Episode 72 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 72 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
 پیغام ختم ہونے سے پہلے ہی نواب محمد خان جوگیزئی نے مسٹر جیفر ے کو روک دیا اور فرمایا یہ پیغام ہم پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ ہمیں مزید وقت کی ضرورت نہیں ۔ شاہی جرگہ پاکستان کے حق میں فیصلہ کر چکا ہے۔ ہاں اگر کسی سردار کو اعتراض ہے تو وہ ایک طرف کھڑا ہو جائے ۔ سردار دودا خان مری نے پاکستان کے حق میں تقریر کی تو چار سرداروں نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ ہم خان آف قلات سے وعدہ کر چکے ہیں ۔

اس پر میر جعفر خان جمالی اور سردار محمد خان جوگیزئی نے کہا کہ خان آف قلات پہلے ہی پاکستان کے حق میں فیصلہ کر چکے ہیں ۔ یہ سنکر چاروں سردار اپنی نشتوں پر بیٹھ گئے۔ قاضی محمد عیسیٰ، عبدالغفور درانی ، حاجی جہانگیر خان اور غلام محمد ترین نے چاروں سرداروں کو گلے لگایا اور مبارک باددی۔

(جاری ہے)

ٹاؤن ہال کے باہر خبر پہنچی تو طلباء تنظیموں نے ملکر پاکستان زندہ باد اور قائداعظم  زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند کیے ۔

ہال تالیوں سے گونج اٹھا تو مسٹر جیفر ے نے بددلی سے کہا، میں ابھی وائسرائے ہند کو تار بھجوا دیتا ہوں کہ بلوچستان کے عوام اور شاہی جرگے نے پاکستان کے حق میں فیصلہ کر دیا ہے۔ 
اس عظیم فیصلے کے باوجود سازشیں چلتی رہیں اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بلوچستان میں بغاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ خان آف قلات کے بھائی پرنس عبدالکریم نے 1948ءء میں پہلی بغاوت کی اور موجودہ دور میں بلوچستان لبریشن آرمی جسے افغانستان ، برطانیہ ، بھارت اور امریکہ سمیت دنیا بھر کی پاکستان مخالف قوتوں کی حمایت حاصل ہے تحریک طالبان پاکستان سے ملکر بلوچستان میں آگ اور خون کا کھیل،کھیل رہی ہیں۔

 
مرحومہ کلثوم سیف اللہ خان ( ہلال امتیاز ) اپنی سوانح ” میری تنہا پرواز“ میں صوبہ سرحد کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ قیام پاکستان سے پہلے صوبہ سرحد میں ایک تاریخی ریفرنڈم ہواجس میں صوبہ سرحد کے عوام نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اس ریفرنڈم میں مسلمان خواتین نے پورے ملی جوش و جذبے سے حصہ لیا۔

ایک طرف ہم یعنی مسلم لیگی تھے اور دوسری جانب سرحدی گاندھی باچاخان کی پارٹی تھی۔ ریفرنڈم کے دن ایک موقع پر ہم اور باچا خان کا خاندان آمنے سامنے تھے۔ ہمارے کیمپ سے مسلم لیگ زندہ باد اور قائداعظم  زندہ باد کے نعرے مسلسل بلند ہو رہے تھے اور باچا خان کے کیمپ میں مکمل خاموشی اور مایوسی تھی۔ باچا خان کے کیمپ میں زبیدہ نام کی ایک لڑکی تھی۔

اُس نے میری گوری چٹی سہیلی میمونہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم تو کسی انگریز کی بیٹی لگتی ہو ۔ میمونہ نے غضب ناک ہو کر کہا، میں تو صرف انگریز کی بیٹی لگتی ہوں تم تو حقیقت میں ہندوؤں کی بیٹیاں ہو۔ میمونہ نے اس پربھی صبر نہ کیا اور شیر نی کی طرح جُست لگا کر زبیدہ کو دبوچ لیا۔ میمونہ نے اُس پرتھپڑوں کی بارش کر دی تو مشکل سے زبیدہ کو بچایا گیا ۔ میرے والد نے باچاخان سے درخواست کی کہ ہم سب ووٹ ڈالنے آئے ہیں لڑنے نہیں ۔ آپ اپنے کیمپ کے بچوں اور خواتین کو کنٹرول کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہ ہو۔ باچا خان نے میرے والد سے اتفاق کیا اور باقی وقت اچھا گزر گیا۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط