Episode 36 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 36 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
ایوب خان کے بعد جناب بھٹو آئے اور سیاست سے شرافت کو نکال باہر کیا ۔ محترمہ عابدہ حسین نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا۔ آپ نے اپنی خودنوشت ” اور بجلی کٹ گئی “ میں لکھا ہے کہ بھٹو ایک متکبر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ کسی کو خاطر میں لاتے تھے اوراپنے قریب ترین دوستوں کا طنز اڑاتے تھے۔ جنرل عبدالمجید ملک مرحوم، بھٹو دور میں پشاور کور کے کمانڈر تھے۔

”ہم بھی وہاں موجود تھے “ میں لکھتے ہیں کہ ضیاء الحق کے آوٴٹ آف ٹرن پروموشن پر دیگر کے علاوہ میں نے بھی ملٹر ی اصولوں کو مد نظر رکھ کر استعفیٰ دے دیا۔ بھٹو پشاور کے دورے پر آئے تو مجھے گورنر ہاؤس طلب کر کے ریٹائر ہونے کی وجہ پوچھی ۔ میرے جواب پر کہنے لگے مجھے پتہ ہے کہ تمہارے اکاؤنٹ میں زیادہ پیسے نہیں، تمہارے بچے زیر تعلیم ہیں اور تمہارا تعلق سفید پوش طبقے سے ہے۔

(جاری ہے)

ہم تمہاری خدمت کے عوض تمہیں اچھی آفر دینگے ۔ ریٹائر ہونے پرمجھے دو تین ممالک میں سفارت کے عہدے کی آفر ہوئی مگر میں نے انکار کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد مجھے نائیجریا میں سفارت کی آفر ہوئی تو ساتھ ہی جنرل(ر) رضا خان کا پیغام ملا کہ عہدہ قبول کر کے فوراً ملک سے نکل جاؤ ورنہ تمہاری اور تمہارے خاندان کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائنیگی ۔ اس سے پہلے جنرل راجہ اکبر خان کو میکسیکو میں سفیر تعینات کیا گیا تووہ فوراً چلے گئے تھے جس پرمیں حیران تھا کہ اتنی جلد ی انہوں نے ملک کیوں چھوڑ دیا۔

جنرل رضا خان کا پیغام ملاتو بات سمجھ میں آگئی اور میں نے بھی خاموشی سے مشن قبول کر لیا ۔بھٹو کسی کو معاف نہ کرتے تھے۔ جناب بھٹو ، بے نظیربھٹو اور میاں نواز شریف کی زندگیوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ سلیم صافی اور سہیل وڑائچ نے میاں نواز شریف کے متعلق جو کچھ لکھا ہے شاید ہی کسی نے اسے سنجیدگی سے پڑھا ہو۔ مگر جو پذیرائی جناب ضیاء شاہد کی کتا ب "میرا دوست نواز شریف"کوملی وہ کسی دوسرے کو نہ مل سکی۔

لکھی جانیوالی اور لکھوائی جانے والی کتابوں میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ قصہ گوئی اور حقیقت شناسی دو الگ دھارے ہیں۔ ادبی دنیا میں نئے اسلوب کی ہمیشہ گنجائش رہتی ہے ۔ سیاست اور ادب میں منطق کی کم گنجائش ہوتی ہے چونکہ منطق سے آپ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا حیلہ کرتے ہیں۔ منطق میں وکیل اور ادیب میں فرق نہ ہو تو ادب میں جھوٹ شامل ہو کر نہ صرف ادب کی توہین کا باعث بنتا ہے بلکہ ادیب کی ذہنی کیفیت پر بھی حرف اٹھاتا ہے۔

 
جناب ضیا شاہد ” چوہدریوں کی بغاوت “ کے باب میں چند صحافیوں کا نام لیکر لکھتے ہیں کہ ان صاحبان قلم وعلم کو ہیلی کاپٹر گروپ کہا جاتا تھا۔ نیب کے پاس آجکل بہت کام ہے تاہم ایک سٹڈی نواز شریف کے حامی صحافیوں اور بھو نپو حضرات کی بھی ہونی چاہیے ” نواز شریف بمقابلہ بے نظیر “ میں لکھا ہے کہ سیون کلب روڈ پر متعد د کوٹھیاں خالی کروا لی گئیں اور یہاں وزیراعلیٰ نواز شریف کے ما تحت کام کرنیوالا خصوسی سیل قائم کیا گیا۔

یہ سیل پلاٹوں ، نوکریوں اور ٹھیکوں کی بندربانٹ کرتا اور من پسند افراد کو نواز تا تھا۔ سیل کا مقصد وزیر اعلیٰ کے صوابدیدی اختیارات کا فوری اجراء و استعمال تھا۔ 
صوبے میں نواز شریف اور مرکز میں بے نظیر نے اصولوں ، قوانین اور میرٹ کی دھجیاں اڑا رکھی تھیں۔ ایسا ہی ایک سیل ماڈل ٹاؤن میں بھی تھا جس کا پہلا انچارج شہباز شریف تھا اور حالیہ الیکشن سے پہلے اختیارات حمزہ شہباز کو منتقل ہوگئے ۔

پیپلز پارٹی کا ایمپلائمنٹ سیل ہمیشہ سے بلاول ہاؤس کراچی میں کام کرتا رہا ہے۔ محترمہ کا پلیسمنٹ بیورو قائم ہواتو سابق آئی جی پولیس راؤ رشید اس کے انچارج مقرر ہوئے ۔ یوں دونوں خاندانوں نے آئین اور قوانین کو ایک طرف رکھتے ہوئے شاہی دسترخوان کھولے اور ملکی خزانہ چیلوں چانٹوں میں بانٹ کر اعلیٰ جمہوری روایات کا بول بالا کر دیا۔ عہدوں اور رتبوں کی تقسیم میں عمر، تعلیم، عقل اور تجربے کی ضرورت نہ تھی۔شاہی خاندان کے افراد نے جس کے نام کی چٹ جاری کر دی وہ دوسرے ہی روزاس عہدے پر تعینات ہو جاتا تھا۔ یہی حال پلاٹوں کا تھا ۔ ایدھر پلاٹ ملا ،ادھر فروخت ہوا اور شاہی خاندان کا مالشیہ یا پھر بھونپو راتوں رات کروڑ پتی بن گیا۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط