مفاد پرستی کی سیاست کا اختتام کب ہو گا

Mufad parasti ki siasat ka ikhtetam Kab ho ga
 عارف ایرانی
آزادی وطن کے ساتھ ہی مفاد پرستی کا ایسا دور شروع ہوا جو آج تک ختم نہیں ہو سکا یہ دکھوں پر محیط عرصہ جس نے وطن عزیز کے محکوم عوام کا عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے ہماری تین نسلیں اپنی زندگی کے آخری دور میں داخل ہو چکی ہیں چوتھی نسل شعور وبلوغت کی حدود کو چھور ہی ہے،یہ نسل پیچھے مڑ کر اپنے بزرگوں کے چہروں پر بکھرے وقت رفتہ کے کئی سوالات پڑھتے ہیں تو خود ان میں بے یقینی وبداعتماد ی بڑھتی نظر آتی ہے ،وہ اپنے آپ کو اس معاشرے کا حصہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نظر آتے جب وہ اپنے بزرگوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا حالات ہمیشہ سے ہی ایسے تھے؟تو ان کے بزرگ ان کو بتاتے ہیں نہ حالات ایسے تھے نہ جذبات نئی نئی آزادی ملی تھی مگر اس میں مایوسی اور ناامیدی کے سائے دور تک نظر نہیں آتے تھے ہر کوئی نئی لگن وامنگ کے ساتھ کار ہائے زندگی میں مصروف عمل ہو گیا تھا ،تھکن اور مایوسی نے اس وقت ان کو اپنے نرغے میں لیا جب انسانی حقوق اور جمہوریت پرشب خون مارے گئے اور چند سالوں کی آزادی کو آمریت کی صلیب پڑھا دیا گیا۔


 وہ دن اور آج کا دن نہ تو ملک میں جمہوریت رہی نہ استحکام اور نہ ہی انسان کے بنیادی حقوق ۔آزادی کے فوراً بعد آمریت اور وڈیرہ شاہی کے گٹھ جوڑ سے قوم کی تقسیم کا جو عمل شروع ہو ا۔وہ آج تک جاری ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عوامی سطح پر اس کا کوئی حل نہیں نکلا جائے گا،اس تمہید کے بعد بھی نئی نسل مطمئن نظر نہیںآ تی کیونکہ تقسیم کے عمل کے یہ رنگ ان میں گہرے ہو چکے ہیں جو مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔
اس ملک پر آمریت اب بھی جاری ہے گو اس کی شکل بدل دی گئی ہے مگر انداز نہیں بدلے پہلے وہ فرنٹ فٹ پر کھیلتی نظر آتی تھی اب مڈل آرڈر پر آگئی ہے لیکن اس کا کھیل جاری ہے اور یہ کھیل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک قوم کا مردہ ضمیر خواب گمراہی میں قید رہے گا۔گزشتہ کئی دنوں سے بجٹ بجٹ کا کھیل جاری تھا۔
حکومت اور مخالفین کے درمیان لفظوں کی گولہ باری جاری تھی ۔
ایک طوفان بدتمیز تھا جو دونوں طرف سے اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ اسی بجٹ کے دوران ڈالر 163روپے کی بلندترین سطح پر پہنچا دیا گیا اور روپے کو پامال میں اتار دیا گیا۔مہنگائی کا ماتم گلی کو چوں میں شروع ہو چکا ۔روٹی 10نان 15تک جا پہنچا حکومت کی طرف سے ان کے بعد بھی سب اچھا کا لیکچر جاری ہے ۔وزیر مشیر اس بجٹ اور مہنگائی کو عوام کے لئے تحفہ قرار دے رہے ہیں،یہاں تک کہ آرمی چیف کی طرف سے ”حکومتی فیصلوں کی کامیابی کے لئے مل کر ذمہ داری ادا کرنی ہو گی“کے بیان پر حکومت ڈھانچے میں گویاں نئی روح پھونک دی گئی ،اس کے ساتھ ایمنسٹی سکیم کا اجرا کا اعلان ہو گیا جو پہلی حکومتوں میں بھی ہوتا رہا۔

اب اس کی مخالفت آئی ایم ایف نے بھی کردی ہے کہ”اس سکیم سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے ایمنسٹی سکیم معیشت کے لیے بہتر نہیں ہوتیں۔یہ وقتی فائدہ اٹھانے کے لیے تو بہتر ہو سکتی ہیں لیکن دیانتدار ٹیکس گزاروں کے لیے نا انصافی کے سوا کچھ نہیں یہ کنٹری ڈائریکٹر آئی ایم ایف کا بیان ہے ۔
ایک اضطراب ہے جو بڑھتا جارہا ہے ۔مایو سیوں کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں ۔
آنے والے دنوں میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں یہ سوچ ہی پریشان کن ہے ،خالی بیانات سے جو تصویر کشی کی جارہی ہے اس سے نہ تو پیٹ بھریں گے نہ حالات میں بہتری آئے گی ہاں یہ دلکش بیانات وقتی سکون کا باعث ضرور ہو نگے ان کی مثال بالکل ایسی ہے کہ جیسے جنگل میں ”بڑے درختوں کی آدم خورجڑیں جو انسان کو اپنے چنگل میں لے کر منٹوں میں پنجر بنادیتی ہیں۔

ہمارا نظام معیشت بھی کچھ اسی قسم کا ہے کسی بھی طرف سے جتنے بھی بیانات آئیں ہم اس چنگل سے آزاد نہیں ہو سکتے یہ سب ہمارا مقدر بن چکا ہے۔دنیا میں پاکستان کا قومی تشخص اجاگر کرنے کی بجائے اس کو برباد کردیا گیا ہے جب قومیں اپنے قومی تشخص سے محروم ہو جائیں تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے صرف مایوسیاں ،محرومیاں ۔اسمبلیوں کے اندر اور باہر بد اخلاقی ،وید کلامی کے شرمناک مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں ،ہر کوئی شاہ کی وفاداری میں اخلاقیات سے عاری ہوتا جارہا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس دوڑ میں ہر کوئی آگے نکلنے کی ضد میں اندھا ہوتا جارہا ہے۔

 سیاسی کرپشن کے ساتھ ساتھ صحافی کرپشن بھی عروج پر ہے جس کی وجہ سے بڑے بوڑھے ابہام اور نوجوان نسل عدم استحکام کا شکار نظر آتے ہیں زبان کے اس بے باک انداز علیم و تخاطب سے بدکلامی کا چکر فروغ پارہا ہے جس کے اثرات انتہائی خطرناک ہو نگے۔ان کی سلیکشن کرنے والوں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں پوری دنیا کا میڈیا سلیکشن وسلیکٹڈ پر تبصرے کررہا ہے جو ہماری جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے ۔
ڈپٹی سپیکر کی یہ نا اہلی سمجھا جارہا ہے کہ ایسے ریمارکس دے کر اس گردان کے لئے مزید آزاد ماحول فراہم کردیا گیا ہے ۔اب یہ ایک چھیڑ بن گئی ہے کہ اس لفظ سلیکٹڈ کو ضرور استعمال کرتا ہے اب یہ لفظ ہر جگہ استعمال ہو گا اور ہو رہا ہے ۔
حکومتی ایوانوں سے نکل گلی محلوں میں پہنچ چکا ہے اس لئے بزرگ سیانے کہہ گئے ہیں کہ کم بولنا عقل مندی اور ذہانت کی نشانی ہے ،یہ روز روز لفظوں کے گورکھ دھندے کی محفلیں سجانا عوام کو الجھانا اور زمینی پریشانی میں مبتلا کرنا کیا عوام کو اس سے دلچسپی ہو سکتی ہے عوام کو مہنگائی سے نجات ،روزی رزق کی فراوانی امن وسکون اور خوشحالی سے دلچسپی ہے قرضے آپ نے لئے عوام کو اس سے کیا غرض عوام کو تواُن قرضوں سے ہونے والی ترقی سے غرض ہے جو نہیں ہوئی یا نہیں ہونے دے گئی ذمہ دارکون اس سے دلچسپی ہے ۔
فواد چودھری بھی مشرف کے آلہ کار رہے ہیں کوئی ایسا نہیں ہے جس پر یہ الزام نہ ہو،لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو شخص جتنا زیادہ حیلہ وفن مکروفریب اختیار کرے گا دنیا و آخرت میں اس کی سزا بھی اسی حساب سے شدید تر اور نہایت غبرت ناک ہو گی“،ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کاروبار حکومت وسیاست اس کے بغیر نہیں چل سکتا آپ جس کو جتنا زیادہ ذلیل ورسوا کروگے اتنا ہ فائدہ حاصل ہو گا۔

Your Thoughts and Comments