ماہ رمضان اور مہنگائی کا طوفان

Mah e Ramzan Or Mehengai Ka Tofan
 چودھری عبدالخالق
تمام مسلمانوں کے لئے رمضان کا مہینہ بڑی خصوصیات کا حامل ہے اسی لئے اس ماہ کے آتے ہی دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں بڑی خوشیاں منائی جاتیں ہیں ۔کبھی رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے شہر کے مکانوں کی چھتیں لوگوں سے بھر جاتی تھیں ۔ہر کسی کی آنکھیں آسمان کی طرف لگی ہوتی تھیں اور جب کسی کو چاند نظر آجاتا تو ہر طرف شور مچ جاتا ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی ۔
مسجدوں میں نوبتیں اور نقارے بجا کر رمضان کی آمد کا اعلان کیا جاتا۔
اس موقع پر لوگوں کی خوشیاں دیدنی ہوتی تھیں۔ آج کے جدید دور میں چاند دیکھنے کا اہتمام حکومت کی طرف سے کیا جاتا ہے جس نے اس مقصد کے لئے روایت بلال کمیٹی بنائی ہوئی ہے اس کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے نمائندے شامل ہوتے ہیں یہ کمیٹی چاندنظر آنے کی اطلاع ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے عوام تک پہنچاتی ہے ۔

بعض اسلامی ممالک میں رمضان کا چاند نظر آنے پر تو پیں چلائی جاتی ہیں اس طرح اس روحانی خوشی کی اطلاع لوگوں تک بھی پہنچ جاتی ہے ۔
یہ بابرکت مہینہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نواز شات کی بارش کرتا ہے انسان کے لئے بخشش کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے اس ماہ ایک ایک نیکی کے بدلے ستر ستر نیکیوں کا ثواب ملتا ہے ۔
اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنے رب کو منانے کی کتنی جستجو کرتا ہے ۔مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی ہیں صاحب ثروت حضرات غریبوں مسکینوں میں زکوة ۔خیرات تقسیم کرتے ہیں۔جگہ جگہ روزہ داروں کے روزے افطار کرانے کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ہر طرف روحانی خوشیاں رقص کرتی نظر آتی ہیں۔
 چاہے کوئی غریب ہو یا امیر عام دنوں کی نسبت افطار کے وقت ہر کسی کا دستر خوان بھرانظر آتا ہے یہ اللہ ہی تو ہے جو اس ماہ ہر کسی کے رزق میں اضافہ کرکے دستر خوانوں پر برکت ڈالتا ہے ۔
اس مہینے ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ سحری و افطاری کا باقاعدہ اور اچھا اہتمام کرے لہٰذا معمول سے ہٹ کر اشیائے خوردونوش کی خریداری کرنا لوگوں کی مجبوری ہے مفاد پر ست عناصر لوگوں کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔موسم گرما میں ماہ رمضان آئے(جیسے اب بھی یہ مہینہ سخت گرمی میں آیاہے)جو روزہ دار مشروبات کی بہت زیادہ خریداری کرتے ہیں ۔

بازاروں میں اچھی برانڈ روح افزا۔جام شیریں۔گل بہار۔نورس جیسے جعلی شربتوں کے ڈھیڑ لگے ہوتے ہیں کتنے ستم کی بات ہے کہ خریدارکوپورے پیسے دے کر بھی اصل چیز نہیں ملتی انتظامیہ آنکھیں بند کئے بیٹھی ہوتی ہے ۔اصلی مشروبات بنانے والی فیکٹریاں بھی دن بدن اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتی رہتی ہیں قیمتوں میں اضافہ تو کرتی ہی ہیں بوتلوں کا سائز بھی دن بدن چھوٹا کرتی جاتی ہیں اس طرح انہوں نے بھی لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کیا ہوا ہے یہی حال دوسری مصنوعات کا ہے قیمتوں میں اضافہ اور پیک شدہ مٹیریل میں کمی۔

اب کس کس چیز کا رونا روئیں۔کس سے شکایت کریں بے ایمانی تو ہر کسی میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جہاں پر ایک طبقہ نیکیاں کمانے کی غرض سے غریبوں مسکینوں روزہ داروں کی مدد کرتا ہے تو دوسری طرف یہ بھی لوگ ہیں جو آخرت کو بھول کر دولت کمانے کے لئے ہر نا جائز حربہ استعمال کرتے ہیں ۔اشیائے خوردونوش کی مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانی قیمتوں پر چیزیں فروخت کرتے ہیں یہی وہ تاجر ۔
سرمایہ دار اور گراں فروش مہنگائی کو بڑھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔فکر آخرت بھول کر روز ہ داروں کے لئے جینا دو بھر کردیا جاتا ہے ان سب حربوں کے باوجود بھی غریبوں کے دستر خوان سجتے رہتے ہیں وہ تو اللہ کی انسان پر خاص عنایت ہے کہ اس نے رزق کی تقسیم خود اپنے ہاتھوں میں رکھی ہوئی ہے اگر یہ کام انسان کے سپرد کردیا جاتا تو انسانیت کی ہلاکت کاسبب بنتا ہے ۔

انسان نے تو انسان کا رزق بند کرکے اس سے جینے کا حق بھی چھین لینا تھا۔ماہ رمضان میں ہر سال مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس بار تورمضان کے آنے سے پہلے ہی اتنی مہنگائی ہوگئی ہے کہ عوام چیخ پڑی ہیں ۔غریبوں کے کھانے کی اشیاء کی قیمتوں کو وہ آگ لگی ہے کہ دو وقت کی روٹی کھانامحال ہو گیا ہے ۔دال اور سبزیاں جنہیں کھا کر غریب اور سفید پوش لوگ اپنا گزاراہ کررہے تھے ان کی قیمتیں آسمان کی وسعتوں کو چھونے لگی ہیں اس سے پہلے نہ کہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی سوچا تھا کہ دالیں ڈیڑھ سو سے دو سوکلو تک بکنے لگیں گی رہی بات سبزیوں کی تو اس وقت ٹینڈے ۔

بھنڈی اور کدوڈھائی سوروپے کلو میں بک رہے ہیں ۔جتنے پیسوں میں ہم ایک کلو سبزی خریدتے تھے آج اتنے پیسوں میں وہی سبزی ایک پاؤملتی ہے ۔حکومت تو ہر بات پر کہہ دیتی ہے کہ گرانی ڈالر کاریٹ بڑھنے کی وجہ سے ہوئی ہے کیا کوئی ہمیں بتائے گا کہ یہ سبزیاں جو ہمارے ملک میں وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہیں ۔ان کی قیمتوں کو کنٹرول کیوں نہیں کیا جاتا کہیں یہ تو نہیں ہورہا کہ ملک کی اپنی سبزیاں چھوڑ کر اب یہ بھی باہر کے ملکو ں سے درآمد کی جارہی ہیں ۔
جن کے دام ڈالروں میں ادا کرنے کی وجہ سے بڑھے ہیں۔
چیزوں کی قیمتیں تو آئے روز بڑھتی ہی رہتی ہیں مگر ملازم پیشہ افراد کی آمدن تو نہیں بڑھتی ۔گھر چلانے والا آدمی اپنی جگہ پریشان ہے کہ وہ کس طرح اپنے گھر کو چلائے اور کس طرح کچن کے اخراجات پورے کرے۔ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ جب کوئی آدمی اپنی حلال کی کمائی سے اپنے گھر کے اخراجات پورے نہیں کر سکتا تھا تو حالات اسے مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ کرپشن کی طرف مائل ہوجائے اور ناجائز کاموں سے پیسہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔
حکومت کو چاہئے کہ وہ غریب آدمی کو ریلیف دے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کرے تاکہ وہ بے چارہ اپنے بیوی بچوں کو عزت آبرو سے دو ٹائم کی روٹی کھلا سکے ۔اس ساری صورت حال میں صرف کمانے والا آدمی ہی نہیں بلکہ خاتون خانہ بھی سخت متاثر ہوتی ہے جس نے امور خانہ داری کو سنبھالنا اور کچن کا نظام چلانا ہوتا ہے اپنے خاوند کی محدود کمائی میں گھر کے سارے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے روز روز کی مہنگائی سے مہینے کا سارا بجٹ چوپٹ ہو کررہ جاتا ہے اور وہ بے چاری ذہنی تناؤ کا شکار رہتی ہے ۔

اسی ذہنی تناؤ کی وجہ سے کئی گھروں میں میاں بیوی کے درمیان جگڑے ہوتے رہتے ہیں جس میں نہ میاں کا کوئی قصور ہوتا ہے اور نہ ہی بیوی کا سارا قصور تو اس مہنگائی کا ہے جس نے سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے بڑی عجیب بات ہے کہ اس ہو شربا مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی بجائے ہمارے وزراء بھانت بھانت کی بولیاں بولتے رہتے ہیں اور سوچے سمجھے بغیر الٹے سیدھے بیان داغتے رہتے ہیں جو عوام کی دل آزادی کے ساتھ جلتی پہ تیل چھڑ کنے کے مترادف ہیں ۔

کوئی وزیر تلقین کرتا ہے کہ دو کی بجائے ایک روٹی کھا کر گزارہ کریں ۔تو کوئی وزیر بڑی دلیری سے کہتا ہے ابھی تو عوام کی اور چیخیں نکلیں گی۔ہم پوچھنے میں حق بجانب ہیں کیا یہ حکومت صرف عوام کی چیخیں نکلوانے آئی ہے۔ہاں البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ حکومت نے غریبوں پر ترس کھاتے ہوئے بڑی مہربانی کی ہے کہ پنجاب بھر میں رمضان بازار لگا دےئے ہیں جن کی تعداد 309بتائی جاتی ہے۔
جہاں پر اس ماہ اشیائے خوردونوش ارزاں قیمتوں پر دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔
واضع ہو کہ یہ وہی سستے بازار ہیں جو رمضان کے مہینے میں پچھلے کافی سالوں سے شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے جاتے رہے ہیں۔ان بازاروں کی افادیت کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر ہم یہ کہنے میں کوئی آڑنہیں سمجھتے کہ یہاں بکنے والی سبزیاں ۔پھل اور دوسری اشیاء انتہائی ناقص اور گھٹیا ہوتی ہیں ۔

قیمتوں میں بھی بازار کی نسبت کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔بہتریہی سمجھا جاتا ہے کہ ان بازاروں سے ایسی گلی سڑی اشیاء خریدنے کی بجائے بازارہی سے خریدلے۔سارا مہینہ صارفین رمضان بازاروں میں بکنے والی اشیاء کی ناقص کوالٹی کی شکاتیں کرتے رہتے ہیں۔ وزیر مشیر ان بازاروں کے دورے کرتے ہیں ۔سیلفیاں بنواتے ہیں اخباروں میں اور ٹیلی ویژن کے چینلوں پر اپنی کار کردگی کی خوب پبلسٹی کرتے ہیں ۔

مگر صارفین کی شکایتوں کا کوئی ازالہ نہیں کیا جاتا ۔زبانی کلامی کئے گئے سارے کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں لوگوں کے چیختے چلاتے ہی رمضان کا سارا مہینہ گزر جاتا ہے اور بات آئی گئی ہو جاتی ہے ۔اگر کوئی ریلیف دینا ہے تو عملی طور پر دیں ۔جن کے اثرات عوام تک پہنچیں اور سب کو پتہ چلے کہ حکومت نے کوئی اچھا قدم اٹھایا ہے زبانی کلامی دعوئے کرنے کا وقت گزر چکا ہے ۔
یقین کیجئے لوگ مہنگائی سے اس قدر تنگ آئے ہوئے ہیں کہ کسی وقت بھی گلیوں بازاروں میں نکل کر حکومت وقت کے لئے پریشانی کاباعث بن سکتے ہیں۔
ابھی تو عوام مہنگائی کاروناروتے نظر آرہے تھے کہ حکومت نے رمضان میں بجلی کی لوڈ شیڈ نگ کا بھی عندیہ دے دیا تھا۔ عوام کو عذاب درعذاب میں ڈالنے کا مقصد سمجھ نہیں آتا۔عوام کو کس جرم کی سزادی جارہی ہے ۔
سمجھ نہیں آتی رمضان کے رحمتوں والے مہینے کو ہماری حکومت زحمتوں والا مہینہ بنانے پر کیوں تلی ہوئی ہے۔مہنگائی کے ہاتھوں پسے ہوئے بھوک اور پیاس کے مارے ستم رسیدہ روزہ داروں کو سخت گرمی میں لوڈ شیڈنگ کرکے مزید ہلکان نہ کیا جائے۔
جبکہ بجلی کی قیمتیں اتنی زیادہ بڑھادی گئی ہیں پھر حکومت عوام کو کوئی ریلیف دینے سے کیوں قاصرہے۔ ماشاء اللہ اس وقت ہماری حکومت میں موج درموج موجود وزیروں میں بہت سمجھ دار اور پالیسی میکروز شامل ہیں جو حکومت کو ایسے ایسے نایاب اور مفید مشورے دیتے ہیں جن سے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹادی جائے اور انہیں کسی اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیاجائے ۔
لگتا ہے ان مشوروں پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے یہی پروگرام بنایا ہے کہ رمضان کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ ہوگی تو لوگ اس ہو شربا مہنگائی کو بھول جائیں گے اور لوڈشیڈنگ کو کوسنا شروع کردیں گے۔
کیا خبر تھی کہ ہمارے حکمران آئی ایم ایف کے مطالبات مانتے ہوئے اس حد تک آگے نکل جائیں گے کہ غربت مٹاؤ کے نعرے لگا کر آئے اور غربت کی بجائے”غریب مکاؤ“ایجنڈابنا کر غریبوں کو ہی ختم کرنے پر تل گئے۔
آئی ایم ایف سے قرضہ لینا ہے تو پھر ان کی ہدایات پر پوری طرح عمل بھی تو کرنا پڑے گا۔وہ جو کہتے جائیں گے یہ کرتے رہیں گے ۔بجلی مہنگی ۔گیس مہنگی ۔پٹرول مہنگا۔کرتے رہیں گے تو پھر بھلا اس ہو شربا مہنگائی کی اُڑان کو کیسے روکا جا سکتا ہے ۔
قیمتیں بڑھاتے وقت ہمیشہ یہی راگ الاپاجاتا ہے کہ اس سے عام آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑھے گا صرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھیں تو اس کے اثرات ہر چیز پر نظر آتے ہیں پبلک ٹرانسپوٹ کے کرایوں میں خود بخود اضافہ ہو گیا ہے جس سے ہر شخص متاثر ہورہا ہے اشیاء کی لاگت اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات بھی اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے کا ایک بڑاسبب ہے ۔
یہی حال بجلی کے نرخوں میں بھی اضافے کا ہے ۔
موجودہ حکمرانوں کے آنے کے ساتھ ہی عوام اور کاروباری طبقے کو امید ہو چلی تھی کہ اب حالات بہتری کی طرف جائیں گے ۔مگر افسوس صد افسوس اس حکومت نے نوماہ کی حکمرانی میں عوام کو سوائے مہنگائی اور پریشانیوں کے کچھ بھی نہیں دیا۔اس کے وہ سارے کھوکھلے نعرے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے جن کے بل بوتے پر لوگوں نے ان کو ووٹ دئیے تھے۔

ہم عمران خان صاحب سے التجا کرتے ہیں کہ فی الحال وہ ماہ رمضان کے تقدس اور عظمت کا خیال کرتے ہوئے غربت کے ہاتھوں ستائے ہوئے عوام کو اچھی اچھی خبریں سنائیں اور اس طرح انہیں ریلیف دے کر ان کی دل جوئی کریں کہ ان کو پتہ چلے کہ واقعی ان کے لئے کسی نے کچھ کیا ہے ۔یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ انہیں حکومت میں لانے میں یہی غریب عوام پیش پیش ہیں ۔
اللہ نے انہیں حکومت کرنے کا موقع دیا ہے تو اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں اور ایسے الٹے مشورے دینے والے وزیروں کے مشوروں پر عمل کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ بچار کر لیا کریں ۔بغیر سوچے سمجھے کئے گئے فیصلے واپس لینے کے لئے ان کو یوٹرن بھی لینا پڑتا ہے اور شرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے ۔قائد اعظم کافرمان ہے کہ کوئی کام کرنے سے پہلے سوبار سوچھیں اور پھر کوئی فیصلہ کریں اور جب کوئی فیصلہ کر لیں تو پھر اس فیصلے پرڈٹے رہیں
۔

غریبوں کو آئے دن کسی نئی مشکل کا سامنا کرنا پر رہا ہے ابھی پچھلے دنوں دوا ساز کمپنیوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کرکے دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا اور یہ کوئی معمولی اضافہ نہیں بلکہ سوسے تین سو فیصد کے حساب سے کیا گیا تھا جس پر لوگ چیختے چلاتے ہے اور حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی وہ تو جب میڈیا نے اس ظلم پر شورمچایا پھرحکومت کو ہوش آیا۔
مزے کی بات یہ کہ حکومت کے علم میں نہیں تھا کہ یہ اضافہ کیوں اور کس کے کہنے پر کیا گیا۔
حکومت کی طرف سے بڑے دعوے کئے گئے کہ ہم دو اساز کمپنیوں کے خلاف ایکشن لیں گے یہ کردیں گے وہ کردیں گے مگر سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور آج تک کوئی کاروائی نہ ہو سکی۔ابھی حکومت کی طرف سے ایک اعلان کیا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں چار پیسے فی یونٹ کی کمی کردی گئی ہے یعنی جو ایک سویونٹ بجلی استعمال کرے گا اس کو چارروپے کی بچت ہویہ رعائت نہیں بلکہ عوام کے ساتھ اچھا بھلا مذاق ہے بلکہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے۔

آج غریب لوگ یہ سوچنے پر حق بجانب ہیں کہ آخر پاکستان کس مقصد کے لئے قائم کیا گیا تھا۔کیا یہ وہ پاکستان نہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور قائد اعظم نے جس خواب کی تعبیر دی تھی کیا یہ پاکستان غریبوں کا نہیں صرف اُن جاگیرداروں ۔سرمایہ کاروں اور وڈیروں کے لئے بنا تھا جو ہمیشہ سے ایوانوں سے چمٹے ہوئے غریبوں پر حکومت کرتے چلے آرہے ہیں ۔
جوکام کرتے ہیں اپنے مفاد میں کرتے ہیں ۔کوئی بھی غریبوں کا ہمدرد نہیں۔کوئی تو ہو جواپنے آپ سے ہٹ کر نچلے طبقے کوبھی دیکھے ان کے متعلق سوچے اور ان کی مشکلات کا ازالہ کرے۔ہم خدا کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہو ئے ہر دم ہر پل پُر امید رہتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی ایسا نیک اور ہمدرد حکمران ضرور آئے گا جو اپنے اچھے کاموں سے ملک اور ملک میں رہنے والے غریبوں کے دلوں پر حکمرانی کرے گا۔

Your Thoughts and Comments