خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام ۔ نئے خیال سے کمال کر(سحر صبا پیرزادہ)

خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام میرے لئے نئے تجربات اور مشاہدات کا سبب بناہے ۔ اس پروگرام کی وجہ سے مجھے خیبر پختونخواہ کی ثقافت، ماحول، رسم و رواج اور لوگوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا

KP Impact Challenge Programme
ڈاکٹر مریم چغتائی
خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام میرے لئے نئے تجربات اور مشاہدات کا سبب بناہے ۔ اس پروگرام کی وجہ سے مجھے خیبر پختونخواہ کی ثقافت، ماحول، رسم و رواج اور لوگوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ نوجوانوں کی قابلیت اور اُن کے اندر کچھ کر گزرنے کی لگن نے مجھے حیران کر دیا کہ ہماری نظر میں یہ صوبہ سب سے پسماندہ اور دہشت گردی کا شکار تھا۔
مگر یہاں کے نوجوان کچھ کرنے کے عزم سے بھرپور ہیں۔نوجوان مرد اور خواتین اپنے لئے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
اِس پروگرام کے دوران بہت سے پسماندہ اور دور دراز کے علاقوں میں مجھے خود جانے کا اتفاق ہوا اور مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے اور خاص طور پر خیبر پختونخواہ کا نوجوان اُن دقیانوسی تصورات کی نفی کرتا ہے جن کے بارے میں عموماًہمارا تصور بنا ہوا ہے۔

انہی سب باتوں کے پیشِ نظر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ کیوں نہ اِن سب نوجوانوں کے بارے میں لکھوں۔ میں اُن کی آواز لوگوں تک پہنچاوں کہ خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام کرنے سے پہلے وہ کیا سوچتے تھے اور کن حالات کا شکار تھے اور اس پروگرام کو کرنے کے بعد وہ خود میں کیا تبدیلی محسوس کر رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں سب سے پہلے آرٹیکل میں آپ کا تعارف سحر صبا پیرزادہ سے کروانا چاہوں گی جو کہ خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام میں ہماری اینٹر پرینیور ہیں اور دسترخوان کے نام سے اب اپنا کاروبار چلا رہی ہیں۔
سحر پیرزادہ مردان کے ایک گاوں کی رہنے والی ہیں اوروومن یونیورسٹی مردان میں سائیکالوجی کی سٹوڈنٹ ہیں۔سحر پیرزادہ اپنی پہلے کی زندگی کے حالات بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ یونیورسٹی میں ایک عام طالب علم کی طرح پڑھ رہی تھیں اور اپنی یونیورسٹی کی مختلف تقریبات میں حصہ لیتی رہی ہیں ۔ جب ان کوخیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام کا پتا چلا تو انہوں نے اس میں بھی حصہ لینے کا ارادہ کر لیا اور درخواست جمع کروا دی۔
وہ کہتی ہیں کہ وہ دن میری زندگی میں بہت خوشی کا دن تھا جب مجھے پتا چلا کہ میں خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام کے لئے منتخب کر لی گئی ہوں۔
میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ایک دن اپنے مستقبل کی اس طرح سے پلاننگ کروں گی اور ایک کاروبار کو چلانے کا سوچوں گی۔ منتخب ہونے کے بعد ہماری تربیت شروع ہوگئی ۔ جوں جوں میں تربیت کے مراحل سے گزرتی گئی میرے سامنے ایک نئی دنیا کھلتی گئی۔
مجھے سمجھ آنے لگی کہ ایک کاروبار کا آغاز کیسے کیا جاتا ہے اور ایک کاروبار کو کرنے کے لئے کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور کن کن باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس تربیت کے عمل نے میری زندگی میں اُن پہلووں کو نمایاں کر دیا جن سے میں آج سے پہلے آشکار نہ تھی۔ کاروبار کو ایک آئیڈیا سے لیکر عملی آغاز تک کے تمام پہلووں کو میں اچھی طرح سمجھ گئی تھی۔
تمام مراحل سے گزرنے کے بعد آخر کار وہ دن آہی پہنچا جب مجھے اپنے کاروبار کے آغاز کے لئے رقم ہماری صوبائی حکومت کی طرف سے دی جانی تھی۔ اُس دن سینئر صوبائی وزیر سرعاطف خان سے رقم وصول کرنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ میری زندگی بدلنے جا رہی ہے اور اب عمل کا وقت شروع ہو گیا ہے۔
اپنی زندگی میں مجھے سب سے زیادہ خوداعتمادی کی کمی محسوس ہوتی تھی اور دورانِ تربیت میں نے سب سے زیادہ یہی سیکھا کہ کس طرح سے اپنی اِس کمی کو دور کیا جائے۔
اپنی اسی تربیت ہی کی وجہ سے میں خود میں تبدیلی محسوس کرتی ہوں اور پہلے سے کہیں زیادہ خود اعتماد شخصیت کی مالک ہوں۔ میرا گھر چونکہ ایک گاوں میں ہے اور میرے گاوں میں عورتوں کے کام کرنے یا کاروبار کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لوگوں کی اسی سوچ کو مجھے تبدیل کرنا تھا اور بتانا تھا کہ عورتیں اپنی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے کام اور کاروبار بھی کر سکتی ہیں۔
یہی تصور سامنے رکھتے ہوئے میں نے اپنے کام کا آغاز کر دیا۔ شروع میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔سب سے مشکل کام اپنے کاروبار کے لئے موزوں لوگوں کا انتخاب کرنا تھا جس میں شروع میں کافی پریشانی اٹھانا پڑی۔ لوگوں کو کام کی تربیت دی اور تربیت کے بعد وہ کام چھوڑ جاتے تھے پھر یہی عمل دوبارہ دہرانا پڑا تھا۔ اسی طرح کی دوسری مشکلات پر اپنی ٹریننگ کی وجہ سے قابو پایا اور آج اللہ کا شکر ہے کہ میں ایک کامیاب کاروبار کر رہی ہوں۔
میں اب مختلف فوڈ سروسز مہیا کررہی ہوں جن میں کیٹرنگ ، ایونٹس فوڈ سپلائی ، آفس اور یونیورسٹیز کو کھانے کی فراہمی شامل ہیں۔ میں نے مختلف آفسز اور یونیورسٹیز کے ساتھ ایم اور یو سائن کر لئے ہیں اور اب اُن کو لنچ مہیا کرتی ہوں۔اس کے علاوہ ہم بیکڈ فوڈ اور فروزن فوڈ بھی مہیا کرتے ہیں۔ میں اپنے کام کو بہت اچھے سے آگے کی طرف لے جا رہی ہوں مجھے اب پندرہ لاکھ روپے کی نئی گرانٹ ملی ہے جس سے میں اب مصالہ جات کا پلانٹ لگا رہی ہوں اور بہت جلد آپ دسترخوان کے مصالہ جات بھی مارکیٹ میں دیکھیں گے۔

سحر پیرزادہ نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے مجھے کہا کہ پہلے اُس کو اس کے والد کے نام سے جانا جاتا تھا مگر اب لوگ اُس کو دسترخوان کی سی ای او کے طور پر بلاتے ہیں۔ پہلے وہ اپنے والدین کے دستِ نگر تھی مگر آج وہ پچھلے دو سمسٹر سے اپنی فیس خود ادا کر رہی ہے نہ صرف خود کما رہی ہے بلکہ وہ بارہ سے پندرہ لوگوں کو روزگار مہیا کر رہی ہے اور اُن کو تنخواہ دیتی ہے۔
یہ اعتماداسے خیبر پختونخواہ ایمپیکٹ چیلنج پروگرام اوراس کے والدین کی وجہ سے ملا ہے۔جنہوں نے دقیانوسی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے اپنی بچی کو زندگی میں کچھ کر دکھانے کا موقع دیا۔
سحر پیرزادہ کے مطابق یہ پروگرام ایک نہایت قابلِ تحسین پروگرام ہے جس کی وجہ سے اس کی زندگی بدل گئی۔ اُس کا خیال ہے کہ اسی طرح کے اور بھی پروگرام شروع کئے جائیں تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع میسر ہوسکیں۔
اس پروگرام اور اپنی نوجوان نسل کے لئے کئے جا رہے مزید اقدامات پر وہ اپنے سینئر صوبائی وزیر عاطف خان اور حکومت کی بہت شکر گزار ہے اور امید کرتی ہے کہ ترقی کا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ ایک وقت آئے گا جب پاکستان کے دوسرے صوبے خیبر پختونخواہ کی تقلید کریں گے۔
بقول علامہ اقبال:
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
s

Your Thoughts and Comments