Episode 101 - Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 101 - بلال صاحب - شکیل احمد چوہان

Bilal Shaib in Urdu
اگلے دن بلال نے اعجاز جنجوعہ کے جاننے والے ایک آرکیٹکٹ کو بلایا اپنے آفس میں اور اُس کے ساتھ ساری ڈسکشن کی اپنے اسکول کی بلڈنگ کے متعلق ساری ڈی ٹیلز لیں بلڈنگ کے انٹریر اور ایکس ٹیریر پر بھی ڈیٹیل میں ڈسکس ہوئی ۔آرکیٹکٹ اپنے کام میں ایکسپرٹ تھا، اس لیے بلال پہلی ملاقات ہی میں مطمئن ہو گیا تھا ،آرکیٹکٹ نے فائنل ڈرائنگ کے لیے ایک دن کا ٹائم لیا، اگلے دن وہ بلڈنگ کی فائنل ڈرائنگ لے کر آگیا جو کہ بلال کو بہت پسند آئی اُس نے اپنے اسکول کی بلڈنگ بنانے کا کنٹریکٹ اعجاز جنجوعہ کی AL AZIZ CONSTRUCTION COMPANY کو دے دیا۔

اُس دن اعجاز جنجوعہ کو بھی بلایا تھا، بلال نے اپنے آفس میں اعجاز جنجوعہ نے اپنی کمپنی کا نام اپنے مرحوم دادا عزیز الدین جنجوعہ کے نام پر رکھا تھا۔ بلال کو اعجاز جنجوعہ پر اعتبار تھا اس لیے اُس نے یہ فیصلہ کیا تھا۔

(جاری ہے)


آرکیٹکٹ چائے پی کر جا چکا تھا۔ اعجاز جنجوعہ چائے ٹھنڈی پینے کا عادی تھا اس لیے وہ بیٹھا ہوا تھا۔ اور کچھ سوچ بھی رہا تھا۔

 ”بلال تمہاری بھابھی تمہاری دعوت کرنا چاہتی ہے“ اعجاز جنجوعہ نے اپنے چشمے کے اوپر سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ”کب آسکتے ہو اب تو تم ہمارے جوہر ٹاؤں میں ہی شفٹ ہو چکے ہو“
”جنجوعہ صاحب جب آپ کی سہولت ہو“ بلال نے جواب دیا
”تو پھر کل رات ڈنر ہمارے گھر پر ٹھیک 8 بجے مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ٹائم پر آجانا“ اعجاز جنجوعہ مسکراتے ہوئے بولا تھا۔

”جی جنجوعہ صاحب………انشا اللہ میں وقت پر پہنچ جاؤں گا“ بلال نے کہا تھا۔
اگلے دن ٹھیک رات 8 بجے بلال اعجاز جنجوعہ کے گھر پہنچ گیا تھا۔ اعجاز جنجوعہ کا گھر میاں محمود کے گھر سے پانچ منٹ کی مسافت پر تھا۔ بلال اب میاں محمود کے گھر کا مکین تھا۔ بلال پیدل چلتا ہوا اعجاز جنجوعہ کے گھر پہنچا تھا۔
فرح نے پُر تکلف کھانے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد رسمی گفتگو کے دوران فرح بھابھی نے ایک چُھبتا ہوا سوال بلال سے پوچھ لیا تھا۔
”بلال………سنا ہے تمہاری منگیتر کی کسی اور کے ساتھ شادی ہو گئی ہے“
بلال نے فرح بھابھی کی طرف دیکھا وہ اُن سے ایسے کسی سوال کی توقع نہیں رکھتا تھا۔
”نہیں بھابھی اُس نے کسی اور کے ساتھ شادی کر لی ہے“ بلال نے تحمل سے جواب دیا ”مطلب ……… میں سمجھی نہیں“ فرح بھابھی کو تجسس ہوا۔

”فرح بیگم………مطلب کو دفعہ کرو……چھوڑو پرانی باتیں“ اعجاز جنجوعہ نے بات بدلنی چاہی اعجاز جنجوعہ اپنی بیوی سے خفگی سے بولے تھے۔
”مطلب یہ بھابھی اُسے مجھ پر اعتبار نہیں تھا، وہ مجھے بدکردار سمجھتی ہے۔“ بلال نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
”بلال میں نے نئی گاڑی خریدلی ہے اپنی پرانی گاڑی Suzuki Fx1988 ایک صاحب ہیں نجم الثاقب جیل روڈ پر اُن کا گاڑیوں کا شوروم ہے، نجم موٹرز کے نام سے انہوں نے میری وہ گاڑی بھی رکھ لی ہے اور ساتھ چار لاکھ لے کر سوزکی مہران 2013 ماڈل مجھے دے دی ہے، بڑی صاف گاڑی ہے ایک ہاتھ چلی ہوئی“
اعجاز جنجوعہ نے اس بار بات بدلنے کی بھرپور کوشش کی اور اپنی گاڑی چینج کرنے کا سارا احوال بھی سنا دیا تھا، اعجاز جنجوعہ بلال کو دوبارہ ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا مگر بھابھی فرح ٹلنے والی کہاں تھیں۔

”بلال یہ جو جنجوعہ صاحب ہیں نا اِن کی سوزکی والوں سے رشتے داری ہے، گاڑی بدلی بھی تو FX Suzuki دے کر سوزکی مہران لے بہت بڑا تیر مارا ہے، جنجوعہ صاحب نے۔ بلال میں نے نئی گاڑی لی ہے“ فرح نے منہ بنا کر کہا تھا۔
اچھا بھئی چائے تو پلادو لڑائی بعد میں کر لینا“ اعجاز جنجوعہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ،بھابھی فرح کچن کی طرف چلی گئی
”بلال صاحب………میں نے تمہاری بھابھی کو کہا بھی تھا“ ”کوئی بات نہیں جنجوعہ صاحب میں مائنڈ نہیں کروں گا بھابھی کو ایک دفعہ تفصیل پوچھ لینے دیں“ بلال نے اعجاز جنجوعہ کے معذرت خوانہ لہجے کو دیکھتے ہوئے بات بیچ میں ہی سے کاٹ دی تھی۔

”چائے کابول دیا ہے ابھی ماسی لے کر آتی ہے۔ بلال کچھ سمجھاؤ جنجوعہ صاحب کو بہت زیادہ چائے پیتے ہیں، اگر انہیں کسی کو خون دینا پڑ جائے تو ان کے جسم سے خون کے بجائے چائے نکلے گی جنجوعہ صاحب اب ڈسٹرب مت کیجیے گا بلال بھائی سے مجھے بات کرنے دیں“
”آپ کہاں ٹلنے والی ہیں بیگم“ اعجاز جنجوعہ نے چشمے کے اوپر سے دیکھا اور صوفے پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھ گئے چپ چاپ”دفعہ دور کرو اُس لڑکی کو جس نے تمہیں چھوڑ کر کسی اور سے شادی کرلی…… میرا مشورہ مانوں اب تم بھی شادی کر ہی لو“ فرح نے ناک چڑھاتے ہوئے کہاتھا۔

”بھابھی پرانی محبت کو دفعہ دور نہیں کہہ سکتے محبت بُرا مان جاتی ہے“ بلال مسکراتے ہوئے بولا تھا۔
”تو کیا تم شادی نہیں کرو گے اُس کے غم میں“ فرح ابرو چڑھاتے ہوئے بولی
”میں شادی ضرور کروں گا…… مجھے کسی کا غم نہیں ہے، بس بھابھی میں محبت کو دفعہ دور نہیں کہتا“ بلال نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
ماسی چائے لے کر آچکی تھی فرح نے خود چائے بنا کر دی بلال کو اور جنجوعہ صاحب کو 
”جنجوعہ صاحب گرمی شروع ہو گئی ہے، اب تو چائے کی جان چھوڑ دیں“ فرح نے چائے کا کپ اعجاز جنجوعہ کو تھماتے ہوئے کہا تھا بلال نے بھی چائے کا کپ لیا وہ فرح اور اعجاز کی نوک جھونک انجوائے کر رہا تھا مگر فرح کا انٹرویو ابھی باقی تھا۔

”شادی کے لیے کوئی لڑکی دیکھی ہے“ فرح نے سوالیہ نظروں سے پوچھا
”نہیں………ابھی تک تو کوئی نہیں………نانو کو چند دن پہلے ہی شادی کی حامی بھری ہے…… جو بھی لڑکی اُن کو پسند آجاے گئی میں اُس سے شادی کر لوں گا“
”میری بڑی آپا واہ کینٹ میں رہتی ہیں، اُن کی بیٹی ہے ماہ رخ بی ایڈ کیا ہوا ہے گوری چٹی، شرم و حیاوالی، تمہارا گھر سنبھال لے گئی“ فرح نے اصل بات بیان کر دی”شکر ہے………“ اعجاز جنجوعہ نے ٹھنڈی چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا تھا ”آپ نے فرح بیگم اپنے دل کی بات کہہ ہی ڈالی“
”کیوں نہ کہتی آخر مجھے بلال کی فکر ہے“ فرح بھابھی نے فکر ے پر زور دے کر کہا تھا۔

”بھابھی اگر میری نانو کو ماہ رخ پسند آجائے تو میں ماہ رخ ہی سے شادی کر لوں گا“ بلال نے پرچ اور کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تھا۔
”کیا تم اپنی منگیتر کو بھلا سکو گے؟“ فرح نے تفتیشی نگاہوں سے پوچھا
”بھابھی میں نے زندگی میں ہر تعلق ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کی ہے، مجھے یقین ہے جس لڑکی سے بھی میری شادی ہوگی وہ میرے ساتھ خوش رہے گئی“
”مجھے بھی بلال بھائی تمہاری ایمانداری پر شک نہیں ہے، بات کسی کو بھلانے کی ہو رہی ہے“ فرح نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا تھا۔

وہ ٹکٹکی باندھے بلال کو تک رہی تھی اور اعجاز جنجوعہ اپنے چشمے کے اوپر سے اپنی بیوی اور بلال کے درمیان ہونے والی گفتگو دیکھ رہا تھا اعجاز جنجوعہ نے ٹھنڈی چائے کا ایک گھونٹ لیا بغیر آواز کیے ہوئے بلال کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ اُبھری۔
”بھابھی پرانی محبت اور پرانی چیزوں میں فرق ہوتا ہے۔ پرانی چیز اگر اچھے برینڈ کی ہو اور اچھی حالت میں بھی ہو تو وہ انٹیک بن جاتی ہے۔

نجم الثاقب جیسے کسی قدر دان کی اُس پر نظر پڑجائے تو وہ اُسے خرید لیتا ہے، نہیں تو اسلم کباڑیے کا کباڑ خانہ، پرانی محبت انٹیک نہیں ڈھیٹ ہوتی ہے، جس محبت کو محبوب ہی رسوا کر دے اُس پر قدر دان کی نظر تو دور کی بات اُسے تو کسی کباڑ خانے میں بھی جگہ نصیب نہیں ہوتی، ایسی محبت آپ کے ساتھ منوں مٹی تلے قبر میں ہی دفن ہوتی ہے۔“
بلال اپنی بات کرکے خاموش تھا نظریں جھکائے ہوئے اور فرح نے چپکے سے اپنے آنسو صاف کیے مگر اعجاز ٹھیکدار کی نظروں سے نہیں بچ سکی۔

”ANY WAY ڈنر کا بہت مزہ آیا شکریہ بھابھی“ بلال اپنی جگہ سے اُٹھا
”اب آپ لوگ مجھے اجازت دیں“ اعجاز جنجوعہ بلال کو گھر کے مین گیٹ تک چھوڑنے آیا تھا وہ دیر تک بلال کو سیدھی سڑک پر جاتے ہوئے دیکھتا رہا وہیں کھڑا ہوا اپنے گھر کے باہر سے جب اعجاز جنجوعہ اپنے بیڈروم میں واپس آیا تو فرح ایک دم سنجیدہ تھی۔
”فری بیگم آپ کو کیا ہوا………آپ نے جو سوچا تھا وہی کہا“ اعجاز جنجوعہ بولا ”جنجوعہ صاحب میں شادی سے پہلے خواتین کے سارے ڈائجسٹ پڑھتی تھی، پھر آپ سے میری شادی ہو گئی آپ بالکل مختلف انسان تھے، ناولوں اور افسانوں کے کرداروں سے پھر میں نے ڈائجسٹ پڑھنا چھوڑ دیئے تھے، مجھے ایسا لگا کہ ناول اور افسانہ لکھنے والے لوگ جھوٹ ہی لکھتے ہیں، حقیقت میں تھوڑی ایسے کردار ہوتے ہیں۔

آج ایسا لگا کہ جتنے لوگ ہمارے معاشرے میں کتابیں اور ڈائجسٹ پڑھتے ہیں اُس سے زیادہ کردار ہوتے ہیں، ہمارے ارد گرد ماہ رخ بھی میری طرح کہانیاں پڑھتی ہے، وہ بلال کو سمجھ لے گی“ فرح اپنے شوہر کی طرف آئی
”ماہ رخ کو بُلالوں بلال کی نانی سے ملوانے کے لیے“ فرح نے اعجاز جنجوعہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
”بلالو……“ اعجاز جنجوعہ نے مسکراتے ہوئے اجازت دے دی۔
###

Chapters / Baab of Bilal Shaib By Shakil Ahmed Chohan

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

قسط نمبر 85

قسط نمبر 86

قسط نمبر 87

قسط نمبر 88

قسط نمبر 89

قسط نمبر 90

قسط نمبر 91

قسط نمبر 92

قسط نمبر 93

قسط نمبر 94

قسط نمبر 95

قسط نمبر 96

قسط نمبر 97

قسط نمبر 98

قسط نمبر 99

قسط نمبر 100

قسط نمبر 101

قسط نمبر 102

قسط نمبر 103

قسط نمبر 104

قسط نمبر 105

قسط نمبر 106

قسط نمبر 107

قسط نمبر 108

قسط نمبر 109

قسط نمبر 110

قسط نمبر 111

قسط نمبر 112

قسط نمبر 113

قسط نمبر 114

آخری قسط