Episode 24 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 24 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
سپاہیوں نے پوزیشن لی اور میں لفظ فائیر منہ سے نکالنے ہی والا تھا کہ میری نظر میرے اکلوتے جوان سال بیٹے پر پڑگئی ۔ میں نے فائیر آرڈر نہ دیا تو انگریز کمپنی کمانڈر نے کہا سیتارام آرڈر دو۔ میں خاموش رہا اور کیپٹن کے پاؤں میں گر کر بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگی ۔وہ بے رحم افسر پیچھے ہٹا اور مجھے دھتکارتے ہوئے حکم دیا کہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دو ۔

میں کھڑا ہوا اور فائیر کا حکم دیا ۔ میرا بیٹا میرے سامنے میرے ہی حکم پر گولی کا نشانہ بن کر امر ہوگیا۔ کاش اُس کی جگہ میں خود ان باغیوں میں شامل ہوتا اور فخر سے وطن پر جان نچھاور کرتا۔ 
دوسری افغان جنگ میں جو کچھ انگریزوں کیساتھ ہوا اسکا احوال سیتا رام کے علاوہ ایک انگریز جرنیل کی بیگم لیڈی مارک سلیزنے بھی اپنی تحریر ” لیڈ ی سلیز افغانستان “ میں لکھا ہے۔

(جاری ہے)

پنجاب میں جنگ آزادی کے ہیرو سردار کالا خان کھٹڑ کا کبھی کسی صحافی ، دانشور اور تاریخ دان نے ذکر نہیں کیا۔ پچھلے باب میں تحریک آزادی کے اس مجاہد کا ذکر ہو چکا ہے۔ اسی طرح پنجاب کے رائے احمد نواز کھرل کی مخالفت ایک گدی نشین پیر نے کی اور اپنے مریدوں کو انگریزوں کا ساتھ دینے کا حکم دیا۔ 
آئن ٹالبوٹ کی تحریر ” صوبائی سیاست اور تحریک پاکستان “ میں اُن عوامل کا مفصل ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے بلوچی سرداروں کا بڑا حصہ قیام پاکستان کا مخالف تھا۔

یہ قائداعظم  کی شخصیت و کردار کا کرشمہ تھا کہ بلوچستان کے نوجوانوں خاص کر طلباء نے سرداروں اور وڈیروں کی سازش ناکام بنائی اور تحریک آزادی پاکستان کا ہر اوّل دستہ بن گئے ۔ 
بریگیڈیئر نیاز عظیم کی کتاب ” بلوچستان کا ماضی حال اور مستقبل “ ایک دلچسپ تحریر ہے۔ بریگیڈ نیاز عظیم 1972ءء سے 1973ءء تک بلوچستان میں تعینات رہے اور علیحدگی پسندوں کی مسلح بغاوت کا سامنا کیا۔

آپ نے اپنے تجربات کی روشنی میں بلوچ سرداروں کی نفسیات اور خواہشات کا تجزیہ کیا جو حقیقت کا آئینہ دار ہے۔ 
” سنڈ یمن کی ڈائری“ اور کرنل منرو کی ” دی بلوچ لینڈ ‘’‘ کے کچھ صفحات پڑھنے سے ایک عام قاری بھی بلوچ سرداروں کے متعلق رائے قائم کرنے میں غلطی نہیں کر سکتا جوہمارے سیاستدان پچھلے پچھہتر سالوں سے کر رہے ہیں۔ قائداعظم واحد لیڈر تھے جنہیں بلوچستان کے عوام کی پریشانیوں اور سرداروں کی تنگ نظر ی کا احساس تھا اور وہ انہیں حل کرنے کا نسخہ بھی جانتے تھے۔

 
ُُُ”بلوچستان رپورٹ“ ازمیراحمد خان شیروانی ایک غیر سرکاری مگر مفصل تحریر ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ1876ءءء میں کرنل منرو اور کیپٹن سنڈیمن نے سیاسی چال اور فوجی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور معاشی حربوں کے استعمال سے بلوچستان پر قبضہ کر لیا ۔ سنڈیمن ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان اور کرنل منرو کمشنر ڈیرہ جات تھا۔ سنڈیمن کے دستے میں فسٹ پنجاب کیولری نے حصہ لیا جس کی معاونت فرنٹیر فورس رائفل ، سکھ بٹالین اور توپخانے نے کی۔ فوجی دستے کیپٹن ولی (Uylie) اور توپخانہ جنرل جیکب نے فراہم کیا۔ فورٹ سنڈیمن ، فورٹ منر و اور جیکب آباد انہیں انگریز افسروں کے نام سے منسوب ہیں۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط