Episode 68 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 68 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
عمران خان نے اپنی توقع کے برعکس کامیابی حاصل کی اور ان دیکھی قوت نے اسے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھادیا۔ یہ ان دیکھی قوت و ہ خلائی مخلوق نہیں جس کا پرچار اپوزیشن کرتی ہے۔ 
” انوار برکا تیہ “ کے منصف جناب مفتی معین الدین برکاتی جناب مولوی برکت اللہ جھاگوی  کے متعلق لکھتے ہیں کے آپ حضرت مولانا عبدالرحمن چھوہروی سے ملنے ہری پور ہزارہ گئے ۔

یہ الیکشن کا دور تھا اور ایوب خان مادر ملت کے مقابلے پر تھا ۔ہری پور سمیت سارے پاکستان میں ایوب خان کی پوزیشن کمزور تھی اور ہری پور شہر میں ہر طرف مادر ملت کے پرچموں کی بہار تھی۔ ملاقات پر حضرت مولانا عبدالرحمن چھوہروی نے جو خود صاحب کرامات ولّی اور سابق وزیراعلیٰ (کے پی کے ) پیر صابر شاہ کے والد کے مرشد تھے نے حضرت حافظ برکت اللہ صاحب سے گزارش کی کہ وہ ایوب خان کے حق میں دعا کریں۔

(جاری ہے)

حافظ صاحب نے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مادر ملت کے حامی ہیں اور اُن کی جیت اس ملک کے مفاد میں ہوگی۔ مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ جناب حضرت عبدالرحمن صاحب ساری رات حافظ صاحب  کے پاس بیٹھے رہے اور ایوب خان کے لیے دعا کی استدعا کرتے رہے۔ صبح رخصت سے پہلے آپ  نے فرمایا کہ ایوب خان جیت تو جائیگا مگر ذلت و رسوئی سے ایوان صدر سے رخصت ہوگا۔

اس کی جیت ملک کی بربادی کا باعث بنے گی اور اسکا خاندان کبھی ملکی مفاد کی نہ سوچے گا۔ ایوب خان اور پاکستان کیساتھ کیا ہوا اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں۔ ایک اور درویش نے بھی اسی طرح کی پشین گوئی کرتے ہوئے ایوبی دور کے عروج کے زمانے میں قدرت اللہ شہاب کے نام خط میں لکھا کہ ایوب خان کی اولاد ، اُس کے ساتھی جنرل یحییٰ ، جنرل حمید، جنرل گل حسن وزیر خزانہ شعیب اور وزیر خارجہ بھٹو اور ایوب خان کے سیاسی فیصلے اُس کی رسوائی اور ملک کی بربادی کا باعث بنیں گے ۔

درویش نے یہ خط مدینہ شریف سے لکھا جس کا ذکر ممتاز مفتی نے بھی کیا۔ درویش نے لکھا کہ اگر ایوب خان اپنا آپ اور ملک بچانا چاہتا ہے تو مجیب الرحمن کو اگر تلہ ساز کیس میں سزا دے ، مادر ملت سے اچھے تعلقات استوار کرے اور دو سال بعد اُن کے حق میں دستبردار ہو کر حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے ۔بھٹو اور شعیب کو کابینہ سے اور جرنیلوں کو فوج سے نکال دے اور اپنے بیٹوں کی کرپشن اورہلڑ بازی کو روکے۔

 
عمران خان بھی ایسی ہی قوت کے سہارے اقتدار میں تو آگیا ہے مگروہ اسکے لیے پوری طر ح تیار نہ تھا۔اقتدار میں آنے سے پہلے فاٹا، فارن پالیسی ، معیشت ، عدلیہ اور احتساب کے حوالے سے اُس کے بیانات اور تحریریں ثابت کرتی ہیں کہ اُس کا ٹیم ورک ادھورا اور تیاری نا مکمل تھی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، نڈر وبیباک تو ہے مگر بڑی حدتک تاریخ سے نابلد ہے۔

وہ قبائلی رسم ورواج سے ہٹ کر سوچتا ہی نہیں۔ وہ قبائلی نفسیات کا تجزیہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ خود قبائل اپنی روایات کو دفن کر چکے ہیں اور اپنی روایات کی آڑ میں مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اقوام ، قبیلے ، خاندان ، سیاسی و سماجی قوتیں اور ممالک جو ابتدأ ہی سے پاکستان کے دشمن تھے قبائلی روایات کی آڑ میں پاکستان پر حملہ آور ہیں۔ بد قسمتی سے اپوزیشن جماعتوں کے سربراہ اور سیاستدان غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بن چکے ہیں اور پاکستان کی محافظ قوتوں اور نظریات پر کھل کر حملہ آور ہیں۔ عمران کی ٹیم ملکی اور غیر ملکی قوتوں کے پراپیگنڈے کا موثر جواب دینے کی صلاحت نہیں رکھتی اور نہ ہی باہمی اتحاد کا مظاہرہ کررہی ہے۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط