Episode 4 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 4 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
اسلام شاہ انتہائی مکار اور خونخوار حکمران تھا۔ اس نے بڑے بھائی عادل شاہ سوری کو ذرہ بھر اہمیت نہ دی تو شیر شاہ کے اہم جرنیل اور اتحاد ی قبائل ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو گئے ۔ شیر شاہ نے اودھ کے فارمولی پٹھانوں اور شمال مغربی پنجاب اور ملحقہ علاقوں کے نیا زیوں کو ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کی چونکہ دونوں قبیلے اُسکی جنگی ضرورتوں کے لیے اہمیت کے حامل تھے۔

 
جلال شاہ سوری( اسلام شاہ) نے بادشاہت کا اعلان کیا تو پٹھان سرداروں اور دیگر قبیلوں کے جرنیلوں نے شیر شاہ کی سلطنت کو خون ریزی سے بچانے کی تدبیر کی تاکہ دونوں بھائیوں ( عادل شاہ اورجلا ل شاہ) میں صلح ہو جائے ۔ اسلام شاہ کی ہٹ دھرمی اور خونخواری کو دیکھتے ہوئے سرداروں نے عادل شاہ کو صلح پر مجبور کیا کہ وہ روا سے کالنجر آکر چھوٹے بھائی کی تاجپوشی میں شرکت کرے تاکہ امراء اور فوج کے دلوں سے بغاوت اور خانہ جنگی کا خوف دور ہو جائے۔

(جاری ہے)

 
جودھ پور کے حاکم خواص خان، ہر مار ا کے جلال خان بن جالواس رائے ، ناگورکے عیٰسی خان نیازی ، اجمیر کے برماجیت گور، تخت و تاج کے اصل حقدار عادل شاہ کو حکمران بنانا چاہتے تھے مگر انہیں معلوم ہوا کہ پنجاب کے ہیبت خان نیازی اور دیگر نے اسلام شاہ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے تو سب نے امن کی خاطر خاموشی اختیار کر لی۔ 
صلح کے باوجود اسلام شاہ نے عادل شاہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو عادل شاہ روپوش ہو گیا۔

بد عہدی اوربیوفائی پر خواص خان اور عیٰسی خان نیازی نے بغاوت کی اور فتح پور سیکری پر حملہ آور ہوئے ۔ اسلام شاہ نے بھاگ کر جان بچائی اور چنار کے قلعے میں پناہ حاصل کی۔ یہ طے پایا کہ جب عادل شاہ کی فوج آگرہ کے قریب پہنچے تو سارے قبائلی سردار اسلام شاہ کا ساتھ چھوڑ دینگے ۔ جیسا کہ پختون روایات میں ہے کہ پٹھان سرداروں کی کوئی بھی بات حتمی نہیں ہوتی اوروہ عین موقع پریاپھر میدان جنگ میں اپنے عہد سے پھر جاتے ہیں ۔

ایسا ہی معاملہ عادل شاہ کیساتھ ہوا۔ سوائے خواص خان ،عیسیٰ خان نیازی اورہیبت خان نیازی کے دیگر جرنیل اور قبائلی سردار اسلام شاہ سے مل گئے۔ آگرہ سے دس کو س کے فاصلے پر عادل شاہ اور اسلام شاہ کے حامیوں میں خونریز معرکہ ہوا ۔ دن بھر لڑائی جاری رہی اور دونوں اطراف سے ڈٹ کر مقابلہ کیا گیا۔ خواص خان اور نیازی لشکر نے اسلام شاہ کا جم کر مقابلہ کیا مگر رات کی تاریکی میں عادل شاہ کا لشکر میدان جنگ سے تتربتر ہو گیا۔

 
خواص خان اپنا لشکر لیکر سر ہند کی طرف چلا گیا اور عادل شاہ چند جانثار ساتھیوں کے ہمراہ بندھیل کھنڈ کی طرف نکل گیا۔ عیٰسی خان نیازی پہلے میوات گیا اور پھر اپنا راستہ صاف کرتا ہوا سرہند آکر خواص خان سے مل گیا۔ ہیبت خان نیازی نے پنجاب سے کمک منگوائی اور انبا لہ کے نزدیک اسلام شاہ سے فیصلہ کن لڑائی کا منصوبہ تیار کیا۔ اسی اثناء میں خواص خان اور عیٰسی خان نیازی بھی ہیبت خان سے مل گئے اور ایک بڑی فوج کی کمان ہیبت خان کے سپر د کی۔

 
ہیبت خان اور عیٰسی خان کی نیت میں فتور آگیا اور انہوں نے عادل شاہ کی حکمرانی بحال کرنے کی بجائے اپنی حکومت قائم کرنے کا خفیہ منصوبہ تیار کر لیا۔ 
انبالہ کی لڑائی میں اسلام شاہ کو شدید نقصان ہوا۔ خواص خان کا لشکر بے جگری سے لڑا اورنیازی لشکر کو مکمل تباہی سے بچا لیا۔ اسلام شاہ نے اپنا لشکر میدان سے ہٹا لیا اور انبالہ سے بیس کوس کے فاصلے پر خیمہ زن ہوگیا۔ اسی دوران خواص خان کونیازیوں کی نیت کا پتہ چل گیا ۔ خواص خان بہادر جرنیل اور درویش صفت انسان تھا۔ وہ شیر شاہ سوری کا وفادار ساتھی اور عادل شاہ کا سچے دل سے حمائتی تھا۔نیازیوں نے کھلے عام اپنی حکمرانی کا اعلان کیا تو خواص خان سمیت بہت سے افغان سردار ان کاساتھ چھوڑ گئے ۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط