میرانمک،دیار غیر میں!

mera namak diyar e gair main
الحمداللہ،رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والی اس مملکت عظیم  کو اللہ تعالی نے بے شمار قدرتی دولت سے نوازا ہے. شاید پاکستان دنیا کا وہ اکلوتا دیس ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی,معدنيات اور باقی قدرتی وسائل کی وجہ سے دنیا میں الگ پہچان رکھتا ہے.خدا نے اس دھرتی کو ہر نعمت سے جلا بخشی ہے مگر افسوس ہم بہتر سال میں اس سے کوئی استفادہ حاصل نہیں کر پاۓ- کبھی وسائل کا رونا رویا گیا تو کبھی کرپشن کی داستانیں سنائی گئیں.
لیکن میری اس قوم اور قوم کے حکمرانوں نے اپنے اس وطن کو اپنا سمجھا ہی نہیں. کبھی ہجوم بن کر سوچا, تو کبھی اپنے مفادات کی آڑ میں حقیقت سے کوسوں دور بھاگنے کی کوشش کی. مگر اپنی اس مقدس سر زمین کا سینہ چاک کر کے کبھی اس کے اندر چھپی دولت کو پانے کی کوشش ہی نہیں کی. یہاں ہر کسی کے اپنے پیمانے اور اصول ہیں میرے دیس کو ملنے والے وارثوں نے ہمیشہ اس سے لاوارثوں جیسا سلوک کیا اس سے بڑی نااہلی اور بدقسمتی کیا ہوگی کہ ہم پر مسلط ہونے والے حکمران کبھی اپنے اثاثوں کا تحفظ نہیں کر پاۓ اور ہم جیسے سادہ لو لوگوں کو کبھی سونے تو کبھی تانبے کے نام پر چونا لگایا گیا.
لیکن میرے ملک کے قومی وسائل ہمیشہ ان کی عدم توجہی کا شکار رہے.
آج ہماری گفتگو کا محور ہمارا 'پنک سالٹ یعنی گلابی نمک' ہے جس میں سوڈیم کلورائیڈ کی مقدار %98 ہے جو کہ پوری دنیا میں ہمالیہ نمک کے نام سے استعمال ہو رہا ہے اور کہا جاتا ہے شاید یہ نمک ہمالیہ کے پہاڑوں سے نکالا جا رہا ہے . لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے یہ گلابی نمک ضلع جہلم میں کھیوڑہ کے مقام پر کثیر ذخائر کی صورت میں دستياب ہے .
ایک رپورٹ کے مطابق ہم سالانہ 350,000 ٹن بھی نمک کی سالانہ پیدوار حاصل کریں تب بھی تین سے چار صدیوں تک اس نمک سے کثیر ذرمبادلہ حاصل کرتے رہیں گے - مگر نااہل حکمرانوں کی بدولت ہم آج تک اپنے اس اثاثے کی قدروقیمت نہیں جان پاۓ اور کوڑیوں کے بھاؤ میں اس اثاثے کو پانی کی طرح بہاۓ جا رہے ہیں اور ہمارا ہمسایہ ملک انڈیا  اور اس کے ساتھی اسرائيل اور فرانس اس سے خوب ذرمبادلہ کما رہے ہیں اور ہمارے حاکم خواب غفلت میں پڑے کبھی فیکڑیوں تو کبھی انویسٹر نا ہونے کی شکایتیں کرتے ہیں لیکن عملا" ہم آج تک اپنے اس قیمی اثاثے کے لیے کچھ نہیں کر پاۓ -
ہمارا گلابی نمک جو کہ دنیا میں کھانے کی چیزوں کے علاوہ نمک کے لیمپ, نمک کی اینٹوں اور جانوروں کی ادویات کے ساتھ ساتھ انسانی علاج میں استعمال ہو رہا ہے .جو لوگ ہم سے خرید کر اس کی مینوفیکچرنگ کر کے اپنی پیکنگ کے ساتھ فروخت کر کے اربوں روپ کما رہے ہیں لیکن اب حکمرانوں کی نظر اس طرف مبزول کروانا لازمی ہے کب تک ہمارے اثاثوں کی ایسے فروخت جاری رہے گی کب تک دیار غیر والے ہمارے اثاثوں سے فوائد حاصل کرتے ہیں گے
لیکن بدقسمتی سے کچھ اپنوں کی مہربانی سے ہمارا یہ اثاثہ بھی ایجنٹ مافیا کی نزر ہو چکا ہے جو بلیک مارکیٹ میں ٹرکوں کے حساب سے بلیک کیا جا رہا ہے اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں کیونکہ کچھ بڑے لوگ بھی برابر کے حصہ دار ہیں اس گناہ میں, حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ٹھیکداروں سے لے کر گلی محلوں کے ٹھیکداروں سب نے اپنے ریٹ مقرر کیے ہوۓ ہیں.
دنیا کو دوسرا بڑا نمک پیدا کرنے والا ملک, نمک برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں بیسویں نمبر پر ہے. ایک اندازے کے مطابق 2018 میں ہمارے نمک کی پیداوار 380,000 ٹن تھی مگر پھر بھی نمک کی قانونی طور پر تجارت میں اضافہ نہیں ہو سکا .
افسوس تو اس صورت حال پر ہے پاکستان میں نمک کی غیر قانونی تجارت ہو رہی ہے کوئی بندہ پوچھنے والا نہیں, جو نمک برآمد کیا جا رہا اس کا قانونی ریٹ 140 روپے کلو ہے اور انڈیا یہ نمک, ہمالیہ نمک کے نام پر 500 سے 600 کلو کے حساب سے دنیا میں فروخت کر رہا ہے.
مگر اس سے بڑی بات جو نمک انڈیا کو بلیک کیا جاتا ہے وہ ہی نمک انڈیا 3 روپے کلو حاصل کر رہا ہے. ہمارا نمک جو خام مال کی صورت میں انڈیا جا رہا ہے انڈیا اس نمک کو دانوں کی صورت میں تبدیل کر کے امریکہ اور دوسری ریاستوں میں 16 سے 18 امریکی ڈالر فی کلو کے حساب سے فروخت کر رہا ہے لیکن ہمارے حکمران بالا تو بے ہوشی کی چادر میں لپٹے پڑے ہیں
 لیکن جب بھی عوام کی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچتی ہے تو کبھی غیر قانونی تجارت میں اپنی بے بسی دکھائی جاتی ہے تو کبھی گلوبل انڈیکیشن لا  کی یا پھر انڈیا کے ساتھ ہونے والے معاہدات کی مبالغہ آرائی سننے کو ملتی ہے
لیکن انڈیا کے ساتھ کبھی کوئی ایسا معاہدہ ہوا ہی نہیں جس میں نمک کی خام حالت میں برآمدگی کرنی ہے تو دوسری طرف غیر قانونی تجارت کو دو ٹائم کی روٹی سے مجبور عوام روکے گی یہ بھی تو اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کی ذمہ داری ہے .
گلوبل انڈیکیشن لا کے ہاتھوں بے بسی کو رونا رونے والوں نے کبھی یہ بات بتانا گنوارا نہیں کی کہ ان نے گلوبل انڈیکیشن لا کے ذریعے نمک کو اپنی پیداوار ثابت کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے.
اگر ملتان کے سوہن حلوے کا انڈیکیشن لا کے ذریعے تحفظ ممکن ہے تو جہلم کے نمک کو آج تک گلوبل انڈیکیشن لا میں جگہ کیوں نہیں مل پائی اور اپنے اس اثاثہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے.
اپنے درمیانے درجے کے تاجرجو کہ نمک کا ایکسپورٹ بنک بنا کر بیٹھے ہیں ان کو کیوں قانونی تحفظ حاصل نہیں ہمارے اپنے تاجر کو کسٹم کی کلئیرنس کیوں نہیں دی جاتی
ان کو جدید ٹیکنالوجی کیوں فراہم نہیں کی جاتی.
بین الاقوامی گاہک پاکستان میں کیوں نہیں لایا جا رہا. غیر ملکی گاہکوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جا رہا- سال 2000 میں نمک کے لیے گلوبل انڈیکیشن لا کے لیے شروع ہونے والا کام آج تک مکمل کیوں نہیں ہو سکا .آج تک گلابی نمک کی ایکسپورٹ کے لیے کیوں واضح پالیسی نہیں بنائی گئی.
اگر دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے والی حکومت واقعی ہی پاکستان کی تقدیر بدلنا چاہتی ہے تو اپنے اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بناۓ.

اگر ہم یقینی طور پر گلابی نمک سے کثیر زرمبادلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انویسٹر کو پاکستان لانا ہو گا . تاجروں کو جدید سہولتيں مہیا کرنا ہوں گی. مینوفیکچر فیکٹریاں لگانا ہوں گئی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا پڑے گا
گلابی نمک کو پرائيویٹ نرغے سے نکال کر حکومت کو اپنی تحویل میں لینا ہو گا. اپنے تاجروں کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی
یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ نمک کے ذریعے ہماری معیشت دوام حاصل کر سکتی ہے. دیکنھا ہے کہ تبدیلی سرکار بھی پچھلی حکومتوں کی طرح اس کے تحفظ کا رونا ہی روۓ گی یا عملی اقدامات سے اپنی اس پروڈکٹ کا تحفظ بھی یقینی بناۓ گی اور اندھا کیا جانے بسنت کی بہار اس پالیسی کو تبدیل کرنا ہو گا

Your Thoughts and Comments