کاشتکاروں کی بڑھتی مشکلات اور سندھ حکومت کی بے حسی

kashtkaro ki barhti mushkilat aur sindh hakoomat ki by hasi
راﺅ محمد شاہد اقبال
سندھ میں ابھی ایک بحران پوری طرح ختم ہوتا نہیں کہ دوسرا سراٹھانا شروع کردیتا ہے ، یہ بحران در بحران کی کیفیت سندھ میں کب تک جاری رہے گی اس کاکسی کے پاس بھی تسلی بخش جواب نہیں ہے، اس وقت سندھ میں گنے کی کرشنگ کا بحران پوری طرح سر اٹھا چکا ہے افسوس تو اس بات کا ہے کہ گنے کی کرشنگ کا یہ بحران بھی سالانہ کلینڈر کا کوئی مہینہ ہے کہ اگر نہ آیا تو سندھ کا سال مکمل نہیں ہوگا، ویسے بھی سندھ میں شوگر ملزمالکان سندھ حکومت کے احکامات کو تماشہ بنانے کے پرانے عادی مجرم ہیں، چاہے شوگر ملز کو مقررہ تاریخ پر چلانے کا معاملہ ہویا گنے کے سرکاری نرخ مقرر کرنے کا مسئلہ ، سندھ حکومت شوگر کین ایکٹ نافذ العمل ہونے کے باوجودبھی اپنے احکامات پر عمل کرانے میں کیوں ناکام رہتی اس کی آج تک کسی کو سمجھ نہیں آئی۔

شوگر ملز مالکان کسانوں سے بھی سندھ حکومت کے مقرر کردہ نرخ پر گنا خریدنے کے بجائے اپنے مقررہ کردہ نرخ پر ہی گناخریدتے ہیں، جبکہ کسانوں سے من مانی قیمتوں پر گنا خریدنے کے باوجود بھی اُن کو ادائیگی کبھی بھی وقت مقررہ پر نہیں کرتے ۔ دونوں ہاتھوں سے منافع سمیٹنے کے باوجود بھی جب دل کرتا ہے شوگر ملز مالکان چینی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیتے ہیں، حسب روایت اس بار بھی صورت حال گنے کے کاشتکاروں کے لئے انتہائی دلخراش ہے کہ ابھی تک نہ تو شوگر ملز مالکان نے گنے کی کرشنگ کا آغاز کیا ہے اور نہ ہی حکومت سندھ کی طرف سے گنے کی سرکاری قیمت طے کی جارہی ہے ۔
جس کی وجہ سے گنے کے کاشتکار سندھ بھر میں سراپا احتجاج ہیں لیکن کوئی ان کی سننے والا بھی نہیں ہے۔ سندھ حکومت ہو یا شوگر ملز مالکان دونوں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے گنے کے کاشتکاروں کو چین وسکون سے زندگی بسر نہیں کرنے دینی کرشنگ شروع کروانے میں حکومتی دلچسپی کی وجہ سے گنے کی فصل سوکھنے سے کاشتکار مالی بدحالی کاشکا ہونے لگے ہیں، اگر صورتحال کچھ عرصہ اور یوں ہی جاری رہی تو پھر گندم کی کاشت میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے آئندہ سال گندم کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوجائے گا۔
سندھ کے 9 اضلاع میں احتجاج کے بعد گنے کے کاشتکاروں نے اب حیدرآباد کا رخ کرلیا ہے ، مظاہرین نے حیدرآباد میں پیدل مارچ کیا اور دھرنا دے کر مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی ۔ سندھ آباد گار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپور اور سینئر نائب صدر زبیر تالپور نے دوران احتجاج مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” حکومت سندھ جان بوجھ کر زراعت کو تباہ وبرباد کرنے پر تلی ہوئی ہے ، سندھ میں کاشتکاروں کو پہلے ہی اُن کی کاشت کردہ فصلوں کا صحیح معاوضہ نہیں دیا جاتا اب ہر سال کرشنگ سیزن کے آغاز میں تاخیر کرکےان کا معاشی قتل کیا جارہا ہے۔
سندھ میں شوگر مل کین ایکٹ کے تحت 15 اکتوبر سے شوگر ملوں کے بوائلر اسٹارٹ کرنا لازمی ہے اور یکم نومبر سے باقاعدہ گنے کی کرشنگ سیزن کا اغاز کیا جانا چاہیے لیکن سندھ بھر میں تاحال کرشنگ سیزن شروع نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر گنے کی فی من قیمت مقرر کی گئی ہے، اگر فوری طور پر گنے کی کرشنگ شروع ہونے کے ساتھ ساتھ گنے کی فی من سرکاری قیمت بھی مقرر نہ کی گئی تو ہماری طرف سے بہت جلد وزیراعلیٰ ہاﺅس کراچی کا گھیراﺅ کرکے اس کے سامنے مطالبات منظور ہونے تک دھرنا دیا جائے گا، دوسری طرف رابطہ کرنے پر کین کمشنر سندھ آغا ظہیر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ” تاحال کسی شوگر مل نے بوائلر نہیں جلائے ہیں تاہم حکومت سندھ نے جلد ہی کرشنگ سیزن کے حوالے سے پاسما اور کاشتکاروں کا مشترکہ اجلاس بلانے کا عندیہ دیا ہے جس میں تمام تصفیہ طلب امور نہ صرف زیر غور آئیں گے بلکہ اُن کو حل کرنے کے لئے بھی ضرور کوئی نہ کوئی پیش رفت کی جائے گی جو تمام فریقین بالخصوص کاشتکاروں کیلئے قابل قبول ہو“۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اور سندھ حکومت سے بیک وقت صرف یہ امید ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ سندھ کی عوام کے وسیع تر مفاد میںجلد از جلد اس بڑھتے ہوئے بحران کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لئے کچھ عمل اقدامات اُٹھائیں گے کیونکہ سندھ کی عام عوام جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی اقدامات اُٹھائیں گے کیونکہ سندھ کی عام عوام جوکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مستقل ووٹر بھی رہی ہے جن میں زیادہ تر تعداد کاشتکاروں کی ہے ان کو یہ بات ہضم نہیں ہوپارہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جو کے کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہی بنائی گئی تھی جس کابنیادی نعرہ ہی روٹی ،کپڑا اور مکان تھا، اب آخر چند برس سے ایسا کیا ہوگیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے ہی سندھ کے کسانوں کا خاص طور پر گنے کے کاشتکاروں کا بری طرح معاشی استحصال کیا جارہا ہے، حالانکہ اگر بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو بات بڑیی سادہ سی ہے کہ پیپلز پارٹی کے زیادہ تر مرکزی رہنما ماضی میں کاشتکار ہوتے تھے لیکن آج کل وہ بڑی بڑی شوگر ملوں کے مالکان بن چکے ہیں اس لئے ان کی طرف سے حکومتی پالیسیاں بھی ایسی ہی بنائی جارہی ہیں کہ جو زیادہ سے زیادہ اةن کے مفادار کو تحفظ فراہم کرسکیں، لیکن یہ سب کچھ پاکستان پیپلز پارٹی کے اُن رہنماﺅں کے کئے ضرور دکر کا باعث ہونا چاہیے جن کی شوگرملیںنہیں ہیں اور وہ اب تک سندھ میں زراعت کے شعبہ سے ہی منسلک ہیں۔
انہیں اپنی مرکزی قیادت کو ضرور یہ باور کروانا چاہیے کہ آخر وہ کب تک اس خطرناک ڈگر پر چلتے رہیںگے ، ہوسکتا ہے کہ اس راہ پر چلنے سے پیپلز پارٹی کے چند رہنماﺅں کو وقتی طور پر تو ضرور کچھ معاشی فوائد حاصل ہوجائیں لیکن مستقبل میں وہ اپنی کسان دشمن پالیسیوں کی وجہ سے سندھ کے لوگوں کو اپنا دشمن بھی بنا سکتے ہیں ۔ جس کا خمیازہ بہر حال پھر پوری پاکستان پیپلز پارٹی کو بھگتنا پڑے گا۔

Your Thoughts and Comments