Episode 7 - Teen Safar By Wazir Agha

قسط نمبر 7 - تین سفر - وزیر آغا

Teen Safar in Urdu
دسمبر کے آخری ا ّیام میں جب سنہری دُھوپ بیتاب سی ہو کر‘ لاہور کے گلے میں اپنی بانہیں ڈال دیتی ہے‘ اَور لاہور والے اُس کے بازووٴں کے لمس پر اَپنی ہر شے قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اَور شہر کی کشادہ اَور منو ّر سڑکوں کو چھوڑ کر کسی دُور دیس کو جانا آداب ِ نیاز َمندی کے منافی قرار دے دیتے ہیں‘ میں نے جرأت ِ ر ِندانہ کا ثبوت دیا اَور ایک چمکتی دوپہر میں بیوی بچوں کو ساتھ لیے چپکے سے اُس ریل گاڑی میں جا بیٹھا جو کسی بد رُوح کی طرح بال کھولے‘ سیٹیاں بجاتے‘ لاہور اَور امر ِتسر کے درمیان َبوکھلائے ہوئے َدوڑتی رہتی ہے۔

گاڑی میں سوار ہوتے ہی مجھے یوں لگا جیسے وقت نے ایک اُلٹی زقند بھری ہے اَور میں تقسیم سے پہلے کی فضا میں واپس آ گیا ہوں۔ گویا یہ گاڑی‘ گاڑی نہیں‘ ایک منجمد لمحہ ہے جس نے وقت کے ِسیل رواں کے ساتھ چلنے سے اِنکار کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

وہی فرسودہ سیٹیں‘ کھڑکیوں کے شکستہ شیشے‘ فرش پر غلاظت‘ غسل خانے میں کیچڑ‘ دیواروں پر ”جو شخص بغیر رضا َمندی اپنے ہمراہیوں کے…“ وغیرہ۔

اَور اَب یہ بد ہیئت رُوح اپنی ہی ذات کے No Man's Land میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قید ہے… قید کیونکہ اِسے شاید علم ہی نہیں کہ آزادی کیا شے ہے اَور اپنے وطن کی دھرتی کے لمس میں کتنی گرمی اَور کیسی راحت ہوتی ہے۔ میرے لیے اِس گاڑی کا سفر ُسوہا ِن رُوح سے کم نہ تھا۔ وجہ یہ کہ اِس گاڑی نے اُن ایام کی یاد تازہ کر دی جب انگریز نے بر ّ ِ صغیر کو اَپنے پنجوں میں دبوچ رکھا تھا اَور یہاں کے باشندے ایک دُوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے؛ مگر خوش قسمتی سے یہ سفر کچھ اَیسا طویل نہ تھا اَور جب یہ اِختتام کو پہنچا تو مجھے محسوس ہوا جیسے وقت نے ایک بار پھر اَپنا کرتب د ِکھایا ہے اَور زقند لگا کر‘ دوبارہ زمانہ ٴ حال کے پلیٹ فارم پر آ کھڑا ہوا ہے۔

مگر اَب یہ لاہور کا نہیں امرتسر کا ریلوے پلیٹ فارم تھا جہاں پہنچتے ہی ساری گاڑی آناً فاناً خالی ہو گئی تھی۔ پلیٹ فارم پر ایک عجیب ہنگامہ ٴ محشر برپا تھا… پولیس کے سپاہی‘ ریلوے کے ملازمین‘ کسٹم والوں کی فوج اَور بوکھلائے ہوئے مسافر! لیکن جلد ہی اِس افراتفری اَور اِنتشار کے پس پشت ایک مخفی سے ضبط و آہنگ کا احساس ہوا اَور میں ایک جہاندیدہ سپاہی کی طرح قانون اَور ضابطے کے جملہ مراحل سے گزرتے چلا گیا۔

ہندوستان کے لیے روانہ ہونے سے قبل یار لوگوں نے مجھے امرتسر سٹیشن پر کسٹم والوں کی بد سلوکی کے لرزہ خیز واقعات سنائے تھے۔ پھر روانگی سے صرف ایک روز قبل قیوم نظر نے بڑے ڈرامائی اَنداز میں مجھے ایسے تقدیر کے ماروں کا حال بھی سنایا تھا جو امرتسر سٹیشن پر قد ِم رنجہ فرماتے ہی گرفتار ہو گئے تھے‘ اَور یہ مشورہ دیا تھا کہ میں ہندوستان کے سفر کا اِرادہ ترک کرکے‘ اُن کے ساتھ کافرستان کی سیر کو چلوں۔

چونکہ میں خود کافرستان کے سلسلے میں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں تھا‘ اِس لیے میں نے اُن کے قیمتی مشورے سے اِستفادہ نہ کیا اَور بمبئی کے لیے روانہ ہو گیا۔ لیکن اَب جو امرتسر سٹیشن پر پہنچنے کے بعد میں ایک سہمے ہوئے د ِل کے ساتھ مختلف میزوں پر سے ہوتے ہوئے کسٹم والوں کے پاس پہنچا اَور اُنھیں اپنا سامان د ِکھانے لگا تو یکایک میرا سارا اَعصابی تناوٴ اَز خود ختم ہو گیا۔

کسٹم آفیسر‘ ایک ِسکھ بزرگ تھے جنھوں نے بڑے ہی ِحسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے خوش آمدید کہا؛ محض ایک آدھ َبیگ کھلوا کر اُوپر سے کپڑوں کو چھوا اَور چاک سے سارے سامان پر کچھ تجریدی سے نشانات لگا کر چھٹی دے دی۔ یکایک ہمارے چہرے ِکھل اُٹھے۔ سلیم نے قریب سے گزرتی ہوئی کیلے والے کی ریڑھی پر حملہ کیا اَور ایک سچے پاکستانی ّسیاح کی طرح کسٹم والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کیلے چبانے لگا۔

َمینا نے کیلوں کا مطالبہ تو نہ کیا‘ البتہ چاروں طرف نظریں دوڑانے کے بعد مجھ سے پوچھنے لگی: آغا جی‘ یہ کیسا ملک ہے جہاں ہر کسی نے ڈاڑھی لگا رکھی ہے! رات آٹھ بجے کے قریب ہم فرنٹیر میل میں سوار ہوئے اَور اگلی صبح دہلی پہنچ گئے۔ ہندوستان کے طویل و عریض میدانوں کو دیکھنے کا شوق اِس قدر قوی تھا کہ میں اَور َمینا َپو پھٹنے سے پہلے ہی بیدار ہو گئے اَور کھڑکی سے لگ کر ِشگفتن صبح کے سارے مراحل کو دیکھتے چلے گئے۔

یہ ایک کپکپاتی‘ ٹھٹھرتی ہوئی صبح تھی۔ دُھند اَور روشنی کی آویزش نے فضا کو ِ سحر انگیز بنا دیا تھا۔ پھر شمال مشرق کی طرف‘ جہاں ہمالہ ایک سنتری کی طرح کھڑا ہے‘ بادلوں کے کنارے واضح ہونا شروع ہوئے اَور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سارے بادل گلابی اَور قرمزی رنگوں میں تحلیل ہو گئے اَور سارا منظر ایک نگینے کی طرح دمکنے لگا۔ یکایک میرے ذہن میں دو۲ باتیں بالکل صاف ہو گئیں۔

ایک تو یہ کہ شاید صبح کی اِس دمک ہی نے ا ِہل ہند کے د ِلوں میں اُس حقیر دھات کے لیے ایک مجنونانہ لگاوٴ پیدا کیا جسے ”سونا“ کہتے ہیں؛ اَور دُوسری یہ کہ شاید صبح کا یہی جادُو تھا جس نے سب سے پہلے آریاوٴں کے قافلوں کو اَپنی طرف متوجہ کیا اَور وہ اِس ُسہانی صبح کی ڈور سے بندھے‘ پچھم سے پورب کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ رگ وید میں صبح کے درخشاں منا ِظر کو جس خوبصورتی سے محفوظ کیا گیا ہے‘ وہ اِس بات کا ّبین ثبوت ہے کہ پنجاب میں آنے کے بعد یہاں کی دمکتی صبحوں نے آریاوٴں کو بطور ِ خاص متاثر کیا تھا۔

ہزاروں برس بعد جب بیسویں صدی میں اُردو کے عظیم شاعر اقبال نے فکر ِ سخن کا آغاز کیا تو سب سے پہلے اِس سہانی صبح ہی کے گن گائے۔ شاید پنجاب میں صبح کے اِس جادُو کی کیفیت اَزلی و اَبدی ہے اَور حساس د ِل ہمیشہ اِس کے سنہری ز ّنار سے بندھے‘ اشلوک گاتے گزرتے چلے جائیں گے۔ لاہور سے روانہ ہونے سے قبل میں نے دہلی میں بلراج کومل کو اَپنی آمد سے مطلع کر دیا تھا۔

بلراج کومل سے میری ملاقات اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ لیکن خطوط میں ہم ایک دُوسرے کے قریب آ گئے تھے۔ آج سے چند برس قبل جب ”ادبی دُنیا“ کے حصہ ٴ نظم کی اِدارت میرے سپرد ہوئی تھی تو قدرتی طور پر مجھے اُن جدید اُردو شعرا سے مراسم قائم کرنے کی ضرورت پڑی تھی جو اِس میدان میں بڑی توانائی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ چنانچہ بلراج کومل سے بھی خط کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔

بعد اَزاں اِدارہ اَدبی دُنیا نے اُن کی نظموں کا مجموعہ، ”ر ِشتہ ٴ د ِل“ کے نام سے شائع کیا جو اَدبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔ تاہم بلراج کومل سے میرے مراسم محض ”مدیرانہ“ نہیں تھے۔ ایک طویل عرصے کی خط کتابت نے ہمیں احساسی سطح پر بھی ایک دُوسرے سے خاصا متعارف کرا دیا تھا اَور اَب ہم دونوں ایک دُوسرے کو دیکھنے کے لیے بیتاب تھے۔ دہلی سٹیشن میں گاڑی داخل ہوئی تو میں نے پلیٹ فارم پر کھڑے ہجوم میں بلراج کومل کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن تصویر کے نقوش میرے لیے کچھ زیادہ کارآمد ثابت نہ ہوئے؛ البتہ بھیڑ میں سے ایک اجنبی سا چہرہ مجھے دیکھ کر یکایک مسکرایا اَور اُس نے اپنے ساتھی کو کہنی مار کر میری طرف متوجہ کیا اَور پھر وہ دونوں دوڑتے ہوئے آئے اَور مجھ سے بغلگیر ہو گئے۔

میری نشان دہی کرنے والے کمار پاشی تھے جنھیں میں نے آج سے قبل کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن اُنھوں نے کسی رسالے میں میری کوئی فرسودہ سی تصویر دیکھ رکھی تھی اَور اَب یہ تصویر میرے چہرے کی فرسودگی کے عین مطابق ثابت ہوئی تھی۔ بہر حال اُن کے بے پناہ حافظے کی داد نہ دینا بڑا ظلم ہوگا۔ دُوسرے صاحب بلراج کومل تھے۔ اُن کی نظمیں اَور خطوط پڑھ کر میرے ذہن نے اُن کا جو چہرہ تشکیل دیا تھا‘ اُس پر زمانے نے اپنی گہری لکیریں ثبت کر رکھی تھیں لیکن گوشت پوست کی ز ِندگی میں وہ ایک ہنس مکھ اِنسان کے رُوپ میں اُبھرے اَور سچی بات تو یہ ہے کہ اُن کا یہ رُوپ کو دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔

ہم پلیٹ فارم پر کھڑے جلدی جلدی اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے بلکہ پہلی ملاقات کی گھبراہٹ میں باتوں کے لیے موضوعات تلاش کر رہے تھے کہ دفعةً ایک بزرگ ہولے ہولے چلتے میرے پاس آ کھڑے ہوئے۔ بڑے اِنکسار اَور محبت سے اُنھوں نے میرا نام پوچھا اَور بڑے تپاک سے مصافحہ کیا۔ آپ حافظ محمد عثمان تھے اَور پیری اَور علالت کے باوجود مجھے ملنے چلے آئے تھے۔

وہ صرف چند لمحے ہی ٹھہرے لیکن اِس مختصرسے عرصے میں میرے د ِل پر اَپنی بزرگی‘ خلوص اَور مر ّوت کا ایک گہرا نقش چھوڑ گئے۔ باتیں کرنے کے لیے پلیٹ فارم کوئی زیادہ موزوں جگہ نہیں تھی۔ چنانچہ ہم لوگ ریل کے ڈِبے میں جا کر بیٹھ گئے۔ یہاں ہمارے ہاتھوں میں چائے کی ایک ایک پیالی تھما دی گئی اَور شاید کھانے کے لیے بھی کچھ ملا لیکن اُس وقت اِس کا کسے ہوش تھا… ہمارے ہاتھ میکانکی اَنداز میں حرکت کرتے رہے اَور زبانیں باتیں اگلتی رہیں۔

درمیان میں جب کوئی زبان چائے کی چسکی کے لیے رُکتی تو دُوسری‘ بات کے دھاگے کو تھام لیتی۔ زمانے بھر کی باتیں ہو گئیں۔ بلراج کومل کے مجموعے ”ر ِشتہ ٴ د ِل“ پر بعض تعصب آمیز تبصروں کا ذ ِکر آیا‘ نظم میں علامتوں کے اِستعمال پر خیالات کا اِظہار ہوا‘ لاہور کے بعض نو آموز شعرا کی منطقی ربط سے نا آشنا نظموں کا ذ ِکر چھڑا اَور پھر اُن انگریزی کتب کی باتیں ہوتی رہیں جو ہم تینوں نے پچھلے چند ماہ میں پڑھی تھیں۔

در اصل اِس ملاقات کے فوراً بعد ہی وقت سے ایک جنگ سی چھڑ گئی تھی اَور ہم پینتالیس۴۵ منٹ کے اِس وقفے میں زیادہ سے زیادہ لاوا اُگل دینا چاہتے تھے۔ لیکن ایسے موقعوں پر جیت ہمیشہ وقت کی ہوتی ہے۔ اِس بار وقت نے اپنی فتح کا اعلان ریل کی سیٹی سے کیا۔ ہم پھر بھی ڈٹے رہے لیکن ریل حرکت میں آگئی تو کومل اَور کمار پاشی کو نیچے اُترنا پڑا۔ اِس کے بعد الوداعی سلام اَور ہاتھ کے اِشارے‘ بجھتی ہوئی مسکراہٹیں اَور اُداسی… ہر مسافر کو اِن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے! بعض اِس کیفیت کو پسند بھی کرتے ہیں‘ بعض کو تکلیف بھی ہوتی ہے۔

میں دروازہ بند کرکے‘ بجھے ہوئے د ِل کے ساتھ اپنی سیٹ پر آ بیٹھا۔ ڈ ِبے میں مکمل خاموشی تھی۔ پھر یکایک میری بیوی نے‘ جو اِس ساری گفتگو کے دوران میں بالکل چپ بیٹھی رہی تھی‘ اپنی زبان کھولی اَور ایک گرم سا طنزیہ فقرہ میری سماعتوں سے ٹکرا گیا: عورتیں بیچاری تو مفت میں بدنام ہیں… توبہ ہے! فرنٹیر میل جب نئی دہلی کے سٹیشن سے آگے بڑھی تو دُھند بالکل ختم ہو چکی تھی۔

چنانچہ میں‘ سلیم اَور َمینا ایک کھڑکی میں گٹھڑی سی بن کر بیٹھ گئے اَور دہلی کی بکھری ہوئی عمارتوں کو دیکھنے لگے۔ سلیم اَور َمینا نے ہندوستان کی جو تصویر ذہن میں بنا رکھی تھی‘ اُس میں آوارہ پھرتے بندروں‘ موروں اَور سو ٴروں کی فراوانی تھی اَور اب وہ مجھ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ میں فوراً اُن کے لیے یہ جانور مہیا کروں۔ اُن میں سے بندر اَور مور تو وہ لاہور کے چڑیا گھر میں دیکھ بھی چکے تھے لیکن اُنھیں آزاد حالت میں دیکھنے کی تمنا اُن کے د ِل میں شاید بہت قوی تھی۔

جنگلی سو ٴر‘ رات کو شب خون مارتے ہیں اَور نازک فصلوں کو تباہ کرکے د ِن کو کمیں گاہوں میں چھپ جاتے ہیں: لہٰذا اُن کے مداح اُن کی موہنی صورتوں کو ایک نظر دیکھنے کے لیے ترس گئے تھے۔ اب مطالبہ یہ تھا کہ میں کسی جادُو کی چھڑی سے یہ تینوں چیزیں فوراً پیدا کر دُوں۔ اِتفاق دیکھئے کہ آدھ ہی گھنٹے کے اَندر اَندر میرا وہ وعدہ جو میں نے بچوں سے کر رکھا تھا‘ بڑے معجزانہ طریق سے پورا ہو گیا۔

پہلے تو ہمیں دہلی کے ایک مند ِر کے کلس پر سے ہنومان جی نے درشن دیا۔ یہ شاید اُس کارواں کا آخری مسافر تھا جس نے پچھلے د ِنوں دہلی پر اِنسان کے غاصبانہ قبضے کے خلاف احتجاج کے طور پر ایک جلوس نکا لا تھا اَور حکومت ِ ہند نے بغیر سوچے سمجھے اُس پر لاٹھی چارج کا حکم دے دیا تھا۔ بہر حال اُسے دیکھ کر سلیم اَور َمینا‘ بہت خوش ہوئے۔ پھردہلی کے مضافات ہی میں پالتو سو ٴروں کے ّگلے چرتے ہوئے نظر آئے اَور بچوں نے نعروں اَور تالیوں سے اُن کا سواگت کیا ‘اَور جب دہلی کا آباد علاقہ ختم ہوا اَور کھیتوں کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا تو جگہ جگہ موروں کے جوڑے بھی نظر آنے لگے اَور بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا؛ لیکن سچی بات یہ ہے کہ تہذیب اَور عمر کے موٹے موٹے لبادوں کے با وصف میں خود بھی د ِل ہی د ِل میں اِن چیزوں کو آزاد فضا میں دیکھنے کا متمنی تھا… اب جو یہ تمنا پوری ہوئی تو د ِل کو ایک میٹھی سی راحت کا احساس ہوا۔

اُس روز شام تک فرنٹیر میل نے تقریباً تین۳۰۰ سو میل کا فاصلہ طے کیا اَور ہم سب ریل کی کھڑکیوں سے چمٹے ہندوستان کے فراخ میدانوں اَور چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا نظارہ کرتے چلے گئے۔ اِس سے قبل َمیں صرف ایک بار بمبئی گیا تھا لیکن یہ کو ئی بیس۲۰ برس پہلے کی بات ہے۔ شاید وہ نوجوانی کی نظر تھی یا ویسے ہی گرمیوں کا موسم تھا کہ مجھے دہلی سے روانہ ہو کر رات ہونے تک کا وہ سارا سفر ایک لق و دق صحرا کا سفر محسوس ہوا تھا۔

ہر طرف جلی جھلسی کائنات تھی جس میں تپتی ہوئی پہاڑیاں نصب کر دی گئی تھیں؛ لیکن اب یہ بات نہیں تھی۔ پہلے تو ہمیں میلوں تک کارخانوں کا ایک متحرک کارواں نظر آیا۔ پھر جب یہ کارواں تھک ہار کر رُک گیا تو قدرت کے کارخانے کا آغاز ہو گیا۔ ہر طرف سر سبز اَور شاداب کھیت تھے۔ جگہ جگہ پانی کے قطعے آ جاتے جن میں ہزاروں کی تعداد میں آبی پرندے‘ ہنستے کھیلتے یا خوراک تلاش کرتے‘ د ِکھاتی دیتے۔

بچوں کے لیے اِس سے زیادہ جاذب ِ نظر اَور کون سا منظر ہو سکتا تھا۔ جب وہ پرندوں کی اِس دُنیا میں کھو گئے تو میں اِنسانوں اَور پتھروں کی دُنیا میں لوٹ آیا۔ میرے لیے سب سے د ِلچسپ علاقہ متھرا کا تھا۔ متھرا سٹیشن پر گاڑی رُکی تو میں وہاں کے پیڑوں کی تلاش میں پلیٹ فارم پر اُتر آیا۔ عصمت صاحب نے سلیم کو نصیحت کر رکھی تھی کہ متھرا پہنچ کر وہاں کے پیڑے ضرور کھائے اَور اگر ممکن ہو تو واپسی پر کسٹم والوں کی آنکھوں میں خاک جھونک کر‘ کچھ اُن کے لیے بھی لے آئے۔

میرا اَپنا خیال یہ ہے کہ پیڑوں کو کسٹم والوں سے اِس قدر خطرہ نہیں تھا جتنا کہ پیڑوں کے نگہبان سے! بہر حال میں پیڑوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا لیکن جب مجھے وہ د ِکھائی دیے تو میں واقعةً وہاں سے سر پر پاوٴں رکھ کر بھاگا… کوئی مٹھائی اِس قدر غلیظ اَور بد وضع بھی ہو سکتی ہے‘ اِس بات کا مجھے علم نہیں تھا۔ تاہم متھرا سے میری د ِلچسپی پیڑوں کے باعث نہیں تھی‘ سنگ تراشی کے اُس آرٹ کے باعث تھی جو حضرت عیسیٰ  کی پیدائش کے لگ بھگ اِس علاقے میں اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا۔

سنگ تراشی کے اِس سکول کے پروان چڑھنے کی غالباً دو۲ وجہیں تھیں۔ پہلی تو یہ کہ اِس علاقے میں ایسا پتھر دستیاب تھا جو مجسمہ بنانے کے لیے بڑا کارآمد تھا۔ اب بھی اِس ّپتھر کی بڑی بڑی سلیں جگہ جگہ نظر آتی ہیں اَور ا ِہل ہند اَب تک اُن سے مستفید ہو رہے ہیں؛ لیکن اِنسان نے آرٹ کی دُنیا سے کاروباری دُنیا کی طرف جو پیش قدمی کی ہے‘ اُس کا ادنیٰ سا ثبوت یہ ہے کہ پہلے اِس ّپتھر سے آرٹ کے مجسمے بنائے جاتے تھے‘ اب اِس سے ریل کی پٹڑیوں پر بچھانے کے لیے بجری تیار کی جاتی ہے۔

دُوسری وجہ یہ تھی کہ اُس زمانے میں پنجاب اَور فرنٹیر کے علاقے میں گندھارا آرٹ نے فروغ حاصل کیا تھا جس سے متھرا آرٹ نے واضح اَثرات قبول کیے۔ گندھارا آرٹ یونانیوں کی مجسمہ سازی کا آرٹ تھا۔ اگرچہ اِس آرٹ کے موضوعات ہندوستانی تھے‘ تاہم ملبوسات کی فراوانی‘ مرد کے جسم کو پیش کرنے کا رُجحان اَور اُقلیدسی اَنداز کا رواج… یہ سب باتیں خالص یونانی تھیں: لیکن اُسی زمانے میں متھرا آرٹ نے گندھارا آرٹ کے ہندوستانی رُوپ کو پیش کیا… لباس کو جسم سے اِس طور چپکا دیا گیا جیسے کوئی گیلا کپڑا ہو؛ اِس سے جسم کے خطوط واضح ہو کر سامنے آنے لگے۔

پھر اِس میں َمرد کے جسم کے بجائے عورت کے بدن کو پیش کرنے کا رُجحان بھی اُبھرا اَور ہندوستانی عورت کا وہ پیکر واضح ہو گیا جو ہندو آرٹ میں ہمیشہ سے بہت مقبول رہا ہے‘ یعنی بھرے بھرے ُکولھے‘ پتلی کمر اَور ُکولھے کا ایک طرف کو واضح جھکاوٴ! فرنٹیر میل میں ایک بڑا نقص یہ ہے کہ اِس میں سفر کرتے ہوئے آرٹ کا کچا مواد تو نظر آ جاتا ہے لیکن آرٹ کے نمونوں تک رسائی مشکل ہے۔

حکومت ِ ہند کو چاہیے کہ وہ اِیذا رسانی کے جذبے کے تحت ویزے کی مشکلات کو قائم ہی رکھنا چاہتی ہے تو کم اَز کم مجھ ایسے کم نصیب سیاحوں کے لیے ریلوے پلیٹ فارم پر ہی آرٹ کے چند ایک مجسمے پہنچا دے! اب کہ میں آرٹ کے اِن نمونوں سے دُور تھا‘ میں نے حسرت بھری نظریں اُن پہاڑوں پر ڈالیں جن پر چاروں طرف کالے ّپتھر کی سلیں بکھری پڑی تھیں اَور پھر اُن لا تعداد عورتوں کی طرف دیکھا جو چاروں اور کھیتوں میں کام کر رہی تھیں۔

یہی وہ عورتیں تھیں جنھوں نے آج سے دو۰۰۰,۲ ہزار برس پیشتر متھرا کے فن کاروں کو مجسمہ سازی کی تحریک دی تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اِنسان فانی ہے اَور ّپتھر باقی رہتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اِنسان بھی ّپتھر ہے اَور ّپتھر ہی کی طرح ز ِندہ ٴ جاوید! اگر اَیسا نہ ہوتا تو آج اِس علاقے میں وہ عورتیں کہاں نظر آتیں جن کے نقوش آج سے دو۰۰۰,۲ ہزار برس پہلے کے مجسموں میں کمال خوبصورتی سے اُبھر آئے تھے! اُس روز ہمیں رات کی تاریکیوں کے مسلط ہونے تک یہ عورتیں کھیتوں میں کام کرتے‘ ریوڑوں کو ہانکتے‘ بجری ڈھوتے اَور کھلے میدانوں میں کچھ تلاش کرتے نظر آتی رہیں۔

اُن سب کا لباس ایک جیسا تھا جس میں نمایاں تریں چیز ُسرخ رنگ کا گھگرا تھا۔ دہلی سے باہر آتے ہی گھگرا شروع ہوا اَور شام ہونے تک د ِکھائی دیتا رہا۔ پھر مغرب کی طرف شام بجائے خود ایک ُسرخ گھگرا پہنے نمودار ہوئی جسے کالے گھگرے والی رات نے آ ِن واحد میں دھکیل کر نظروں سے اوجھل کر دیا۔ اگلی صبح جب ہم بیدار ہوئے تو گھگرا غائب تھا اَور اُس کی جگہ سفید ساڑھی نے لے لی تھی۔

میری بیوی سفر کے آغاز ہی سے عورتوں کے لباس میں د ِلچسپی لے رہی تھی۔ بمبئی پہنچ کر اُس نے اعلان کیا کہ ہندوستان کے جنوب مغربی علاقوں کی تقسیم اَز سر ِ نو‘ زبان کے بجائے‘ لباس کی بنیاد پر ہونی چاہیے: یعنی امرتسر سے دہلی تک شلوار سٹیٹ‘ دہلی سے رتلام تک گھگرا سٹیٹ اَور تلام سے بمبئی تک ساڑھی سٹیٹ… افسوس کہ ہر عمدہ تجویز کی طرح یہ تجویز بھی محض ِتفنن طبع کا موجب قرار پائی اَور کسی نے سنجیدگی سے اِس کا نوٹس نہیں لیا۔

لیکن ذ ِکر گھگرا سٹیٹ کا تھا۔ میرے لیے اِس سٹیٹ میں سفر کرتے ہوئے د ِلچسپی کی ایک بات یہ بھی تھی کہ اِس کی چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں پر کہیں کہیں پرانے قلعے نظر آ جاتے تھے۔ یہ قلعے اُس رُومانی َدور کی یادگار تھے جس میں ُحسن‘ شجاعت اَور عشق کی تثلیث وجود میں آتی تھی۔ میری ِچشم تصو ّر میں وہ راجپوت شہزادے اُبھر آئے جو اَپنی محبوباوٴں کو اَپنے ساتھ گھوڑوں پر بٹھائے آندھی کی سی رفتار کے ساتھ آتے اَور اِن ّپتھر کے شہروں میں قلعہ بند ہو جاتے۔

پھر جب دُشمن اُن قلعوں کا محاصرہ کر لیتا اَور بچاوٴ کی کوئی صورت باقی نہ رہتی تو یہی شہزادے قلعوں سے نکل کر دُشمن سے لڑتے لڑتے ہلاک ہو جاتے اَور اُن کی محبوبائیں لکڑیوں کی ِچتا بنا کر اُس میں بھسم ہو جاتیں… عجیب َدو ر تھا! لیکن اب یہ قلعے بالکل ویران ہیں۔ پہاڑیوں پر چاروں طرف چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں کے جنگل اگ آئے ہیں اَور قلعوں کو جانے والے راستے ناپید ہو گئے ہیں۔

امر تسر سے دہلی تک کا سفر رات کی تاریکیوں میں طے ہوا تھا؛ اِس لیے ہم کسی شے پر بھی تنقیدی نظر نہ ڈال سکے تھے۔ لیکن دہلی سے رتنام تک کا سفر د ِن کی روشنی میں ہوا اَور ہمیں چاروں طرف دیکھنے کی پوری آزادی ملی تھی۔ اِس سفر کے دوران میں ایک احساس بہت قوی تھا کہ ہندوستان کے سٹیشن بہت غلیظ ہیں۔ ریلوے میں کام کرنے والے ملازمین کا لباس عام طور پر گندا اَور سیاہی مائل ہے اَور فرنٹیر میل ایسی گاڑی بھی بد رنگ سی ہے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم کے بعد ہندوستانی ریلوے نے بہت ترقی کی ہے… تقریباً تمام گاڑیاں اَور اِنجن ہندوستان کے اپنے کارخانوں میں تیار ہونے لگے ہیں… لیکن نہ جانے کیا وجہ تھی کہ ہمیں اِس سفر میں ویسی راحت اَور صفائی نصیب نہ ہو سکی جیسی کہ پاکستانی ریلوں میں سفر کرنے سے حاصل ہوتی ہے؛ اَور پھر یکایک بات آئینہ ہو گئی۔ ہندوستان میں کوئلے کی فراوانی ہے‘ اِس لیے اِس کی ریلیں ابھی Coal Age سے گزر رہی ہیں جبکہ پاکستان نے کوئلہ نہ ملنے کے باعث اپنا ایک قدم Diesal Age میں رکھ لیا ہے… اِسی لیے پاکستان کے سٹیشن اب صاف ستھرے ہیں: ریل کے بعض ڈبے تو ڈرائنگ رُوم بن گئے ہیں اَور جب مسافر ملتان سے لاہور تک کا سفر کرتا ہے تو لاہور سٹیشن پر آتے ہی اَحباب اُسے فوراً پہچان لیتے ہیں۔

لیکن ہندوستان میں ابھی یہ بات نہیں؛ یہاں تو کوئلے سے چلنے والی گاڑی میں طویل سفر کرنا پڑے تو منزل پر شناختی کارڈ ہی سے مسافر کی نشان دہی ہو سکتی ہے… یہی حال ہمارا تھا؛ چنانچہ شام کے قریب جب ہم نے ایک دُوسرے کے چہروں کو ذرا غور سے دیکھا تو کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ رتلام تک پہنچتے پہنچتے موسم خاصا تبدیل ہو چکا تھا۔ بیشک فضا میں ابھی خنکی موجود تھی لیکن وہ کڑاکے کی سردی‘ جس نے لاہور سے دہلی تک کے سارے علاقے کو برف کی قاش میں تبدیل کر رکھا تھا‘ یہاں موجود نہیں تھی۔

رات ہی رات میں موسم کچھ اَور تبدیل ہو گیا۔ اگلی صبح جب ہم بیدار ہوئے تو سویٹروں کو بھی الوداع کہنا پڑا اَور رضائیوں کو بھی لپیٹ کر ایک طرف رکھ دینا پڑا: تاہم َمیں گجرات‘ کاٹھیاواڑ اَور بمبئی کے موسم کو گرما کا نام نہیں دُوں گا… بس ایک میٹھی خنک سی کیفیت تھی جس میں نہ گرمی تھی نہ سردی۔ باہر منظر بھی بالکل تبدیل ہو ُچکا تھا۔ چھوٹی چھوٹی خوشنما اَور سر سبز و شاداب پہاڑیوں؛ ناریل کے جھنڈوں؛ کیلے‘ آم اَور چیکو کے باغوں اَور ہولے ہولے بہتی ندیوں نے نہایت سہانا سماں پیدا کر دیا تھا۔

یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہمارے ڈ ِبے کی دونوں کھڑکیاں‘ دو۲ چوکھٹے ہیں جن میں بحرالکاہل کے جزیروں کی حسین تصاویر آویزاں کر دی گئی ہیں: فضا میں عجیب سی غنودگی اَور تھکی تھکی سی کیفیت تھی۔ یہی جی چاہتا تھا کہ زنجیر کھینچ کر گاڑی ٹھہرائیں اَور چپکے سے اڑھائی سو روپے جرمانہ اَدا کرکے ناریل کے کسی جھنڈ کے نیچے سمادھی لگا کر بیٹھ جائیں۔

موسم اَور فضا کا اَثر اِنسانی طبائع پر کس قدر قوی ہے… اِس کا احساس مجھے اُسی سہانی صبح کو ہوا۔ شمالی علاقوں میں حسیات کو بر انگیختہ کر دینے کی خاصیت ہے: اِسی لیے وہاں کے اَدب میں جذبے کا والہانہ پن اَور توانائی‘ لہجے میں تشدد اَور رقص (بھنگڑے) میں دھما چوکڑی کی سی کیفیت ہے جبکہ جنوبی ہندوستان میں جذبے کی تہذیب کے شواہد عام ہیں‘ لہجے میں لوچ اَور روانی ہے اَور رقص (بالخصوص بھرت نٹیم) میں صاف شفاف ندی کا بہاوٴ اَور دبے پاوٴں چلتے ہوئے جھونکے کی سی سرسراہٹ ہے۔

جنوبی ہندوستان کی غنودگی اَور بے حسی میں لپٹی ہوئی سر زمیں کے لیے بمبئی شہر‘ ایک اجنبی کی طرح ہے۔ بس یہی محسوس ہوتا ہے جیسے الہ دین کے چراغ کی مدد سے رات ہی رات میں یہ شہر کسی مغربی ملک سے لا کر یہاں نصب کر دیا گیا ہے۔ اِسے آپ شہد کے چھتے سے بھی تشبیہ دے سکتے ہیں۔ ہمیں بمبئی میں داخل ہونے کی اِطلاع اُن اُڑتی ہوئی شہد کی مکھیوں نے دی جو الیکٹرک ٹرینیں کہلاتی ہیں اَور جو اَب بھنبھناتے ہوئے ہماری گاڑی کے دائیں بائیں سے گزر رہی تھیں۔

تقریباً ایک گھنٹے تک ہماری گاڑی بمبئی کے مختلف سٹیشنوں سے گزرتی رہی اَور بالآخر اَپنی منزل یعنی بمبئی سنٹرل میں جا داخل ہوئی۔ بمبئی سنٹرل سٹیشن پر ہم سب کی نظریں راجہ مہدی علی خاں کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ نہ اِس سے پہلے راجہ صاحب نے ہمیں دیکھا تھا اَور نہ ہم نے راجہ جی کو؛ لیکن اُن کی تصاویر نے ہمیں اُن سے کافی متعارف کرا دیا تھا۔ سلیم نے مجھ سے اِستفسار کیا کہ ہم راجہ جی کو کیسے پہچانیں گے۔

میں نے جواباً کہا: پلیٹ فارم پر تمھیں جو سب سے موٹا شخص بے اِختیار ہنستے ہوئے نظر آئے‘ وہی راجہ مہدی علی خاں ہوں گے۔ اِتفاق دیکھئے کہ پلیٹ فارم پر بکھرے ہوئے د ِق زدہ چہروں اَور کالے کلوٹے پنجر نما اِنسانوں میں ہمیں ایک ہنستا ہوا ”ابو الہول“ بالکل الگ تھلگ کھڑے نظر آیا اَور قطعاً غیر شعوری طور پر ہم سب کی اُنگلیاں اُس کی طرف اُٹھ گئیں۔

راجہ صاحب نے بھی ہمیں پہچان لیا لیکن اُنھوں نے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کی۔ وہ اپنے ساتھ دوستوں کی ایک پوری فوج لائے تھے۔ پھر قلیوں سے لے کر ٹیکسی ڈرائیوروں تک کو اُنھوں نے پہلے سے اپنے قبضے میں کر رکھا تھا۔ وہ روایتی گل محمد کی طرح اپنی جگہ پر کھڑے پان چباتے اَور ہنستے رہے۔ وہیں سے ہاتھ ہلا ہلا کر قلیوں کو ہدایات براڈ کاسٹ کرتے اَور اِنڈین ریلوے پر سنسکر ِت آمیز ریڈیائی زبان میں لعنتیں بھیجتے رہے۔

کھڑے ہی کھڑے اُنھوں نے مجھے کھینچ کر خود سے لپٹا لیا اَور َمینا اَور سلیم کے َسر پر ہاتھ پھیرا اَور کہرام برپا کرنے میں مصروف ہو گئے۔ پندرہ۱۵ منٹ کے اَندر اَندر ہمارا سامان ریڑھی پر لاد دیا گیا: اب قافلہ باہر کی طرف کوچ کر رہا تھا۔ راجہ صاحب نے پہلی بار خود کو جنبش دی اَور گیٹ کی طرف قدم بڑھائے۔ میں نے پلٹ کر اُس ”مقدس مقام“ کا جائزہ لیا جہاں وہ پچھلے ایک گھنٹے سے کھڑے رہے تھے… وہاں پان کی پیک سے ایک اچھا خاصا َجوہڑ وجود میں آ چکا تھا اَور چند سہمے ہوئے مسافر اُسے غور غور سے تک رہے تھے۔

راجہ صاحب کا مکان باندرہ کے علاقے میں پالی روڈ کے ایک کونے میں گم صم کھڑا تھا۔ ہم اُس میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے طاہرہ بہن نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ اَدب کے میدان میں وہ طاہرہ سلطانہ مخفی کے نام سے مشہور ہیں اَور شاید ہندوستان اَور پاکستان میں وہ واحد ہستی ہیں جو راجہ مہدی علی خاں کی طنزیہ یلغار کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ اُن کا مکان مختصر لیکن صاف ستھرا ہے جسے بڑے سلیقے سے آراستہ کیا گیا ہے۔

ہم اَندر جا کر بیٹھ گئے اَور پھر یکایک کرسیوں‘ میزوں‘ بستروں‘ دروازوں اَور کھڑکیوں میں سے رنگ رنگ کی بلیاں برآمد ہونے لگیں۔ یہ سب بلیاں جنھیں راجہ صاحب اَور طاہرہ سلطانہ نے پال رکھا ہے‘ اُن کے گھر میں بچوں کی کمی کو پورا کرنے کی ایک د ِلفریب کوشش ہیں۔ ابھی ہم بمشکل بلیوں کی یلغار سے سنبھلے ہی تھے کہ ایک اَور کردار باورچی خانے کے دروازے میں آ کھڑا ہوا۔

اُس کا نام کانشی ناتھ ہے اَور وہ راجہ صاحب کا باورچی ہے۔ اُس کا رنگ سیاہ ہے لیکن دانت بہت سفید ہیں۔ وہ جب اندھیرے میں کھڑا ہوتا ہے تو نظر ہی نہیں آتا لیکن جب ہنستا ہے تو تاریکی میں بجلی سی کوند جاتی ہے۔ کئی بار میں نے سوچا‘ اگر کانشی ناتھ کو چند کینٹوز حفظ کرا دیے جائیں تو وہ ہندوستان کے مشاعروں میں اچھی خاصی داد وصول کر سکتا ہے۔

آئندہ دس۱۰ روز تک ہم اُس مختصر سے گھر میں راجہ صاحب‘ کانشی ناتھ اَور اُن کی بلیوں کے رحم و کرم پر رہے اَور طاہرہ بہن لکیر کو عبور کرکے‘ ہمارے قافلے میں شامل ہو گئیں :گویا وہ خود ہی اپنے گھر کے ”عظیم کرداروں“ سے بر سر ِ پیکار ہو گئیں۔ اُس روز کھانے کی میز پر راجہ صاحب سے میری دُوسری ملاقات ہوئی۔ کھانا بہت لذیذ تھا۔ گاڑی میں ہمیں خاصا بے مزہ کھانا ملا تھا لیکن اب اُس کی تلافی ہو گئی۔

ہم نے بھی خوب سیر ہو کر کھایا… راجہ صاحب َہولے َہولے لقمہ چباتے اَور ایک ُپر لطف مسکراہٹ سے ہماری حرکات کا جائزہ لیتے رہے۔ کھانے کے بعد اُنھوں نے اعلان کیا کہ یا تو مہمانوں کو کھانا پسند نہیں آیا اَور یا وہ ملک کے اُس علاقے سے آئے ہیں جسے ”ترنتارن“ کہتے ہیں۔ ہم حیران تھے کہ خدایا یہ کیا بات ہے‘ ہم نے تو اَپنی سکت سے بڑھ کر کھایا ہے لیکن راجہ صاحب کو ہم اِس میدان میں قطعاً مبتدی نظر آئے ہیں! اگلے روز اُنھوں نے عملاً ہمیں بتایا کہ سخن َور اِس طرح سہرا کہتے ہیں۔

اِس کے بعد جب اُنھوں نے مجھے جواب ِ آں غزل کی دعوت دی تو میرا رنگ فق ہو گیا۔ کھانے کے بعد ہم نے پولیس سٹیشن پر اَپنی آمد کی اِطلاع دی اَور فارغ ہو گئے۔ اب بمبئی شہر تھا‘ پورے دس۱۰ سنہری د ِن تھے اَور ہم تھے! لیکن ہمارے لیے اِس قیام کا ایک لمحہ بھی ضائع کرنا ممکن نہیں تھا۔ ہم نے ایک ٹیکسی لی اَور بمبئی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ ٹیکسی پالی ناکا سے نکل کر چوپاٹی کی طرف بڑھنے لگی۔

جیسے جیسے ہم آگے کو بڑھتے گئے‘ ہجوم میں اِضافہ ہوتے چلا گیا اَور سڑکوں پر موٹروں نے ایک ِسیل رواں کی صورت اِختیار کر لی۔ بمبئی میں موٹروں کی تعداد سینکڑوں میں نہیں‘ ہزاروں میں ہے اَور پھر بھی یہ اُس کی آبادی کے لیے ناکافی ہے۔ بیشک بمبئی کی آبادی پچاس۵۰ لاکھ سے کسی طور کم نہیں لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ یہ ساری آبادی متحرک ہے۔ پھر خود بمبئی ایک مستطیل کی طرح ہے… چوڑائی کم‘ لمبائی زیادہ! فاصلے بھی بہت زیادہ ہیں۔

کئی بار فلم دیکھنے کے لیے آنے جانے میں ہمیں تیس پینتیس میل کا سفر کرنا پڑتا تھا؛ لیکن یہ سفر تو ا ِہل بمبئی کا معمول ہے۔ تانگوں‘ ر ِکشاوٴں‘ موٹروں‘ ٹیکسیوں‘ بسوں‘ ٹراموں اَور برقی ٹرینوں پر ِخلق خدا ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سفر کے چکر میں گرفتار ہے… ہر طرف لہریں ہی لہریں ہیں‘ حرکت ہی حرکت ہے! شاید یہ اِس کے چاروں طرف پھیلے ہوئے سمندر کے جزر و مد کا اَثر ہے یا ”جائے کم اَور مردماں بسیار“ اِس کا باعث ہے‘ یا شاید یہ ایک داخلی ہیجان کا نتیجہ ہے کہ بمبئی میں رفتار کی فراوانی کا شدید احساس ہوتا ہے… یوں لگتا ہے جیسے کسی شریر لڑکے نے اپنی چھڑی سے شہد کے چھتے کو چھیڑ دیا ہو اَور اَب چھتے میں ایک کہرام برپا ہو گیا ہو… مکھیاں ایک ُپر شور بھنبھناہٹ میں تبدیل ہو کر‘ ہر شے کو کاٹنے پر ُ تل گئی ہوں۔

ا ِہل بمبئی رفتار کی بھنبھناہٹ میں اَسیر ہیں۔ وہ چلتے ہیں‘ دوڑتے ہیں‘ پھر جیسے اُڑنے لگتے ہیں۔ گھر پہنچنے کے لیے‘ بازار یا دفتر تک جانے کے لیے‘ یا تفریح گاہوں یا سینما ہاوٴسوں میں داخل ہونے کے لیے اُنھیں بڑی عجلت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ اِس تیزرفتاری نے بمبئی والوں کی زبان اَور مزاج میں بھی تیزی اَور ِ ّجھلاہٹ سمو دی ہے۔ میں نے بمبئی میں جس کسی سے بھی بات کی‘ اُس نے اِس تیزی سے جواب دیا کہ میں لفظوں کا تعاقب کرتے ہوئے ہانپنے لگا۔

یہی حال اُن کے مزاج کا ہے۔ ذرا سی بات پر چیں بہ جبیں ہو کر‘ مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن اُن کے ہاں ایک عجیب بات یہ دیکھنے میں آئی کہ جہاں دو۲ آدمی لڑ رہے ہوں‘ وہاں تماشائیوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے ہیں… کیا مجال کہ کوئی بیچ بچاوٴ کی کوشش کرے! لاہور میں بات اِس کے بالکل بر عکس ہے۔ یہاں بیچ بچاوٴ کا عمل ایک روایت کی حیثیت رکھتا ہے؛ اَور جب دو۲ آدمی آپس میں لڑنے کی تیاری کرتے ہیں تو بیچ بچاوٴ کا اِنتظام پہلے سے کر لیتے ہیں… اِدھر کسی نے للکارا کہ لڑائی فساد سے باز آ جاوٴ‘ اُدھر روایت کے احترام میں ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے اَور زبانیں حرکت میں آ گئیں۔

در اصل ا ِہل لاہور صرف گالیوں سے لطف اَندوز ہونے کے لیے جھگڑا کرتے ہیں اَور گالیوں پر اِنھیں جو قدرت حاصل ہے ‘اَور اِس میدان میں اِنھوں نے جو تخلیقی سرگرمیاں د ِکھائی ہیں‘ وہ دُنیا کے کسی اَور خطے میں ممکن نہیں۔ لیکن بمبئی میں لڑائی کے کردار‘ بیچ بچاوٴ والوں کو من حیث ُ القوم سخت نفرت کی نظروں دیکھتے ہیں… اِدھر کوئی بھولا بھالا اجنبی بیچ میں کودا‘ اُدھر چاقو کا تیز پھل اُس کے پیٹ میں پیوست ہو گیا۔

چنانچہ لڑائی ہوتی ہے تو لوگ اُسے فلم کا ایک منظر سمجھ کر دیکھ لیتے ہیں اَور اُس کے اِختتام پر تالیاں بجا کر رُخصت ہو جاتے ہیں۔ اعصابی بر انگیختگی اَور ِ ّجھلاہٹ کی یہ کیفیت صرف اِ ّکا دُ ّکا معرکوں تک محدود نہیں‘ بعض اَوقات چھوٹے چھوٹے گروہوں میں؛ کبھی دُودھ‘ کبھی زبان‘ کبھی بس اَور کبھی کسی معمولی بات پر بلوا ہو جاتا ہے۔ میرے بمبئی کے قیام کے دوران میں ایسے دو تین بلوے ہوئے جن میں گولیاں بھی چلیں اَور لوگ مارے بھی گئے اَور زخمی بھی ہوئے؛ لیکن مجال ہے کہ شہر پر اِس کا کوئی نا خوشگوار اَثر مرتسم ہوا ہو! بس دُوسرے روز اَخبار کے کسی گوشے میں چھوٹی سی ایک خبر َچھپ جاتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں! کسی زمانے میں بمبئی کو ”عرو ِس ہند“ کے نام سے پکارا جاتا تھا اَور اِس کے کوچہ و بازار اَپنی صفائی اَور نفاست کے لیے مثالی حیثیت رکھتے تھے۔

یہی حال کراچی کا تھا لیکن کراچی جب مہاجرین کے ِسیل رواں کی زد پر آیا تو اِس کی صفائی کے معیار کا رُو بہ زوال ہو جانا بالکل فطری اَمر تھا۔ دُوسری طرف بمبئی کو کسی ایسے اچانک سیلاب سے نبرد آزما نہیں ہونا پڑا‘ پھر بھی یہاں اَب غلاظت ہی غلاظت ہے۔ دراصل جب آبادی بڑھتی ہے تو غلاظت بھی بڑھ جاتی ہے: بمبئی کی آبادی پہلے سے کئی گنا زیادہ ہو چکی ہے ‘ اِس لیے جب ایک چھوٹے سے کمرے میں دس دس بارہ بارہ آدمی رہ رہے ہوں تو حفظا ِن صحت کے جملہ اُصولوں کا بہ آسانی ُمنہ ‘چڑایا جا سکتا ہے بلکہ بمبئی میں تو کمرہ بجائے خود تعیش کی ایک صورت ہے‘ ورنہ اِس کی مخلوق کا ایک بڑا حصہ تو تھڑوں‘ گلیوں‘ ُپلوں اَور گندے پانی کے نلوں میں رات گزارتا ہے۔

اِس غلاظت نے جسم سے آگے بڑھ کر رُوح پر بھی حملہ کر دیا ہے۔ چنانچہ اِس کے بازاروں میں قطار اَندر قطار وہ کوٹھڑیاں نظر آتی ہیں جن میں جسم بیچنے والیاں صبح سے شام تک کھلے بندوں راہ گیروں کو پھانسنے کی مشق کرتی رہتی ہیں۔ اُس شام ہم نے بمبئی میں ایک ہندوستانی فلم دیکھی… نام تھا ”پھر وہی د ِل لایا ہوں“… فلم رنگین تھی اَور فوٹو گرافی عمدہ! ہمارے لیے اِس فلم میں جاذب ِ نظر ایک بات یہ بھی تھی کہ اِسے کشمیر میں فلمایا گیا تھا… جھیل ڈل اَور گلمرگ کے خوبصورت مناظر ایک طویل مدت کے بعد دیکھنے کو ملے۔

ویسے معیار کے اعتبار سے یہ ایک درمیانے درجے کی تفریحی فلم تھی۔ لیکن خوبی کی بات یہ کہ شروع سے آخر تک اِس کے مکالمے خالص اُردو زبان میں تھے‘ تماشائی جن سے خوب خوب محظوظ ہو رہے تھے۔ اِنٹر َول ہوا تو میں نے گردن گھما کر تماشائیوں پر ایک نظر ڈالی… بیشتر لوگ پارسی اَور گجراتی تھے جن کی شکل و صورت سے قطعاً پتا نہ چلتا تھا کہ اُنھیں اُردو زبان سے بھی شغف ہے لیکن وہ اُردو مکالموں کے علاوہ داغ اَور غالب کے اَشعار تک سمجھنے کے قابل تھے۔

بعض دُوسری فلمیں دیکھنے کے بعد میرا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ ہندوستان کی قومی زبان ایک اَور صرف ایک ہے جسے آپ” اُردو “ َکہ ‘لیں اَور اگر اُردو کے لفظ سے نفرت ہے تو ”ہندوستانی “کا نام دے لیں لیکن حقیقت میں یہی وہ بھاشا ہے جو ہندوستان میں امرتسر سے لے کر مدراس تک عام طور سے بولی اَور سمجھی جاتی ہے۔ بہت سی ہندوستانی فلمیں جب شروع ہوتی ہیں تو جلی حروف میں اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ”ہندی فلم“ ہے:چنانچہ فلم دیکھنے والا‘ بھاری بھر کم سنسکر ِت الفاظ سننے کے لیے تیار ہو جاتا ہے؛ لیکن فلم میں نفیس اَور شستہ اُردو مکالمے اَور اَشعار سننے کو ملتے ہیں۔

میں نے ایک فلمساز سے سوال کیا: اگر حکومت فلم اِنڈسٹری والوں کو حکم دے کہ وہ آل اِنڈیا ریڈیو کی تقلید میں فلمیں اُردو کے بجائے سنسکر ِت آمیز ہندی میں بنائیں تو آپ کا رد ّ ِ عمل کیا ہوگا! میری بات سن کر وہ مسکرائے اَور کہنے لگے: فلم تو اُس جناتی زبان میں چلے گی نہیں‘ اِس لیے ہم لوگ فلم کا کام چھوڑ کر کوئی اَور دھندا شروع کر لیں گے۔ بیشک اب ہندوستان میں تامل‘ تیلگو اَور ملیالم وغیرہ میں بھی فلمیں بنانے کا رُجحان بڑھ رہا ہے اَور یہ درحقیقت آریائی تسلط کے خلاف دراوڑوں کے تحفظ ِ ذات کی ایک کوشش ہے؛ تاہم بحیثیت ِ مجموعی ابھی تک اُردو فلموں ہی کا بول بالا ہے۔

لیکن ذ ِکر ”پھر وہی د ِل لایا ہوں“ کا تھا۔ فلم جب ختم ہوئی تو مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ اکثر لوگ قومی ترانے کا احترام نہیں کر رہے تھے… ترانے کے خاتمے سے پہلے ہی سارا ہال خالی ہو گیا اَور ہم ایک غیر اَرضی مخلوق کی طرح بے حس و حرکت کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ عجیب بات ہے کہ ا ِہل ہند‘ کہنے کو تو وطن پرستی کے علم بردار ہیں لیکن اپنے قومی ترانے اَور جھنڈے کے احترام سے گریز کرتے ہیں۔

اُس روز کے بعد ہم نے بمبئی کے قیام کے دوران میں کوئی سات آٹھ فلمیں دیکھیں… کچھ فلموں کے بعد آدھا ترانہ سنایا گیا‘ کچھ کے بعد ترانہ سنانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی ‘ اَور جہاں ترانہ سنایا گیا وہاں زیادہ تر تماشائیوں نے ترانے کے دوران ہی میں ہال خالی کر دیا۔ شروع شروع میں پاکستان کا بھی یہی حال تھا مگر اَب یہاں فلم شروع ہونے سے پہلے ہی ترانہ سنا دیا جاتا ہے؛ اِس لیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ترانے اَور جھنڈے کے احترام میں لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

یہ محض اِتفاق ہے کہ ہمارے قیام کے دوران میں کوئی بہت عمدہ ہندوستانی فلم نہیں د ِکھائی جا رہی تھی۔ اُن د ِنوں ”مغل اعظم“ کی بڑی دُھوم تھی لیکن بعض قانونی اُلجھنوں کے باعث بمبئی سٹیٹ میں اُس کی نمائش ممنوع تھی۔ ”گمراہ“ اَور ”قانون“ کا بہت شہرہ تھا مگر وہ اُتر چکی تھیں۔ تاہم اخترالایمان کی توجہ سے ایک روز ہمیں کاردار سٹوڈیو کے پرائیویٹ سینما ہاوٴس میں فلم ”گمراہ“ بطور ِ خاص د ِکھائی گئی۔

اِس فلم کے مکالمے اخترالایمان نے لکھے ہیں اَور اِس میں اُنھوں نے ایک چھوٹا سا پارٹ بھی اَدا کیا ہے… دونوں باتوں میں ایک فطری نفاست اَور نکھار کا احساس ہوتا ہے۔ ”گمراہ“ بلا شبہ ایک بلند پایہ فلم ہے جسے مغرب کی عمدہ فلموں کے مقابلے میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اُن د ِنوں جو ہندوستانی فلمیں د ِکھائی جا رہی تھیں‘ اُن میں بعض باتیں مشترک تھیں۔

مثلاً یہ کہ اُن کہانیوں میں جذبہ (بالخصوص محبت کا جذبہ) غالب تھا۔ یہ بات اُن فلموں کے ناموں سے بھی ظاہر تھی‘ جیسے ”د ِل ایک مند ِر“ ، ”د ِل ہی تو ہے“، ”د ِل دے کے دیکھو“ وغیرہ؛ اَور اِسی طرح بعض دُوسری فلموں میں بھی د ِل کا لفظ مشترک تھا اَور اُن کے بنیادی رُجحان کا غماز تھا۔ پھر جہاں تک اِن فلموں کے موضوع کا تعلق ہے‘ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک عام ہندوستانی کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج کی برق رفتار اَور شکست و ریخت کی فضا میں سماجی شیرازہ بندی کا وہ عمل مجروح نہ ہونے پائے جس پر ہندوستانی تہذیب کا دارومدار ہمیشہ رہا ہے… اِن فلموں میں گھر کی بقا اَور اِستحکام کا جذبہ بہت قوی تھا…شوہر اَور بیوی کا بندھن‘ بہن اَور بھائی کی محبت‘ ماں اَور بچے کا ر ِشتہ‘ یہ تمام چیزیں ایک مقدس َ ورثے کے رُوپ میں نظر آتی تھیں۔

گویا فلمساز اَور کہانی کار نے ساری توجہ شکست و ریخت کے عمل کو روکنے پر مبذول کر رکھی تھی۔ شیکسپیئر نے ایک جگہ دُنیا کو سٹیج سے تشبیہ ‘ دی ہے۔ بمبئی میں فلمی صنعت اَور فلم بینی کے شدید رُجحان کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ شیکسپیئر کی اِس تشبیہ ‘ کا اِطلاق بمبئی کی فضا پر بہ آسانی ہو سکتا ہے۔ فی الواقعہ بمبئی کی ساری آبادی کسی نہ کسی فلم سے متعلق ہے یعنی اِس کا ایک حصہ تو فلمی صنعت کے مختلف شعبوں سے اَور باقی حصہ فلم بینی کے عمل میں مبتلا ہے۔

بمبئی شہر بجائے خود ایک حوض کی طرح ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں مچھلیاں بند ہیں۔ شام کے قریب اِس حوض کا پانی اِس قدر گدلا ہو جاتا ہے کہ مچھلیوں کو سانس لینے کے لیے حوض کی سطح پر آنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ بمبئی کے باسی پارکوں‘ تفریح گاہوں‘ شراب خانوں‘ کلبوں یا سمندر کنارے کی طرف مگر زیادہ تر سینما کی طرف بھاگنے لگتے ہیں۔

تفریح کا یہ عمل ا ِہل بمبئی کی اَہم ضرورت ہے اَور سینما ہاوٴس تو بالخصوص جذبات کے اِخراج کا کام دیتے ہیں۔ اَعصابی تناوٴ اَور برق رفتاری کی اِس فضا میں اگر ایک ہفتے کے لیے فلموں کی نمائش روک دی جائے تو مجھے یقین ہے کہ اِس شہر کی آدھی مخلوق اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے گی۔ اگلے روز صبح ہی صبح ایک نوجوان راجہ صاحب کے ڈرائنگ رُوم میں داخل ہوا۔

اُنھوں نے اُٹھ کر بڑے تپاک سے اُس سے مصافحہ کیا۔ وہ عام طور پر اپنی جھولا نما کرسی کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے: خود مہمان اُن کی راکنگ چیئر کے رُکنے یا تیز تیز چلنے ہی سے راجہ صاحب کے موڈ کے بارے میں اَندازہ کرتے ہیں۔ اگر مہمان کی آمد پر کرسی میں زلزلہ آ جائے تو اِس کا مطلب ہے کہ مہمان سامنے بچھے ہوئے صوفے کے آخری کونے میں بخوشی بیٹھ سکتا ہے۔

اگر کرسی دفعةً رُک جائے اَور راجہ صاحب کی زبان‘ کانشی ناتھ کو اُس کے سلسلہ ٴ نسب کے بعض نازک مقامات سے آگاہ کرنے لگے تو وہ فوراً جان لیتا ہے کہ صورت ِ حال نازک ہے۔ بہر حال راجہ صاحب نے نو وار ِد کا تعارف کرایا۔ معلوم ہوا کہ اُن کا نام رینو مکر جی ہے اَور وہ معروف فلمساز مکر جی کے صاحبزادے ہیں۔ رینو کی عمر بمشکل چوبیس پچیس برس ہوگی لیکن اُنھوں نے فلمیں بنانے کا کام ابھی سے سنبھال لیا ہے۔

رینو مکر جی‘ راجہ صاحب کو اَپنے ساتھ سنسر بورڈ کے دفتر لے جانا چاہتے تھے۔ میں نے ساتھ جانا چاہا تو ہم تینوں ایک ٹیکسی لے کر چل پڑے۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ رینو مکر جی نرے فلم پروڈسر نہیں‘ ایک ”اِنٹلیکچوئل“ بھی ہیں۔ سارے راستے ہم فرد اَور سوسائٹی کے ربط ِ باہم پر باتیں کرتے رہے۔ دراصل بمبئی میں ہجوم کا سیلاب دیکھ کر سب سے اَہم سوال یہی اُبھرتا ہے کہ کیا فرد ، اِس سیلاب کی محض ایک لہر ہے یا اِس کی کوئی الگ حیثیت بھی ہے! باتوں کے دوران میں ہم نے بمبئی کی نسلوں کے پیدا ہونے اَور پھر غائب ہو جانے کے عمل کو گھاس کے اُس میدان سے تشبیہ دی جس میں سے ایک معین وقفے کے بعد گھاس کاٹ لی جاتی ہے اَور نیچے سے نئی گھاس پھوٹ نکلتی ہے۔

اِس کا مطلب غالباً یہ تھا کہ یہاں بمبئی میں فرد َورد کوئی چیز نہیں‘ اصل چیز تو نسل در نسل کا و ُہ سلسلہ ہے جس کی حیثیت اَزلی و اَبدی ہے۔ بہر حال ٹیکسی کے اِس سفر میں بڑی د ِلچسپ باتیں ہوئیں۔ پھر ہم دفتر پہنچ کر اِنتظار گاہ میں جا بیٹھیجہاں رینو کے والد مکر جی پہلے سے موجود تھے۔ اُن سے ملاقات ہوئی‘ وہ بڑے ہنس مکھ اِنسان ہیں۔ اُنھوں نے گاندھی کیپ پہن رکھی تھی۔

راجہ صاحب نے اپنا ُمنہ ‘میرے کان کے قریب لا کر بتایا کہ مکر جی نے سر پر تازہ تازہ اُسترا پھروایا ہے (جو غالباً ہندو مذہب میں کسی قریبی عزیر کی موت پر ایک رسم کی حیثیت رکھتا ہے) اَور اَب وہ اُسے چھپانے کے لیے کانگریس پرستی کے عمل میں مبتلا ہیں۔ ہمیں وہاں بیٹھے کچھ زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ ایک لمبے تڑنگے‘ مضبوط جسم کے آدمی کمرے میں داخل ہوئے اَور داخل ہوتے ہی اُنھوں نے محفل کو زعفران زار میں تبدیل کر دیا۔

معلوم ہوا کہ اُن کا نام تیواڑی ہے اَور وہ بھی بمبئی کے مشہور فلم پروڈیوسر ہیں۔ تیواڑی بڑے باغ و بہار آدمی ہیں۔ تکلف اَور تصنع کو مطلق پسند نہیں کرتے اَور اُن کے د ِل اَور زبان کے درمیان کوئی باریک سا پردہ بھی حائل نہیں۔ وہ سعادت حسن منٹو اَور ڈبلیو زیڈ احمد کے یار ِ غار رہے ہیں۔ منٹو کا ذ ِکر کرتے ہوئے تو اُن کی آنکھیں بھیگ گئیں اَور وہ بڑی دیر تک مجھے اُن کی باتیں سناتے رہے۔

یکایک مجھے یاد آیا کہ میں نے منٹو کے بعض مضامین اَور افسانوں میں شاید تیواڑی کا نام بھی پڑھا ہے۔ ڈبلیو زیڈ احمد کی تعریف کرتے ہوئے‘ وہ بہت سنجیدہ ہو گئے۔ کہنے لگے: اگر احمد اَپنا دست ِ کرم میری طرف نہ بڑھاتے تو میں کبھی کا ختم ہو گیا ہوتا۔ اُس روز اَور اُس روز کے بعد جب بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ کسی شخص سے ملاقات ہوئی‘ اُس نے احمد صاحب کا نام ضرور لیا… اَور نہایت عزت اَور احترام کے ساتھ! مگر حیرت ہے کہ احمد صاحب جنھیں آج بھی بمبئی کے حلقوں میں ایک عظیم فلم ڈائریکٹر کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے‘ پاکستان آنے کے بعد اپنی اِس ممتاز حیثیت سے دست کش کیوں ہو گئے اَور اُنھوں نے فلمی دُنیا میں کوئی کارنامہ کیوں انجام نہ دیا! بمبئی‘ دُوسری اَشیا کے علاوہ کتابوں کا بھی بہت بڑا مرکز ہے۔

میں کتابوں کی بعض دُکانوں کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ ایسے میں آفریدی صاحب نے اپنی خدمات پیش کر د ِیں اَور وہ دُوسری صبح آ کر مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ پہلے تو ہم دو تین دُکانوں میں اُردو کتب کا جائزہ لیتے رہے اَور پھر اپنی منز ِل مقصود یعنی مکتبہ ٴ جامعہ جا پہنچے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی دُکان ہے لیکن اِس کا کاروبار بہت وسیع ہے اَور اِس کے مالک کا د ِل بھی بہت کشادہ ہے۔

جب اُنھیں معلوم ہوا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں تو بڑی محبت سے پیش آئے اَور بڑی دیر تک اُن مشکلات کا ذ ِکر کرتے رہے جو پاکستانی کتب کے حصول کے سلسلے میں اُنھیں درپیش تھیں۔ میں اِس چھوٹی سی دُکان میں بیٹھا‘ ہندوستان میں چھپی کتب کے ڈھیر میں سے اپنے مطلب کی کتابیں تلاش کر رہا تھا کہ مجھے ”السلام علیکم“ کا نعرہ سنائی دیا اَور اِس کے ساتھ ہی کسی نے‘ نو وار ِد سے میرا تعارف کرا دیا۔

دراصل میرے یہاں پہنچتے ہی ایک قاصد کو روانہ کر دیا گیا تھا جو مہر محمد خاں شہاب کو اَپنے ساتھ لے آیا تھا۔ مہر شہاب‘ اُردو کے علمی حلقوں میں بڑی اچھی طرح متعارف ہیں۔ بزرگ آدمی ہیں‘ شرافت اَور نفاست اُن کی ایک ایک بات سے مترشح ہے۔ اُن کا اصل میدان تحقیق ہے۔ جن احباب نے ”برہان“ میں اُن کے تحقیقی مقالے پڑھے ہیں‘ وہ مہر شہاب کے وسیع مطالعے کی یقینا داد دیں گے۔

ابھی ہم بیٹھے باتیں کر ہی رہے تھے کہ پریشان حال‘ بوکھلائے ہوئے ایک نوجوان دُکان میں داخل ہوئے۔ آفریدی صاحب نے کہا: اِن سے ملیے… باقر مہدی صاحب! میں اُن سے اُٹھ کر ملا لیکن اُنھوں نے کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا اَور دُکان کے اَندر جا کر آفریدی صاحب سے باتیں کرنے لگے۔ معلوم ہوا کہ آفریدی صاحب نے اُنھیں بتا دیا تھا کہ میں آج یہاں آوٴں گا‘ اِس لیے وہ مجھے ملنے چلے آئے۔ لیکن کیا واقعی مجھے… تو پھر وہ رُوٹھے ہوئے سے کیوں ہیں… بعد میں معلوم ہو

Chapters / Baab of Teen Safar By Wazir Agha

قسط نمبر1

قسط نمبر 2

قسط نمبر 3

قسط نمبر 4

قسط نمبر 5

قسط نمبر 6

قسط نمبر 7

قسط نمبر8

آخری قسط