Episode 31 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 31 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
اس کی بنیادی وجہ مفتوحہ علاقوں کے عوام کی بے حسی ، باہمی رقابت اور قبائل کے درمیان اتحاد و اتفاق کا فقدان تھا۔ اس سے پہلے کہ یہ درندہ صفت حکمران کشمیر میں داخل ہوتا ، کشمیر کی حکمران کوٹہ رانی نے جموں سے کارگل ، لیہ اور تبت تک قبائلی سرداروں کو خط لکھے اور انہیں عظیم کشمیر ی حکمرانوں راجہ گووند، رانی یشومتی ، راجہ سند یمان ، راجہ دیانند ، مہاراجہ للتادت ، راجہ جسوبن ، راجہ اونتی ورمن اور اپنے شوہر صدر الدین رنچن شاہ کی جرأت و بہادری، وطن اور عوام سے محبت کی مثالیں پیش کیں۔

کوٹہ رانی نے لکھا کہ ان عظیم حکمرانوں نے تبت ، کا شغر وختن ، بخارا ، متھرا، ملتان ، سندھ اور قنوج پر فتح کے جھنڈے لہرائے او ر وطن کشمیر کو خوشحالی ، امن ،علم و ہنر کا گہواراہ بنایا ۔

(جاری ہے)

اگر تم اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی تباہی کا نظارہ دیکھتے رہے تو تمہارا حشر وہ ہی ہوگا جو اس سے پہلے درندہ صفت مہرگل ھن اور ذو القدر خان ( ذلچو خان) نے کشمیر یوں کا کیا۔

کوٹہ رانی کے خطوط اورقائدانہ صلاحیتوں نے اثر دکھایا اور سارے کشمیری راجگان نے شاہ میر کی قیادت میں اجل منگل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ترک جرنیل اور اُس کی فوج کا کوئی سپاہی میدان سے بھاگ نہ سکا۔ نصف سے زیادہ فوج میدان جنگ میں کام آئی اور باقی کوٹہ رانی کی قیدمیں آگئی۔ آج بھی ان ترکوں کی اولادیں کشمیر اور ہزراہ میں بحیثیت مسلمان آباد ہیں۔

 
سورة البقراة میں بیان ہے کہ بنی اسرائیل پے درپے شکستوں اور ہزہمتوں سے عاجز آکر حضر ت اشموعیل  کے پاس گئے اور عرض کی کہ اُنکا کوئی بادشاہ مقرر کر دیا جائے ۔تفسیر کے مطابق کئی سو سال پہلے بنی اسرائیل نے فیصلہ کیا تھاکہ وہ کسی بادشاہ یا حکمران کے بغیر قبائیلی سرداروں کی کونسل قائم کرینگے تاکہ ہر قبیلے کی الگ حیثیت اور شناخت ہو ۔

قبائل اپنے علاقوں میں آزادو خود مختار ہونگے اور قبائلی دستور کے تحت وضع کردہ قوانین پر عمل کرینگے ۔قبائلی سردار اور مجلس ( پارلیمنٹ ) قوانین مرتب کرے گی اور ریاستی نظام چلانے کی ذمہ دارہوگی۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم یونانی شہری ریاستوں کی طرز پر ایک سو ایک یہودی ریاستیں قائم ہوئیں جس کے نتیجے میں عوام غریب اور پسماندہ اور سردار طاقتور اور امیر ہوگئے ۔

بیرونی حملہ آوروں نے یکے بعد دیگرے ان قبائلی ریاستوں پر حملہ آور ہو کر انہیں غلامی کی زنجیروں میں جھکڑلیا اور اندرونی خلفشار اور بد امنی نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ جالوت نے بیت المقدس پر حملہ کیا اور سینکڑوں یہودیوں کو غلام بنا لیا ۔ جالوت نے مقدس شہر تباہ کر دیا اور تابوت سکینہ بھی اٹھا کر لے گیا۔ 
یہودی سرداروں کی فریاد سنکر حضر ت اشموئیل  نے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا تو سرداروں نے اعتراض کر دیا۔

کہنے لگے کہ طالوت کا تعلق کسی حکمران گھرانے سے نہیں اور نہ ہی وہ کسی قبیلے کا سردار ہے۔ وہ دولت مند بھی نہیں اور نہ ہی وہ کوئی نا مور شخصیت ہے ۔ آپ  نے جواب دیا کہ حکمران کے لیے ان شرائط کا ہونا ضروری نہیں ۔ حکمرانی کے لیے علم ، عقل اور طاقت کی ضرورت ہے۔ طالوت  ان تینوں خوبیوں سے میزن ہیں اور وہ ہی تمہاری رہنمائی کے لیے موزوں حکمران ہیں۔

اس سے پہلے بنی اسرائیل جنگوں میں تابوت سکینہ سب سے آگے رکھتے تھے جس کی برکت سے وہ فتح یاب ہوتے تھے۔ تابوت سیکنہ چھن جانے کے بعد انہیں کبھی فتح نصیب نہیں ہوئی تھی۔ حضرت طالوت بادشاہ بنے تو فرشتوں نے تابوت سیکنہ انہیں واپس دلا دیا اور حضرت داؤد  جو ابھی بچے ہی تھے کے ہاتھوں جالوت کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ ان واقعات کا بیان قرآنی تفسیروں میں موجود ہے۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط