Episode 14 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 14 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
سلطان نے اس مشورے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے ان دیوتاؤں کے مجسمیں بنا کر شہرت حاصل کی ، کچھ نے عبادت و ریاضت میں نام پایا اور کچھ ان مجسموں کو محفوظ کرنے میں مشہور ہوئے ۔ تم کیا چاہتے ہو؟ ہم ان مجسموں کو تباہ کر کے تاریخ میں بد نامی چھوڑ جائیں۔ تاریخ کے ہردور میں ایک نصیحت ، ایک عبرت اور تقلید ہے۔ وہ حکمران جو تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہیں وہ عبرت ناک انجام سے بچ جاتے ہیں اور آنے والوں کے لیے ہموار زمین ، عدل کا پھل اور مساوات کی خوشبو چھو جاتے ہیں ۔

ہنڈ ، سندھ اور ہند ایک ہی راستے کے پڑاؤ ہیں۔ ہنڈ اور سندھ کے مشرقی کناروں سے ہند کا وسیع میدان شروع ہو کر بحر ہند کے ساحلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ ہنڈ سے ہی ہند بنا ہے۔

(جاری ہے)

پہلے یہاں مقامی لوگ رہتے تھے۔ پھر آرین اور یونانی آئے تو رسم ورواج اور مذاہب بدل گئے ۔ یونانیوں کے بعد ہُن، ایرانی،عرب اور ترک آئے اور اپنی اپنی روایات کی نشانیاں چھوڑ کر چلے گئے ۔

ابتدائی دور میں آنے والے ترک اور ایرانی کسی دین کے پیروکار نہ تھے اور نہ ہی انسان دوست اور مہذب تھے۔ ایسا ہی احوال منگو لوں اور اُن کی نسل سے تعلق رکھنے والے تیمور اور نادر شاہ کا تھا۔ تیمور پر لکھنے والوں نے اُسے مجدد اسلام لکھا ہے مگر خونخواری میں تیمور اور نادر شاہ اپنے پیش روؤں ذوالقدر خان ، مہرگل ہُن اور اچل منگل سے کسی طرح کم نہ تھے۔

 
آج بھی ایسے کرداروں کی کمی نہیں۔ مشرق و مغرب میں ایسے حکمران ، جماعتیں ، تھنک ٹینک اور انسان دشمن نظریات پر کام کرنیوالی تنظمیں موجود ہیں جو مادی مفادات کے حصول کے لیے دنیا پر غربت ، بیماری اور جنگیں مسلط کرنے کی منصوبہ بندی پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کا جال، نیو ورلڈ آرڈر ، دہشت گردی، اسلا مو فوبیا ، انواع و اقسام کے تہوار اور مخصوص دن ایسی چالیں اور حربے ہیں جن کا مقصد اچھی اور ارفعٰ روایات کا خاتمہ اور دین سے نفرت ہے۔

آج دنیا کے امیر ملک اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اُن کے رہن سہن او ر عیش و عشرت پر غریب اقوام قابض نہ ہو جائیں اور دنیا میں کوئی ایسا اتحاد قائم نہ ہو جائے جو عدل و مساوات کا نظام قائم کر کے ساری دنیا کے انسانوں کو انسانی اخوت ، مساوات ، عدل اور بھائی چارے کے رشتے میں منسلک کر دے۔ 
انسانی تاریخ میں 12ء ربیع الاول 20اپریل 571ءء کا دن ایک عظیم انقلاب کا دن ہے۔

آپ ﷺ حضرت عیسیٰ  کی پیدائش سے 571 سال بعد دنیا میں تشریف لائے جبکہ حضرت عیٰسی  اور حضرت موسیٰ کا درمیانی عرصہ 1716سال ، حضر ت موسیٰ اور حضرت ابراہیم  کا درمیانی زمانہ545سال اور حضرت ابراہیم  اور طوفان نوح  کا درمیانی وقفہ 1081سال ہے۔ حضرت نوح  پیدائش آدم  سے 2244سال بعد پیدا ہوئے۔ اسطرح نبی آخر الزماں ﷺ اور حضرت آدم  کے درمیان 6155سال کا وقفہ ہے۔

 
آپ ﷺکی پیدائش سے پہلے چینی ،یونانی، ہندی ، ایرانی ، مصری ، بابلی، سو میری اور انکا تہذیبیں اپنے آثار چھوڑ چکی تھیں۔ ارم جیسے ماڈرن شہر آباد ہو کر ریت کے طوفانوں میں دب چکے تھے۔ قوم عاد وثمود اور ایکہ اپنے انجام کو پہنچ چکی تھیں۔ فرعون ، نمرود ، شدا د اورقارون کے واقعات تاریخ کا حصہ بن چکے تھے۔ ایتھنز ، سپارٹا ، تھیوسی ڈائڈ ، کارڈلیش کی جنگیں لڑی جا چکی تھیں۔ توت ماز، رامسس دُوئم، ھنی بال، سائیرس اوّل ، سکندر اعظم، دارا، پورس ، جمشید اور کیقباد جیسے جنگجو جرنیلوں اور اُن کی حربی چالوں سے دنیا واقف تھی۔ رومی اور ایرانی بادشاہوں کی عظیم سلطنتوں کا چرچا تھا۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط