Episode 18 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 18 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
حضرت ابوبکر صدیق  کے دورحکومت میں ایران ، بلوچستان اور سندھ کے کچھ علاقوں پر مسلمان حملہ آور ہوئے ۔حضرت عمر بن خطاب  کے دور میں ایران بشمول سیستان فتح ہوئے اور آخری دارا یزد جرد شہریار کی حکمرانی ختم ہوگئی ۔ صحابہ رسول ﷺ اور مسلم سپاہ کے ایک مشہور جرنیل حضرت سنان بن سلمہ نے بنوں سے پشاور تک کے علاقے پرقبضہ کیا اور مسلمان گورنر مقرر کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔

پشاور اور گردونواح کے کفار نے ملکر کر مسلمانوں پر حملہ کیا اور پشاور پر قابض ہو گئے ۔ حضرت سنان بن سلمہ کوخبر ہوئی تو آپ نے پلٹ کر حملہ کیا اور پشاور کے علاوہ حضرواور موجود ہ ہزارہ اور کوہستان تک کفار کا خاتمہ کر دیا۔ آپ  ایک معر کے میں شہید ہوئے ۔ آپ  کو دیگر شہیداصحاب  کے ہمراہ پشاور کے نواحی گاوٴں چغر مٹی میں دفنایا گیا۔

(جاری ہے)

آج اس مقام کو اصحاب  بابا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ پشاور سے مزارات صحابہ  تک جانے والی سٹرک کا نام بھی اصحاب بابا  روڈ ہے۔ بعد کے دور میں محمد بن قاسم نے دیبل سے ملتان تک کا علاقہ فتح کیا اور پہلے سے فتح کیئے ہوئے تمام علاقے اسلامی ریاست کا حصہ بن گئے ۔ بنواُمیہ کے دور میں ہی حضرت مہلب نے بہاولپور اور دیگر علاقوں کو فتح کیا۔ فتح نامہ سندھ ( چچ نامہ ) کے مطابق محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا تو 713ءء میں محمد حارث علافی اور حمیمہ بن اسامہ ایک وفد کے ہمراہ کشمیر آئے۔

راجہ نے انہیں عزت واحترام سے رکھا اور شالکبار نامی علاقہ میں جاگیر عطا کی۔ 
اموی دور میں حضرت عثمان  کے بیٹے حضرت عبداللہ نے پشاور ، ہزارہ ، وادی کشن گنگا ( نیلم ) سے لیکر سارے دردستان اور بلورستان (سکردو گلگت اور تبت) پرقبضہ کر لیا۔ عباسی دور میں مسلم حاکمیت مزید مضبوط ہوئی اور چینی ترکستان کے مزید علاقوں پر خلافت اسلامی کا جھنڈا لہرانے لگا۔

 
نویں صدی میں کابل و قند ہار کے درمیانی علاقہ میں ترک سامانی قبیلے نے سلطنت غزنیٰ کی بنیاد رکھی۔ 860ءء میں یہ سلطنت پھیل کر شمالی افغانستان اور جنوب میں سندھ اور مغرب میں ہرات تک چلی گئی ۔ 961ءء تک ترک غلا م الپتگین غزنی کا آزاد و خود مختار حکمران رہا۔ 966ءء میں اُسکا داماد سبکتگین تخت نشین ہوا اور درہ خیبر تک کے علاقہ پر قابض ہو گیا۔

سبکتگین کی بڑھتی ہوئی قوت کو روکنے کے لیے پنجاب کا حکمران راجہ جے پال میدان میں آیا مگر شکست کھا کر واپس چلا گیا۔ دوسری بارراجہ جے پال اور سبکتگین کے درمیان پشاورکے نواح میں مقابلہ ہوا اور جے پال سلطان کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔ اس بارراجہ جے پال نے معافی طلب کی اور خراج کی ادائیگی پر رہائی حاصل کی۔ 
996ءء میں سلطان محمود تحت نشین ہوا تو راجہ انند پال نے سارے ہندوستان کے راجگان سے اتحاد کر لیا ۔

مشترکہ ہندی افواج 1001ءء میں پشاور پہنچیں او رسخت مقابلے کے بعد شکست خوردہ ہو کر بکھر گئیں۔ محمود نے لاہور تک پیش قدمی کی اور سارے پنجاب اور ملتان کو سلطنت غزنی کا حصہ بنا لیا ۔ محمود نے ہندوستان پرسترہ حملے کیے ۔ سب سے کامیاب اور تاریخی حملہ سومناتھ کا ہے جسے تاریخ اسلام میں اہم مقام حاصل ہے۔ محمود نے مشرق میں قنوج اور متھرا اور جنوب میں سومناتھ تک کا علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کیا ۔

1013ءء میں راجہ سنگرام کشمیر کا بادشاہ تھا ۔ محمود نے دوبار کشمیر پر حملہ کیا مگر ناکام رہا ۔ البیرونی جو محمود کے ہمراہ تھا لکھتا ہے کہ محمود کی افواج پونچھ اور اوڑی سے آگے نہ بڑھ سکیں ۔ محمود کے بعد اُس کے بیٹے مسعود غزنوی نے بھی مہم جوئی کی مگر کامیاب نہ ہوا۔ محمود کو کشمیر فتح کرنے کی بڑی خواہش تھی۔ اُس نے اپنی اس تمنا لا حاصل کا اظہار اس شعر میں کیا۔

 
 مارا رہ کشمیر ہمیں آرزو آید 
گاہ است کہ یک بارہ بہ کشمیر خرامیم 
امیر غیاث الدین غوری نے محمود کے جانشینوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا اورتُرکان غزنی کو اپنا میطع بنا لیا ۔ غیاث الدین بیس سال کی عمر میں ہی نا قابل شکست تھا۔ غیاث الدین نے خوارزم شاہ کو شکست دیکر بلخ اور دیگر علاقوں پر قبضہ کیا۔ وہ 43سال حکمران رہا اور1203ءء میں فو ت ہوگیا۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط