Episode 9 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 9 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
ہنڈ ، سندھ اور ہند سے ارض پاک تک 
طویل سفر، مشکل مراحل اور مقصدکا حصول 

حضرو کے قدیم تاریخی قصبے کے شمال میں قاضی پور گاؤں واقع ہے۔ حضرو اور قاضی پور کے درمیان ایک قدیم فیری کراسنگ ہے جو اکثر سمگلروں کے استعمال میں رہتی ہے۔ یہاں دریائے سندھ کا پاٹ کافی چوڑا ہے اور کم پانی کی صور ت میں دریا میں کئی چینل اور جزیرے بن جاتے ہیں ۔

قدیم دور میں اگر چہ پانی کم ہونے کی صورت میں پانی کی رفتار کم ہوتی تھی مگر چینل اور جزیر ے نہ بنتے تھے۔ لوگ گھوڑوں اور اونٹوں پر بیٹھ کر دریا پار چلے جاتے تھے یا پھر چھوٹی کشتیوں پر بیٹھ کر سفر کرتے تھے۔ 
یہ فیری کراسنگ ایک دور میں ہند او ر ایران کی سرحد پر واقع تھی۔

(جاری ہے)

دریا پار کا علاقہ سیستان کا حصہ اور مشرقی کنارا گندھارا میں شامل تھا۔

وقت بدلا اور گندھا را کے راجگان نے ایرانیوں کو کوہ سلیمان کی دوسری جانب دھکیل دیا۔ دریا کے مغربی کنارے پر ہنڈ نامی شہر آباد کیا جو گندھا کا صدر مقام ٹھہرا ۔ ہنڈ یا ہند کے تاریخی شہر کے آثار آج بھی موجود ہیں اورقلعوں ، حویلیوں ، باغات ، سراؤں اور سٹرکوں کے کھنڈرات کے علاوہ قبرستانوں کا لامتناعی سلسلہ موجود ہے جو مغربی کنارے پر واقع ہنڈ کے قصبے سے لیکر دریائے کا بل کے جنوب میں واقع راجہ ھوڈی کی فوجی چوکی اور پھر خیر آباد اور کہوہ فیری تک چلا جاتا ہے ۔

ان قلعوں اور دیگر تعمیرات میں گندھا را تہذیب کے آثار سے لیکر گکھڑوں اور مغلوں کی تعمیرات اور قبرستانوں کے سلسلے گکھڑ راجگان، کشمیری حکمرانوں اور غزنی کے بادشاہوں کے نشانات ہیں۔ 
تاریخ کے حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے پہلے اس پتن کو آریاؤں نے دریافت کیا۔ آریاؤں کا اصل وطن وسط ایشیاء کے مغربی علاقے خوار زم اور بخارا تھے ۔

دو ہزار قبل مسیح میں آریاؤں نے یورپ اور جنوبی ایشیاء کا رخ کیا اور پانچ سو سال تک ان کی آمد کا سلسلہ جاری رہا ۔ وادی سندھ میں گنجائش نہ رہی تو انسانی سیلاب نے وادی گنگ وجمن کارخ کیا اور پورے برصغیر پر قابض ہو گئے ۔ وادی سندھ میں یہ لوگ درہ خیبر اور بولان کے راستے وارد ہوئے ۔ پشاور سے آگے ہنڈ ہی وہ مقام ہے جہاں آریاؤں کے بے ہنگم قافلے رُک کر دریا پارکرتے اور پھر دریائے سندھ کے مشرقی کناروں سے ہوتے آگے بڑھ جاتے۔

آریاؤں کے عقائد مقامی لوگوں کی نسبت صاف ستھرے اور مہذب تھے۔ وہ کائنات کے اَن دیکھے خدا کو مانتے تھے۔ اُن کے نزدیک کوئی ایسی قوت ہے جس نے یہ کائنات تخلیق کی اور پھر اسے اپنے ہاتھوں مسلسل بناتا، سنوارتا اور محفوظ رکھتا ہے۔ وہ خدا کی واحدانیت کے قائل تھے۔ رگ وید کے مطابق وہ قدرت کی پیدا کردہ قوتوں کی پوجا کرتے تھے جن میں پانی بھی شامل تھا۔

ہند میں آریا وارد ہوئے تو سب سے پہلے انہیں سندھ ساگر کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے آریاؤں نے ایسا ہیبت ناک دریا نہ دیکھا تھا۔ وہ سندھ ساگر کو بھی بھگوان مانتے تھے۔ سکندر اعظم نے ہند پر یلغار کی تو راجہ اَمبی حاکم ٹیکسلا نے ہنڈکے مقام پر سکندر سے ملاقات کی ۔ بعض روایات کے مطابق راجہ اَمبی اور پورس خالہ زاد ہونے کے باوجود ایک دو سرے کے دشمن بھی تھے۔

اَمبی نے سکندر سے دوستی کا ہاتھ ملایا اور یونانی افواج کو ہنڈ اور حضرو کے درمیانی علاقے سے دریا عبور کرنے میں مدد دی ۔ سکندر مقدونی کے بعد درد قبائل برصغیر میں آئے اور دو مقامات سے دریائے سندھ عبور کیا۔ پہلی یلغار ہنڈ کے مقام سے ہوئی اور دوسری چلاس کے مقام پر۔ چلاس کے مقام پر شیر دریا کا پاٹ انتہائی تنگ مگر تند ہے جبکہ ہنڈ کے مقام پر پاٹ کی چوڑائی تین سے پانچ کلو میٹر اور رفتار انتہائی سست ہے ۔

دردوں نے سارے افغانستان بشمول گلگت بلتستان اور ملتان تک دریائے سندھ کے دونوں اطراف قبضہ جما یا اور طویل عرصہ تک کوئی دوسری قوم یا قبیلہ اُن کی سرکوبی نہ کر سکا۔ موسمیاتی شدت اور چراگاہوں کی کمی کی وجہ سے دردوں نے اٹک کے شمالی پہاڑوں سے لیکر وادی کشن گنگا تک اپنی حاکمیت محدود کی اور آج بھی درد قبائل کی کثیر تعداد کوہستان ہزارہ اور ملحقہ علاقوں میں آباد ہے۔

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط