Episode 8 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 8 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
اس جنگ میں ہیبت خان سمیت دوہزارنیازی مردوزن کام آئے ۔ ہیبت خان اور دیگر سرداروں کے سر قلم کیے گئے اور انہیں ا سلام شاہ کے دربار میں بھجوایا گیا۔ ہندی اور انگریز موٴرخین نے افغان تاریخ دانوں کو نا قابل اعتبار قرار دیا ہے۔ احمد یادگار اور فرشتہ کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ پٹھانوں کے معرکوں کو مبالغے کا لباس پہنانے کے ماہر ہیں ۔ ہیبت خان نیازی اور والئی راجوری کا بیان بھی اسی طرح کا لگتا ہے ۔

کسی بھی مستند تاریخ میں راجوری کے مقام پر لڑی جانے والی کسی جنگ کا ذکر نہیں ۔انبالہ کی لڑائی میں نیازی شکست کھا کر بھاگے اور کوہستان نمک میں پنا ہ لی۔ کوہستان نمک کے خدوخال کاجائزہ لیا جائے تو شمال مغرب میں ترکی کا پہاڑ ، شمال مشرق میں میرپور کا سلسلہ کالی دھار اور شمال مغرب میں دریائے جہلم واقع ہے۔

(جاری ہے)

میرپور اور بھمبر سلطان زین العابدین بڈھ شاہ کے دور سے ہی گکھڑیا ککڑ ریاستیں چلی آرہی تھیں۔

ان ریاستوں کے والیان کو فوج رکھنے کی اجازت تھی اور والیان کشمیری سلاطین کے صوبیدار کہلواتے تھے۔ ایسے کشیدہ ماحول میں ہیبت خان کا کشمیر کا رخ کرنا ناقابل فہم ہے۔ 
راجوری بھی نیم خود مختار ریاست تھی جس میں مینڈھر اور ملحقہ علاقہ جات شامل تھے ۔ راجوری کے جرال راجپوت اسلامی دور سے پہلے اس علاقہ میں آباد تھے اور حکمران حیثیت کے حامل تھے۔

راجگان راجوری، مینڈھراور ریاسی ہمیشہ سے حاکم وقت کے اطاعت گزار رہے اور کبھی باغیانہ روش اختیار نہ کی مگر افغانوں ، سکھوں اور ڈوگروں کے خلاف مسلم جدوجہد میں جرال بھی شامل رہے۔ 
نیازیوں اور دیگر افغان قبائل کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں۔ کوہ سلیمان کے اطراف میں بسنے والے پٹھانوں میں بھی اختلاف ہے کہ سبھی قبائل یہودی النسل نہیں۔

غوری اپنا تعلق یمن کے ہوثی قبائل سے جوڑتے ہیں اور بعض ایرانی او ر ترک النسل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اولف کیرو اور دیگر مصنفین نے قبائلی اکثریت کا تعلق بابلی یہودیوں سے جوڑا ہے جنہیں بخت نصرنے قید کر کے ایران میں رکھا ۔ سارس اوّل نے انہیں آزادکیا اور کوہ سلیمان میں بسنے کی اجازت دی۔ 
افغانوں کے اصل خدوخال عہد سلاطین میں ظاہر ہوئے اور مغلوں نے اُن کے اقتدار کا خاتمہ کردیا ۔

نیازیوں کا عروج شیر شاہ سوری کے دور میں ہوا اور پانچ سالہ شیر شاہی عہد کیساتھ ہی نیازیوں کے اقتدار کا سورج بھی غروب گیا۔ بعد کے ادوار میں نیازیوں اور اعوانوں کے درمیان چپقلش رہی اور کئی خونریز معرکے بھی ہوئے۔ نیازیوں کی نسبت اعوانوں کا پلہ بھاری رہا چونکہ پنجاب ، کشمیر ، ہزارہ ، ڈیرہ جات اور افغانستان کے بعض اضلاع میں اعوانوں نے اپنے قدم جمائے رکھے ۔

گکھڑوں کی طرح اعوان بھی جنگجو قبائل ( مارشل ریس) میں شمارہوتے ہیں اور ہردور کے حکمرانوں کو جنگی انسانی ایندھن مہیاکرتے رہے ہیں ۔نیازی قبیلہ تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے اعوانوں کا مقابلہ نہ کر سکا ۔ میانوالی کا علاقہ بنوں سے الگ ہوا تو نیازیوں کی اہمیت میں بھی کمی آئی ۔ نواب آف کالا باغ کے دور اقتدار میں نیازی سیاسی لحاظ سے بھی کمزور ہوئے اور اپنی الگ حیثیت منوانے میں ناکام رہے ۔

سیاسی ادوار میں بھی نیازی کسی ایک سیاسی پلیٹ فارم پر متحد نہ ہوئے اور مختلف سیاسی جماعتوں کا حصہ بن کر علاقائی پسماندگی دور کرنے میں ناکام رہے۔ سیاست ، علم وادب کے شعبوں کے علاوہ سول وملٹری بیوروکریسی میں نامور لوگ پیدا ہوئے مگر میانوالی کو ان شخصیات سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ایڈمرل کرامت رحمان نیازی، جنرل امیر عبداللہ خان نیازی، مولانا عبدالستار خان نیازی،عمران خان نیازی، مولانا کوثر نیازی اور امیر عبداللہ خان روکڑی کے علاوہ کئی نامور شخصیات کا اس قبیلے سے تعلق ہے جنہیں ملکی اور عالمی سطح پر شہرت ملی ہے۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط