2018 معاشی اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل

2018 musashi aitbaar se khusoosi ahmiyat ka haamil
احمد جمال نظامی
ویسے تو مالی سال 30جون کو ختم  ہوکر نئے مالی سال کاآغا ہوجاتا ہے لیکن مالی سال کا نصف دورانیہ ہر سال 31دسمبرکو مکمل ہو جانے پر حکومت کی معاشی کارکردگی کا اندازہ لگاتے ہوئے مختلف شعبوں کو  درپیش مسائل  اور اس دوران  معیشت کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں کو ہمیشہ خصوصی توجہ حاصل رہی ہے۔  جس میں ان نکات کو اجاگر کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ متعلقہ حکومتوں کو آئینہ دکھایا جا سکے تاکہ وہ آئندہ  عرصے میں اصلاح و احوال کے لئے درکار بنیادی اقدامات اٹھا سکیں ۔
ویسے تو ہمارے ملک میں ہر حکومت چاہے اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو وہ متواتر خسارے کا بجٹ پیش کرتی چلی آ رہی ہے لیکن  پاکستان کی سیاسی اور معاشی و اقتصادی تاریخ میں سال 2018ء کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

اس سال عام  انتخابات ہوئے اور انہی نتائج کی بنیاد پر  ملک میں تحریک انصاف کو حکومت  بنانے کا موقع ملا ہے۔ اس سے پہلے مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے اقتدار میں رہتے ہوئے  احتساب کے نام پر جو کچھ ہوا اس پر مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کی اپنی اپنی رائے اور موقف موجود ہے لیکن معیشت کے حوالے سے بھی 2018ء کا سال اہمیت رکھتا ہے۔

سابقہ حکومت کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار اسی احتساب کے شکنجے میں آ کر بیرون ملک چلے گئے اور ان کے بعد مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جمہوری حکومت کے طور پر اپنا قومی اسمبلی میں چھٹا بجٹ پیش کیا جس پر اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی طرف سے بھرپور احتجاج  بھی سامنے آیا لیکن مسلم لیگ(ن) نے با ہر حال اپنا بجٹ پیش کیا۔


 اس بجٹ کے لئے مسلم لیگ(ن) کو اپنے مشیرخزانہ مفتاع اسماعیل کو قبل از بجٹ وفاقی وزیرخزانہ بنانا پڑا۔ ان کو وزیرخزانہ بنانے پر بی احتجاج سامنے آیا اور 25جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے وزیرخزانہ اسد عمر کے ذریعے اس بجٹ میں کئی طرح کی ترامیم کیں اور ان ترامیم کی صورت میں  تحریک انصاف کوآج تک کئی طرح کے اعتراضات اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
موجودہ حکومت سال 2018ء میں ہی ایک مرتبہ پھر منی بجٹ پیش کرنے کا اعلان بھی کر چکی ہے۔ یہ بجٹ غالباً 2019ء کے  ماہ جنوری میں پیش کیا جائے گا۔  2018ء کے اختتام پر معاشی و اقتصادی  لحاظ  سے جہاں ایک منی بجٹ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں وہیں مالی سال کے ان ابتدائی چھ ماہ کو  معیشت کے لئے کسی طور پر بھی اچھا قرار  نہیں دیا جا سکتا۔ ڈالر کی قیمت میں بار بار  اضافہ ہوتا رہا۔
پٹرولیم، گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھائی جاتی رہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر کے مسائل بحران تک کی نوبت پر پہنچے۔ نئی معرض وجود میں آنے والی حکومت نے پہلے آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے اور بعدازاں قرضہ لینے کا اعلان کر کے اپنی پا لیسیوں کی ساکھ کو  سخت نقصان پہنچایا۔ آـئی ایم ایف سے قرض سے متعلق شرائط طے ہوئیں تو پہلی مرتبہ آئی ایم ایف نے اپنے سسٹم میں امریکی مداخلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر چین کی  اقساط ادا کرے۔


 2018ء کے دوران ملکی معیشت میں ریـڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والے ٹیکسٹائل اور زراعت کے شعبہ جات بھی متواتر بحران کی زد میں رہے۔ اسی سال موجودہ حکومت یعنی وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب، چین سے خصوصی بیل آؤٹ پیکج حاصل کئے اور حکومت نے معیشت کو خودانحصار بنانے کے بڑے بڑے دعوے کئے تاہم سال2018ء معیشت کے حوالے سے کئی تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہو رہا ہے لیکن مالی سال 2018-19ء کے آئندہ چھ ماہ  میں حکومت اصلاح و احوال کا بندوبست کرتی ہے یا نہیں یہ دیکھنا ابھی  باقی  ہے۔
وزیراعظم عمران خان ملائیشیا کے دورے کے بعد صحافیوں کو ایک انٹرویو میں اعتراف کر چکے ہیں کہ مہاتیر محمد نے انہیں بتایا ہے کہ کاروباری طبقات کو سہولیات فراہم کئے بغیر معیشت ترقی نہیں کر سکتی، دیکھتے ہیں کہ حکومت مالی سال کے آئندہ چھ ماہ میں کیا کرتی ہے؟ معیشت کے اعتبار سے مالی سال کے آخری چھ ماہ بھی معمولی نہیں ہوتے  لہٰذا اگر کوئی حکومت چاہے تو آئندہ چھ ماہ میں اپنی کارکردگی کو بہتر بنا کر معیشت سے متعلقہ مختلف شعبوں کی بہتری کرتے ہوئے 30جون سے پہلے پہلے معیشت کا خسارہ کم سے کم کر سکتی ہے۔


اس کے باوجود کہ  ہر حکومت اپنے بجٹ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے، اس کے بارے میں بلندبانگ دعوے کئے جاتے ہیں  ،اگر منی  بجٹ  میں حکومت نے اپنے کہے ہوئے الفاظ اور اعدادوشمار کے برعکس  پوزیشن لی  تو اس سے  اس کی ساکھ  کو  پہنچنے والے نقصان کا کچھ  بھی ازالہ  نہ ہو سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر اپوزیشن جماعت اور اکثر معیشت سے متعلقہ سٹیک ہولڈرز ہمیشہ یہی  الزام عاـئد کرتے ہیں کہ  پاکستان جیسے ملکوں میں پیش کردہ معمول کابجٹ یا منی بجٹ کسی نہ کسی عالمی مالیاتی ادارے کا تیارکردہ مسودہ  ہی ہوتاہے جسے متعلقہ اسمبلیوں میں وزراء خزانہ کی طرف سے پیش کر کے منظور کر لیا  جاتاہے۔

Your Thoughts and Comments