Episode 81 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 81 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
امام غزالی  لکھتے ہیں کہ صنعتوں میں افضل مقام اصولوں کا ہے اور اصولوں میں افضل درجہ سیاست کا ہے۔ جو اُنس و محبت اور مل جل کر رہنے کا ذریعہ ہے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے کو وہ کمال حاصل ہونا چاہیے جو دوسرے شعبوں میں مطلوب نہیں ہوتا ۔ اسی لیے کہ دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اس شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے تابعدار اور خدمت گزار ہیں۔ سیاستدان کا کام مخلوق کی اصلاح کرنا اور دنیا و آخرت میں سیدھی راہ پر چلانا ہے۔

آپ نے سیاست کے چار درجے بیان کیے ہیں جن کے علاوہ کسی سیاست کی گنجائش نہیں ۔ اگر اس دائرے سے باہر سیاست کا کوئی وجود ہے تو وہ شیطانی چال ، ہوس پرستی، حرص اقتدار اور مخلوق خدا کو راہ حق سے ہٹانے کا شیطانی حربہ ہے جسے سیاست کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

(جاری ہے)

امام غزالی  کے نزدیک سیاست کا پہلا درجہ انبیاء کا، دوسرا خلفاء کا ، تیسرا علمأکا اور چوتھا درجہ واعظوں کا ہے۔

لکھتے ہیں کہ نبوت کے بعد اشرف درجے کی سیاست یہ ہے کہ لوگوں کوعلم سے فائدہ پہنچایا جائے ، اُن کے دلوں کو بُری عادتوں سے بچایا جائے، حسن اخلاق اور سعادت مندی کی طرف رہنمائی کی جائے۔ کیمیائے سعاد ت میں لکھتے ہیں کہ ان اصولوں کی بنا پر ریاست کا قیام اور انسانی حکمرانی اللہ کی بادشاہی کا نمونہ ہے جس میں شروفساد کا شائبہ تک نہیں رہتا ۔

جس طرح فرشتے اللہ کی سلطنت (کائنات ) کا نظام اُس کے حکم و اراد ے سے چلاتے ہیں اُسی طرح علم ، عدل ، اخلاق اور کامل دینی ظاہری وباطنی اصولوں کے تحت عادل بادشاہ اپنے وزیر وں کی مدد سے دنیاوی حکومت اور ریاست کا نظام درست رکھتا ہے۔ دنیا کا سارا نظام تین چیزوں پر استوار ہے۔ اوّل نباتات ، دوئم جمادات اور سوئم حیوانات۔ قرآن کریم میں ربّ تعالیٰ نے کئی بار ذکر کیا کہ میں نے زمین کے پیٹ میں تمہارے لیے خوراکیں اور خزانے رکھ دیے ہیں ۔

انہیں تلاش کرو ،ان سے فائدہ حاصل کرو اور میرا شکر بجالاؤ۔ قرآن پاک میں چوپائیوں، باغات اور کھیت و کھلیان کے فائدوں کا بھی مفصل ذکر ہے۔
ریاست مدینہ کا قیام ان ہی اصولوں پر اللہ کے محبوب بندے اور آخری نبی ﷺ کے ہاتھوں ہوا جس کی ابتدأمدینے کے اُس حصے میں ہوئی جہاں مسلمان آباد تھے ۔ اس ریاست کا نمونہ اللہ کی بادشاہی سے مطابقت رکھتا تھا اور آپ ﷺکے وزیر اورمشیر وہ کامل انسان تھے جن کا ذکر آسمانوں پر ہوتا تھا اور جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل تھے۔

جس ریاست مدینہ کی بنیاد آپ ﷺ نے رکھی وہ دس سالوں میں جب آپ ﷺ کی رحلت ہوئی تو ایک عظیم اسلامی سلطنت تھی۔ تاریخ کے مطابق آپ ﷺ کے وصال کے وقت اسلامی ریاست کا کل رقبہ تیس لاکھ مربع میل تھا جس کا دارالخلافہ مدینہ تھا۔ اس ریاست کے بہت سے علاقے مسلمانوں کے حسن و سلوک اور مبلغین کی توجہ کے باعث اسلامی ریاست کا حصہ بنے اور کچھ جہاد کے ذریعے ریاست میں شامل ہوئے۔ آپ ﷺ کے دور حکومت میں غزوات وسریات کے دوران تقریباً دو سو چالیس مسلمان شہید ہوئے جن میں سب سے زیادہ ستر صحابی رسول ﷺ جنگ اُحد میں شہید ہوئے۔ غزوات و سریات میں غیر مسلموں کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تین سو سے کم لوگ مارے گئے جن میں وہ زخمی بھی شامل ہیں جو زخموں کی وجہ سے بعد میں مر گئے۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط