Episode 46 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 46 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
شیخ سعدی فرماتے ہیں:۔
ابر اگر آب زندگی بارد 
ہر گز از شاخ بید برنخوری 
با فرد مایہ روزگا ر مبر 
کز ئنی بور یا شکر نخور 
بادل اگر آب حیات بھی برسائے تو بید کی شاخ سے تو ہر گز پھل نہیں کھائے گا ۔ کسی کمینے شخص کے ساتھ زندگی بسر نہ کر کیونکہ پٹ سن سے تو کبھی شکر نہیں کھا سکتا۔

 
بابدان یار گشت ہمسر لوط 
خاندان بنبوتش گم شد 
سنگ اصحاب کہف روزی چند 
بی نیکان گرفت و مردم شد 
حضرت لوط کی بیوی بُروں کی صحبت میں چلی گئی اور اُس کی نبوت کا خاندان ختم ہوگیا۔

(جاری ہے)

اصحاب کہف کے کتے نے چند روز نیکوں کی صحبت اختیار کی اورا ُسکا شمار انسانو ں میں ہو گیا۔

 
عاقبت گرگ زادہ گرگ شود 
گرچہ با آدمی بزرگ شود 
بھیڑیے کا بچہ بھیڑیا ہی رہتا ہے چاہے اسکی پرورش انسانوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ دیکھا جائے تو آج ایسے بھیڑیوں کی ہرطرف برمار ہے مگر بادشاہ بے اختیار اور مصلحت کوش ہے ۔ وزیر کم عقل ،کرپٹ، کم فہم اور کھلنڈرے ہیں اور حکومتی مشینری کو اورہا لنگ کی ضرورت ہے ۔

مگر کوئی مکینک میسر ہی نہیں۔ حکومتی اہلکاربد عنوان ، رشوت خور، کام چور اور باغی ہیں۔ ستر سالوں سے لوٹ مار،رشوت خوری، اقرباء پروری ، دھونس دھاندلی ، اور متکبرانہ روش کا سد باب کرنے کا کسی کو خیال ہی نہیں ۔ جو لوگ پارسائی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ ہی بڑے پاجی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ ملک لوٹنے اور قوم کو قرض ، غربت و امراض اور بھوک کے دلدل میں دھنسا نے والے خاندان کس دیدہ دلیری سے شاہی سواریوں پر بیٹھ کر عدالتوں میں آتے ہیں اور پھر عدالتوں کے باہر اپنی عدالت لگا کر عدلیہ کے پرخنچے اڑاتے ہیں ۔

میڈیا اُن پر صدقے واری جاتا ہے اور ان متبرک ہستیوں کے دیدار کو ترستا اُن کی راہ میں بچھ جاتا ہے ۔اخبار اُن کی رنگین تصویریں صفحہ اوّل پرچھاپتے ہیں اور عوام کا جم غفیر ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اُمڈآتا ہے ۔ سرشام ملک کے نامور صحافی اور دانشور اُن کی حمائت میں قصیدہ گوئی کرتے ہیں اور اُن کے شیریں اقوال و گفتار کو قومی بیانیہ کہہ کر ایک مفلوک الحال ، مدہوش او ر بقول میکاولی کے غرض مند قوم کا مذاق اڑاتے ہیں ۔

لیڈر سے عوامی محبت اور کالم نگار سے لیڈروں کی عوامی خدمت کے عنوان سے قلم نگاری کرتے ہیں۔ 
سعدی  لکھتے ہیں کہ نوشیروان عادل جنگل میں شکار کے لیے گیا اورشکار کے کباب بنائے گئے مگر نمک نہ تھا ۔ ایک غلام قریبی بستی میں نمک لینے گیا تو نوشیروان نے حکم دیا کہ قیمت دے کر نمک لیا جائے تاکہ رسم نہ پڑ جائے اور گاؤں تباہ نہ ہو جائے ۔ لوگوں نے کہا اسقدر کم مقدار سے کیافرق پڑھتا ہے۔

کہاظلم کی بنیاد شروع میں دنیا میں تھوڑی سی ہوئی مگر کسی نے دھیان نہ دیا اور نہ ہی ازالہ کیا جوآیا اُس نے اضافہ کیا یہاں تک کے ظلم انتہا کو پہنچ گیا۔ 
اگر زباغ رعیّت ملک خورد سیبی
برآورند غلامان اودرخت از بیخ 
بہ پنج بیضہ ، کہ سلطان ستم روادارد 
زنند لشکر یانش ہزار مرغ بسیخ 
اگر بادشاہ رعایا کے باغ سے سیب کھائے تو اُس کے غلام سارے درخت اکھاڑ ڈالیں گے ۔ اگر بادشاہ پانچ انڈوں کے لیے ظلم کو درست سمجھتا ہے تو سپاہی ہزار مرغوں کو سیخوں پر چڑھا لینگے ۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط