Episode 38 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 38 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
ہر کسی کا خیال ہے کہ صرف اُسی کا کھرب پتی لیڈر ہی مہنگائی ، مفلسی ، غربت ، بیماری اور جاہلیت کے امراض میں مبتلا عوام کا سچا لیڈرثابت ہوسکتا ہے۔ مشاہد حسین سیّد اور مواحد حسین سیّد کا ذکر تو سنا تھا مگر کوئی دستاویز ی ثبوت نہ تھا۔ جناب ضیاء شاہد کی کتاب بلا شبہ ایک دستاویز ہے اور مصنف نے کئی مواقوں پر لکھا ہے کہ اگر کسی کوان کی تحریروں پر شک ہے تو اسے اصل ثبوت مہیا کر دیے جائینگے ۔

حسین حقانی اور سیّد برادران دونوں بڑی پارٹیوں کے دل و دماغ رہ چکے ہیں۔ مواحد حسین کے متعلق لکھا ہے وہ تل ابیب کے بھی رابطہ کار رہ چکے ہیں اور آجکل وزیراعظم عمران خان کو اُن کے رسیاذہن کی اشد ضرورت پڑ گئی ہے ۔ پچھلے صفحات پر ہندوستان میں سیّد خاندان کی حکومت کا ذکر ہو گزرا ہے ۔

(جاری ہے)

اہل بیت اور خانوادہ رسول ﷺ کی عز ت و تکریم ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

امام غزالی  کہتے ہیں کہ حکمرانی کا پہلا حق سیّدوں کا ہے چونکہ انہیں دنیاوی مال ودولت ، شہرت ، نمودو نمائش سے کوئی غرض نہیں ہوتی ہے ۔ اگر سیّد نہ ہوں تو اُن جیسے اوصاف رکھنے والا شخص حکمران ہو سکتا ہے ۔ عہدحاضر کا مطالعہ کریں تو یہ اوصاف اہل مغرب نے اپنا لیے اور اپنے ایجنٹ ہماری صفوں میں پھیلا کر نظام زندگی تباہ کر دیا۔
ضیا ء شاہد نے لکھا ہے کہ بے نظیر اور نواز شریف دونوں ہی تاریخ سے نابلد تھے ۔

محترمہ کو کتاب بینی کا شو ق تھا اور انہوں نے اپنی سوانح حیات کے علاوہ بھی کتابیں لکھیں جن کا تعلق بین الاقوامی امور سے ہے۔میاں صاحب نے تو کبھی اخبار اور کتاب کو اپنے قریب ہی نہیں پھٹکنے دیا۔ انہیں ہر چیز خریدنے اور بیچنے کا ہنر آتا ہے۔ اُن کے والد محروم کے حوالے سے لکھا کہ انہوں نے میاں صاحب کی وزارت عظمیٰ پر تین ارب لگائے اور نوارب کا ٹارگٹ حاصل کرنے کا عندیہ دیا۔

 
کیا یہی جموریت ہے؟ قوم کو تین ارب میں ایک وزیراعظم دیا اور پھر اس حسین تحفے کے نو ارب وصول کر لیے۔ جو قوم بکنے اور نیلام ہونے پر خوش ہو اور اپنے سزا یافتہ لیڈر کو جلوس کی شکل میں جیل تک چھوڑ نے جائے وہ قوموں کی صف میں عزت کے مقام کی حقدار نہیں ہوسکتی ۔ ابن خلدون نے سچ کہا تھا کہ تاجر حکمران نہیں ہونا چاہیے ۔ کتنی بد قسمت ہے یہ قوم جسے قائداعظم  اور حسین شہید سہروردی کے بعد کوئی قائد ہی نہیں ملا اور نہ ہی اس قوم میں ایک سچے اور مخلص قائد کے چناؤ کی صلاحیت ہے۔

جس قوم کا پسندیدہ لیڈر ڈنڈا اور غنڈہ ہو اُسکا زندہ رہنا ایک معجزہ ہے ۔ بڑی سیاسی جماعتوں کو پاکستان کی اس حد تک ضرورت ہے کہ یہ ایک ایسی چراگاہ ہے جس کا کوئی محافظ نہیں ۔ عوام کی حیثیت بھیڑبکریوں جیسی ہے جنہیں لیڈر اپنی مرضی سے ہانکتے ہیں ۔علاقائی ،صو بائی اور چھوٹی سیاسی جماعتیں حصہ داری کی سیاست کرتی ہیں۔حصہ نہ ملے تو ملک توڑنے کی دھمکی دیکر علیحدگی کا بگل بجا دیتی ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کہ وزارت اعلیٰ سے لیکر وزارت عظمیٰ کی دوسری ٹرم تک فوج نے ہی میاں نواز شریف کی الیکشن مہم چلائی اور کامیابی سے ہمکنار کر وایا لیکن میاں صاحب نے احسان مندی کے بجائے اپنے ہر دور میں فوج کو پنچاب پولیس میں بدلنے اور من پسند جرنیلوں کو پروموٹ کرنے کی بھر پور کوششیں اور سازشیں کیں ۔ سوائے جنرل کیانی کے کسی بھی آرمی چیف نے سیاستدانوں کی کرپشن اور سازشی ذہن سے ہم آہنگی نہ دکھائی۔

جنرل پرویز مشرف بڑ ے اباجی کا چوائس تھے مگر انہیں بھٹو کی طرح اُسوقت مایوسی ہوئی جب اُن کے بیٹے اٹک قلعے میں اور جنرل پرویز مشرف ایوان اقتدار میں پہنچ گئے ۔وہ دانشور صحافی جو میاں صاحب کے قصیدے لکھتے تھے، جنرل مشرف کے داستان گو بن گئے اور مشرف کی ہر نئی اصطلاح کو غیبی صدا لکھ کر جنرل مشرف کے جہازمیں سیٹ بک کر والیتے تھے۔ان میں سے کچھ تھوڑے دنوں کے لیے جیل بھی گئے اور کچھ نے فوراً معافی مانگ لی اور دربار شاہی میں حاضری بھی لگوالی۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط