ًًًًًًًًًًEpisode 5 - Musarrat Ki Talash By Wazir Agha

قسط نمبر 5 - مسرت کی تلاش - وزیر آغا

Musarrat Ki Talash in Urdu
مسرت اَور فلسفہ ۱ والٹ و ِھٹ مین (Walt Whitman) ایک جگہ رقم طراز ہے : میرا خیال ہے کہ میں حیوانوں کے ساتھ مل کر بڑے مزے سے َرہ سکتا ُہوں ۔ وہ اپنی حالت سنوارنے کے لیے خون پسینہ ایک نہیں کرتے…نہ وہ طویل راتیں‘ جاگ کر اَور آنسو بہا کر بسر کرتے ہیں…خدا کی طرف بھی اُن کے کوئی فرائض نہیں…ایک بھی تو بے َچین نہیں ‘ ایک بھی تو ملکیت کی خواہش نہیں کرتا…اُن میں سے کوئی بھی تو کسی اپنے جیسے کے سامنے َسر نہیں جھکاتا؛اُن میں ایک بھی عزت و ناموس کا پرستار نہیں‘ایک بھی تو غم زدہ نہیں! لیکن میں سمجھتا ہوں کہ و ِھٹ مین کا یہ تاریک نظریہ‘ َحیوان کے مقابل اِنسان کی تذلیل کے متراد ِف ہے ۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ َحیوان اپنی سادہ اَور طبعی ز ِندگی کے با ِعث اُن آلام و مصائب‘ اُن آنسوؤں اَور ِ سسکیوں سے بہت َحد تک محفوظ رہتا ہے جو اِنسان نے اپنے ذہنی اِرتقا کے طفیل خود پروار ِد کی ہیں؛ لیکن اِس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ َحیوانی ّلذت کو تج کر ‘ اِنسان نے َ ّمسرت کی اُن اِرتقائی کیفیات تک بھی رسائی حاصل کی ہے جہاں َحیوان ہزار َسعی کے باوجود پہنچنے سے قا ِصر ہے ۔

(جاری ہے)

دیکھا جائے تو َ ّمسرت کا تصو ّر شروع ہی سے اِنسان کے ِپیش نظر رہا ہے اَور وہ اِس کے حصول کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔ جنگل میں َحیوانی ز ِندگی بسر کرتے وقت ُوہ ذہنی اُلجھنوں سے بے شک محفوظ تھا اَور اَپنی فطرت کے اِشاروں اَور طبعی رُجحانات کے تقاضوں کے سامنے سر ِ تسلیم خم کرتے ہوئے ‘اُسے ُوہ بھرپور ّلذت بھی ضرورملتی تھی جو َحیوانی ز ِندگی کا خا ّصا ہے ؛ لیکن ُوہ اُس َ ّمسرت سے یقینا محروم تھا جس تک ایک روز اُسے ذہن کی نئی کروٹوں کے طفیل رسائی حاصل کر لینا تھی۔

چنانچہ جیسے ہی اُس کی ذہنی ترقی نے اُس کے طبعی رُجحانات کو ِپس ُپشت ڈالنا شروع کیا ‘اُس کی ِچشم تصو ّر کے سامنے مسرت کے نقوش واضح ہونے لگ گئے ۔ جلد ہی اُس نے اَپنے لیے تہذیب و قانون کی ایک ایسی دُنیا تعمیر کر لی جہاں اُس کے طبعی رُجحانات پا بہ زنجیر َرہ سکیں اَور اُن کی تندی و وحشت دائرہٴ تہذیب میں آ کر‘ متوازن اَور ُپر سکوں ہو جائے۔

تاہم وہ اپنی فطرت کے اُن ا ّولیں تقاضوں کو یکسر نا َپید نہ کر سکا اَور یہ تقاضے جنگ‘ جنسی وحشت اَور اِنتقام کی صورت میں ہمیشہ اُس کے ساتھ وابستہ رہے۔ دیکھا جائے تو ننھی سی ایک ُمعصوم آرزو ہمیشہ اُس کے د ِل میں چٹکیاں لیتی رہی کہ وہ کسی شام کے دُھندلکے میں واپس اپنی کھوئی ہوئی ّجنت یعنی جنگل میں واپس چلا جائے جہاں اُس کے جذبات کو کھلی چھٹی ملتی تھی اَور جہاں ُوہ آزاد منش آدم کے ِنقش قدم پر چلتے ہوئے‘ ِبلا روک ٹوک‘ اپنی خواہشات کی تسکین کر سکتا تھا: پھر بھی بسا اَوقات اُس نے اپنی تہذیب بھری دُنیا میں اِس آرزو کو کچل دینے کی کوشش کی اَور اُصولاً جذبات اَور طبعی رُجحانات کو نہ صرف فہم و اِدراک کے تابع قرار دے لیا بلکہ ایک ایسی دُنیا بنانے کی بھی خواہش کی جہاں سے جذبات اَور طبعی رُجحانات کو مکمل دیس نکالا مل جائے… یہی اُس کی غلطی تھی… محض فہم و اِدراک کی ز ِندگی اُسے وہ َ ّمسرت ّمہیا نہیں کر سکتی تھی جس کا ُوہ لا شعوری طور پر طالب تھا۔

ّسچی َ ّمسرت تو عقل و جذبات کے اِمتزاج ہی سے ممکن تھی؛ اِس کا مرکز نہ تو محض منطق و قانون تھا اَور نہ ہی محض جسم اَور َحیوانی ز ِندگی! جیسا کہ میں نے ابھی ابھی عرض کیا‘ َحیوانی ز ِندگی میں َ ّمسرت کا سوال ہماری بحث سے خارج ہے… اِس لیے کہ اُس ز ِندگی میں واقعةً َ ّمسرت کا ُوجود ہی نہ تھا؛ َ ّمسرت کے حصول کا سوال تو اِنسانی ز ِندگی کے اُس مقام پر َپیدا ُہوا جہاں اُس کے فہم و اِدراک کی ترقی نے اُس کے لیے بہت سی نئی ذہنی اُلجھنیں َپیدا کر د ِیں اَور اُسے اپنی کم مائیگی‘ تنہائی اَور بے بسی کا احساس ُبری طرح ستانے لگا۔

جسمانی ّلذت تو اُسے اَب بھی حا ِصل تھی لیکن وہ اُس ”ذہنی ّلذت“ سے یقینا محروم تھا جو نئے شعور کے طفیل اُسے نئی دُنیا میں ِملنا چاہیے تھی۔ اِسی لیے اُس کے د ِل میں اِس نئے خلا کو ُپر کرنے کی شدید آرزو کر وٹیں لینے لگی۔ لیکن ُوہ اِس خلا کو ُپر کیسے کرے‘ اِس نئے مرض کا علاج کیا ہو‘ یہ بے چینی کیسے دُور ہوگی… یہ تمام سوالات ایک نئے اَنداز سے اُبھر کر‘ اُس کے سامنے آ گئے۔

جلد ہی اُسے ُمحسوس ہونے لگا کہ اِس بے چینی کی وجہ تو وہ تاریکی ہے جو کائنات کے ُپر اَسرار مسائل کے ِپیش نظر اُس کے ذہن پر مسلط ہے اَور جسے چیر کر ُوہ ِصبح روشن کا چہرہ دیکھنا چاہتا ہے۔ روشنی (light) ہی دراصل اُس کے اِس نئے مرض کا علاج تھی اَور اِسی روشنی میں‘ اُس کے بقول‘ وہ َ ّمسرت پوشیدہ تھی جس کے لیے غیر شعوری طور پر وہ خود کو اِس قدر بے قرار ُمحسوس کر رہا تھا۔

چنانچہ اِنسانی ذہن کی ساری تاریخ، اُس پروانہ وار تگ و َدو کا نام ہے جو اُس نے روشنی تک پہنچنے کے لیے کی: اِس تگ و َدو کو ہم فلسفہ َکہ ‘ کر بھی پکارتے ہیں۔ مغرب میں اِس کا آغاز یونانی افکار سے ُہوا۔ ہریکلٹس (Heraclitus) نے‘ جسے ”آنسووٴں والا فلسفی“ کہا گیا ہے‘ سب سے پہلے یہ نکتہ پیش کیا کہ دُنیا میں ّ تغیر کو ثبات ہے اَور ہر چیز ایک پیہم تبدیلی سے ہم َکنار ہے۔

اُس نے اِس بات پر زور دیا کہ کوئی شخص ایک ہی دریا میں دو۲ دفعہ ُکود نہیں سکتا کیونکہ دُوسری بار ُکودنے تک دریا کی پہلی صورت قائم نہیں رہے گی۔ یونان کے قریباً تمام ا ّولیں فلسفے پر ز ِندگی کا یہ تاریک رُخ ُ ّمسلط ہے اَور اِسی قنوطیت کی ِبنا پر ہریکلٹس کو آ ُنسووٴں کا فلسفی کہا گیا۔ لیکن اِنسان فطرتاً‘ پیہم تبدیل ہونے والی کائنات کے ِپس ُپشت ایک ایسی لا ُمحدود و لا زوال قو ّت کا بھی طالب ہے جس میں اَبدیت کے سارے عنا ِصر موجود ہوں۔

چنانچہ اُس َدور کے یونانی فلسفے میں بھی اِس لا ُ محدود قو ّت کو دریافت کرنے کی ایک واضح َسعی کار فرما نظر آتی ہے۔ افلاطون نے جہاں ہریکلٹس کی یہ بات مان لی کہ کائنات کی ہر چیز پیہم تبدیلی سے ہم َکنار ہے‘ وہاں اُس نے یہ قیمتی اِضافہ بھی کیاکہ دراصل ہمارے تجربات کی ُوہ دُنیا ،جس کا ہم اپنے حوا ِس خمسہ سے اِدراک کرتے ہیں‘ پیہم تبدیل ہونے والی غیر حقیقی دُنیا ہے‘ نیز اِس کے علا َوہ بھی ایک دُنیا ہے جس کا اِدراک صرف ذہنی طور پر ہی کیا جا سکتا ہے… اِس دُنیا کی اَشیا حقیقی ہیں! افلاطون کے مطابق ”تخیل“ ہی اصل چیز ہے؛ ورنہ ُوہ اشیا جنھیں ہم حقیقی سمجھتے ہیں‘ دراصل تخیل کی نقول (copies) ہیں‘ بعینہ جس طرح پہاڑ کی تصویر دراصل پہاڑ نہیں‘ پہاڑ کی نقل ہوتی ہے۔

اُس کے نزدیک کسی چیز کا تخیل‘ دراصل اُس چیز کی ُوہ خصوصیت ہے جس کے بغیر اُس کا ُوجود تسلیم کر لینا ممکن نہیں۔ مجموعی طور پر ز ِندگی اِن خصوصیات کا نام ہے نہ کہ اَشیا کا۔ چنانچہ ُحسن ایک خصوصیت ہے جس کے معیار پر کائنات کی ہر خوبصورت چیز پہنچنے کے لیے کوشاں ہے۔ اِسی طرح ”نیکی“ ایک خوبی ہے اَور افلاطون کی نظروں میں یہ سب سے بڑی خوبی ہے کہ اِس کی جھلک دُنیا کے پاکیزہ اَور بلند لوگوں کی ز ِندگیوں میں ملتی ہے۔

ارسطو نے (کہ وہ افلاطون کا لائق شاگرد تھا) جہاں اپنے اُستاد کے بنیادی نظریات کو وضاحت سے پیش کیا‘ وہاں دُنیائے فلسفہ کو نئے نئے افکار سے بھی روشنی بہم پہنچائی۔ مثلاً ایک نیا نکتہ (جس پر اُس نے خاص طور سے زور دیا) یہ تھا کہ اِنسانی ز ِندگی کا منتہا حصو ِل َ ّمسرت کے ِسوا کچھ نہیں۔ کسی چیز کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ ُ وہ زیادہ سے زیادہ َ ّمسرت ّمہیا کرے۔

اِس کے بر عکس ہر ُوہ چیز ُبری ہے جس سے َ ّمسرت کا حصول ممکن نہیں۔ اِس سلسلے میں ارسطو نے ز ِندگی کو تین۳ صورتوں میں پیش کیا ہے۔ پہلی صورت وہ ہے جس میں احساس کا ُوجود ہے لیکن حرکت کا ُوجود بالکل نہیں… مثلاً نباتات۔ دُوسری صورت میں حیوانات شامل ہیں جو ُمحسوس بھی کرتے ہیں اَور حرکت بھی کرتے ہیں۔ تیسری صورت اِنسان کی مظہر ہے جو ُمحسوس کرنے اَور حرکت کرنے کے علاوہ سوچ بچار بھی کر سکتا ہے… سوچنیکی خصوصیت صرف اِنسان ہی کو اَرزانی ہوئی ہے اَور یہی خصوصیت اُسے نباتات اَور حیوانات سے ّمتمیز بھی کرتی ہے۔

اَب چونکہ اِنسان کو اِس اِمتیازی خصوصیت یعنی فہم و اِدراک نے آغاز ِ کار ہی میں نباتات اَور حیوانات پر غالب آنے کی قو ّت َعطا کر دی ہے‘ لہٰذا قیاس اَغلب ہے کہ اِس خصوصیت کا اِرتقا اَور نکھار اُسے َ ّمسرت اَور سکو ِن قلب َعطا کرنے میں بھی نمایاں طور سے کامیاب ہو جائے گا۔دراصل ارسطو کہنا یہ چاہتا ہے کہ اِنسان کی َ ّمسرت کا تمام تر دار و مدار اُس کی ذہنی کاو ِشوں پر ہے‘ اُس کے جذبات و احساسات پر ہرگز نہیں؛ لہٰذا َ ّمسرت کے حصول کے لیے اِنسان کو چاہیے کہ وہ جذبات و احساسات کا گلا گھونٹ دے اَور محض ذہنی اِرتقا کو اَپنا ِ مطمح نظر بنائے! ارسطو نے عقل اَور جذبے کے ما َبین جو تفریق َپیدا کی اَور جس طرح عقل کے مقابل عشق یا جذبے کو کم تریں بلکہ گردن زدنی قرار دیا‘ وہ اُس بحث کا آغاز ثابت ہوئی جو مغربی فلسفے کی قریباً ساری تاریخ پر ُ ّ مسلط ہے۔

اِس بحث کے طفیل ( جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے)کبھی تو مفکرین کا ایک اَیسا گروہ َپیدا ُہوا جس نے ہر شے کو محض عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی اَور کبھی کسی َگروہ نے محض جذبے کو سراہا اَور عقلی منطق کو سراسر غلط راستہ قرار دیا۔ غور کیا جائے تو دور ِ جدید میں فن برائے فن اَور فن برائے ز ِندگی کی بحث‘ دراصل سلسلہ ٴ فکر کے اِسی تضاد کی ایک صورت ہے جو ہمیشہ سے مغربی فلسفے کی تاریخ پر ُ ّمسلط رہا ہے۔

ارسطو‘ یونانی فلسفے کے بتدریج بلند ہوتے سلسلہ ہائے کوہ کی آ ِخری چوٹی تھا جس کے بعد اِس پر اَسرار َسر زمیں یعنی یونان کو کبھی رُوحانی عظمت نصیب نہیں ہو سکی۔ تاہم ارسطو کے فوراً بعد یہ زوال شروع نہیں ہوا۔ زینو (Zeno) اَور ایپی کیورس (Epicurus) نے یونانی فلسفے کے ٹمٹماتے ہوئے چراغ کو چندے مزید جلائے رکھا اَور ز ِندگی سے متعلق دو۲ ایسے مختلف اَور متضاد نظریے پیش کیے جو بعد اَزاں ایک طویل کشمکش کا با ِعث ثابت ہوئے۔

اِن میں سے زینو کا نظریہ تو صریحاً شکست کی آواز تھا … اُس کے مطابق اِنسان کا فرض یہ نہیں کہ وہ اپنی خواہشات کی تسکین کے لیے تگ و َدو کرتا پھرے اَور ز ِندگی کو اَپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے‘ اُس کا کام یہ ہے کہ ُوہ اپنی موجود زندگی پر قانع رہے اَور اپنی خواہشات کے پاوٴں کو چادر کے مطابق ہی پھیلائے! اِس کے برعکس ایپی کیورس‘ ایسی شکست خوردہ ز ِندگی کا قائل نہیں تھا اَور َ ّمسرت کے لیے تگ و َدو ہی کو ز ِندگی کا آ ِخری منتہا سمجھتا تھا ۔

اُس کی نظروں میں َ ّمسرت ُوہ نہیں جو جسما نی ّلذت کی صورت میں نمودار ہوتی ہے کیونکہ ایسی َ ّمسرت رُوح کو بے َچین کر دیتی ہے؛وہ َ ّمسرت اُسے قرار دیتا ہے جو اِنسان کی ذہنی آ ُسودگی کا با ِعث بنتے ہوئے‘ اُسے سکون اَور شانتی سے قریب تر کر دے۔ رُومیوں نے جب ۱۴۶ قبل اَز مسیح میں یونان پر حملہ کیا تو دیکھا کہ یہ دونوں مدرسہ ہائے فکر‘ ایک دُوسرے سے دست و گریباں ہو رہے تھے ۔

چنانچہ جب وہ واپس َلوٹے تو (جیسا کہ فاتح کا قاعدہ ہوتا ہے) اِن دونوں نظریوں کو اَپنے ساتھ رُوم لے آئے۔ بعد اَزاں رُوم نے جو تھوڑا بہت فلسفہ پیش کیا ‘وہ اِنھِیں نظریوں کے تصادُم کی تصویر تھا۔ سلطنت ِ رُوم کے خاتمے کے بعد قریباً ایک ہزار سال کا عرصہ فلسفے کی تاریخ میں تاریکی کا زمانہ ہے ۔ یہ وہ وقت تھا جب کلیسا کی طاقت روز بروز بڑھتے چلے گئی ۔

ایک سلطنت کے بعد دُوسری سلطنت اَور ایک ملک کے بعد دُوسرا ملک کلیسا کے تحت آتے چلا گیا ،حتیٰ کہ یورپ کا بڑا ِ ّحصہ رُوحانی اَور جسمانی طور پر اُس کے بے رحم پنجوں کا اَسیر ہو کر َرہ گیا ۔ تیرھویں صدی کے آغاز میں تو یورپ کا قریباً ایک تہائی ِ ّحصہ کلیسا کے قبضے میں آ ُچکا تھا اَور ز ِندگی ایک تاریک َخول بن کر َرہ گئی تھی۔ تاہم اِس سب کا رد ّ ِ عمل بھی ضروری تھا اَوریہ رد ّ ِ عمل ایک ُپر اَسرار طریق سے ُہوا۔

یکایک زمین کی زرخیزی بڑھ گئی اَور اِس زرخیزی کے ساتھ ہی اِنسانی ذہن بھی یک لخت زرخیز ہو گیا۔ جرمنی سے ایک آواز اُٹھی اَور اِس آواز نے گویا کلیسا کی بنیادوں کو ِہلا کر رکھ دیا … یہ صرف ایک شخص کی آواز نہیں تھی‘ یورپ بحیثیت ِمجموعی تاریکی کی سنگین دیواروں کو توڑ کر باہر نکل رہا تھا۔ پریس اور صلیبی جنگوں نے ذہنی آفاق کو وسیع کرنے میں مدد بہم پہنچائی اَور اِحیاء ُ العلوم (Renaissance) کی ایک ہی برقی َرو نے سارے یورپ کو جھٹک کر بیدار کر دیا۔

اِسی زمانے سے فلسفے کے َدور ِ جدید کا آغاز ہوا اَور اِس کی پہلی آواز اِنگلستان کے ایک شخص نے بلند کی جس کا نام فرانسس بیکن (Francis Bacon) تھا۔ اُس نے ز ِندگی کے تمام معمولات کو حل کرنے کے لیے سائنس اَور منطق کا سہارا لیا اَور ُیوں ایک ایسے سلسلہ ٴ فکر کی بنیاد رکھی جس نے عقل و فہم پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے اَور عملی َمیدان میں ذاتی مشاہدے اَور تجربے کے معیار مقرر کر کے ‘ تاریکیوں کو چیرنے کی سعی جمیل کی ۔

بیکن ‘ ڈیکارٹ ‘ سپائی نوزا‘ والٹیر‘ لاک اَور ہیوم اِسی سلسلہ ٴ فکر کی مختلف آوازیں تھیں۔ بیکن نے جہالت کو غم اَور دُکھ کا موجب قرار دیتے ہوئے ، ِتحصیل علم پر زور دیا اَور کہا کہ َ ّمسرت ‘اَشیا کی ماہیت دریافت کرنے ہی سے ممکن ہے۔ چنانچہ جہاں زمانہ ٴ قدیم میں فلسفے کا مقصد ‘ بدلتی ُہوئی ز ِندگی کے ِپس ُپشت ایک لازوال اَور غیر َمرئی ہستی کی دریافت تھا‘ وہاں فرانسس بیکن کے ساتھ فلسفہ شک شبہے کے َمیدان میں داخل ہوا اَورمنطق اَور سائنس کے ذریعے اَور عقل و خرد کی روشنی میں‘ ہر چیز کی ماہیت دریافت کرنے کے نمایاں رُجحانات َپیدا ہو گئے ۔

بیکن کی طرح ڈیکارٹ (Descartes) نے بھی اپنے فلسفے کا آغاز شک شبہے سے کیا ۔ اُس کے شک شبہے نے تو اِس قدر وسعت اِختیار کر لی کہ کائنات کی ہر شے اُس کی لپیٹ میں آ گئی ۔ البتہ ُوہ اپنی ہستی پر شبہ ‘ نہ کر سکا اَور اِس بات کا اِظہار اُس نے اپنے مشہور مقولے میں کر بھی دیا: میں سوچتا ُہوں‘ لہٰذا میں موجود ُہوں! اَور اِسی بنیا د سے اُس نے کائنات کے ُوجود کو ثابت کرنے کی کوشش کی اَور کہا کہ ُوہ کائنات جس کا وجود اِنسانی ذہن کا ر ِہین ِ ّمنت ہے‘ وہ کائنات نہیں جس کا اِدراک ہم اپنے حوا ِس خمسہ سے کرتے ہیں کیونکہ حوا ِس خمسہ ہمیں دھوکا بھی دے سکتے ہیں۔

ڈیکارٹ نے ُخدا کی ہستی کے علاوہ ذہن اَور ما ّدے کے الگ الگ ُوجود بھی تسلیم کیے اَور اُن کے ایک دُوسرے پر اَثرات واضح کرنے کی َسعی بھی کی؛ لیکن بات بن نہ سکی ۔ ڈیکارٹ کے بعدیہودی فلسفی سپائی نوزا) (Spinoza نے (جسے اُس کے عجیب و غریب نظریات کی ِبنا پر یہودیت سے خار ِج کر دیا گیا تھا) ‘ ما ّدے اَور ذہن کو الگ الگ تسلیم کرنے سے اِنکار کر دیا۔

اُس کے مطابق کائنات میں صرف ایک ہی ہستی کا ُوجود تھا؛ ما ّدہ اَور ذہن، محض اُس کی خصوصیات تھیں: ہر چیز ُخدا کی مظہر ہے اَور اُس کی ہستی کے اَندر رہتے ہوئے حرکت کرتی ہے …جو نسبت دائرے کے قانون کو تمام دائروں سے ہے‘ وہی نسبت ُخدا کو اُس کی کائنات سے ہے … سب سے بڑی َ ّمسرت اِس بات میں ہے کہ ذہن اَور کائنات کے اَزلی و اَبدی ملاپ کا علم حا صل کیا جائے! اِن نظریات کی بدولت سپائی نوزا اَپنے ہم عصر فلا ِسفہ سے بہت بلند نظر آتا ہے اَور بعض مقامات پر تو وہ ویدانت اَور تصو ّف کے عظیم نظریات کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے؛ لیکن بنیادی َطور پر ُوہ محض ایک فلسفی ہے جس نے ذہن کی قو ّتوں سے کائنات کے ّمعمے کو حل کرنے کی َسعی کی۔

وہ اپنے احساسات کو کائنات کی لا ُمحدودیت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کرتا… اُس کے نظریات کی تمام تر اَساس فہم و اِدراک پر اُستوار ہے ‘ احساس اَور تجربے پر نہیں۔ بہرحال سپائی نوزا بھی َ ّمسرت کو‘ ہر کاو ِش کی منزل قرار دیتا ہے اَور َ ّمسرت کی توضیح اِس طرح کرتا ہے: یہ ایک کیفیت ہے جو اِنسان کو تکمیل کی طرف بڑھتے ہوئے ُمحسوس ہوتی ہے ۔ اِس کے برعکس جب وہ تکمیل کے کسی مقام سے نیچے گرتا ہے تو اُسے غم ُمحسوس ہوتا ہے ۔

اُس کے مطابق: ہر طبعی رُجحان فرد کی بقا کا ضامن ہے؛ اَور طبعی رُجحان کی تسکین ہو جائے تو فرد ُلطف ُمحسوس کرتا ہے ‘ اور یہ تشنہ َ رہ جائے تو اُسے تکلیف ہوتی ہے ۔ لیکن ہم اَشیا کی خواہش اِس لیے نہیں کرتے کہ ہمیں اُن سے ُلطف حاصل ہوتا ہے :چونکہ ہم اُن کی خواہش کرتے ہیں ‘لہٰذا ُوہ ہمیں َ ّمسرت بہم پہنچاتی ہیں اَور ہم اُن کی خواہش اِس لیے کرتے ہیں کہ ہم مجبور ہیں! لیکن یہ مجبوری کیوں… سپائی نوزا حصو ِل َ ّمسرت کے لیے اِنسان کو طبعی رُجحانات اَور خواہشات سے بلند ہوجانے کی ترغیب دیتا ہے ۔

اُس کے پاس اعلیٰ اِنسان (Superman) کا تصو ّر یہ ہے کہ وہ ہر خواہش سے بلند ہوتے ہوئے ‘خود پر ُپوری طرح سے قاد ِر ہو… صرف ایسی صورت میں وہ صحیح مسرت سے ہم َکنار ہو سکتا ہے ۔ مجموعی طور پر سپائی نوزا نے بیکن اَور ڈیکارٹ کے نظریات کو وسعت بخش کر ‘ تمام کائنات کو ریاضی کے اَزلی و اَبدی قوانین کا ایک نمونہ ثابت کیا اَور اُسے سمجھنے کے لیے علم و خرد کا دامن تھام لینے کی نمایاں َطور پر ترغیب دی۔

سپائی نوزا کے بعد والٹیر‘ لاک (Locke)‘ ہابز (Hobbes) اور دُوسرے فلا ِسفہ نے خرد کی روشنی کو تیز کرنے کی کوششیں جاری رکھیں اَورما ّدہ پرستی پروان چڑھتی رہی ۔ ہر چند کہ جان لاک نے اِس عام سطح سے ذرا بلند ہونے کی کوشش کی اَور خرد کے وسیلے کو زیر ِ بحث لا کر‘ فلسفے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اِضافہ کر دیا: تاہم مجموعی طور پر ما ّدہ پرستی کا عا َلم قائم رہا۔

لاک نے اِنسانی ذہن کو ایک سپید کاغذ سے تشبیہ ‘دی جس پر تجربات اَثر اَنداز ہوتے ہیں‘ حسیات کے نقوش اُبھرتے ہیں‘ قو ّت ِ یادداشت بیدار ہوتی ہے اَور خیالات معر ِض ُوجود میں آنے لگتے ہیں: ہمارا علم صرف ہمارے حوا ِس خمسہ کا مر ُہو ن ہے ۔ چونکہ صرف ما ّدی اَشیا ہی حوا ِس خمسہ پر اَثر اَنداز ہو کر‘ ہمارے ذہن کی تشکیل میں مدد بہم پہنچاتی ہیں‘ لہٰذا کائنات میں ِسوائے ما ّدے کے اَور کسی چیز کا ُوجود نہیں۔

لیکن یہ غلط ہے! …پادری برکلے بے اِختیار پکار اُٹھا: اِس سے یہ کہاں ثابت ُہوا کہ ز ِندگی ما ّدے کے ِسوا اَور کچھ نہیں۔ اِس سے تو یہ ثابت ُہوا کہ ما ّدے کا علم ہمارے حوا ِس خمسہ کا ر ِہین ِ ّمنت ہے‘ لہٰذا اگر ما ّدے کا ُوجود ہے تو صرف ہمارے ذہن میں ہے ۔ برکلے کی منطق بڑی غیر معمولی تھی: اُس نے تمام کائنات کو ُخدا کے ذہن میں ایک ”خیال“ قرار دیتے ہوئے‘ ما ّدہ پرستی پر کاری ضرب لگانے کی َسعی کی ۔

لیکن ڈیوڈ ہیوم (David Hume)نے صرف چھبیس۲۶ برس کی ُعمر میں برکلے کے سارے فلسفے کو ایک ہی وار میں مٹا کر رکھ دیا۔ اُس نے کہا: ذہن تو محض نام ہے خیالات کے تسلسل کا ۔ ہمارا مشاہدہ ‘ یادداشت اَور احسا س‘ ہمارے ذہن میں نہیں‘ یہ خود ہمارا ذہن ہیں۔ خیالات کے ِپس ُپشت رُوح کا ُوجود مضحکہ خیز ہے ۔ نتیجہ یہ ُہوا کہ جس طرح برکلے نے ما ّدے کے ُوجود کو ختم کر دیا تھا ‘ اُسی طرح ہیوم نے ذہن کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا‘ اَورمغربی فلسفے کا ُوہ قصر‘ جسے بیکن اَور ڈیکارٹ نے مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا تھا‘ َہوا میں ّمعلق ہو کر َرہ گیا ۔

یہاں پہنچ کر مغربی ذہن نے ایک نمایاں کر َوٹ لی اَور فلسفے کے اُفق پر ایک دُبلے پتلے فرانسیسی فلسفی کے نقوش واضح ہونا شروع ہو گئے … یہ جین جیکوئز روسو (Jean Jacques Ruusseau) تھا جوما ّدہ پرستی اَور عقل و منطق کے ّتسلط کے خلاف رد ّ ِ عمل کی علامت تھا۔ اُس کی دانست میں ہر شے کو محض عقل و منطق کی ترازو پر تول کر اُس کی ماہیت پر حکم لگانا درست نہیں تھاکہ ز ِندگی میں ایسے لاینحل اَورمشکل مسائل بھی ہیں جنھیں اِنسان کے طبعی رُجحانات اَور اُس کے جذبات و احساسات کی غیر شعوری قو ّتیں ہی حل کر سکتی ہیں۔

روسو نے دُنیا کو صاف اَور واضح الفاظ میں بتا دیا کہ: محض عقل و منطق پر ہر لحظہ بڑھتا ُہوا اِعتماد درست نہیں :اِس کے مقابل اِنسان کا فرض یہ ہے کہ وہ دل کی دُنیا کو وسعت بخشنے کی کوشش کرے ۔ روسو کے مطابق: اگرچہ عقلی َطور پر ُخدا کے ُوجود کو تسلیم کرنا مشکل ہے لیکن چونکہ ہمارا د ِل ُخدا کے ُوجود کا ُپوری طرح قائل ہے؛ لہٰذا کیوں نہ اِنسانی عقل کے مقابل ‘ اِنسان کے احساس و جذبے پر ِیقین کامل رکھتے ہوئے‘ ُخدا کے ُوجود کو تسلیم کر لیا جائے ! روسو نے جب اپنے اِنقلابی خیالات کی کتاب‘ جس کے مطابق اِنسان کو چاہیے کہ وہ اپنے طبعی رُجحانات کی دُنیا کو َلوٹ جائے‘ بوڑھے والٹیر کی خدمت میں بھیجی تواُس نے جواب میں لکھا: جناب ِ من ! حضرت ِ اِنسان کے خلاف لکھی ُہوئی آپ کی کتاب مجھے ملی، شکریہ ! آپ نے بڑے سلیقے سے ہمیں َحیوانوں کے ُ زمرے میں شامل ہو جانے کی دعوت دی ہے ۔

آپ کی کتاب پڑھ کر جی چاہتا ہے کہ فوراً پنجوں کے َبل چلنا شروع کر دیا جائے ۔ لیکن افسوس کہ پچھلے ساٹھ۶۰ برس سے صرف ٹانگیں اِستعمال کر رہا ُہوں۔ اَب اِس پیرانہ سالی میں بچپن کی عادات کیسے قبول کر سکتا ُہوں! لیکن جرمن فلسفی کانٹ (Kant)تک جب روسو کی نئی کتاب پہنچی تو اُسے اپنی روزانہ چہل قدمی کا بھی خیال نہ رہا اَور اُس نے ایک ہی نشست میں ساری کتاب پڑھ ڈالی۔

کانٹ کے لیے یہ ایک نیا احساسی تجربہ تھا کہ دُنیا کے کسی گوشے میں کوئی اَور د ِل بھی اُسی کے د ِل کی تال پر دھڑک رہا تھا۔ چنانچہ کانٹ کے فلسفے نے روسو کے خیالات سے ایک نئی تحریک حا ِصل کی۔ سب سے پہلے تو کانٹ نے اِس بات سے اِنکار کیا کہ ہمارا ذہن محض موم کی ایک تختی ہے جس پر حسیات و تجربات اپنے نقوش اُبھارتے ہیں: علم محض حسیات و تجربات کا ر ِہین ِ ّمنت نہیں‘ یہ اُن سے ماورا بھی ہے ۔

کانٹ نے اِنسانی ذہن کو اُس جرنیل سے تشبیہ ‘دی ہے جو َ میدا ِن جنگ میں کھڑا ہو‘ اَور حسیات و تجربات کی بے ترتیب َلہروں کو ُوہ پیغامات کہا جو َ میدا ِن جنگ کے مختلفِ ّحصوں سے اُس تک پہنچ رہے ہوں…یہ پیغامات اَز خود ہی جرنیل کے آ ِخری حکم کی صورت اِختیار نہیں کر جاتے؛ واقعہ یہ ہے کہ جرنیل اِن اُلجھے ہوئے پیغامات کو سلجھا کر ایک نتیجے پر پہنچتا ہے اَورآ خری حکم جاری کرتا ہے ۔

پس کانٹ کے مطابق: حسیات و تجربات کو سلجھانا‘ ہمارے ذہن کی ایک ”مخفی قو ّت“ کا کرشمہ ہے اَوریہ اُس قو ّت کا ایک نمایاں مقصد (Purpose of Mind)ہے جو کائنات کو تنظیم سے ہم َکنار کر تا ہے‘ ورنہ کائنات کی اَشیا کا اَز خود ایک سلسلہ ٴ تنظیم میں منسلک ہو جانا، محل ّ ِ نظر ہے ۔ مختصر اَلفاظ میں کانٹ کے فلسفے کا ُلب ّ ِ لباب یہ ہے کہ ہمارا ذہن محض ہماری حسیات کا مر ُہون نہیں‘ یہ تو ایک ایسی طاقت ہے جو حسیات و تجربات کو سلجھانے اَور منظم کرنے میں ممد ثابت ہوتی ہے ۔

کانٹ نے ذہن کی اِس ”مخفی قو ّت“ کو بڑی اَہمیت دی ہے ۔ ُوہ اُن اَعمال کو نیک متصو ّر نہیں کرتا جو واقعةً اچھے ہوتے ہیں‘ وہ صرف اُنھیں اچھا سمجھتا ہے جن کے لیے ہمارا ضمیر ہمیں اُبھارتا ہے ۔ اُس کے مطابق دُنیا میں بہترین بات یہی ہے کہ ضمیر کی آواز پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جائے ۔ اُس نے شخصی یا ذاتی َ ّمسرت کو ثانوی حیثیت دی ہے اَور کہا ہے کہ فرد کو چاہیے کہ وہ دُوسروں کی َ ّمسرت کو پیش نظر رکھے۔

لیکن جہاں تک اُس کی اپنی ذات کا تعلق ہے ‘ اُس کے ِپیش نظر صرف اپنی تکمیل اَور اِرتقا ہے ‘ چاہے اِس عمل سے اُسے َ ّمسرت اَرزانی ہو یا نہ ہو۔ مسرت کے اِس سوال پر کانٹ کے ہم عصر جے بینتھم (J. Benthem) کا نظریہ بھی قا ِبل فکر ہے۔ بینتھم کے مطابق اِجتماعی َ ّمسرت‘ ہر حال میں ّمقدم ہے اَور اَعمال کا نیک یا بد ہونا صرف اِس بات پر منحصر ہے کہ ُ وہ کہاں تک کم یا زیادہ َ ّمسرت َپیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ تھیوری اخلاق اَور انصاف پر ایک کاری ضرب کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ اَعمال کا منتہا صرف زیادہ سے زیادہ َ ّمسرت کا حصول نہیں ہوتا‘ وہ بعض دیگر اَقدار کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ مثال کے َطور پر ایک شخص‘ جس کے پاس آپ کی کچھ رقم بطور ِ اَمانت پڑی ہے‘ آپ کو واپس کرنے سے اِنکار کر دے اَور یہ َکہ کر اُسے لوگوں میں تقسیم کر دے کہ اِس سے اِجتماعی َ ّمسرت میں اضافہ ہو گا …اِس سے ُسوسائٹی کی بنیادوں کے متزلزل ہو جانے کا خطرہ ہے ۔

مسرت کے اِس سوال کو جان سٹوارٹ مل (John Stuart Mill) نے بھی حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اُس کی دانست میں صرف زیادہ سے زیادہ َ ّمسرت کا حصول اِنسانی اَعمال کامنتہا نہیں ہونا چاہیے۔ اِس کے بجائے اِنسان کا فرض یہ ہے کہ ُوہ چاہے کم َ ّمسرت حا ِصل کر لے لیکن اِس َ ّمسرت کا معیار خا ّصا بلند ہو۔ مجموعی َطورپر کانٹ نے خرد پر اِعتراض کر کے اَور احساس کو اَہمیت دے کر‘ وہ راستہ صاف کر دیا جس پر ہیگل اَور شوپن ہار ‘اَور نطشے اَور برگساں نے سفر کر کے‘ فلسفے کی نئی نئی پگڈنڈیاں دریافت کیں۔

اِن میں سے ہیگل Hegel) (تحرک اَور حرکت کا َعلم بردار تھا ۔ اُس کی دانست میں کشمکش ہی اِرتقا کے مختلف مدار ِج کی ضامن تھی اَور ز ِندگی کا منتہا َ ّمسرت نہیں‘ تحصیل اَور فتح Achievement) (تھا: دُنیا کی تاریخ اِس بات کی شاہد ہے کہ َ ّمسرت ‘ امن اَور خوشحالی کے اَدوار‘ تاریخی اعتبار سے جمود کے اَدوار ہیں اَور یہ چیز اِنسان کی شان کے منافی ہے ۔

ہیگل مزید کہتا ہے: تضاد اَور تفریق ہر جگہ نمایاں ہے اَور اِنسانی ذہن اَور فلسفے کا کام اِس تضاد اَور تفریق کے ِپس ُپشت تنظیم اَور ایکتا کی دریافت ہے۔ اِسی طرح مذہب کا کام یہ ہے کہ ُوہ اُس ُکل کا احساس و اِدراک کرے جس میں تضاد اَور تفریق کے تمام مظاہر متحد ہو کر ایک ہو جاتے ہیں اَور ذہن و ما ّدہ‘ فاعل و مفعول اَور نیک و بد میں قطعاً کوئی فرق باقی نہیں َرہ جاتا۔

جیسا کہ میں نے پہلے لکھا‘ روسو کے ساتھ فلسفے کا ُوہ َدور شروع ہو گیا تھا جس میں خرد کے مقابل احساس کو زیادہ وقعت مل رہی تھی … اِس سلسلے میں کانٹ نے ذہن کی ”مخفی قو ّت“ کا نام لیا تھا جو ذہنی اِستدلال سے ماورا تھی اَور جوحسیات و تجربات کو اَز خود سلجھاتے اَور منظم کرتے چلی جاتی تھی۔ اِس کے بعد اگلا قدم شوپن ہار (Schopenhauer) نے اُٹھایا جب اُس نے اِس بات کا اِظہار کیا: ہم کسی چیز کی خواہش اِس لیے نہیں کرتے کہ اِس خواہش کے جواز میں چند دلائل پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں: ہم چونکہ کسی چیز کی خواہش کرتے ہیں ‘لہٰذا اِس خواہش کے جواز میں پہلے خود ہی دلائل َپیدا کر لیتے ہیں۔

بڑی چیز ُوہ خواہش ہے جسے شوپن ہار نے خوا ِہش مجہول (Un-conscious Will) کا نام دیا ہے اَور جو سارے اِنسانی افعال و اعمال کے ِپس ُپشت َسرگرم ہے۔اُس کے خیال میں اِنسانی اعمال‘ اِنسان کے ذہن کے نہیں‘ د ِل کے تابع ہیں۔ اِنسان کیا ہے… خواہش کا آلہ ٴ کار… وہ خواہش جس کی کبھی تسکین نہیں ہو سکی…جب تک ُوہ خواہش کے اِشاروں پر ناچتا رہے گا‘ اُسے کبھی اَبدی َ ّمسرت حا ِصل نہیں ہو سکے گی ۔

اِنسان کا یہ خیال غلط ہے کہ خواہش کی تسکین سے اُسے َ ّمسرت حا ِصل ہو جائے گی…یہ اِس لیے کہ ہر خواہش در اصل سینکڑوں دُوسری خواہشات کو کروٹ دیتے چلے جاتی ہے ۔ مجموعی طور پر اِنسانی خواہش ‘ایک پیاسی خواہش ہے جو کبھی سیراب نہیں ہوئی۔ شوپن ہار نے َ ّمسرت کو منفی قرار دیا ہے ۔ اُس کی دانست میں َ ّمسرت، غم کے فقدان کا نام ہے‘ اَور اصل چیز غم ہے جو مثبت ہے اَور جو اِنسانی اِرتقا کے ساتھ ساتھ واضح ہوتے چلا جاتا ہے ۔

لہٰذا کوئی شخص جتنا حساس ہو گا‘ اُتنا ہی غم کا اَور اُس کا چولی دامن کاساتھ ہوجائے گا:” وہ جو علم میں اِضافہ کرتا ہے‘ دراصل غم میں اِضافہ کرتا ہے ۔“دُنیا کی کوئی چیز اِس قابل نہیں کہ اُسے حاصل کرنے کے لیے تگ و َدو کی جائے۔ یہاں ہر چیز فضول ہے ‘ بے کار اَور بے مصرف ہے… محبت ‘ ر ِفاقت‘ وطن پرستی سب کچھ فریب ہے ۔ صرف ُوہی شخص یہاں خوش َرہ سکتا ہے جو نوجوان کی طرح جاہل ہو … نوجوان سمجھتا ہے کہ خواہش کرتے چلے جانا ہی َ ّمسرت ہے: وہ نہیں جانتا کہ خواہش کے خاتمے پر حقیقت کا آسیب بھی رہتا ہے ‘ اُسے ابھی شکست کا احساس نہیں ہوا۔

شوپن ہار کے مطابق: خود کشی ہی اِنسان کا آخری سہارا ہے … ُیوں اِنسان کی ذہنی قو ّتوں کو اُس کے طبعی رُجحان پر فتح حاصل ہوتی ہے؛ لیکن یہ فتح اِنفرادی نو ّعیت کی ہے اَور فرد کی َموت کے بعد بھی دُوسرے اَفراد میں زندہ رہنے کی خواہش متحرک رہتی ہے ۔ بقو ِل شوپن ہار: ز ِندگی کے مصائب پر ‘کبھی ُپوری فتح حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ خواہش کو ذہنی قو ّتوں کے تابع نہ کر دیا جائے۔

البتہ شوپن ہار نے آرٹ کو بہت سراہا ہے اَور کہا ہے: آرٹ ہمیں اِنفرادیت سے بلند کر کے اَور ما ّدی اَور جسمانی خواہشات سے اُوپر اُٹھا کر ‘ ّ سچائی کی دریافت کی طرف مائل کرتا ہے۔ آرٹ اَور سائنس میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ سائنس ما ّدی حقائق سے منزل کی طرف بڑھتی ہے ‘ اَورآرٹ ایک ہی َجست میں منزل پر جاپہنچتا ہے ۔ چنانچہ سائنس کے لیے ایک اعلیٰ دماغ بھی کام دے سکتا ہے مگر آرٹ کے لیے خالص نابغہ ہستی (Genius) کی ضرورت ہوتی ہے ۔

آرٹ ّتغیر اَور اِنتشار کے ِپس ُپشت اَبدیت کی جھلک د ِکھا کر‘ ہمیں مکروہات ِ ِدُنیا سے آزاد کرتا ہے اَور ُیوں ہماری َ ّمسرت کا ایک بہت قریبی رفیق ثابت ہوتا ہے ۔ مجموعی طور پر شوپن ہار نے خواہش کو آلام و مصائب کا ِمنبع اعظم قرار دیا اَور اِس سے آزادی حا ِصل کرنے کو اِنسان کا سب سے بڑا کارنامہ تسلیم کیا۔ اُسے ُبدھ اِزم سے بڑا لگاؤ تھا اَور وہ ِنروان یعنی خواہشات کے خاتمے کو بڑی اَہمیت دیتا تھا۔

شوپن ہار کا فلسفہ ایک نیوراتی اِنسا ن کا فلسفہ ہے ۔ ویسے بھی شوپن ہار کی ز ِندگی شروع سے آخر تک تنہائی سے ہم آہنگ رہی۔ اُس کی ماں نے اُس سے نفرت کی‘ رد ّ ِ عمل کے طور پر اُس نے عورت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا ۔ اُس کی کوئی بیوی نہ تھی؛ کوئی ّبچہ نہ تھا؛ کوئی دوست ‘ رفیق یا غم گسار نہ تھا؛ کوئی وطن یا ملک نہ تھا۔ وہ اَزل اَور اَبد کے مابین ایک ُٹنڈ ُمنڈ درخت کی طرح اکیلا کھڑا تھا۔

زندگی نے اُسے کچھ نہ دیا اَور اُس نے ز ِندگی کے تمام رنگین پردے چاک کر ڈالے اَور لوگوں کے سامنے دُنیا کی ایسی گھناؤنی اَور ُمکروہ صورت پیش کی کہ د ِل والوں نے آنکھیں بند کر لیں… تو یہ تھا شوپن ہار … ز ِندگی کا ز ِیرک نا ِظر لیکن بھٹکا ُہوا، ٹھکرایا ُہوا راہی! شوپن ہار کہنے کو تو َمر گیا لیکن اُس کا اَزلی و اَبدی غم کبھی نہ َمر سکا۔

اُس نے ز ِندگی کی جو بھیانک تصویر پیش کی‘ وہ کبھی ِمٹ نہ سکی۔ بعد اَزاں جس کسی نے بھی اُس کے زاویے سے حیات کا نظارہ کیا‘ اُس کے ُمنہ ‘سے ایک د ِل دوز چیخ ضرور نکل گئی اَور ُوہ پھر کبھی ُپوری طرح سنبھل نہ سکا۔ نطشے (Nietzche)‘ وہ ”مجذوب فرنگی“ جسے اقبال بیسویں صدی میں ”مقا ِم کبریا“ د ِکھانا چاہتا تھا ‘ غالباً پہلا شخص تھا جو شوپن ہار کے فلسفے سے شدید طور پر متاثر ُہوا۔

اگرچہ اُس نے جلد ہی اپنے لیے ایک نئی شاہراہ دریافت کر لی ؛ لیکن وہ غم جو ایک بار اُس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر گیا تھا‘ پھر کبھی اُس سے ُجدا نہ ہو سکا۔ نطشے پر آخر دم تک غم کے دُھندلکے چھائے رہے۔ لیکن نطشے کا فلسفہ محض شوپن ہار کے خیالات کا چربہ نہیں تھا۔ ایک عرصے سے ُوہ مواد اِکٹھا ہو رہا تھا جسے ایک روز‘ وسوویس کی چوٹی سے پھٹ کر َبہ ‘نکلنا تھا: اِس مواد کی تعمیر میں کانٹ کی ”ذہن کی مخفی قو ّت“ ،ہیگل کے ”تحرک اَور اِنقلاب“، شوپن ہار کی ”غیر شعوری خواہش“ اَور ڈار ون کی ”جہد للبقا اور بقائے بہترین“ نے نمایاں طور پر ِ ّحصہ لیا تھا اَور اَب یہ تمام نظریے نطشے کے دماغ میں غیر شعوری طور سے ایک نئے فلسفہ ٴ حیات کی صورت اِختیار کر رہے تھے جبکہ وہ خود ز ِندگی کے ہنگاموں سے بہت دُور کوہ ِ الپس کی بلندیوں پر بیٹھا تھا۔

اَور پھر یکایک آتش فشاں کا دہانہ پھٹ پڑا اَور نطشے کی زبان سے شا ِعری اَور فلسفے کا ٹھاٹھیں مارتا ُہوا سمندر َبہ ‘نکلا۔ کتاب مکمل ہو گئی : خود نطشے بھی جانتا تھا کہ یہ اُس کی ز ِندگی کا شاہکار تھا۔ اِس کے بعد اُسے جو کچھ بھی لکھنا تھا ‘ وہ محض اُس کتاب کا ضمیمہ ثابت ہونے والا تھا۔ لیکن جب یہ کتاب چھپ کر منظر ِ عام پر آئی تو اِس کے صرف پینتالیس ۴۵ نسخے ِبک سکے۔

سات۷ نسخے تحفةًبھیجے گئے۔ صرف ایک شخص نے کتاب کی رسید سے مطلع کیا۔ کسی نے تعریف کا ایک لفظ تک ُمنہ ‘سے نہ نکالا۔ نطشے کے مطابق: مسرت پر ہم اِنسانوں کا کوئی حق نہیں… یہ صرف اعلیٰ اِنسان(Superman )ہی کو اَرزانی ہو سکتی ہے ۔ ہمارا کام فقط اِس قدر ہے کہ کام کرتے چلے جائیں اَور یا تو خود اعلیٰ اِنسان بن جائیں‘ یا اعلیٰ اِنسان کے غلام بن کر اُس کے اِشاروں پر ناچتے رہیں۔

نطشے کا اعلیٰ اِنسان قو ّت‘ جواں َمردی اَور خودداری کا مظہر ہے ۔ چونکہ اِن خصوصیات کا اِرتقا جنگ اَور اِنقلاب کا طالب ہے‘اِس لیے اعلیٰ اِنسان کی تخلیق کے لیے وہ جنگ کو بھی قا ِبل تحسین چیز سمجھتے ہوئے کہتا ہے کہ سب سے بڑی خصوصیت بہادری ہے؛ اِس لیے ہر وہ چیز جو احسا ِس قو ّت کو بڑھاتی ہے‘ اچھی ہے ! نطشے کی دانست میں اِجتماعی َ ّمسرت ‘ اِجتماعی اِرتقا بے معنی چیزیں ہیں بلکہ وہ تو یہاں تک کہتا ہے کہ: اِنسان کا تصو ّر بذات ِ خود مضحکہ خیز ہے ۔

ز ِندگی افراد کا نام ہے اَور ہر فرد اَپنی ایک الگ شخصیت رکھتا ہے ۔ اِنسانی مساعی کا کام یہ نہیں کہ اِجتماعی َ ّمسرت میں اِضافہ ہو‘ اِن مساعی کا کام یہ ہے کہ فرد کا معیار بلند کیا جائے۔ وہ ّمحبت کی شادی کو تحقیر کی نظر سے دیکھتا ہے اَور کہتا ہے کہ شادی صرف ”بہترین“ کے مابین ہونی چاہیے۔ نطشے ُبرائی اَور بے رحمی کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔

ُوہ کہتا ہے: اِن چیزوں کا ُوجود ہی اِس بات پر دال ہے کہ یہ اِنسان کے لیے اَز بس ضروری ہیں… اِس لیے بھی کہ اِنسان اِن سے بے اَندازہ َ ّمسرت حا ِصل کرتا ہے ۔ اِنسان کا ِشکار‘ قتل ‘ ٹریجڈی اَور بے رحمی کے دیگر مظاہر سے َ ّمسرت حاصل کرنا ،نطشے کے اِس رُجحان کی کافی غمازی کرتا ہے ۔ نطشے نے قو ّت‘ بے خوفی اَور جرأت کی جس طرح پرستش کی ہے اَور اعلیٰ اِنسان کا جو تصو ّر پیش کیا ہے ‘اُس سے معاًخیال َپیدا ہوتا ہے کہ اقبال کا مرد ِ مومن بھی قریب قریب اِنھِیں خصوصیات کا حامل ہے… کیا یہ تو نہیں کہ اقبال اِس سلسلے میں نطشے سے متاثر ہو گیا ہو ! میری دانست میں اِس کا جواب ”ہاں“ بھی ہے اَور ”نہیں“ بھی ۔

”ہاں“ اِس لیے کہ بنیادی طور پر نطشے کے اعلیٰ اِنسان اَور اقبال کے مرد ِ مومن میں بہت کم فرق ہے؛ دونوں خودداری ‘ جرأت اَورطاقت کے دیوتا ہیں اَور دونوں کا کام افراد کو قعر ِ َ مذ ّلت سے اُٹھا کر با ِم ثریا تک پہنچانا ہے۔ اَور”نہیں“ اِس لیے کہ نطشے کا اعلیٰ اِنسان بہت سی باتوں میں اقبال کے مرد ِمومن سے کمتر ہے ۔ مثلاً نطشے کا اعلیٰ اِنسان طاقت اَور جرأت کا تومظہر ہے لیکن اُس میں ُوہ قلندرانہ اَور فقیرانہ شان نہیں جو اقبال کے مرد ِ مومن کو اَرزانی ہوئی ہے : اَور نہ ہی اُس کا ذہنی اُفق اِتنا وسیع ہے اَورنہ ہی اَس کی رُوحانی عظمت اِتنی واضح ہے ۔

نطشے کے ِپیش نظر ما ّدی اِرتقا ہے۔ اقبال کے پاس شاہین کا تصو ّر ہے جو پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرتا ہے اَور جس کے لیے کار ِ آشیاں بند ی‘ ذ ِ ّلت کے ِسوا کچھ نہیں۔ پھر جہاں اقبال نطشے کا ہم َنوا ہو کر کہتا ہے : خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد اَور جوش کردار سے تیمور کا سیل ہمہ گیر سیل کے سامنے کیا شے ہے نشیب اَور فراز وہاں وہ یہ َکہ ‘کر نطشے سے بلند بھی ہو جاتا ہے : خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری اِبتدا کیا ہے کہ میں اِس فکر میں رہتا ہوں‘ میری اِنتہا کیا ہے خودی کوکر بلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے: بتا‘ تیری رضا کیا ہے! نطشے اَور اُنیسویں صدی کا ساتھ آخری دم تک رہا۔

اِدھر اُنیسویں صدی نے بیسویں صدی میں قدم رکھا‘ اُدھر نطشے عا ِلم جاودانی کو َسدھا ر گیا۔ لیکن نطشے اُنیسویں صدی کے مقبول نظریات کا َعلم بردار نہیں تھا۔ اُنیسویں صدی کا زمانہ‘ دراصل ز ِندگی کے ٹھوس ما ّدی نظریات کا زمانہ تھا ۔ ڈارون نے غیر اِرادی َطور پر اَور سپنسر (Spencer)نے اِرادةً تمام کائنات کو ما ّدے کی ایسی مشین میں تبدیل کر دیا تھا جہاں ہر حرکت کے ِپس ُپشت ایک واضح تحریک موجود تھی اَور جہاں کوئی چیز بھی میکانکی عمل سے آزاد یا ماورا نہیں تھی۔

سماجی ز ِندگی میں بھی یہ زمانہ‘ سائنس اَور مشین کے طفیل ‘ایک نئے نظا ِم حیات کا زمانہ تھا جس میں صنعتی ترقی نے قدم جمانا شروع کر دیے تھے ‘ اَور ایک نیا ذہنی اَور اِقتصادی ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن مجموعی َطور پر ما ّدہ پرستی نے جلد ہی اِنسان کو فنا‘ تہی دستی اَور کم مائیگی کا احسا س د ِلانا شروع کر دیا اَور اُس پر روز بروز واضح ہوتا گیا کہ ُوہ تو محض مشین کا ایک ُپرزہ ہے اَور مشین سے َہٹ کر اُس کی اپنی ہستی ‘نہ ہونے کے برابر ہے ۔

احسا ِس َبقا کا ُیوں بے دردی سے ِچھن جانا‘ اِنسانی مسرت کے لیے ایک رُوح فرسا حاد ِثہ تھا۔ ایسے میں برگساں (Bergson) نے اِنسان کو ما ّدے کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے اپنی مساعی کا آغاز کر دیا اَور فلسفے کی تاریخ میں قریب قریب ُوہی کام انجام دیا جو والٹیر کے زمانے میں کانٹ نے انجام دیا تھا؛ یعنی محض ذہن کی دسترس سے اِنسانیت کو آزاد کروانے کی کوشش ! برگساں کی دانست میں ز ِندگی حرکت اَور تحرک کا دُوسرا نام ہے اَوراِس کے مقابل ما ّدہ جمود ‘ بے حسی اَور َموت کا َعلم بردار ہے اَور ہر قدم پر ز ِندگی کی پروا ز کو روکنے کی کوشش کرتا ہے… تاہم زندگی ہار نہیں مانتی۔

اگرچہ اُس کے بہت سے سپاہی اِس معرکے میں کھیت ہوجاتے ہیں ‘مگر ُوہ پھر بھی دندناتے‘ گونجتے اَور چنگھاڑتے ہوئے‘ بڑھتے چلے جاتی ہے۔ آغاز ِ حیات میں ز ِندگی ما ّدے کی طرح بے ِحس تھی اَور اِسی طویل جمود اَور بے ِحسی میں اُسے سکون ّمیسر تھا ۔ بعد اَزاں طبعی رُجحانات کا سہارا لے کر ز ِندگی ایک نئی راہ پر روانہ ہو گئی اَور شہد کی مکھیوں کی سی تنظیم میں اُسے سکو ِن قلب حا ِصل ہونے لگا؛لیکن اُسے قرار کہاں ؟ جلد ہی ز ِندگی نے طبعی رُجحانات کا لباس اُتار پھینکااَور اُس نے تخیل کی آزادہ َروی سے َ ّمسرت حا ِصل کرنا شروع کر دی… یہ ز ِندگی کا اِرتقا تھا… طبعی رُجحانات اَب بھی موجود تھے اَور اُس کی َ ّمسرت کے ضامن بھی تھے لیکن فہم و تخیل کے طفیل ز ِندگی کا اُفق بتدریج وسیع سے وسیع تر ہونے لگا۔

آج ہمارے سب اِقدامات ‘ ہماری طویل مساعی ‘ ہماری اُمیدیں اَور اِرادے‘ اُس تحرک اَور قو ّت کی بدولت ہیں جو ز ِندگی کی صور ت ہماری رگ رگ میں بر ِق تپاں کی طرح َدوڑ رہی ہے اَور جس نے اِس زمین کو بھی تحرک سے ہم َکنار کر دیا ہے ۔ اَور کیا خبر کہ کسی روز ز ِندگی کو چپکے سے اَپنے دیرینہ دشمن یعنی ما ّدے پر ‘جو ہمارے مسلسل کرب و اَلم‘ ہماری فنا اَور تہی دستی کا موجب ہے‘ ایک زبردست فتح حا ِصل ہو جائے! چاہیے تو یہ تھا کہ اُنیسویں َصدی کا ما ّدی نظریہ ٴ حیات‘ سائنس کی روز افزوں ترقی کے طفیل‘ بیسویں َصدی میں اپنی گرفت کو اَور بھی مضبوط کر لیتا ؛لیکن ُہوا یہ کہ جتنا ما ّدے کا عمیق تجزیاتی مطالعہ ہوا ‘ اُتنا ہی ما ّدے کی اُنیسویں َصدی کی توضیح میں نمایاں اِنقلاب آتے چلا گیا ۔

چنانچہ آئن سٹائن ‘ سر جینز ایچ لیوی‘ سر اڈنگٹن اَور دُوسرے سائنس دانوں نے ما ّدے کی قلیل تریں صورت یعنی ذ ّرے (Atom) کو بہت جلد ٹھوس صور ت سے محرو م کر کے ‘ ایک سرابی کیفیت کا مظہر تسلیم کر لیا اَور اِسی حقیقت کو بنیاد قرار دے کر‘ما ّدے کی ساری کائنات کو‘ جس کا ہم اپنے حوا ِس خمسہ سے اِدراک کرتے ہیں‘ غیرحقیقی قرار دے دیا۔ تاہم اِن سائنس دانوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اِس غیر حقیقی دُنیا کے ِپس ُپشت ”کچھ اَور“ بھی ہے کہ جس کا یہ عکس ہے۔

یہ ”کچھ اَور“ کیا ہے … سائنس اِس کا جواب دینے سے قا ِصر ہے؛ لیکن قیاس اَغلب ہے کہ جس طرح سائنس ُحسن اَور مزاح کے متعلق کچھ بتانے سے معذور ہے ‘ اُسی طرح اِس کی گرفت میں یہ ”کچھ اَور“ بھی نہیں آ سکتا۔ چنانچہ خیال ہے کہ ُ وہ قو ّت کہ جس سے ہم ُحسن اَور مزاح کا اِدراک کرتے ہیں‘ اُس سے ملتی جلتی قو ّت ہی سے کائنات کا اِدراک ممکن ہے ۔ بیسویں صدی کے فلسفیاتی نظریات جہاں ایک طرف سائنس کی ترقی سے متاثر ہوئے ‘ وہاں دُوسری طرف حیاتیات اَور نفسیات کی جدید تریں تحقیقات نے بھی اُن پر بڑے واضح اَثرات ُمرتسم کیے۔

حیاتیات نے یہ مسئلہ پیش کیا کہ سماجی اَور ذہنی اِرتقا ایک ایسی زنجیر ہے جس کی ہر کڑی ”نسل“ نے ّمہیا کی ہے ۔ چنانچہ نسل کی حا ِصل کی ُہوئی خصوصیات طبعاً اَور فطرتاً اگلی نسل میں منتقل ہوتے چلے آئی ہیں۔ نتیجہ اِس کا یہ نکلا ہے کہ آج بیسویں َصدی کا عام اِنسان پندرھویں َصدی کے عام اِنسان سے ذہنی اَور سماجی َطور پر کافی بلند ہے اَور علمی مسائل کو نسبتاً قلیل وقت میں سمجھ لیتا ہے ۔

اِسی طرح حیاتیات کے مطابق َ ّمسرت ایک اِرتقائی کیفیت ہے اَور یہ اِنسانی اِرتقا کے ساتھ ساتھ واضح ہوتے چلے گئی ہے۔ لہٰذا آج کا اِنسان‘ اگلے زمانے کے اِنسان کی بہ نسبت فطرتاً زیادہ َ ّمسرت حا ِصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے… اِس لیے کہ َ ّمسرت ایک ذہنی کیفیت ہے اَور جدید اِنسان اگلے زمانے کے اِنسان سے ذہنی َطور پر کافی بلند ہے ۔ موجود ہ سائنس نے کائنات کو ُپراَسرار متصو ّر کر کے‘ اِس کی حقیقت کو چیلنج کیا ہے اَور ُیوں اِنسانی ذہن کو ایک عجیب قسم کی اُلجھن کے سپرد کر دیا ہے ۔

علاوہ اَزیں سائنس نے اپنی اِنقلاب انگیز اِیجادات کے ذریعے ز ِندگی کو ہنگامہ پرور بنا کر‘ اِنسانی ذہن کو بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ُپرانے ماحول سے ِکنارہ کش ہونے اَور نئے ماحول کے ساتھ ہم آہنگی َپیدا کرنے کی طرف راغب کر دیا ہے اَور یوں ذہن اَورماحول میں توازن کی ایک زبردست کمی َپیدا کر کے جدید اِنسان کو ذہنی اِنتشار میں مبتلا کردیا ہے ۔

دُوسری طرف حیاتیات نے ز ِندگی کو ایک نمایاں ضابطہ (Pattern) ّمہیا کیا ہے اَور مسرت کی آئندہ ممکنات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ لیکن نفسیات نے پلٹ کر اِنسانی ذہن پر حملہ کیا ہے اَور اِنسان کے بیشتر اِقدامات اُس کے مذہبی‘ سیاسی اَور سماجی نظریات کو لاشعور کی ُپراَسرار تحریکات کے تابع کر دیا ہے ۔ نفسیات کی خوردبین کے نیچے اِنسان آج ننگا ہو گیا ہے اَور اُس کی حاصل کی ہوئی ساری شخصیت اَور اِرتقا محض تند و تیز لاشعوری خواہشات کے دباؤ کا نتیجہ قرار پایا ہے ۔

نفسیات نے اِنسانی فہم کو اُس آلے کی حیثیت دے دی ہے کہ خواہش جسے اپنا اُ ّلو سیدھا کرنے کے لیے اِستعمال کرتی ہے۔ بڑی چیز ُوہ لاشعوری خواہش ہے جس کے ہاتھوں میں ہم اِنسان محض کٹھ پتلیوں کی طرح کھیل رہے ہیں۔ نفسیات کے نظریات کو اگر سچ مان لیا جائے تو ز ِندگی کی تمام اِرتقائی کیفیات‘ یعنی آرٹ ‘ مذہب ‘ محبت اَور رُوحانی تصو ّرات کو (جن سے اِنسان بے اَندازہ مسرت حاصل کرتا ہے)‘ اُن دبی ُہوئی اَنہونی خواہشات اَور طبعی رُجحانات کا نتیجہ گرداننا پڑے گا جن کے تند و تیز دھارے پر اِنسان، کاغذ کی ناؤ کی طرح بہتے چلا جارہا ہے ۔

نفسیات نے بیسویں َصدی کے ذہنی اَور سماجی ماحول پر جو اَثرات ُمرتسم کیے ہیں ‘اُن میں سب سے اَہم بات یہ ہے کہ لوگ قلیل سے قلیل وقت میں زیادہ سے زیادہ َ ّمسرت حاصل کرنے کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ لوگ جب اپنے ِکردار کی خود تشکیل کرنے سے قا ِصر ہیں‘ اَور نہ تو اپنا مستقبل خود بنا سکتے ہیں اَور نہ ہی اپنے ماضی کو بدل سکتے ہیں‘ تو وہ تھوڑے سے تھوڑے وقت میں ز ِندگی سے زیادہ سے زیادہ لطف کیوں نہ اُٹھائیں کہ ُیوں ”بابر بہ عیش کوش کہ عا َلم دوبارہ نیست “کے مقولے پر عمل َپیرا ہو کر‘ اپنی بے رحم فطرت سے اِنتقام لیا جاسکتا ہے! پس اِس میں کوئی کلام نہیں کہ بیسویں َصدی میں نفسیات نے قریب قریب اُسی ما ّدی نظریہ ٴ حیات کو تحریک دی ہے جو اُنیسویں َصدی میں ڈارون اَور سپنسر کے طفیل عام ہو گیا تھا ۔

گویا نفسیات نے مسرت کے پھیلاؤ کو روک کر‘ اِسے سمٹ جانے پر مجبور کر دیا ہے ۔ یہاں تک ہم نے مغربی فلسفے کی تاریخ میں َ ّمسرت کا جائزہ لینے کی َسعی کی ہے ۔ آنے والے اَدوار میں َ ّمسرت کو اِنسانی ز ِندگی میں کیا مقام حا ِصل ہو گا‘ اِس کی طرف ہم متو ّجہ نہیں ہو سکے… شاید یہ ممکن بھی نہیں تھا کہ آنے والے َدور تاریکیوں سے ہم َکنار ہیں اَور ہم تاریکیوں کا سینہ چیرنے سے عاجز! پھر بھی پچھلے تجربات کی ِبنا پر آنے والے زمانے کے متعلق کچھ نہ کچھ ضرور کہا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہم اِس بات کو ّمد ِنظر رکھیں کہ کائنات کی لا ُمحدودیت کے با ِعث یہاں ُکل کا احساس و اِدراک کرنے کے لیے ہمارے پاس ُجزو کے ِ سوا کچھ نہیں ‘اَور اگر ُجزو کا صحیح َطور سے تجزیہ کیا جائے تو ُکل کے متعلق حکم لگانا بھی بہت َحد تک درست ہو سکتا ہے ۔

اِس مسئلے پر جدید سائنس کے نظریات بھی ہم سے متفق ہیں کہ ُوہ َجوہر (Atom) کو اُن خصوصیات کا مظہر تسلیم کرتے ہیں جو ُکل سے متعلق ہوتی ہیں۔ پھر رسو ِل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و ّسلم کا بھی قول ہے : من عرف نفسہ فقد عرف ربہ اگر تم ُخدا ( ُکل) کو پہچاننا چاہتے ہو تو خود ( ُجزو) کو پہچانو! پس آنے والے اَدوار میں َ ّمسرت کا مقام معلوم کرنے کا اِرادہ ہو تو فرد کی ز ِندگی کے مختلف اَدوار کا تجزیہ اَور تاریخ کے اَدوار کے ساتھ اُن کی حیرت انگیز مناسبت کا مختصر سا جائزہ لینے کے بعد یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں ہمارے ذہنی اَور معاشرتی مسائل کی دُھندلی سی تصویر کیا ہو گی اَور َ ّمسرت کو ہماری ز ِندگی میں کیامقام حاصل ہو گا! فی الحقیقت فرد کی ز ِند

Chapters / Baab of Musarrat Ki Talash By Wazir Agha

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6