دنیا کی 90 فیصد معیشتیں سست روی کا شکار

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ بڑی حوصلہ افزا۔۔۔۔ پاکستانی معیشت پر عالمی معاشی سست روی کے اثرات زیادہ شدت سے ہوئے ہیں

Dunya Ki 90 Percent Mueshatain Susat Ravi Ka Shikar
عالمی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹا لینا جورجیوا نے ہے کہ دنیا کی معیشت سست روی کے دور سے گزر رہی ہے۔ وہ ترقی تو کر رہی ہیں مگر ترقی کی رفتار بے حد سست ہے۔ بلکہ دو سال پہلے دنیا کی معیشت بلندی کی طرف جا رہی تھی مگر اب سست ہونے لگی ہے۔ اس وقت دنیا کی90 فیصدمعیشتیں سست روی کا شکار ہیں۔ 2019-20ء میں معاشی شرح نمو گزشتہ دس سال میں سب سے کم ہو گی۔
امریکہ اور جرمنی جیسے ملکوں میں بے روزگاری تاریخی طور پر کم رہی ہے لیکن وہاں بھی معاشی سرگرمیاں نرم پڑتی جا رہی ہیں۔ عالمی کاروبار رک سا گیا ہے۔ ہندوستان اور برازیل جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر بھی مندی کا اثر ہونے والا ہے۔ آئی ایم ایف نے تجارتی جنگ کو عالمی معیشت کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں عالمی سطح پر جو رفتار پکڑنے والی عالمی شرح نمو اس کی وجہ سے دوبارہ پٹری سے اتر گئی ہے اور عالمی معیشت اس وقت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے گزشتہ دنوں یہاں جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ بات کہی ہے۔ دنیا کی دو بڑی معیشتوں امریکہ اور چین کے مابین گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری تجارتی جنگ کے تناظر میں یہ بیان بہت اہم ہے۔ آئی ایم ایف کی موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا کے یکم اکتوبر کو عہدہ سنبھالنے سے قبل نگران منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے والے ڈیوڈ لیپٹن نے رپورٹ میں اپنے تبصرے میں لکھا ہے، پچھلی کئی برسوں میں تجارت کی عالمگیریت سے دنیا کو بہت فائدہ ہوا ہے۔
تاہم یہ فائدہ سب کے حصے میں نہیں آیا ہے۔ ڈیوڈ لیپٹن نے کہا کہ تجارتی نظام میں کچھ خامیاں ہیں جن کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی تجارتی نظام کے تحفظ اور جدت کے لئے اجتماعی طور پر کام کرنا اہم ہے۔ آئی ایم ایف کے سینئر ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ لیپٹن نے کہا کہ اس وقت عالمی معیشت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ 2018ء کے اوائل میں عالمی معاشی نمو نے زور پکڑ لیا تھا۔
لیکن تجارتی جنگ کی وجہ سے اس نے اپنی تیز رفتاری کھو دی ہے۔ اس کے علاوہ مالی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے متعلق خطرات بھی ہیں۔ پچھلے کئی برسوں میں تجارت کی عالمگیریت سے دنیا کو فائدہ ہوا ہے تاہم یہ فائدہ سب کے حصے میں نہیں آیا۔
پاکستان جس کی معیشت پہلے ہی کافی مشکلات کا شکار ہے، اس پر اس عالمی معاشی سست روی کے اثرات زیادہ شدت سے ہوئے ہیں۔
مہنگائی، بیروزگاری اور تجارتی خسارے کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں سکڑ گئی ہیں، حکومت کی بہتری کے لئے کی گئی کوششیں بھی مفید ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔ آنے والے وقتوں میں پاکستان کی معیشت مزید چیلنجز کا سامنا کرنے والی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہاں آٹو موبیل اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے جو تیزی سے ترقی کے مراحل طے کر رہے تھے اب ان وہ دونوں بھی سنگین بحران کی زد میں ہیں۔
صنعتی سرگرمیاں جو پہلے ہی سست روی کا شکار تھیں تھم سی گئی ہیں۔ بینکوں سے کمرشل سیکٹر میں جانے والا فنڈ کافی کم ہو گیا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری جو گزشتہ کئی سالوں سے ہی کم تھی مزید سکڑ گئی ہے۔ ہر رپورٹ میں طلب میں کمی کی بات ہو رہی ہے۔ طلب کم اس لئے ہے کہ لوگوں کے پاس نوکریاں نہیں ہیں۔ صنعتی تجارتی اداروں میں بھی نوکریاں نہیں ہیں، تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے بلکہ اکثر تجارتی اداروں نے تو ملازمین کی تنخواہیں کم کر دی ہیں، پچھلے 6 سالوں سے کاروبارے ادارے ملازمین کی چھانٹی کر رہے ہیں۔
حکومت کے پاس خود اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ عوام کے ہاتھوں میں پیسے دے سکے تا کہ وہ خرچ کریں اور بازار میں طلب پیدا ہو۔ پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 فیصد پر آ گئی ہے جب کہ ستمبر میں بھارت کی 6 فیصد اور مالیاتی سال 2019ء میں بنگلہ دیش کی جی ڈی پی 8.1 فیصد ہو گئی ہے۔ بنگلہ دیش کی صنعتی شرح نمو 13 فیصد اور برآمداتی شرح 10.1 فیصد ہے۔
مگر پاکستان کی معیشت کے حوالے سے آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ بڑی حوصلہ افزا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے 6 ارب ڈالر کے قرض کی پہلی سہ ماہی کا جائزہ اگر چہ اکتوبر کے آخر میں لیا جائے گا تاہم مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر کی سربراہی میں آئی ایم ایف کے وفد کے پانچ روزہ دورے کے نتائج یقینی طور پر مثبت تاثرات کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ اگر چہ اسے کوئی بڑی پیش رفت قرار نہیں دیا جا سکتا پھر بھی یہ درست سمت میں آغازِ سفر کی نشاندہی ضرور ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے سٹیٹ بینک کی کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے کہ مانیٹری پالیسی سے افراطِ زر کو کنٹرول کیا گیا ہے، نیز بینک زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری لانے میں بھی کامیاب ہوا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی بھی تعریف کی گئی ہے کہ ٹیکس ریونیو میں اضافے اور ٹیکس گزاروں کے ساتھ معاملات میں یہ ادارہ بہتری کی جانب گامزن ہے مگر یہ چونکہ شروعات ہے اس لیے رواں مالی سال کی شرح نمو صرف 2.4 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے البتہ عام آدمی کے لیے یہ خبر دلچسپی کا موجب ہے کہ آنے والے چند ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں کمی کا امکان ہے۔
ہماری قومی معیشت کے لیے خسارے کا بڑا سبب بد انتظامی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ماضی کے برسوں میں مشکل فیصلے نہیں کئے گئے اور معیشت کو کمفرٹ زون میں رکھا گیا۔ ریونیو کے معاملات کو جان بوجھ کر دگر گوں رکھا گیا کیونکہ یہ کام درد سری کا ہے چنانچہ اسے جوں کا توں چھوڑ دیا گیا۔ توانائی کے شعبے کا حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ ہم دنیا کی مہنگی ترین بجلی پیدا کرتے ہیں اور لائن لاسز میں ہم دنیا کے سرِ فہرست ممالک میں ہیں۔ اس کا نتیجہ گردشی قرضوں کی صورت میں نکلا اور ملک مقروض ہوتا چلا گیا۔ سارے مسائل کی بنیادی وجہ بد انتظامی اور بد نظمی ہے۔
s

Your Thoughts and Comments