Episode 32 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 32 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
قرآنی بیان اور تاریخی واقعات کی روشنی میں دیکھیں تو پاکستان جیسی ریاستوں میں مرکزگر یزقوتوں کا مضبوط ہونا اور وفاق کو کمزور اور محض علامتی ادارے کی حیثیت دینا ریاست کو کمزور کرنے اور بیرونی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔ جدید ریاستی نظام میں آئین یا دستور قوانین کا مبنع اور عوامی حقوق کی محافظ دستاویز تصور کی جاتی ہے جس کی بنیاد چیک اینڈ بیلنس کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر استوار کی جاتی ہے۔

1973ءء کا آئین جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا سب سے بڑا کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے متفقہ آئین بھی کہا جاتا ہے۔ آئین کی کتاب پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آئین سیاسی جماعتوں ، اعلیٰ افسروں ، وکیلوں ، ججوں ، سیاستدانوں اور اعلیٰ اشرافیہ کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے جو 1973ءء سے لیکر 2019ء تک ایک مخصوص طبقے کے کام آرہا ہے ۔

(جاری ہے)

آئین انتہائی گنجلگ اور پیچیدہ شقوق پر مشتمل ایسا مسودہ ہے جس کی تشریح اعلیٰ عدلیہ اور آئینی ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ یوں تو یہ آئین اللہ کی حاکمیت اور اسلامی اصولوں کو مد نظررکھ کر بنایا گیا ہے جو بیان کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر عملاً یہ آئین عوام کے بجائے خواص اور حکمران طبقے کے حقوق کا محافظ ہے۔اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد آئین پاکستان کی حیثیت علامتی بن گئی ہے۔

اسی آئینی ترمیم کی وجہ سے کرپشن اوررشوت نے قانونی حیثیت اختیار کر لی ہے اوریہی وجہ ہے کہ بلاول جیسے سیاستدان اس آئینی ترمیم کی آڑ میں کھل کر ملک توڑنے اور سندھو دیش ، پختونستان اور آزاد بلوچستان بنانے کی دھمکیوں پر اُتر آئے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پولیس کے سپاہی سے لیکر انسپکٹر جنرل آف پولیس اور کسی بھی محکمے کے کلرک اور چپڑاسی سے لیکر محکمے کے سربراہ تک عملاً حقیقی حکمران ہیں۔

پٹواری اور تھانیدار کا لکھا ریاست کا سب سے بڑا قاضی، سربراہ مملک و حکومت بھی نہیں مٹا سکتی ۔ سیاست وطن عزیز میں سب سے بڑا اور منافع بخش کاروبار ہے اور ہر سیاسی کاروباری شخص آئین اور قانونی کی آڑ میں عوامی حقوق کو پامال کر نے ، عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھیننے اور جیب سے پیسہ نکالنے کا حق رکھتا ہے ۔ قائداعظم  کی رحلت کے بعد جناب لیاقت علی خان کا مختصر مگر ایک نا کام حکومتی دور آیا اور اُن کی شہادت کے بعد جووزرائے اعظم ، گورنر جنرل اور صدور آئے وہ جناب لیاقت علی خان کی ناکامیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے اُسی بوسیدہ عمارت پر ریت کے قلعے بناتے اور گراتے رہے ۔

جناب لیاقت علی خان نے سب سے پہلے کھوکھر اپار بارڈ ر کھول کر معاشی مہاجرین کے سیلاب کو دعو ت دی اور وہ لوگ جو آزادی کے بعد بھارت کا حصہ بن چکے تھے جائیدادوں کے حصول اور آبادی میں بے ہنگم اضافے کا باعث بننے پاکستان چلے آئے۔ وہ لوگ جو متحدہ ہندوستان میں دوگززمین کے بھی مالک نہ تھے وہ زمانہ امن میں سیر سپاٹے کے لیے کراچی ،حیدر آباد اور دیگر بڑے شہروں میں آئے اور کروڑوں کی جائیداد وں کے مالک بن گئے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایم کیوایم مضبوط ہوئی تو بھارت سے کراچی منتقل ہونے والوں کا نیا سلسلہ شرو ع ہوگیا ۔ بڑے بڑے لکھاڑی اور نامور صحافی جو کلمہ حق کہنے والوں کی صف میں شامل ہیں الطاف بھائی کے خوف سے چپ کا روزہ رکھنے پر مجبور ہو گئے ۔مارشل ریس سے تعلق رکھنے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی سپہ سالانہ اعلیٰ تعینات ہوئے مگر وہ گکھڑوں کی روایات کو آگئے بڑھانے میں بری طرح نام ہوئے ۔

وہ دانشور جرنیل اور زرداری سکول آف تھاٹ کے پیرو کار مشہور ہو کر سپہ سالاری کی دوھری مدت پوری کرنے کے بعد گوشہ نشین ہو گئے مگر قوم کو چھ سال پیچھے دھکیلنے والوں میں بھی نام لکھواگئے۔ گکھڑوں کی طرح بھٹی بھی مارشل رئیس میں شامل ہیں۔ تاریخ کے مطابق گکھڑمغلوں کے رشتہ دار اور اتحادی تھے جبکہ بھٹی مغلوں کے دشمن تھے۔ عبداللہ خان بھٹی المعروف دُلا بھٹی ہماری لوک داستان کا ہیرو اور مغلوں کا دشمن تھا۔

عبداللہ بھٹی کے خوف کی وجہ سے شہنشاہ اکبر چودہ سال تک لاہور میں مقیم رہا اور عبداللہ بھٹی کے راجپوت لشکر سے حالت جنگ میں رہا۔ شیخوپورہ کے قصبے مڑبلوچاں کے قریب مغلوں اور راجپوتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا تو اکبر اعظم بھی گرفتار ہو گیا۔ اگر چہ وہ ان پڑھ تھا مگر بلا کا ذہین بھی تھا ۔ شناخت پریڈ ہوئی تو اکبر کو کوئی پہچان نہ سکا۔ عبداللہ بھٹی نے پوچھا کہ تم کون ہو۔

اکبر نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی حضور میں میراثی ہوں اور بے گناہ پکڑا گیا ہوں ۔اکبر کی بات سن کر عبداللہ بھٹی نے اسے رہا کر دیا۔ لاہور پر حملے کے دوران عبداللہ بھٹی زخمی حالت میں گرفتار ہوا مگر شناخت نہ چھپائی ۔ اکبرنے عبداللہ بھٹی کو زخمی حالت میں دلی منتقلی کیا اور دربار لگا کر اسے سزائے موت کاحقدار ٹھہرایا اور شہید کروادیا۔

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط