Episode 83 - Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 83 - سات سو سال بعد (عمران خان نیازی تاریخ کے آئینے میں) - انوار ایوب راجہ

Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) in Urdu
آپ لکھتے ہیں کہ حکومتیں لوگوں کے خیالات کو گمراہ کرتی ہیں۔ اخلاق بگاڑتی ہیں، انسانی قوتوں ، صلاحیتوں اور قابلیتوں کا غلط استعمال کرتی ہیں۔ ظلم و ستم اور بد افعالیوں کو پھیلاتی ہیں اور خلق خدا کے عمل وکردار کو تباہ کرتی ہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ عوام الناس کی جاہلیت ، لاعلمی ، دین سے دوری اور فرقہ پرستی ہے۔ جہالت کی وجہ سے لوگ اختیارات کی کنجیاں غلط ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں اور ایسے ظالم ، غاصب ، جاہل اور شیطانی صفات کے حامل کنجی بردار (حکمران ) انہیں لوٹ کر بد حال اور کنگال کردیتے ہیں۔

جب اختیارات ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہیں گے توریاست اور معاشرے میں اصلاح وفلاح ممکن ہی نہیں ۔ لکھتے ہیں کہ ایک فرعون کو ہٹا کر دوسرے فرعون کو مسلط کرنا جبر سے عذاب کی طرف منتقل ہونے کے مترادف ہے۔

(جاری ہے)

جناب مودودی کے خطبات میں اُن ہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا ذکر امام غزالی  اور ابن خلدون نے کیا ۔عملی سیاست میں دیکھیں تو مذہبی سیاسی جماعتیں بھی بد عملی کی سیاست میں حصہ دار ہیں۔

اقتدار و اختیارات کی جدوجہد میں کبھی فرعون اور کبھی نمرود کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ وہ حسین  کانوحہ تو پڑھتی ہیں مگر ووٹ یزید کو دیتی ہیں۔ امیر تیمور کے نام اُس کے مرشد حضرت میر سید  نے خط میں لکھا !اے ابو منصور تیمور واضع ہو کہ کارخانہ سلطنت بھی خدائی سلطنت کا نمونہ ہے۔ جس طرح خدائی سلطنت کے ارکان اپنے اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے مرتبہ سے تجاوز نہیں کر تے اور ہر وقت حکم الہٰی کے منتظر رہتے ہیں ۔

اسی طرح تمہاری اس دنیاوی سلطنت کے نمائندوں اور کارندوں جن میں قاضی ، گورنر ، جرنیل ، کارکن اور وزراء وغیرہ شامل ہیں کو اپنی حد سے تجاوز کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ ہر حکومتی افسر ،عہدید ار ، نمائندے و کارندے بشمول بادشاہ کے مخلوق کا خدمت گار ہے۔ ہر خدمت گار کا فرض ہے کہ وہ خدمت میں کو تاہی ، سستی ، حکم عدولی اور نا فرمانی نہ کرے۔ تم ہر کام اللہ کی منشأ کے مطابق کرو اور تمہارے ماتحت تمہارے حکم و منشأ سے اپنا اپنا کام کریں۔

ہر چیز کے ذمہ دار صرف تم اور صرف تم ہو ۔تم پر فرض ہے کہ ملک میں ایسے قوانین کا نفاذ کرو جو اللہ کے حکم اور شریعت محمد ی ﷺ کے تابع ہوں۔ ملک کے انتظامی امور میں غفلت ، کوتاہی اور خرابی کے ذمہ دار تم ہو گئے اور اللہ تم سے حاکمیت کا حق چھین لے گا۔ 
کسی بھی حکومتی شخص کو قانون سے ہٹ کر کام کرنے کی جرأت نہ ہو ورنہ تیرے امور سلطنت میں خلل ،فساد اور بگاڑ پیدا ہوگا۔

نظام درہم برہم ہو جائے گا اور ملک کا شیرازہ بکھر جائے۔ جو حکم ایک عام آدمی کے لیے ہے وہی تیرے حرم اور اولاد پر بھی نافذ ہے۔ قانون کی عملداری میں اولاد اور رشتے کی کوئی سہولت نہیں ۔ اگر تو ایسا کریگا تو تیرے عمال تجھ سے دو ہاتھ آگے نکل جائینگے ۔ اے تیمور یاد رکھ اور ہر قوم اور گروہ کواُس کے مرتبے پر قائم رکھ ۔ اے تیمور غور سے سن ۔ آنحضرت ﷺ کے مراتب سے بڑھ کر کسی انسان کا مرتبہ نہیں۔ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے احکامات کو سب کاموں پر اولیّت دے اور آپ ﷺ کی سیرت کے مطالعے سے دل ودماغ کو روشنی اور راحت بخش۔ اللہ تجھ پر مہربان ہوگا۔ 

Chapters / Baab of Saat So Saal Baad ( Imran Khan Niazi Tareekh Ke Aaine Mein ) By Anwaar Ayub Raja

قسط نمبر 1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر 8

قسط نمبر 9

قسط نمبر 10

قسط نمبر 11

قسط نمبر 12

قسط نمبر 13

قسط نمبر 14

قسط نمبر 15

قسط نمبر 16

قسط نمبر 17

قسط نمبر 18

قسط نمبر 19

قسط نمبر 20

قسط نمبر 21

قسط نمبر 22

قسط نمبر 23

قسط نمبر 24

قسط نمبر 25

قسط نمبر 26

قسط نمبر 27

قسط نمبر 28

قسط نمبر 29

قسط نمبر 30

قسط نمبر 31

قسط نمبر 32

قسط نمبر 33

قسط نمبر 34

قسط نمبر 35

قسط نمبر 36

قسط نمبر 37

قسط نمبر 38

قسط نمبر 39

قسط نمبر 40

قسط نمبر 41

قسط نمبر 42

قسط نمبر 43

قسط نمبر 44

قسط نمبر 45

قسط نمبر 46

قسط نمبر 47

قسط نمبر 48

قسط نمبر 49

قسط نمبر 50

قسط نمبر 51

قسط نمبر 52

قسط نمبر 53

قسط نمبر 54

قسط نمبر 55

قسط نمبر 56

قسط نمبر 57

قسط نمبر 58

قسط نمبر 59

قسط نمبر 60

قسط نمبر 61

قسط نمبر 62

قسط نمبر 63

قسط نمبر 64

قسط نمبر 65

قسط نمبر 66

قسط نمبر 67

قسط نمبر 68

قسط نمبر 69

قسط نمبر 70

قسط نمبر 71

قسط نمبر 72

قسط نمبر 73

قسط نمبر 74

قسط نمبر 75

قسط نمبر 76

قسط نمبر 77

قسط نمبر 78

قسط نمبر 79

قسط نمبر 80

قسط نمبر 81

قسط نمبر 82

قسط نمبر 83

قسط نمبر 84

آخری قسط