مہنگائی‘بے روزگاری کی ذمہ دار ن لیگ یا پیپلزپارٹی؟

Mehengai Berozgari Ki Zimedar N League Or Peoples Party
 رحمت خان وردگ
عام غریب آدمی کی مشکلات میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلسل اضافہ ہو تا چلا جارہا ہے اور مہنگائی کا نہ رکنے والا طوفان ان کی زندگی کی امیدیں ختم کرتا چلا جارہا ہے اور ہر مہینے منی بجٹ آتا ہے اور تمام عام استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔حکومت میں آنے سے پہلے کے تحریک انصاف کی لیڈر شپ کے دعوے ہی عوام کی بد اعتمادی کا سبب ہیں کیونکہ انہوں نے قوم کو بہت ہی زیادہ سبز باغ دکھائے تھے جس سے مثبت تبدیلی کی خاطرقوم نے انہیں آزمانے کا فیصلہ کیا یہ الگ بات ہے کہ اپوزیشن ان کے مینڈیٹ کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔
وزیراعظم کے اقتدار میں آنے سے پہلے چند اقوال یہ تھے۔”جب ڈالر اوپر جائے اور مہنگائی میں اضافہ ہوتو سمجھو‘تمہارے حکمران چور ہیں“۔

آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خود کشی کو ترجیح دوں گا“۔
”ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اپنا چور ی کا مال صاف کرنے کے لئے لائی جاتی ہے“۔”دوسرے ملکوں میں ٹرین حادثہ ہوتا ہے تو وزیر ریلوے استعفیٰ دیتا ہے“۔

مراد سعید کا خطاب ”باہر رکھے200ارب ڈالر واپس لائیں گے“اسی طرح اسد عمر کے خطابات کے برعکس اقدامات ۔ایسے درجنوں خطابات ہیں جس پر مکمل یوٹرن لینے اور مہنگائی میں مسلسل بے تحاشہ اضافے پر عوام پریشان ہیں اور ایک ایک خطاب پر جواب چاہتے ہیں لیکن حکمران اپنی کار کردگی بتانے کے بجائے میڈیا پر صرف دن رات اپوزیشن کو چور قرار دیتے نہیں تھکتے۔

حکمران صرف یہی کہتے ہیں کہ اس سب کے ذمہ دار گزشتہ ن لیگ کے لوگ ہیں جو مئی 2018ء میں خزانہ خالی چھوڑ کر اور ملک کو قرضوں میں ڈبو کر چلے گئے لیکن عام آدمی کے سامنے ہے کہ موجودہ حکومت کو سعودی عرب نے 6ارب ڈالر ‘چین نے 3ارب ڈالر‘یو اے ای نے 3ارب ڈالر اور قطر نے 4ارب ڈالرز دےئے ہیں اور عوام بار ہاسمجھنے سے قاصر ہے کہ اس قدر خطیر رقم کہاں چلی گئی ؟حکمرانوں سے اس رقم کے متعلق پوچھیں تو جواب ملتا ہے ن لیگ اور پیپلزپارٹی ملک ڈبو کر چلے گئے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ موجودہ حکومت میں آنے والے یہ ڈالرز کہاں گئے؟مئی2018ء میں ڈالر 98روپے جبکہ اب 157-162روپے ہے۔

سونا اس وقت 56900 روپے تولہ جبکہ اب 80500روپے‘پیٹرول 87.70روپے اوراب114 روپے لیٹر’چینی 55-60 روپے اور اب 74روپے کلو‘کوکنگ آئل 140روپے اور اب 187روپے لیٹر جبکہ گھریلو گیس سلنڈر 1352روپے کا تھا اور اب 1400اسی طرح گیس ‘بجلی‘سی این جی سمیت روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں کم از کم نصف سے 200فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور اس سب مہنگائی کا حکمراں جماعت سے کوئی سوال نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان کا واحد جواب ہے کہ یہ سب کچھ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہواہے۔

ماشاء اللہ تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال پورا ہونے کو ہے اور آپ اب بھی گزشتہ حکومت پر ملبہ ڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں،لوگوں کی اکثریت اب پوچھتی ہے وزیراعظم عمران خان ڈالر اوپر جارہا ہے تو ہم کیا یہ حق رکھتے ہیں کہ حکمران کو چور کہہ سکیں اور گھبرانا شروع کردیں؟آپ نے تو آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بجائے خود کشی کرنی تھی ۔
آپ نے کس کا مال صاف کرنے کے لئے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم دی؟یہ حکومت جب سے آئی ہے 10سنگین ٹرین حادثات ہو چکے ہیں لیکن وزیر ریلوے شیخ رشید استعفیٰ دینے جیسے اخلاقی اقدام کے بجائے اسے انسانی غلطی قرار دیکر جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تادم تحریر بھی صادق آباد میں اکبر ایکسپریس کا مال گاڑی سے تصادم ہوا ہے جس میں درجن بھر معصوم شہری ہلاک ہو چکے ہیں ،اسی طرح مراد سعید کی کوششوں سے بیرون ملک چھپائے گئے 200ارب ڈالرز کی واپسی کا سوال تو زبان زدعام ہے لیکن عوام کو کوئی مطمئن کرنے والا نہیں اور حکمراں جماعت کے ہر ہر لیڈر کا یہی بیانیہ ہے کہ موجودہ سب کچھ گزشتہ حکمرانوں کی وجہ سے ہوا ہے لیکن عوام کو گھبرانا نہیں چاہئے ۔

اس مہنگائی کے طوفان میں گھبرانے تک کا حق نہیں دیا جارہا اور صرف زبانی جمع خرچ سے وقت گزارا جارہا ہے۔مسلم لیگ ن کے آخری بجٹ میں جو ٹیکس وصولی کا ہدف رکھا گیا تھا موجودہ حکومت اسے پورا کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوئی کیونکہ یہ ٹی وی پر آکر تاجروں‘کاروباری افراد اور صنعت کاروں کو دھمکیاں دیتے ہیں لیکن عملی طور پر ان دھمکیوں سے ٹیکس وصولی کے بجائے الٹا اثر ہوتا ہے اور خوف کی فضاء میں کاروبار تقریباً ختم ہو چکا ہے اسی لئے ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہیں ہو سکا۔
صنعتکاروں کو بہت زیادہ سہولتیں دیکر ایکسپورٹ بڑھانے کے دعوے مسلسل کئے جارہے ہیں لیکن بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور صنعت کار اب تک ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اسی لئے تو آئے روز بزنس کمیونٹی سے ملاقاتیں کرکے منتیں ترلے کئے جاتے ہیں لیکن صنعت کاروں کا مطالبہ ہے کہ آپ اضافی نہیں تو گزشتہ حکومت کے برابر ہی مراعات دے دیں لیکن حکمرانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی،اگر گزشتہ حکومت میں خام مال 100روپے کا تھا تواب 500روپے کا ہو گیا ہے اور صنعت کار چاہتا ہے کہ اگر میں خام مال پر اب 500روپے خرچ کروں تو اسی شرح سے منافع ملنا چاہئے لیکن حکمران یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں۔

حکومت نے اعلان کر رکھا ہے کہ ایف بی آر کراچی‘لاہور ‘پشاور سمیت بڑی بڑی شہروں میں ڈور ٹوڈورجاکر ٹیکس وصولی کو ممکن بنائے گا۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جب تک ہر شخص مناسب ٹیکس نہیں دے گا اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا لیکن ٹی وی پر صبح شام ایف بی آر اور ٹیکس محکمے کو جس طرح سے پیش کیا جارہا ہے اس سے تو کبھی بھی ٹیکس ادائیگی میں اضافہ ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ عوام کے ذہنوں میں نقش کر دیا گیا ہے کہ ٹیکس محکمہ بڑا ظالم وجابر ہے اور اس قدر سخت اقدامات کرتا ہے کہ آپ کی جان چھڑانا مشکل ہو جائے گا۔
کاش کہ کیا ہی بہتر ہوتا ہے اس طرح کا نقشہ پیش کرنے کے بجائے آپ ٹیکس وہند گان کو ملنے والی مراعات کا تذکرہ کرکے لوگوں کو اس طرف مائل کرتے اور ہندوستان کی طرح کا ٹیکس نظام رائج کیا جائے ۔
بھارت میں کیسا ٹیکس نظام ہے ؟بھارت میں ہر کمر شل بینک میں ٹیکس ادائیگی کے تمام چالان رکھے ہوتے ہیں اور ہر عام آدمی رائج ٹیکس کا اسی شرح سے چالان بھر کر ہر کمر شل بینک میں جمع کر ا دیتا ہے اور اسے کسی ٹیکس افسر یاو کیل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
ہر عام آدمی کو جب اجرت دی جاتی ہے کہ اسی شرح سے ٹیکس کا چالان بھر کر اسی وقت بینک میں جمع کرادیا جاتا ہے ۔کاش کہ ایسا ہی پاکستان میں بھی ہو جائے کہ تمام کمر شل بینکوں میں ہر طرح کے ٹیکسوں کے چالان رکھے ہوں اور عوام خود جا کر رائج ٹیکس آسان ترین طریقے سے جمع کراسکے،بدقسمتی سے یہاں تو ایسا نظام رائج ہے جس میں 100روپے قومی خزانے میں اور 1000روپیہ ٹیکس محکمے کے افسر کے جیب میں جاتا ہے ،میں نے کراچی میں عام دکانداروں سے پوچھا ہے تو ہر شخص ٹیکس دینے کو تیار ہے لیکن عام آدمی کا مطالبہ ہے کہ آپ بے شک ڈور ٹوڈور آئیں‘ہمارے کاروبار کا حجم دیکھیں اور مختلف کیٹیگریز بنا کر سالانہ ہرد کان‘ہوٹل‘مستری ‘کاریگر ‘شوروم‘ڈیلرزیعنی ہر ہر کاروبار پر سالانہ فکس ٹیکس رائج کریں اور ٹیکس محکمے کے افراد ہر ہر دکان ‘ہوٹل وغیرہ پر سال میں ایک بار جا کر ان کو چالان دیں جو وہ بخوشی جمع کرانے کو تیار ہیں لیکن روز روز کسی ٹیکس محکمے کے اہلکار یا افسر کا ان کے دروازے پر آنے کا خوف ختم کرنا ضروری ہے اور وزیر اعظم صاحب خود اس طرح کی کیٹیگری بنا کر ایسی ہی نظام کو رائج کریں تو میرے خیال میں ہر چھوٹا بڑا کاروباری فرد مناسب سالانہ فکس دینے بخوشی دینے کو تیارہے لیکن خوف کی فضاء کا خاتمہ تو حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔

Your Thoughts and Comments