Episode 58 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 58 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
عمران خان نیازی 

کسی صاحب نظر سے پوچھا گیا کہ ولّی کون ہے ۔ فرمایا جو بیج دیکھ کر بتا دے کہ اس میں کتنی قوت ہے ۔ اس کا پیڑ کتنا مضبوط اور پھل کتنا شیریں ہوگا۔ اس کی نسل کتنے سال اور صدیاں قائم رہے گی اور موسموں کی شدت برداشت کر ے گی۔ پھر فرمایا یہ ولّی کا نا سوتی علم ہے۔ یہ بات ایک سائنسدان ، جوگی اور جوتشی بھی بتا سکتا ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ ولّی اس علم کا پر چار نہیں کرتا اور نہ ہی ایسے علم پر اپنی ولائیت قائم کرتا ہے۔ ہر اچھے کسان کو بیجوں کی پہچان ہوتی ہے۔ وہ مٹی سونگھ کر بتا سکتا ہے کہ زمین کی خاصیت اور زرخیزی کیا ہے۔ قرآن کریم کی سورة الراعد میں فرمان ربیّ ہے کہ اللہ جانتا ہے جوہر مادہ اپنے پیٹ میں رکھتی۔

(جاری ہے)

جو پیٹ سکڑتے اور بڑھتے ہیں اللہ کو ہرچیز کا اندازہ ہے۔

زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے عمل میں بیان ہوا کہ اللہ نے زمین کے پیٹ میں تمہارے لیے خوراکیں اور خزانے محفوظ کر دیے ہیں ان سے فائد ہ اٹھاؤ اور ربّ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن جاؤ۔
ہر شخص اپنی بقا و سلامتی کے لیے محنت کرتا ہے اور اپنی علمی، عقلی اور تخلیقی کاوشوں سے زمین کے پیٹ میں چھپے خزانے نکال کر اُن سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔ قرآن کریم میں لوہے کا ذکر ہے کہ اس میں انسان کے لیے بڑے فائدے ہیں۔

اللہ کسی شخص یا قوم کو انگلی پکڑ کر نہیں بتلاتا کہ کس جگہ کون سا خزانہ رکھا ہے۔ فرمایا تم زمین کی وسعتوں میں اُتر واور رزق تلاش کرو ۔ وہ افراد اور قومیں جو علم ، عقل اور ارادے سے یہ عمل کرتی ہیں وہ خوشحال زندگیاں بسر کرتی ہیں اور جو سستی ، کاہلی اور کام چوری کی مرتکب ہوتی ہیں وہ غلاما نہ زندگیاں بسر کرتیں اور صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔

 
اللہ کے نیک بندے اللہ کے حکم کے تابع افراد اور قوموں کی رہنمائی کرتے ہیں جن کا مقصد انسان کو صراط مستقیم پر قائم رکھنا اور آخرت میں جنت کے حصول کے لیے رہنمائی کرنا ہے۔ دور حاضر میں ایک طبقہ ناسوتی علم کے حامل علماء سے منسوب واقعات کی آڑ میں سیاست اور جمہوریت کا پرچار کرتا ہے اوردوسرا اُن کا تمسخر اڑاتا ہے۔ سیاستدان اور حکمران اپنی علمی ، عقلی اور سیاسی کمزوریوں اور بد عملی کے باوجود بابوں ، آستانوں ، گدی نشینوں اور عاملوں سے بھی ایک تعلق قائم رکھتے ہیں جواُن کے بَد ارادوں کی تکمیل میں معاون ومدد گارثابت ہو سکیں۔

اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے معزز ممبران کس پیٹ اور کس مٹی کے بیج ہیں اور کس پیڑ کے پھل ہیں۔ ان کی خاصیت کیا ہے اور مخلوق کے لیے کتنے فائدہ مند ہیں۔ باوجود اس کے بیس کروڑ کلمہ گو مسلمان اپنے عقیدے اور ایمان کی نفی کرتے ان کی امامت کو تسلیم کرتے ہوئے غربت ، افلاس اور ذلت کی زندگی جینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ درباروں کے متولی ، علمائے کرام ، بظاہر صوفی اور درویش اور گدی نشین پیر، پیرزادے اور صاحبزادے ان کے چندوں ، تحفوں اور عنایات کے محتاج ہیں اور اُن کی سیاست اور بدعملی کے لیے اللہ کے حضور سجد ہ ریز اور دعاگو ہیں۔

قرآن کریم میں فرمان ربی ّہے کہ یہ لوگ اللہ سے ایسے ہی بد دعائیں مانگتے ہیں جیسے وہ دعائیں مانگتے ہیں پھر فرمایا جو کچھ تم رات کے اندھیرے اور دن کی روشنی میں کرتے ہو اللہ سب جانتا ہے ،اللہ نے تم پر نگہبان مقرر کر رکھے ہیں۔ تفسیر میں ہے کہ جو کچھ انسان دن کی روشنی اوررات کی تاریکی میں کرتا ہے کرام الکاتبین اسے لکھتے اور بعض نگہبان فرشتے اُن کے ارادوں میں معاونت اور حفاظت کرتے ہیں۔

ہم اپنی روزمرہ مصروفیات میں دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے مقامات پر ہوتے ہیں جہاں سے بوجہ وہ چند لمحوں کے لیے ہٹتے ہیں تووہاں کوئی بڑا حادثہ ہو جاتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ وہ کیسے محفوظ ہو گیا ۔ ایک افغان عورت نے بتایا کہ رو سو افغان جنگ کے دوران سویت افواج قتل عام کر رہی تھیں۔ہمارا قافلہ کابل سے گردیز کی طرف جارہا تھا ۔گہرے بادل چھائے تھے اور وادی زرمت میں دبیز دھند کی وجہ سے سویت ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کی پروازیں رُک چکی تھیں۔

ہم اس اندھیرے کی آڑ میں وادی کے درمیان غزنی سے گردیز جانے والی سٹرک پر پہنچے تو ایک دم اُجالا ہوگیا۔ آسمان صاف ہوتے ہی دس گن شپ ہیلی کاپٹر خوست کی جانب سے ہمارے سروں پرآگئے۔ہم جہاں تھے وہی ساکت ہو کر موت کا انتظا رکرنے لگے کہ ہیلی کاپٹروں نے رخ بدل لیا اور غزنی کی طرف چلے گئے ۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط