Episode 64 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 64 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
 جناب زرداری کے عہد حکمرانی میں اٹھار ویں آئینی ترمیم منظور ہوئی جس کا بڑا مقصد سندھ میں اپنے اثاثے بچانا اور مرکز کو کمزور کرنا تھا۔ جنا ب زرداری نے سندھ کو اپنے مقصد اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے محفوظ بنا کر مرکز کو مفلوج کر دیا۔ میاں برادران نے اس آئینی ترمیمی میں بھر پور شرکت کی اور تخت لاہور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کر تے ہوئے آدھا ملکی بجٹ صرف لاہور پر لگا دیا۔

میاں صاحب نے زرداری سے بڑھ کر دولت کمائی اور بیرون ملک جائیدادوں کا انبار لگا دیا۔ میاں برادران کے سنہرے جمہوری دور میں مزید قرضے لیکر ملک کو تریانوے ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ عوام نے اسی دور میں سکوک بانڈ کا بھی نام سنا ۔ ن لیگ کے دیہاتی ورکر سکوک بانڈ کا نام سنکر خوش ہوتے ۔وہ سمجھتے تھے کہ جناب اسحاق ڈار نے ایک ارب ڈالر کے پرائز بانڈ خرید کر میاں نواز کی جیب میں رکھ چھوڑ ے ہیں جن پر کھربوں ڈالر کا انعام نکلنے والا ہے۔

(جاری ہے)

انہیں کیا پتہ تھا کہ ان سکوک بانڈ کے بدلے میں ہماری موٹروے ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشن کی عمارات اور اسلام آباد میں تقریباً ساری سرکاری عمارتیں گروی رکھ دی گئیں ہیں۔ 
کسی تجزیہ نگار اور دانشور نے کبھی یہ سوال نہیں اُٹھایا کہ آخر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے پاس کونسی گیدڑ سنگی تھی جس کی وجہ سے ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی ادارے پاکستان کو دھڑا دھڑ قرضے دے رہے تھے جبکہ انہیں پتہ تھا کہ پاکستان کی صنعتی ترقی رک چکی ہے ۔

سٹیل مل ، ریلوے ، واپڈا اور پی آئے اے جیسے ادارے خسارے میں جار ہے ہیں ، دونوں حکمران خاندانوں نے اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کر رکھے ہیں اور ملک بیرونی امداد کی آکسیجن پر چل رہا ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں ” نوفری لنچ “کی اصطلاح سے کون واقف نہیں ۔ شاید ہمارے خود ساختہ دانشور اورتجزیہ نگار اتنی ذہنی صلاحیت نہیں رکھتے اور صر ف طوطا کہانی بیان کرنے کے ماہر ہیں یا پھر وہ خود اس ساز ش کا حصہ ہیں۔

کوئی تو وجہ تھی کہ میاں برادران نے کشمیر کے مسئلہ پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی اور ملک دشمن اور پاکستانیوں کے قاتل کلبوشن یادو کو باعزت بَری کروانے عالمی عدالت انصاف میں جا پہنچے ۔ جندال کی خفیہ آمد اور افغانستان کی دہشتگرد کاروائیوں پر خاموشی اور مریم میڈیا کے ذریعے فوج پر حملے کس کے اشارے پر ہو رہے تھے۔ 
اس سے پہلے جناب زرداری نے بھارتی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کا کہا کہ پاکستان نیوکلیر سٹرائیک میں کبھی پہل نہیں کریگا ۔

کسی دانشور صحافی نے کبھی جناب زرداری سے نہیں پوچھا کہ اگر بھارت اپنی پوری قوت سے پاکستا ن پر چڑھ دوڑے تو پھر پاکستان کیا کریگا۔ اُن کے سسر اور پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو کا فرما ن تھا کہ ہم گھاس کھا کر گزارہ کر لینگے مگر ایٹم بم بنانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گئے اور کشمیر کے لیے سوسال تک جنگ لڑینگے ۔ جناب زرداری نے اپنے دوسرے بیان میں فرمایا کہ مسئلہ کشمیر کو تیس سال کے لیے منجمد کر دینا چاہیے اور یہ بیان عین بھارتی خواہش سے ہم آہنگ تھا۔

 
ڈان لیک اور ملتان میں ڈان کے نمائندے کو میاں نواز شریف کے انٹرویو سے صاف اشارہ ملتا تھا کہ اب اِن دونوں سیاسی جماعتوں کا اگلا حدف فوج اور پاکستان کا نیو کلیئر پروگرام ہے۔ اس سلسلے میں مریم نواز کے ماتحت چلنے والا میڈیا سیل اور اُن کے چاہنے والے بلا گرز اور سوشل میڈیا آپریٹر پاکستان ، نظریہ پاکستان ، اسلام ، افواج پاکستان اور پاکستانی نیوکلیئر پروگرام پر کھل کر حملہ آور ہوچکے تھے۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط