Episode 62 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 62 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
ایک انداز ے کے مطابق ملک میں ہرشعبہ زندگی میں چالیس لوگ ایسے ہیں جو اس ملک کے اصل مالک ہیں اور اُن کی مرضی کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ یہ لوگ الیکشن پر پیسہ لگاتے ہیں اور الیکشن جیت کر اپنی مرضی کی حکومت عوام پر مسلط کر کے ملکی و سائل لوٹنے کا لائسنس حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کی میڈیا ٹیمیں اور ان کی ایماء پر چلنے والے ملکی اور غیر ملکی میڈیا ہاؤس ہر دور میں پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنے کی دوڑ میں رہتے ہیں تاکہ عوام کی توجہ ہٹا کر اپنا مجرمانہ فعل جاری رکھ سکیں۔

سٹاک مارکیٹ ہو یا غلہ منڈ ی ، انڈوں اور مرغیوں کا کاروبار ہو یا پھلوں اور سبزیوں کے نرخ ،ان کی مرضی سے ہی قیمتیں اوپر نیچے ہوتی ہیں اور چلتے ہوئے منافع بخش کاروبار تباہ ہو جاتے ہیں۔ملکی زرعی پیداوار منڈیوں سے غائب ہو جاتی ہے اور غیر ملکی پھل سبزیاں ، انڈے ، گوشت ، مچھلی او ردیگر اشیاء سے دکانیں سج جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

معیشت کا زوال دیکھ جناب عبداللہ فرشی کا قول پھر یاد آجاتا ہے کہ وہ جب تاجر حکمران بن جائے تو وہ سب سے پہلے تاجروں کا استحصال کرتا ہے ۔

پچھلے دس سالوں میں اس ملک کے ساتھ یہی ہوا اور مقامی پیداوار پر قد غن لگ گئی ۔ بلوچستان کے پیاز اور کاٹن سے پنجاب ، سندھ اور پختونخوا کے تاجر واقف ہی نہیں۔ ساری پیداوار سمگل ہو کر براستہ افغانستان اور ایران سنٹرل ایشیا ء اور مشرق وسطیٰ میں چلی جاتی ہے۔ مقامی کسان ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور پانی کی کمی کے باعث بھر پور محنت کے باوجود اپنی پیداوار کی انتہائی کم قیمت حاصل کرتا ہے۔

 
یہ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ سارے پاکستان کا المیہ ہے ۔ مزدوری افغان کرتے ہیں اور کھیتی باڑی کرنے والا چھوٹا کسان اپنی پیداوار سے اپنے بچوں کا پیٹ بھی نہیں پال سکتا ۔ سیاستدان بڑے بڑے کاروبار تو کرتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے ۔وہ ٹیکس دیں بھی کیوں، جب ملک اُن کی جاگیر اور عوام اُن کی غلام ہے تو ٹیکس بھی اُن کا اپنا ہی حق ہے۔

قرضوں کی تاریخ پر نظرڈالیں تو ایوب خان سے لے کر عمران خان تک جتنے قرضے زرداری اور نوازشریف نے لیے ،ملکی معاشی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ پاکستان نے 1958ئمیں پہلی بار آئی ایم ایف سے قرضہ لیا جب ڈالر تین روپے کا تھا ۔1965ئکی جنگ کے بعد ڈالر سات روپے کا ہوا مگر ملک میں ترقی کا گراف بھی بہت اونچا ہوا۔ پاکستان جرمنی، کوریااور دیگر ملکوں کو قرض دینے والے کنسوریشم میں شامل تھا۔

ایوب خان کے دور میں منگلا اور تربیلا ڈیموں کی تعمیر ہوئی ، نہری نظام کو بہتر کیا گیا اور نہروں اور دریاؤں پر بیراج تعمیر کر کے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا گیا۔ 
بھٹو صاحب اقتدار میں آئے تو انکا نعرہ ”روٹی ، کپڑا، مکان اور اسلامی شو شلزم“ تھا۔ بھٹو نے ایوب خان کی مخالفت کی سزا ساری قوم کو دی اور کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ترک کر دیا۔

ایوب خان کے آخری سالوں تک کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا پچیس فیصد کام مکمل ہو چکا تھا۔ مگر عوام کو روٹی ، کپڑا اور مکان دینے والے قائدعوام نے اپنے ہی وعدے اور نعرے کی جڑیں کاٹ کر عوام کو چکمہ دیا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو ، سانحہ مشرقی پاکستان کے نتیجے میں برسراقتدار آئے تو ملکی حالات اچھے نہ تھے۔ دباؤکے باوجود 1965ئکی طرح نہ تو قیمتیں بڑھیں اور نہ ہی ملک پر قرضوں کا بوجھ ڈالا گیا ۔

بھٹو دور میں معمولی قرضے لیکر معیشت کو سنبھالا دیا گیا اور یہ قرضے جلد ہی واپس کر دیے گئے ۔ اسی طرح جنرل ضیا الحق کے دور میں دو ارب ڈالٹر قرض لیا گیا اور ضیاء الحق کے دور میں ہی قرضہ واپس کر دیا گیا۔ بھٹو کے دور میں شروع ہونے والے ایٹمی پروگروام کو جنرل ضیاء الحق نے قومی فریضہ سمجھ کر جاری رکھا اور کسی حد تک مکمل بھی کر لیا۔ براس ٹیک فوجی مشقوں کے دوران جنرل ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارا لیکر بھارت کا مختصر دور ہ کیا اور بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے کان میں یہ بات ڈال دی کہ یہ 1971ئنہیں۔ہماری ایٹمی صلاحیت تم سے بڑھ کر ہے اس لیے بہتر ہے کہ فوجیں ہماری سرحد سے ہٹا کر عزت سے واپس چلے جاؤ۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط