Episode 43 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 43 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
جیسا کہ بیان ہوا کہ درجہ و فضلیت خُدا کا انعام ہے ورنہ سب لوگ کسی ایک ہی عقیدے پر جمع ہو کر ذلت کی زندگی پر اکتفا کر لیتے ۔ اللہ چاہتا تو صرف منکرین ، منافقین اور مشرکین کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتا ، اُن کے دروازے ، کھڑکیاں ، دروازوں کے آگے بچھے پاؤں صاف کرنے والے رگ اور تخت سونے چاندی اور جواہرات کے بنا دیتا تو یہ لوگ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے اور ساری مخلوق انسانی ان کی طرف کھنچی چلی آتی اور اُن کی غلامی کو باعث فخر سمجھتی ۔

مگر اللہ نے مخلوق پر احسان کیا اور آخرت میں انہیں اس سے زیادہ سکون و آرام کی خوشخبری دی۔ 
قرآن کریم میں فرمان ربی ّہے کہ لوگ ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ تم کتنا عرصہ سالوں کی گنتی میں دنیا میں رہے تووہ کہینگے اصل حقیقت تو گنتی والے ہی جانتے ہیں مگر ایک دن یا پھر اُس سے کم یعنی سہ پہر سے سورج ڈھلنے تک۔

(جاری ہے)

سوچنے کی بات ہے کہ جب اصل زندگی اتنی ہی ہے تو پھر اس ظاہر ی زندگی کو اللہ کا احسان سمجھ کر اُس خالق و مالک کی نسبت سے اسے بہتر انداز میں کیوں نہ بسر کیا جائے۔

 
دنیا کی عام زندگی ہو یا کوئی عہدہ و رتبہ، جب تک انسان اپنی نسبت کا تعین نہ کرے وہ نہ تو معاشرے میں کوئی سودمند اور اچھا کردار ادا کر سکے گا اور نہ ہی زندگی کے کسی شعبے میں ریاست کی خدمت کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکے گا۔ حضرت ابراہیم نے اپنے چچا آزر اور اُس کی قوم سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں بیزار ہوا تمہارے کاموں سے ۔میں اُس کی راہ پر چلوں گا جس نے مجھے پیدا کیا ۔

پھر حضرت نوح  اور اُن کے بیٹے اور بیو ی اورحضر ت لوط اور اُن کی بیوی کی مثال دیکر کہا کہ دنیاوی محبت ، میاں بیو ی کے جذباتی لگاؤ اور اولاد سے نسبت کا تعلق تب ہی قائم رہ سکتا ہے جب اس عارضی نسبت پر اللہ سے نسبت اور لگاؤ کو ترجیح نہ دی جائے۔ اگر انسان اور ربّ کے رشتے کے درمیان کوئی چیز حائل ہو جائے تو انسان کو اوّل ربّ کی مد دسے اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر کامیابی نہ ہو تو اس عارضی اور ظاہری نسبت سے تعلق ختم کر کے صرف نسبت الہٰی پر ہی گامزن رہنا چاہیے ۔

سورة البقر ة آیت 124میں فرمایا :۔اور جب آزمایا ابراہیم کو اُس کے ربّ نے کئی باتوں میں اور پھر اُ س نے وہ پوری کیں۔ تب پھر فرمایا میں تجھ کو کرونگا سب لوگوں کا پیشوأ۔ بولا اور میری اولاد میں سے بھی، فرمایا نہیں پہنچے گا قرار ظالموں کو۔ یہودو انصاریٰ کو اس بات پر فخر تھا کہ وہ اولاد براہیم  ہیں ۔ مگراللہ نے پہلے ہی فیصلہ دے دیا کہ جو ظالم ہوگا ، مخلوق پر جبر کریگا اور میرے راستے سے ہٹ کر شیطان کی پیروی کریگا وہ اللہ کے فیض سے محروم رہیگا ۔

دین میں نسبت کا تعلق اعمال صالح اور اللہ کے احکامات کی پیروی میں ہے مگرآج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سیاست ، مذہب ، روحانیت ، علمیت اور مادی مراتب کے بچاریوں کا جم غفیر ہر سو اُمڈکر اللہ کے احکامات کا نہ صرف باغی ہے بلکہ کھلم کھلا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ گدی نشینوں ، پیروں اور درویشوں کے آستانے ہوں یا سیاسی شعبدہ بازوں کے گھرانے ،علمائے کرام ہوں یا ڈاکٹر ، پروفیسر ، اعلیٰ افسر یا حکمران۔

ہر طرف صاحبزادوں ، شہزادوں ،متولیوں ، سجادہ نشینوں اور سیاسی خانوادوں کے جانشینوں کی حکمرانی ہے اور عوام الناس بلا تحقیق و تخصیص ان کے سامنے سر بسجود ہیں اور ذلت و رسوائی کو آزادی ، جمہوریت سیاست اور روحانیت سمجھ کر بے تو قیری کا طوق گلے میں ڈالے اللہ سے شکوہ کناں ہیں ۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ائیر مارشل اصغر خان نے بھر پور تحریک چلائی تو بھٹومرحوم نے اصغر خان کو پیغام بھجوایا کہ بیوقوفی مت کرو اور میرے ساتھ مل جاؤ۔ یہ جذباتی اور بیوقوف قوم ہے ہم ملکر ساری زندگی ان پر حکمرانی کر سکتے ہیں۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط