ًًًًًًًًًًEpisode 4 - Musarrat Ki Talash By Wazir Agha

قسط نمبر 4 - مسرت کی تلاش - وزیر آغا

Musarrat Ki Talash in Urdu
مسرت اَور آرٹ ایک مشہور اِنشا پرداز نے ز ِندگی سے متعلق تین۳ اَہم اِنسانی نظریات پیش کیے ہیں۔ پہلا نظریہ اُن لوگوں کا ہے جن کے مطابق ز ِندگی اِس دُنیا میں وار ِد ہونے ‘ کھانے پینے ‘ سونے جاگنے ‘ جنسی ر ِشتے اُستوار کرنے اَور ِپیری کی مناز ِل سے گزر کر َموت کے دُھندلکوں میں کھو جانے کا نام ہے۔ ایسے لوگ” بابر بہ عیش کوش کہ عا َلم دوبارہ نیست“کے َعلم بردار بن کر ز ِندگی کے کارواں کے ساتھ چلتے اَور ہر قدم پر خود غرضی کے شدید رُجحانات کا مظاہرہ کرنے ہی کو حیات کا ُمنتہاسمجھتے ہیں۔

دُوسرا نظریہ اُن لوگوں کاہے جو ز ِندگی کو ”بیوپار“ کا متراد ِف قرار دیتے ہیں اَورجن کی دا ِنست میں ہر اِقدام کسی مستقل فائدے کے تابع ہونا چاہیے۔ یہاں َ ّمسرت‘ جہد للبقا میں کامرانی کا دُوسرا نام ہے ؛ لہٰذا اِسے حا ِصل کرنے کے لیے تشد ّد کے تمام اِقدامات جائز اَور ضروری تصو ّر کیے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

اِس دُنیا میں اَمیر‘ غریب کو کچل دیتا ہے ؛ سرمایہ دار ‘ مزدور کا خون ُچوس لیتا ہے ؛ طاقت َور حکومت ‘ کمزور ریاست کو نگل جاتی ہے اَور ُیوں اُس جذبے کو تسکین ملتی ہے جو تخریب اَور فنا کا طالب ہوتا ہے … یہاں َ ّمسرت دُوسروں کو کچل کر‘ کامرانی کے آستانے پر پہنچنے کے ِسوا کچھ نہیں… یہ نظریہ بھی پہلے نظریے کی طرح اِنسانیت کی اعلیٰ اَقدار سے خا ّصا َپست ہے اَور اِس کے ساتھ تطابق ‘ حیوانی خواہشات کی تکمیل کا مظہر ہے۔

تیسرا نظریہ ایک ایسے فرد کا نظریہ ہے جو ز ِندگی سے کچھ حا ِصل کرنے کی بہ نسبت ز ِندگی کو بہت کچھ تفویض کرنے ہی کو اِنسانیت کا اعلیٰ معیار قرار دیتا ہے ۔ ُوہ ہر قدم پر سماج کے ذہنی اِرتقا اَور اَفراد کی مسرت و عظمت کو ِپیش نظر رکھتا ہے ۔ تاریخ بھی اُنھِیں لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنھوں نے اِجتماعی ز ِندگی کو اَپنی کسی پیشکش کے طفیل رعنائی بخشی۔

لیکن یہاں بھی اِس پیشکش کی مستقل حیثیت عارضی صورت گری کو ِپس ُپشت ڈال دیتی ہے؛ اِس لیے ُوہ لوگ اِنسانیت کے زیادہ محسن قرار پاتے ہیں جنھوں نے اپنی کسی پیشکش کے طفیل نہ صرف اپنی ُسوسائٹی بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ہزار ہا برس تک حصو ِل مسرت کے مواقع بہم پہنچائے ۔ ایسے لوگوں میں اُن فن کاروں کا درجہ اِنتہائی بلند ہے جو آرٹ اَور لٹریچر کی تخلیقات کے ذریعے اِجتماعی َ ّمسرت میں مستقل اِضافے کے محرک بن کر‘ اِنسانیت کو بلند تر کرنے میں ممد ثابت ہوئے۔

اِس اِنسانی نظریے کی اِمتیازی خصوصیت یہ ہے کہ َ ّ مسرت کا ُ ُحصول اُتنا اَہم نہیں جتنی کہ َ ّمسرت کی تقسیم۔ ز ِندگی میں ”فن“ کا یہ اعلیٰ و اَرفع مقام کہ یہ اِجتماعی َ ّمسرت میں اِضافے کا موجب قرار پائے ‘ اَدب برائے اَدب اَور اَدب برائے حیات کے بیشتر بحث طلب مسائل کو بھی ِپس ُپشت ڈال دیتا ہے اَور ہم صاف َطور پر دیکھ لیتے ہیں کہ آرٹ کا ّمقدس فریضہ‘ بالواسطہ یا بلا واسطہ ‘ اِنسان کو ذہنی تسکین بہم پہنچانا ہے۔

آرٹ کیا ہے … یہ کسی ّحساس فرد کے اُس ذہنی رد ّ ِعمل کے کامیاب اِظہار کا نام ہے جو ماحول کی کسی کر َوٹ کے طفیل معر ِض ُوجود میں آیا اَور جس کے ذریعے آرٹسٹ نے اپنے لطیف و جمیل احساسات کو اِس خوبی سے اِظہار کا جامہ پہنا کر دُوسروں تک پہنچایا کہ اُنھیں ُمحسوس ُہوا گویا ُوہ خود اَپنے احساسات کا اِظہار کر رہے تھے۔ یہاں یہ اَمر واضح رہے کہ اِجتماعی َ ّمسرت میں اِضافے کے لیے آرٹ کی ہر تخلیق کو دو۲ اَہم فرض اَدا کرنا پڑتے ہیں۔

پہلا یہ کہ تخلیق‘ آرٹسٹ کے لطیف و جمیل احساسات اَور گہرے تجربات کی ترجمانی کرے؛ اَور دُوسرا یہ کہ اُن کیفیات کو اَ یسے فنکارانہ اَنداز سے پیش کرے کہ نا ِظر اَور آرٹسٹ کے احساسات ہم آہنگ ہوجائیں اَور دونوں کے د ِل ایک ہی تال پر دھڑکتے جائیں… بقو ِل غالب : دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا میں نے یہ سمجھا کہ گویا یہ بھی میرے د ِل میں ہے ایک خو بصور ت تصویر جو دیکھنے والے کو ز ِندگی کا ُوہی منظر اُسی ِ ّشدت اَور اَنداز سے د ِکھائے جیسے آرٹسٹ نے اُسے خود دیکھا تھا ؛ ایک مد ُھر اَلاپ جو جذبات کی اُسی گہرائی اَور احساس کی اُسی ِ ّشدت کو سننے والے تک پہنچائے جو اُس کے خالق کے د ِل میں َموج َزن ُہوئی تھی؛اَور ایک اعلیٰ اَدبی کاو ِش جو لکھنے والے کے احساسات و نظریات کو قاری تک اُسی رنگ میں پہنچائے جو اُس کے خالق کی ِچشم تصو ّر کا کرشمہ تھا … یہی آرٹ کا کام اَوریہی اُس کامقام ہے اَوریہی ُوہ اَنداز ہے جس پر چل کر آرٹ اَبدی رنگ حا ِصل کرلیتا ہے اَور اَفراد کے د ِلوں کو بے پایاں‘ لازوال َ ّمسرت سے ہم َکنار کر دیتا ہے ۔

یہاں غور کیا جائے تو ُمحسوس ہو گا کہ فن درحقیقت ”کہانی کہنے “ کی شدید ضرور ت کے ِپیش نظر معر ِض ُ وجود میں آتا ہے۔ یہ دُوسری بات ہے کہ یہ کہانی الفاظ کے سانچے میں ڈھل کر نکلتی ہے ‘ یا موسیقی کی َلہروں کا رُوپ دھارتی ہے‘ یا سنگ یا تصویر کے لطیف و جمیل نقوش کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ دراصل یہ کہانی کہنے والے کے غیر منتہی احساسات‘ خیالات اَور جذبات کا سلسلہ ہے جسے وہ دُوسروں تک پہنچا کر ‘اُنھیں اپنے تجربات میں شریک کرنے کی َسعی کرتا ہے: یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جتنی ِ ّشدت اَور ّسچائی‘ کہنے والے کے تجربات میں ہو گی‘ اُتنے ہی اِنہماک اَور تن َدہی سے ُوہ اُنھیں دُوسروں تک پہنچانے کی َسعی کرے گاجس سے اُسے ایک عجیب سی ذہنی تسکین حا ِصل ہو گی۔

نفسیاتی طور پر کہانی کہنے والا‘ دُوسروں کو اَپنے ذاتی تجربات میں شریک کر کے‘ خود کو احسا ِس تنہائی سے چھٹکارا د ِلانے کی کوشش کرتا ہے ۔ آرٹ کی تخلیقات کے لیے فنکارانہ اِظہار بڑی اَہمیت کا حامل ہے کہ اِس پر آرٹ کی کامیابی کا خا ّصا اِنحصار ہوتاہے ۔ چونکہ اُن احساسات و تجربات کی ّسچائی ‘ لطافت اَور عمومیت بھی اَہم ہے جنھیں فن کار دُوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے‘ اِس لیے آرٹ کی ہر تخلیق کو ُپوری کامیابی حاصل کرنے کے لیے دُہرا پارٹ اَدا کرنا پڑتا ہے۔

انگریزی زبان کے ایک مشہور اِنشا پرداز نے آرٹ اَور سائنس پر اَپنے خیالات کا اِظہار ُیوں کیا ہے: آرٹ کی اصل قیمت محض اُس کے فنکارانہ اِظہار میں نہیں‘ وہ اُس قیمتی‘ ذہنی اَور احساسی سرمایے میں بھی ہے جو کسی تخلیق کے ِپس ُپشت موجود ہوتاہے… آرٹ کی اعلیٰ تخلیقات، صرف اِس لیے اعلیٰ ہوتی ہیں کہ ُجوں ُجوں ہمارا ذہنی اُفق وسیع ہوتاہے اَور ہمارے تجربات بڑھتے ہیں‘ ُتوں ُتوں ہم اُن کی ّسچائی کے زیادہ قائل ہوتے چلے جاتے ہیں؛ اَور ہم خوبصورتی کو جس قدر پرکھنے کے زیادہ قابل ہوتے ہیں‘ اُسی قدر ہمیں اُن تخلیقات کے ُحسن کا زیادہ احساس ہونے لگتا ہے ۔

لیکن اعلیٰ تخلیقات کی خوبی یہ ہے کہ ُوہ ّبچے سے لے کر بوڑھے تک‘ ہر ایک کو اَپنے ِسحر میں اَسیر کر سکتی ہیں… ّبچے کو اَپنے فنکارانہ اِظہار کے طفیل اَور بوڑھے کو قیمتی ذہنی سرمایے اَور فنکارانہ اِظہار کے اِمتزاج کے ذریعے ۔ اَور اِس بات سے کسے اِنکار ہو گا کہ آرٹ کا وسیع اِطلاق اِجتماعی َ ّمسرت میں بے مثال اِضافے کا موجب ثابت ہوتا ہے! تاہم اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اِجتماعی َ ّمسرت میں اِضافہ‘ آرٹ کا شعوری مقصد ہے ۔

دراصل ”اِنسان خود تخلیق نہیں کرتا، تخلیقی َجوہر اَپنے اِظہار کے لیے اِنسان کو آلہ ٴ کار بنا لیتا ہے“۔ حیاتیاتی َطور پر بھی یہ بات پایہ ٴ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اِنسان کے قوائے ذہنی‘ اُس کی جسمانی نشوو ُنما کی بہ نسبت جلد ترقی کرتے ہیں‘ لہٰذا جانوروں کے مقابلے میں اُسے زیادہ احسا ِس کمتری کا ِشکار ہونا پڑتا ہے۔ جہاں ُوہ جسمانی طور پر جانور سے کئی ُگنا زیادہ وقت لے کر‘اَپنی تکمیل کو پہنچتا ہے‘ وہاں اِنسان ذہنی َطور پر جانور سے بہت زیادہ اَور کہیں چھوٹی ُعمر میں ماحول کا اِدراک کر لیتا ہے: جسمانی ترقی اَور ذہنی نشوو ُنما کے ما َبین یہ تضاد‘ اُسے اِس ِ ّشدت سے اپنی کمزوریوں کا احساس د ِلاتا ہے کہ اُس کی ز ِندگی کی ہر کاو ِش اِس احسا ِس کمتری کو مفلوج کرنے اَور اپنی تکمیل تک پہنچنے کے ِسوا دُوسرا کوئی مقصد اَپنے ِپیش نظر نہیں رکھتی ۔

ایسی کاو ِشوں میں اُس کا یہ اِقدام کہ ُوہ تنہائی سے گریزاں رہے اَور اِجتماع و اَنبوہ میں ز ِندگی بسر کرے‘ بہت زیادہ اَہمیت رکھتا ہے۔ چنانچہ ہر فرد ُسوسائٹی کے ساتھ کئی مستقل یا غیر مستقل ر ِشتے قائم کرتا ہے … اِن ر ِشتوں میں گفتار ‘ عقلی شعور‘ ّمحبت اَور آرٹ کی تخلیقات زیادہ اَہم ہیں کہ اِن کے طفیل ُوہ دُوسرے اَفراد سے ہم کلام ہو کر‘ اُس احسا ِس تنہائی سے چھٹکارا پالیتا ہے جو اُس کی کمتری نے اُس پر بزور عائد کیا تھا۔

لیکن زیادہ تر ر ِشتے قدرت کی دین ہیں اَور اُن کی َ ُنمود میں اِنسان کی شعوری کاو ِشوں کو بہت کم دخل حا ِصل ہے۔ حیاتیاتی َطور پر یہ بھی تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اِنسان ‘ جانور یا َپودے میں کسی قسم کی کمی فوراً قدرتی طریق سے معاوضہ حا ِصل کر لیتی ہے ۔ ایک بیمار َپودا بہت جلد‘ بڑی ِ ّشدت سے ُپھول نکالتا ہے تاکہ اپنی حیات ِ چند روزہ میں تکمیل کو پہنچ سکے ۔

یہی حال انسان کا ہے اَور دیکھا گیا ہے کہ تخلیقی َجوہر کا دباؤ اُن لوگوں میں زیادہ شدید ہوتا ہے جو فن کار ہونے کے ساتھ ساتھ کسی کمی کا بھی ِشکار ہوتے ہیں۔ اَدب کی تاریخ میں ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں… سورداس اَور ملٹن کی بینائی زائل ہو چکی تھی‘ بیتھون بہرا تھا‘ بائرن لنگڑا اَور کیٹس د ِق کا مریض تھا … بڑے فن کاروں کی ز ِندگی کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو اُن کے جسم یا ِکردار میں ایسی کوئی نہ کوئی کمی ضرور نظر آئے گی جسے پورا کرنے کے لیے قدرت نے اُن کے تخلیقی َجوہر کو مہمیز دی اَور ُوہ حیرت انگیز تخلیقات کے خالق بننے پر مجبور ُہوئے۔

نفسیات کی رُو سے آرٹ کی یہ تخلیقات اُن خواہشات کا اِظہار ہیں جو حقیقت میں ُپوری نہ ہو ِ سکیں اَور فن کاروں نے ِ نفس لا شعور کا دامن پکڑ کر آرٹ کے ذریعے تسکین حا ِصل کرنے کی کوشش کی۔ نفسیات کو اُس تخلیقی َجوہر کے ُوجود کو تسلیم کرنا پڑا ہے جو مصنف کی ہستی پر ُبری طرح چھا جاتا ہے۔ بقو ِل ریاض احمد: ہمیں یہ کہنا پڑتا ہے کہ اِنسان تخلیق نہیں کرتا‘ تخلیقی َجوہر اَپنے اِظہار کے لیے اِنسان کو آلہ ٴ کار بنا لیتا ہے۔

یہ تخلیقی َجوہر ُوہی چیز ہے جسے ا ُبو الکلام آزاد نے” ادیب کی فکری اِنفرادیت کے ایک قدرتی سرجوش“ سے ( جسے وہ دبا نہیں سکتا) اَور مشہور چینی فلسفی لن یوٹانگ نے ”تخلیقی اَور فنکارانہ تحریک“ سے موسوم کیا ہے۔ موٴخر ُ الذکر مصنف کی رائے میں: ہم آرٹ کو اُس وقت تک سمجھنے سے قا ِصر رہتے ہیں جب تک کہ ہم اُسے محض جسمانی اَور ذہنی قو ّتوں کا وہ سرجوش تسلیم نہ کریں جو آزاد‘طوفانی ندی کی طرح ِکناروں سے چھلک جاتا ہے ذہنی اَور جسمانی قو ّتوں کا یہ سرجوش اِنسان کوکچھ نہ کچھ تخلیق کرنے پر ضرور مجبور کرتا ہے ؛ اَوریہ وہی چیز ہے جسے ہم ایک ّسیاح کے جذبہ ٴ ّ سیاحت یا ایک سائنس داں کے جذبہ ٴ تحقیق سے مو ُسوم کرسکتے ہیں ۔

زیادہ موزوں الفاظ میں جس طرح ّبچہ ‘ جسمانی قو ّت کی فراوانی کے تحت چلتے چلتے، کودنے لگتا ہے یا نوجوان اِسی کے زیر ِ اَثر، تھرکنا شروع کر دیتا ہے ‘ اُسی طرح جسمانی اَور ذہنی قو ّتوں کا ِکنار ے توڑ کر َبہ ‘ نکلنا ‘آرٹ کی تخلیقات کا موجب قرار پاتا ہے اَوریہ سارا عمل اِتنا غیر شعوری ہوتا ہے کہ آرٹ کے خالق کو خود پتا نہیں چلتا کہ کس ُپراَسرار طریق سے ایک بلند پایہ چیز کی تخلیق ہو گئی ! مگر اِس سے یہ ُ مرا دلینا بھی درست نہیں کہ ایک اعلیٰ تخلیق‘ اَز َسر تا پا‘ لا شعوری تحریکات کی مر ُہون ہوتی ہے کیونکہ تخلیق‘ آرٹ کے اعلیٰ معیار کو اُس وقت تک نہیں ُچھو سکتی جب تک کہ فن کار اُس میں کچھ نہ کچھ شعوری کاٹ چھانٹ اَور ر ّدوبدل نہیں کرتا۔

ایڈیسن (Edison) نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ It is one percent inspiration and ninety-nine percent perspirationیعنی کسی فن پارے کی تخلیق میں ننانوے فیصدی خون پسینہ اَور صرف ایک فیصدی اِلہام کا ُ ُعنصر ہوتاہے۔ بہرحال ُوثوق کے ساتھ اِس قدر ضرور کہا جا سکتاہے کہ جہاں اعلیٰ تخلیق کی رُوح لاشعوری کیفیات سے متاثر ہوتی ہے ‘ وہاں اُس کے ڈھانچے کی تعمیر میں کسی نہ کسی َحد تک فن کار کا شعور بھی دخل اَندازی کرتا ہے ۔

جدید تریں نفسیاتی تحقیقات کی روشنی میں آرٹ کے پس منظر کی طرف رجوع کیا جائے تو ہم پر منکشف ہو گا کہ آرٹ کی تخلیق ،دو۲ مختلف ذہنی مناز ِل کے ما َبین اُس ”ربط“ کا دُوسرا نام ہے جسے آرٹسٹ ِ ّشدت ِ احساس اَور نظر ِ عمیق سے دریافت کر لیتا ہے ۔ نفسیات نے اِس چیز کو آرٹ کے ِعمل مرابطہ کا نام دیا ہے اَور اِس کی توضیح ُیوں کی ہے کہ جس طرح مزاح کی تخلیق دو۲ مختلف اَشیا کے ما َبین داخلی اَور خارجی ربط کی ر َہین ِ ّمنت ہے ‘ اُسی طرح آرٹ کی تخلیق کاراز بھی دو۲ مختلف ذہنی مناز ِل کے درمیان ایک ربط کی دریافت کا مر ُہون ہے ۔

اِن دو۲ ذہنی مناز ِل میں ایک تو ُوہ ہے جہاں روز ّمرہ ز ِندگی خیالات کی سطحیت میں لپٹے ہوئے نظر آتی ہے‘ اَور دُوسری ُوہ جو ہماری رُوز َ ّمرہ ز ِندگی اَور اُس کی سطحیت کے پس ُپشت ایک بحر ِ بے َکنار کی طرح پھیلی ُہوئی ہے اَورجس میں اَبدیت کے سارے عنا ِصر سرگر ِم عمل ہیں۔ آرٹ کی تخلیق اِن دو۲ مناز ِل کو مربوط کرنے ہی کا دُوسرا نام ہے ۔

شاید اِسی لیے کہا گیا ہے کہ فن کار کوئی نئی چیز تخلیق نہیں کرتا‘ ُوہ دو۲ چیزوں کے ما َبین صرف اَیسا ربط َپیدا کرتا ہے جو اِس سے قبل َپیدا نہیں ُہوا تھا۔ تشبیہ ‘ و اِستعارہ کہ اَدب کی جان ہیں‘ اِسی ربط کی نمایاں مثالیں ہیں۔ لیکن جہاں تشبیہ‘ اِستعارے یا مزاح کے ایک ٹکڑے میں صرف وقتی حیرت کا ُ ُعنصر ہوتا ہے‘ وہاں فن، مستقل حیر ت کا امین ہوتا ہے جو فن کار اَورناظر‘ دونوں کو یکے بعد دیگرے کئی ایک حیرت زا لمحات ودیعت کرتے چلا جاتاہے ۔

تخلیقی َجوہر کا عمل اگرچہ غیر شعوری ہے لیکن یہ آرٹ کے خالق کو َ ّمسرت سے ضرور ہم َکنار کرتا ہے ۔ نفسیات نے اِسے اُس ”تسکین“ کا نام دیا ہے جو کسی چیز کی تخلیق سے حا ِصل ہوتی ہے‘ چاہے یہ تخلیق ایک َحسین ُبت ہو یا َحسین پینٹنگ‘ چاہےَ حسین نظم یا َحسین نغمہ ۔ ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ ”آمد“ کے وہ لمحات‘ جب جسمانی اَور ذہنی قوا، ِسمٹ کر ایک نقطے پر جمع ہو جاتے ہیں اَور اِنسان ِگردو َنواح سے بے خبر ہو کر اَپنی تخلیق میں یکسر کھو جاتا ہے ‘ اِنتہائی ذہنی َ ّمسرت کے لمحات ہوتے ہیں … یہ ُوہی لمحات ہیں جن کے متعلق ولیم ہیزلٹ اَیسا جذباتی اِنشا پرداز بے اِختیار َکہ ‘اُٹھتا ہے: …آہ ‘ بے قرار َ ّ مسرت کا ُوہ ایک لمحہ جب ذہن کو ُوہ نئی بات ُسوجھتی جو پھر کبھی ِمٹ نہیں سکتی ! مجھ سے دُنیا بھر کی کامرانیاں چھین لو اَور مجھے صرف د ِل سے نکلتی ُہوئی ُوہ ایک آہ بخش دو جس کے طفیل کوئی نوجواں مصنف اَبدیت کو پہلی بار اپنی دُلھن بناتا ہے … تاہم ولیم ہیزلٹ اُس بے َکنار َ ّمسرت کاتو قائل ہے جو تخلیقی لمحات میں وار ِد ہوتی ہے‘ مگر اُس َ ّمسرت کا بالکل قائل نہیں جو تخلیق کو دیکھ کر مصنف کو ُمحسوس ہوتی ہے ۔

اُس کی رائے میں: جب ایک بار کوئی چیز تخلیق ہو جائے تو اُس کے خالق کے لیے نہ تو اُس میں کوئی د ِلچسپی باقی رہتی ہے اَور نہ ہی َ ّمسرت …ایک آرٹسٹ کو بھی اپنی تکمیل یافتہ پینٹنگ دیکھ کر ُوہ َ ّمسرت حا ِصل نہیں ہو سکتی جو تخلیق کے َدوران میں اُسے حا ِصل ُہوئی تھی ۔ مجھے ذاتی َطور پر ولیم ہیزلٹ کے اِس خیال سے اِتفاق نہیں اَور میں سمجھتا ُہوں کہ ایک اعلیٰ تخلیق اُس کے خالق کا ایسا قیمتی اَثاثہ ہوتی ہے جسے ُوہ نہ صرف تاد ِم َمرگ فراموش نہیں کر سکتا بلکہ جو بدلتی ُہوئی ز ِندگی کے ہر مقام پر اُسے بے پایاں َ ّمسرت ّمہیا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

ممکن ہے ہیزلٹ نے انگریزی فضا میں بڑی خود اِعتمادی کے تحت یہ الفاظ کہے ہوں… ہمارے ہاں تو یہ بات نہیں۔ تخلیق کے وقت َ ّمسرت کی تحصیل یا بعد اَزاں تخلیق کا جائزہ لیتے وقت، َ ّمسرت کا ُ ُحصول تو فن کار کو ضرور اَرزانی ہوتا ہے ‘ لیکن اِس بات سے اِنکار نہ ہو سکے گا کہ تخلیقی کارناموں سے َہٹ کر فن کار کی ز ِندگی مسرت کی اُس ملائم اَور خوشگوار َرو سے ضرور محروم رہتی ہے جو ایک درمیانے درجے کے خوش باش اِنسان کو حا ِصل ہوتی ہے۔

اِس کی دو۲ بڑی ُوجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ تخلیقی َجوہر کا دباؤ، فن کار کے سراپے پر اِس درجہ مسلط ہو جاتا ہے کہ ُوہ خوش اسلوبی سے ز ِندگی کے کرخت حقائق کا ساتھ دینے کے زیادہ قابل نہیں َرہ جاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فن کار‘ اَرزاں قسم کی جذباتی تسکین کی خا ِطر بعض اَوقات شراب نوشی کی طرف بھی مائل ہو جاتے ہیں ۔ آپ میں سے جن لوگوں کو مارگرٹ مچل کا مشہور ناو ِل Gone with the Wind پڑھنے کا اِتفاق ُہوا ہے‘ اُنھیں ایشلے کا ُوہ خوبصورت‘ شا ِعرانہ ِکردار ضرور یاد ہو گا جو فلک ِ ناہنجار کے ایک ہی تھپیڑے سے ز ِندگی کے کرخت اَور َہولناک حقائق سے دوچار ُہوا اَور دیکھتے ہی دیکھتے اُس کے لطیف اَور ُسبک خوابوں کا سارا رنگین طلسم ٹوٹ کر پارہ پارہ ہو گیا۔

غالباً کرشن چندر نے اپنے کسی افسانے میں لکھا ہے کہ ”یہ خواب ُبرے نہیں ہوتے، صرف اِن کا ٹوٹ جانا ُبرا ہوتا ہے ‘ اَوریہ ُسپنے بہت جلد ٹوٹ ُپھوٹ جاتے ہیں“ ۔ فن کار کی ز ِندگی میں اُداسی کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ اُس کے ُسپنوں کے رنگین َحباب، حقائق کے سنگریزوں سے اکثر ٹکرا جاتے ہیں۔ فن کار کی عام ز ِندگی میں َ ّمسرت کی کمی کی دُوسری وجہ یہ ہے کہ اُس کا ذہنی ُ ُعروج اُسے عوام کی سطح سے اِس قدر بلند کر دیتا ہے کہ ُوہ خود کو ُسوسائٹی میں ایک اجنبی کے رُوپ میں دیکھتا ہے اَور اُسے اَنبوہ میں ہوتے ہوئے بھی شدید احسا ِس تنہائی کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے ۔

چنانچہ ز ِندگی میں َ ّمسرت حا ِصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے ماحول کے افراد سے نہ تو ذہنی َطورپر بلند ہوں اَور نہ ہی َپست ۔ اگر آپ َپست ہوئے تو لوگ آپ کو اَپنے َپیروں تلے َروند ڈالیں گے اَور اُن سے بلند ہوئے تو ُوہ آپ سے بے اعتنائی برتیں گے۔ فن کار کی ذہنی بلندی اُسے ایسے ہی بدنصیبوں میں لا کھڑا کرتی ہے ۔ لیکن فن کار کا احسا ِس تنہائی جہاں اُسے اَوسط درجے کی خوش باش ز ِندگی سے محروم رکھتا ہے‘ وہاں اُس کا رد ّ ِ عمل اپنے ُپراَسرار طر ِیق کار کی بدولت اُس کی رُوح کے اِس خلا کو ُپر کرنے اَور اُسے احسا ِس تنہائی سے چھٹکارا د ِلانے میں مدد ضرور بہم پہنچاتا ہے ۔

اس رد ّ ِ عمل کی نو ّعیت دو۲ طرح کی ہوتی ہے‘ اِس لیے فن کار مختلف مدار ِج کا اَدب َپیدا کرتا ہے ۔ جہاں ایک لمحے ُوہ خود نا ِظر کا َلبادہ اوڑھ لیتا ہے اَور ز ِندگی کے ہنگاموں کو ایک تماشائی کی حیثیت سے دیکھتا ہے‘ وہاں دُوسرے ہی لمحے خود کو وسعت اَور پھیلاؤ سے ہم آہنگ کر کے اپنی ُمحدود اِنفرادیت کو یکسر تج دیتا ہے۔ ا ّول ُ الذکر لمحہ اُسے مزاح ‘ تنقید اَور طنز کی تخلیق کی طرف مائل کرتا ہے ‘ یعنی ُوہ تمام چیزیں جن کے ذریعے ُوہ ایک احسا ِس برتری ُمحسو س کر کے دُوسروں کی ناہمواریوں پر ہنس سکے یا اُن پر طنز کر سکے یا مختلف اَشیا کا تنقیدی جائزہ لے سکے ۔

لیکن موٴخر ُ الذکر لمحہ اُسے تماشائی کی حیثیت سے بلند کر کے ایسی احساسی چیزیں تخلیق کرنے کی طرف مائل کرتا ہے جن میں ُوہ خود کو کائنات کے وسیع پھیلاؤ اَور لا ُمحدود کیفیات سے ہم آہنگ کر سکے۔ نیچرل شا ِعری بلکہ تمام داخلی شا ِعری کی تخلیق اِسی ایک لمحے کی ر ِہین ِ ّمنت ہے اَور یہی ُوہ لمحہ ہے جسے ُصوفیا کرام اَور ویدانتیوں نے لا ُمحدودیت کے ساتھ و ِصال کالمحہ قرار دیا ہے ‘ یعنی جب ”اِمتیاز ِمن و ُتو“ اُٹھ جاتا ہے اَور ز ِندگی پھیل کر ایک ُسہانے احساس میں بس جاتی ہے ۔

یہاں تک ہم نے فن کار کے احساسات سے بحث کی ہے اَور یہ دیکھاہے کہ تخلیق کے وقت فن کار ایک رُوحانی ُ ُسرور سے ہم َکنار ہوتا ہے اَور خود کوایک َ ّمسرت انگیز لمحے سے ہم آہنگ کر لیتا ہے… اِس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تخلیق کے َدوران میں جب ُوہ خیالات کی ایک لطیف سطح سے یک لخت‘ لاشعوری طریق سے خیالات کی ایک لطیف تر سطح کو ُچھوتا ہے تو اُسے ایسا وسعت آشنا‘ َ ّمسرت زا احسا س ہوتا ہے جسے کسی بہتر لفظ کی عدم موجودگی میں ”احسا ِس بحر آسا“ سے مو ُسوم کیا جا سکتا ہے‘ اَور دیکھا جائے تو یہی احسا ِس وسعت فن کار کی عزیز تریں متاع اَور بے پایاں َ ّمسرت کا سب سے بڑا محرک ہے ۔

اَب ہم تصویر کے دُوسرے رُخ کی طرف متو ّجہ ہوتے ہیں اَور یہ دیکھنے کی َسعی کرتے ہیں کہ تخلیق شدہ آرٹ کیسے اَور کہاں تک اَفراد کو َ ّمسرت بخشنے میں کامیاب ہو سکتا ہے ! یہاں ہمارے لیے سب سے پہلے اِس بات پر زور دینا نہایت ضروری ہے کہ در حقیقت آرٹ کی اصل رُوح اُس کی فطری آمد میں ہے اَوریہ روانی جبھی آ سکتی ہے کہ بقو ِل مولانا صلاح الدین احمد: فن کار اَور فن کے متوالے اِسے کسی خاص ڈھب پر چلانے کی کوشش نہ کریں‘ ُوہ اِس کی روانی کو آزاد چھوڑ کر فن کو اَپنی سطح آپ تلاش کرنے کی اِجازت دیں۔

مولانا موصوف کا یہ اِرشاد کہ آرٹ کی رواں دواں ندی کے راستے میں بند باندھنے کی کوشش فضول ہے‘ اپنی جگہ خا ّصا وزنی نظریہ ہے اَور اِس سے فن کی ّسچی کیفیات کو بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ فن کار اَور اُس کی تخلیقات کا مطالعہ کرنے والے افراد ‘ اِس حقیقت کی رُوح کو ِپیش نظر رکھتے ہوئے آرٹ کو ہر طرح کی مقصدیت سے بلند و بالا قرار دیں اَور اِسے جسمانی اَور رُوحانی قو ّتوں کا ُوہ سر جوش (overflow) تسلیم کریں جس کا ِکنارے توڑ کر َبہ ‘نکلنا ایک فطری بات تھی؛ نیز اِسے اُس شدید تجربے کے مخلصانہ اَور فنکارانہ اِظہار سے مو ُسوم کریں جس کے بغیر فن کار کا سانس رُک رہا تھا اَور جس میں شریک ہو کر‘ خود اَفراد نے اُس تجربے کی گہرائیوں میں نہ صرف جھانکا بلکہ فن کار کے دو ش بدوش اُس رُوحانی کیف و ُ ُسرور کے جام بھی پیے جو فن کار کو ِ ّشدت ِ احساس نے فنی تخلیق کی صورت میں کسی ایک منزل پر پیش کر دیے تھے ۔

شبلی نے بھی ”شعر ُ العجم“ میں ایک جگہ آرٹ کی اِس فطری آمد اَور نتیجةًافراد پر اِس کے حیرت انگیز اَثرات کے بارے میں لکھا ہے کہ: شا ِعر کے د ِل میں جذبات َپیدا ہوتے ہیں۔ ُوہ بے اِختیار اُن جذبات کو ظاہر کرتا ہے‘ جس طرح َدرد کی حالت میں بے ساختہ آہ نکل جاتی ہے ۔ بلاشبہ یہ اشعار اَوروں کے سامنے پڑھے جائیں تو اُن کے د ِل پر اَثر کریں گے لیکن شا ِعر نے اِس مقصد کو ِپیش نظر نہیں رکھا تھا ؛جس طرح کوئی شخص اپنے عزیز کے َمرنے پر َنوحہ کرتا ہے تو اُس کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ لوگوں کو سنائے لیکن کوئی شخص ُسن لے تو ضرور تڑپ کر َرہ جائے گا۔

یہاں یہ اَمر واضح رہے کہ کسی فن پارے کے شدید تاثر کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ افراد کے احساسات، فن کار کے احساسات میں اپنا ّسچا عکس دیکھ کر ٹھٹھک جاتے ہیں۔ یہ چیز افراد کو بھی ُوہی ذہنی آ ُسودگی بخشتی ہے جسے فن کار نے اپنے جذبات و احساسات کے کامیاب اِظہار پر حا ِصل کیا تھا۔ اِس میں نفسیاتی سچ یہ ہے کہ کسی اعلیٰ تخلیق کا مطالعہ کرتے وقت نا ِظر کو ُمحسوس ہوتاہے گویا ُوہ خود تخلیق کررہا ہے ۔

َ ّمسرت دراصل اِس بات میں ہوتی ہے کہ فن کار جس چیز کا اِظہار کرے‘ اُسے پڑھنے ‘ سننے یا دیکھنے والا کہے گویا یہ اُسی کے ذہن کی َپیداوار ہے؛ اِس طرح فن کار کے تجربے میں شریک ہو کر ناظر بھی اُس کا ہم َنوا بن جاتا ہے اَور َ ّ مسر ت حا ِصل کرتا ہے ۔ جہاں ایک اعلیٰ فنی کاو ِ ش فن کار کے خلو ص اَور احساس کی ّغماز اَور صداقت ِ تجربات کی ترجمان ہوتی ہے‘ وہاں ُوہ نا ِظر کی َ ِسعی ِتخلیق ّمکرر کے پرتو سے بھی جگمگا ہٹ حا ِصل کرتی ہے … ُیوں تخلیق کا ّمداح ،تخلیق کو خود حرارت؛ اُس کے احساسی سرمایے کو اَپنی ذہنی اُڑان ؛اَور اپنے قیمتی ذہنی اَور احساسی سرمایے سے تقویت بخشتا ہے ۔

ایسے مقام پر ُمحسوس ہوتا ہے گویا دو۲‘ ایک جیسے اَذہان نے کسی فن پارے کی تخلیق میں یکساں ِ ّحصہ لیا ہو… ایک ذہن تو خود فن کا رکا تھا اَور دُوسرا اُس شخص کا جس کے احساسات و تجربات کی سطح ُوہی تھی جو فن کار کی تھی اَور جس نے خود کو فن کار کی ذہنی کیفیات سے یکسر ہم آہنگ پایا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے د ِل پسند مصنف کی دریافت ہر ذہین فرد کی احساسی ز ِندگی کا نازک تریں اَور َ ّمسرت انگیز مقام ہوتا ہے کہ اِس سے اُسے ُوہ آئینہ مل جاتا ہے جس کے ذریعے ُوہ خود اپنے احساسات و جذبات کا جائزہ لیتا ہے ‘ اپنے تجربات کا دُوسرے کے الفاظ میں اِظہار کرتا ہے‘ اَور ُیوں بے پایاں اَور لازوال َ ّمسرت حا ِصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

لیکن جہاں اِس بات کی ّسچائی سے اِنکار ممکن نہیں کہ ہر فن پارے میں اشار ّیتی ُ ُعنصر کی اِتنی فراوانی ہوتی ہے کہ مطالعہ کرنے والے کو اَپنی َ ِسعی ِتخلیق مکر ّر کو بروئے کار لانا پڑتا ہے تاکہ ُوہ فن پارے سے ُپوری طرح محظوظ ہو سکے‘ وہا ں اِس بات سے بھی اِنکار ممکن نہیں کہ بعض فن پارے اپنی تیز روانی میں نا ِظر یاقاری کے احساسات و جذبات کو ُیوں بہا لے جاتے ہیں کہ اُس کے زور ِ تخیل سے درخشانی حا ِصل کرنے کے بجائے خود اُس کے تصو ّرات میں َچکا چوند َپیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔

یہ چیز اُن لوگوں کو اَرزانی ہوتی ہے جو ز ِندگی کے کسی موڑ پر کسی بڑے فن کار کی تخلیقات سے دو چار ہوتے ہیں اَور آ ِن وا ِحد میں اُس کے اِظہار کی کرشمہ سازیوں اَور اُس کے خیالات و نظریات کی ِسحر انگیز کیفیات میں ُیوں کھو جاتے ہیں کہ اُنھیں ُمحسوس ہوتا ہے گویا وقت کی رفتار تھم گئی ہے اَور ز ِندگی ایک سہانے احساس میں بدلتے چلے جا رہی ہے ۔

اَفراد کا کسی فن پارے کے ِسحر میں ُیوں اَسیر ہوجانا کہ اُنھیں وقت کا احساس ہی نہ رہے‘ اپنے اَندر ایک نہایت لطیف نفسیاتی درجہ رکھتا ہے‘ اَور ُوہ یہ ہے کہ ہر فرد ز ِندگی کے کرخت حقائق سے گریز اِختیار کرنے اَور خوابوں کے لطیف و جمیل محلکوں میں بسر اَوقات کرنے کی طرف مائل رہتا ہے ۔ چنانچہ ایک اعلیٰ فن پارہ اُسے یک لخت سنگلاخ حقائق کی دُنیا سے بلند کر کے لطیف احساسات اور حسین خوابوں کی دُنیا میں پہنچا دیتا ہے جس میں اِنسان خود کو فن کار یا ہیرو کے احساسات سے اِس َطور ہم آہنگ کر لیتا ہے کہ ہیرو کے مصائب اُس کے اپنے مصائب بن جاتے ہیں اَورہیرو کی کامرانی اُس کی اپنی فتح ! لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی: اگر اَیسا ہو تواِس ڈرامے کا ایک ِکردار بن کر اِنسان‘ ُوہ َ ّمسرت کبھی حا ِصل نہیں کر سکتا جو فی الواقع اُسے ملتی ہے ۔

دراصل ہیرو کے ساتھ خود کو قطعی َطور سے منسلک کرنے کے بعد بھی لوگ اپنی تماشائی کی حیثیت کبھی نہیں بھولتے : ہر بار ہیرو کے ساتھ آ ُنسو بہانے اَور مصائب اُٹھانے کے بعد‘ ُوہ اپنی تماشائی کی حیثیت کی طرف بھی َلوٹتے ہیں۔ کسی فن پارے کے مطالعے میں یہ ” َلوٹ آنا“ ایک اَیسا موڑ بن جاتا ہے جس کا اُنھیں کوئی شعوری احساس نہیں ہوتا اَور جو جذبات کے تناؤ کو آ ُسودہ کر کے‘ اُنھیں ذہنی تسکین ّمہیا کرتا ہے اَور خاص َطور پر المیے کی تاریکیوں کو اُن کے لیے گوارا اَور ممکن بنا دیتا ہے ۔

تاہم یہاں ایک َحل طلب مسئلہ باقی َرہ جاتا ہے: ُوہ یہ کہ آرٹ میں المیے کا ُ ُعنصر کیوں اَور کیسے ذہنی آ ُسودگی کا موجب ہے! یہاں دو ایک نکات کو ملحوظ ِ خا ِطر رکھا جائے تو بات آئینہ ہو جاتی ہے۔ پہلایہ کہ ہر فن کار‘ چاہے ُوہ افلاطون کے تخیلی نظریے کا حامی ہو چاہے ارسطو کی حقائق پسندی کا ‘ کسی نہ کسی َحد تک دروں بیں (Introvert) ضرور ہوتا ہے … ُوہ اِس لیے کہ ہر فنی تخلیق میں فن کار کے اپنے احساسات کو ضرور سرگرم ہونا پڑتا ہے جن کے بغیر حقائق کا اِجتماع تو ممکن ہے‘ فنی تخلیق ممکن نہیں۔

ہر ُوہ فن کار جو اَپنے احساسات کا جائزہ لیتا ہے‘ احسا ِس تنہائی سے ضرور نبرد آزما ہوتا ہے… یہ احسا ِس تنہائی اِنسان کے احسا ِس کم مائیگی کی َپیداوار ہے ‘ نفسیات میں جس کے متعلق دو۲ آرا موجود نہیں۔ پھر یہی ُوہ احسا ِس تنہائی ہے جو اَپنی آ ُسودگی کے لیے المیے کی تخلیق کا محرک ثابت ہوتا ہے ۔ یہاں فن کار‘ دُوسرے ِکرداروں کو اَپنے احساسات و جذبات تفویض کر کے‘ ایک طرح سے ذہنی تسکین حا ِصل کرتا ہے ۔

نا ِظر کا المیے سے تسکین حا ِصل کرنا بھی اِسی نفسیاتی عمل کا ایک پہلو ہے کیونکہ نا ِظر بھی دراصل ُوہی اِنسان ہے جو احسا ِس کم مائیگی کا ِشکار تھا۔ دُوسرا نکتہ یہ ہے کہ المیے کی تخلیق اُن اِنسانی احساسات و جذبات کے اِظہار کی خا ِطر معر ِض ُوجود میں آتی ہے جو اِنسان کے احسا ِس کم مائیگی کی َپیداوار‘ اَور اِظہار سے قبل اُس کے ذہنی کرب کا باعث تھے۔

اِظہار نے اُن کی ِ ّشدت کو اِنحطاط پذیر کر کے نہ صرف فن کار کو ذہنی آ ُسودگی بخشی بلکہ ہر اُس اِنسانی ذہن کو بھی تسکین ّمہیا کی جسے احسا ِس کم مائیگی و تنہائی نے َ ّمسرت سے محروم کر رکھا تھا۔ آخر میں مجھے فن سے ُ ُحصو ِل َ ّمسرت کے اُس پہلو کا تذکرہ کرنا ہے جسے شبلی نے محاکات کے عنوان کے تحت تفصیل سے بیان کرتے ُہوئے لکھا ہے کہ” شا ِعری کا اصل مقصد طبیعت کا اِنبساط ہے: کسی چیز کی اصلی تصویر کھینچنا خود طبیعت میں اِنبساط َپیدا کرتا ہے ۔

دیکھاجائے تو شبلی کے یہ الفاظ جو اُنھوں نے صرف شا ِعری کے ضمن میں کہے تھے‘ فن کی تمام مسلمہ کیفیات پر ُپورا اُترتے ہیں ۔ لہٰذا ہم َکہ ‘سکتے ہیں کہ ُوہی فنی تخلیقات ہمیں زیادہ متاثر کرتی ہیں جو اصل کے زیادہ قریب ہوں اَور جن میں ّ سچائی اَور خلوص کا ُ ُعنصر بے پایاں ہو ۔ ایسی تخلیقات دراصل ز ِندگی اَور اُس کی تمام تر کیفیات کی صحیح نقل اَور عمدہ ترجمانی کرتی ہیں۔ اَز بسکہ اِنسان کو نقل یا ترجمانی سے محظوظ ہونے کی قدرتی صلاحیت حا ِصل ہے ‘اِس لیے ُوہ فن سے مسرت حا ِصل کرنے میں بڑی َحد تک کامیاب ہو جاتا ہے کہ یہی دراصل ز ِندگی کا ّسچا عکس ہے ۔

Chapters / Baab of Musarrat Ki Talash By Wazir Agha

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6