Episode 30 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 30 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
قیادت کا فقدان اور قوم کا احساس ذمہ داری 

قوم اور قیادت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ قیادت کے بغیر کوئی قوم اپنا ظاہری و باطنی وجود قائم نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی درست سمت کا تعین کر سکتی ہے۔ یوں تو ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ واحدو لاشریک ہے اور سارا کائناتی نظام اُس کے حکم و ارادے کا محتاج ہے۔

وسیع تر معنوں میں دیکھا جائے تو انسانوں کے علاوہ فرشتے اور جنات بھی قومی تصور کے دائرے میں آتے ہیں جو حکم ربیّ کے تابع بحیثیت مخلوق اپنے دائرہ کار میں رہتے ہیں۔ فرشتے ایک پاکیزہ اور نورانی مخلوق ہیں جن کے ذمے رب تعالیٰ نے کئی کام لگا رکھے ہیں۔ حضرت جبریل امین فرشتوں کے سردار ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام انبیائے کرام تک پہنچایا تاکہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے الہٰی قوانین کا اجرا ء ہو اور مخلوق انسانی بے راہ روی اور شیطانی چالوں اور حربوں سے بچکر اپنے ربّ کے تابع فرمان زندگی گزار سکے۔

(جاری ہے)

جنات کی کئی اقسام ہیں جن میں شیاطین بھی شامل ہیں۔شیاطین ہر لمحہ مصروف عمل رہتے ہیں اور انسانوں کو بہکاتے اور تکالیف میں مبتلاء کرتے ہیں۔پریوں اور چڑیلوں کا ذکر لوک داستانوں کے علاوہ عاملوں اور جوتشیوں کے علم و عمل کا حصہ ہے۔قرآن کریم میں عفریت کا ذکرہے جو جنات کا سردار اور حضرت سلیمان  کا صحابی تھا۔قرآن کریم کی سورة جن میں بھی اس مخلوق کا ذکر ہے۔

جنات کا ایک گروہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاظر ہوا اور اسلام قبول کیا۔یہ گروہ اصحاب رسول ﷺمیں شامل ہے۔سورة سبامیں بیان ہے کہ جنوں میں سے کتنے تھے جو حضرت سلیمان  کے لیے اللہ کے حکم سے محنت کرتے تھے۔ اگر کوئی حکم عدولی کرے تو اس کے لیے آگ کا سخت عذاب تھا۔ یہ لوگ سلیمان کے لیے پیتل اور تانبے کے بڑے بڑے برتن ، دیگیں ، تصاویر ، نقش و نگار بناتے اور قلعے تعمیر کرتے تھے۔

 
قرآنی الہیٰ کے مطابق ساری مخلوق انسانی خدا کا کنبہ ہے اور وہی خالق و مالک اور حاکم ہے۔ کرہ ارضی پر صرف انسان ہی نہیں بلکہ دیگر مخلوق بھی آباد ہے اور ہر قسم ایک اُمت ہی کہلاتی ہے۔ چرند، پرند اور دیگر حیوانات الگ الگ اُمتیں ہیں جن کے سردار اور رہنما مقر ر کر دیے گے ہیں۔ قرآن کریم، سورة نمل میں ذکر ہے کہ جب حضر ت سلیمان کا لشکرچیونٹیوں کے میدان تک پہنچا تو ایک چیونٹی نے لشکر کی آہٹ سُن کر کہا!اے چیونٹیو ، گھس جاؤ اپنے گھروں میں ایسا نہ ہو کہ کچل ڈالے تمہیں سلیمان کا لشکر بے خبری میں۔

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ سردار یا ملکہ چیونٹی تھی جس کی حِس دیگر چیونٹیوں سے زیادہ تھی۔ چیونٹی کی آواز سنکر حضرت سلیمان  مسکرائے اور اللہ کا شکر ادا کیاجس نے انہیں ایسی قوت عطاکی جس سے وہ چیونٹی کا اپنی قوم سے خطاب بھی سن سکتے تھے ۔ علمائے حق کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم الشان بادشاہی میں ہر مخلوق کے لیے حاکم ، رہبر اور لیڈر مقرر کیے ہیں جواُن کی رہنمائی کرتے ہیں۔

اسی طرح احسان فراموش ، ناشکری اور بد اعمال اقوام پر اللہ ظالم اور سنگدل حکمران مسلط کرتا ہے جواُن کے اعمال کے مطابق انہیں غلامی کی زنجیروں میں جھکڑ کر اسی دنیامیں ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ 
پچھلے باب میں ہم نے ا س خطہ زمین جہاں پاکستان آباد ہے کے حکمرانوں اور حکمران خاندانوں کا ذکر کیا جس کا مقصد عام لوگوں کو یہ باور کرانا تھا کہ حکمران جیسے بھی ہوں اُن کاعمل عوام کے کردار اور جرأت انکارو اظہا ر پر ہوتا ہے ۔ ترک فاتح اجل منگل نے چترال ، شمالی علاقہ جات ،ہزارہ اور موجودہ پختونخواکے کئی علاقوں پر قبضہ کیا اور لاکھوں انسانوں کو تہہ تیغ کر دیا۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط