئے………
میں اور بلال سیکنڈائیر میں تھے۔ ہمارے ساتھ ایک لڑکا پڑھتا تھا، رضوان الہی اُس کے آباو اجداد کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔

اُن دنوں مجھے اپنی پڑوسن سمیرا سے محبت ہو گئی، وہ لوگ گجر تھے۔ اُس کے بھائیوں کا دودھ دہی کا کاروبار تھا، سمیرا کا باپ مر چکا تھا، اور وہ اپنے تین بڑے بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی میں اُس سے شادی کرنا چاہتا تھا، مگر مشکل یہ تھی وہ لوگ گجر تھے، اور ہم بٹ، رشتہ نہ تو وہ لوگ برادری سے باہر کرتے تھے، اور نہ ہی ہمارے ہاں ایسا کبھی ہوا تھا۔

(جاری ہے)

میں نے اپنی مشکل بلال اور رضوان الٰہی سے ڈسکس کی، بلال تو سُن کر خاموش رہا مگر رضوان الٰہی بول پڑا کہ سیالکوٹ میں ایک جگہ ہے اڈاپسروریاں اُس کے پاس ہی ملک فاضل کا اللہ ہو جنرل اسٹور ہے وہاں چلتے ہیں وہ تعویذ دیں گے تو بات بن جائے گی ،ایسا رضوان الٰہی نے کہا تھا۔ میں سارے راستے یہ سوچتا رہا اب تعویذ بھی جنرل اسٹور پر ملتے ہیں۔

سخت گرمی تھی ہم تینوں کا پیاس سے برا حال تھا اور ہم تینوں کے کپڑے پسینے سے بھیگ چکے تھے۔ میں دل میں سوچ رہا تھا، ملک فاضل کے جنرل اسٹور پر پہنچنے کی دیر ہے ملک فاضل صاحب Coke کی بوتلیں ہمیں پیش کریں گے آخر ہم اُن کے گاہک ہیں۔
لاہور سے سیالکوٹ کا سفر ہم نے اللہ ہو جنرل اسٹور سے تعویذ لینے کے لیے ہی تو کیا تھا اب تعویذ خریدیں گے تو Coke تو ڈیزرو کرتے ہیں۔

جب ہم اللہ ہو جنرل اسٹور پر پہنچے تو وہاں جنرل اسٹور والی کوئی بات نہیں تھی باہر اللہ ہو جنرل اسٹور ضرور لکھا ہوا تھا۔
اڈاپسروریاں بازار کے اندر ایک پرانی دُکان تھی جس کی چھت لکڑی کی تھی آگے کی طرف ایک برآمدہ تھا، دُکان کو لکڑی کے تختے والے دروازے لگے ہوئے تھے، اور دُکان کے اندر ایک چارپائی، تین لکڑی کے بینچ ایک کونے میں دو بڑے بڑے گڑھے پیالوں سمیت ایک ٹوٹی ہوئی لکڑی کی کرسی جس پر آٹھ دس قسم کی لکڑی سے مرمت ہو چکی تھی ایک پرانا اسٹینڈ والا پنکھا جو چلتا کم اور شور زیادہ کرتا تھا۔

ملک فاضل صاحب اُس ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، اور ہاتھ والے پنکھے سے خود کو ہوا دے رہے تھے لائٹ ہونے کے باوجود انہوں نے بجلی والا وہ میوزیم میں رکھنے والا پنکھا بند کیا ہوا تھا۔
رضوان الٰہی نے سڑک پر کھڑے ہو کر برآمدے کے باہر ہی سے اندر آنے کی اجازت طلب کی ملک صاحب نے دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا ہم کوئی آٹھ دس منٹ تک باہر کھڑے رہے اندر جانے کی اجازت نہیں ملی مجھے ملک فاضل پر غصہ آرہا تھا اور رضوان الٰہی شرمندہ ہو رہا تھا مجھ سے اور بلال سے ۔

بلال سکون سے نظریں جھکائے کھڑا ہوا تھا۔
ہمارے سر پر سورج سوانیزے پر حلق خشک تھی گرمی سے بُرا حال تھا، کوئی دس منٹ بعد ملک فاضل نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی۔
مجھ سے اور رضوان سے انہوں نے صرف ہاتھ ملایا بلال کو اپنے گلے سے لگایا اور اپنے پاس لکڑی کے بینچ پر بلال کو جگہ دی، وہ میوزیم میں رکھنے والا پنکھا بھی لگا کر منہ بلال کی طرف کر دیا اور گھڑے سے ایک پیالہ پانی بھی بلال کو ہی پیش کیا خود اپنے ہاتھوں سے“
”رضوان خود بھی پانی پی لو اور اس لڑکے کو بھی پلا دو“ ملک فاضل رُعب دار آواز میں بولے رضوان نے پہلے دو پیالے پانی مجھے پلایا اِس کے بعد خود دوپیالے پانی پیا 
” حکیم الاامت فرماتے ہیں………ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں………“ ملک فاضل نے میری اور رضوان کی طرف دیکھ کر کہا
”جانتے ہوں میں کن کی بات کر رہا ہوں……“ ملک فاضل صاحب پھر گرجے میں اور رضوان ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے ملک صاحب بلال کی طرف متوجہ ہوئے انہوں نے بلال کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا؟
”کہیں ذکر رہتا ہے اقبال تیرا
فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی“
بلال نے یہ شعر سنایا ملک فاضل کا چہرہ خوشی سے کھل گیا۔

”بیٹا آپکا نام“ ملک فاضل نے بلال سے پوچھا شگفتگی سے
” بلال احمد“ بلال نے مختصر سا جواب دیا
” کیسے آنا ہوا، رضوان الٰہی اور یہ تمہارے ساتھ کون ہے“ ملک فاضل صاحب نے پھر ہم دونوں کے ساتھ بے رخی سے بات کی جب وہ بلال سے بات کرتے تو انتہائی محبت کے ساتھ اور ہمارے ساتھ سخت لہجے میں بولتے
” حضرت جی یہ میرا دوست ہے محسن رضا“ رضوان الٰہی نے ادب سے میرا تعارف کروایا ”ضرورتی عاشق ہے……… تمہارا دوست“ ملک فاضل نے میرے چہرے کو غور سے دیکھ کر کہا تھا ”تم بتاؤ کیا چیز تمہیں یہاں لے آئی ہے“
”جی محبت……… میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ہوں…………اور اُس سے شادی بھی کرنا چاہتا ہوں“ میں نے جھجھکتے ہوئے اپنے دل کی بات بول دی۔

”اُس لڑکی کی بُری باتیں بتاؤ“ ملک فاضل نے مجھ سے پوچھا
”میں نے سمیرا کی پانچ چھ بُری باتیں بتا دیں“ ملک فاضل مسکرا دیئے اور بلال کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے بیٹھا ہوا ملک صاحب کو دیکھ رہا تھا، میں اور رضوان کھڑے ہوئے تھے جیسے عدالت میں ملزم کھڑے ہوں جج کے سامنے
”بچوں آجکل کی محبت ضرورت کے بستر پر دم توڑ دیتی ہے، پھر وہ محبت وقت کے قبرستان میں دفن ہو جاتی ہے کبھی بدنامی کا کفن پہن کر اور کبھی گمنامی کا کفن اوڑھ کر صرف وہ محبت امر ہوتی ہے جو جسمانی ضرورت کی غلام نہ ہو یا پھر نکاح کے بندھن میں بندھ جائے“ پھر ملک فاضل صاحب میری طرف متوجہ ہوئے
”محسن بیٹا میں تمہیں ایسا حل بتاؤں گا کہ تمہاری اُس لڑکی سے شادی ہو جائے گی جس کے لیے تمہیں میرے ایک سوال کا جواب دینا پڑے گا“
”جی پوچھیں سوال……… میں جواب دوں گا“ میں نے جلدی سے کہا 
”مجھے یہ بتاؤ مہینوال کی سوہنی کیوں دریا میں ڈوبی تھی“ ملک فاضل نے پوچھا 
”اس دن جی اُس کا گڑھا کچا تھا پہلے وہ پکا گڑھا استعمال کرتی تھی“ میں نے فوراً جواب دیا
”غلط بالکل غلط“ ملک صاحب مسکرائے ”چلو ایسا کرو میرے پاس ایک مہینے بعد آنا پھر جواب دے دینا ”اس کے بعد ملک صاحب نے ہمیں کھانا کھلایا اور واپس لاہور بھیج دیا۔

میں دس دن تک تو اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا اس دوران میں نے انڈیا اور پاکستان میں بننے والی سوہنی مہینوال پر نئی پرانی کوئی چار پانچ فلمیں بھی دیکھیں سب میں یہ کچے اور پکے گڑھے کا چکر ہی تھا۔ پھر میں نے اپنے پروفیسروں سے پوچھنا شروع کر دیا جس سے بھی پوچھا اُس نے یا تو مجھے گالیاں دیں یا قہر آلود نگاہوں سے دیکھا پھر میں نے سوچا دفعہ کرو سوہنی کو اپنی ہیر پر توجہ دوں۔

ایک دن سمیرا کے گھر والے گوجرانوالہ شادی پر گئے ہوئے تھے۔ صرف اُس کا ایک بھائی اور سمیرا گھر پر تھے سخت گرمی تھی کوئی 2 بجے کے پاس سمیرا کا بھائی گھر سے نکل کر گیا میں نے جاتے ہوئے اُسے دیکھ لیا تھا۔ میں اپنی چھت پر پہنچ گیا کوئی دس منٹ بعد سمیرا بھی چھت پر آگئی وہ چھت سے مجھے اپنے گھر کے اندر لے گئی میں ڈر رہا تھا“
”ڈرو مت محسن ویر جی اب رات 12 بجے آئیں گے باقی سب لوگ شادی پر گئے ہوئے ہیں“
”سمیرا نے میرے گال پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے مجھے تسلی دی اس کے بعد اُس نے مجھے دیسی گھی کی چوری کھلائی بعد میں چاٹی کی لسی پلائی پھر سمیرا نے کہا محسن یہی پر سو جاؤ تمہارے گھروالے بھی تو سوئے ہوئے ہیں میں اُس کی سب سے چھوٹی بھابھی کے کمرے میں سوگیا۔

اُس کے چھوٹے بھائی کی اُن دنوں نئی نئی شادی ہوئی تھی تھوڑی دیر بعد سمیرا بھی اُسی بیڈ پر میرے ساتھ سوگئی پھر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا ہماری محبت ضرورت کے بستر پر دم توڑ گئی اگلے دن بھی دوپہر کو 2 بجے سمیرا کا بھائی اپنی دودھ دہی کی دکان پر نکلا تو ٹھیک دس پندرہ منٹ کے بعد میں اُس کے بیڈروم میں اُسی کی بہن کے ساتھ تھا۔
میری اور سمیرا کی محبت کی قبر اُس کے بھائی کے بیڈ کے نیچے بن گئی ہماری محبت کو جسمانی ہوس کی شکل اختیار کرنے میں چند منٹ لگے تھے۔

سمیرا کے گھروالوں کو ہمارے مراسم کی خبر ہو چکی تھی۔ چند مہینوں بعد ایک دن میری بڑی بھابھی نے مجھے طنز سے کہا ” اس اتوار سمیرا کی بارات آرہی ہے“۔
”اس کے بعد میں اور سمیرا کبھی نظریں نہیں ملا سکے ایک دوسرے کے ساتھ۔۔۔۔۔“
 یہ ساری باتیں کر کے محسن رضا خاموش نظریں جھکائے بیٹھا ہوا تھا، شرمندگی کی وجہ سے توشی کے چہرے پر سنجیدگی تھی پھر بھی اُس نے اپنا ہاتھ محسن کے ہاتھ پر رکھا اور مسکرانے کی کوشش کی۔
”اسلام علیکم“ عظمی اور عادل پاس کھڑے ہوئے بول رہے تھے، محسن اور توشی نے اُن کا کھڑے ہو کر استقبال کیا۔

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط