ناقابلِ برداشت مہنگائی

کسی بھی سطح پر عوام کے لئے حکومت نے کوئی بھی ریلیف کا بندوبست کیا۔۔ حکومت غریب کی زندگی آسان کرنے کے لئے اقدامات کیوں نہیں کر پا رہی؟

Naqabil e Bardasht Mehengai
آج بڑھتی مہنگائی سے معاشرے کا ہر طبقہ پریشان ہے اور عوام سمجھ رہی ہے کہ کساد بازاری، مہنگائی اور بے روزگاری کی جانب سے اس کا دھیان بھٹکانے کے لئے حکومت نئے نئے منصوبے لا رہی ہے لیکن ان پر عملدرآمد اس طرح سے نہیں ہو رہا ہے، ایک کے بعد ایک معلق منصوبے کا اعلان کر کے حکومت آگے بڑھی جا رہی ہے۔ جب کہ پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو مہنگائی کے حوالے سے بہت تنقید کرتی رہی ہے اور اس کا دعویٰ تھا کہ جب ہماری حکومت قائم ہو گی تو اس منہ زور مہنگائی پر قابو پا لیا جائے گا۔
لیکن پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے اس کے برعکس ہو رہا ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، سبھی طبقات پریشان ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی مجموعی آبادی کا 40 فیصد خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اس ملک میں مہنگائی کی ایک ایسی بے لگامی بے حد تشویشناک ہے کہ دوسری جانب بیروزگاری بھی برق رفتاری سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

جو معاشرے میں بے یقینی اور اضطراب کو جنم دے رہی ہے۔

مہنگائی، بے روزگاری سے غریب اور نوجوانوں کے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں۔ ایک سے ایک تعلیم یافتہ نوجوان ملازمت کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے تمام کاروبار بند ہو رہے ہیں، بازاروں میں خریدار نہیں ہیں۔ کاروباری افراد کی زبان سے مندا کی ہی صرف آ وازیں آ رہی ہیں۔موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور خصوصی طور پر عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عوام خوش تھے کہ پہلی مرتبہ اس ملک کو ایسا وزیرِ اعظم ملا ہے جس کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ دھبہ نہیں ہے، اس لئے یہ اس ملک کو لوٹ کھسوٹ کر دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے والے اس ملک کے لٹیروں کو شکنجے میں لا کر اس ملک کے وسائل کولوٹنے والوں اور عوام کا خون نچوڑنے والے سیاست دانوں کو نشانِ عبرت بنا کر رکھ دے گا اور عوام کے لئے خوشحالی کے دروازے کھول دے گا۔
عوام گزشتہ ادوار حکومت اور اس حکومت کے طرزِ حکمرانی میں واضح فرق محسوس کریں گے لیکن اب تک کے حکومتی اقدامات سے تو ایسا لگتا ہے کہ عوام کے لئے تاریکی کی رات اور گہری اور لمبی ہوتی جا رہی ہے جو کہ عوام کو مایوسی کی گہری اور تاریک کھائی میں لے جا رہی ہے۔
عوام نے اس امید پر پی ٹی آئی کو ووٹ دئے تھے وہ اقتدار میں آ کر ان کے مسائل حل کریں گے۔
انہیں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے نجات دلائیں گے لیکن یہ ان کی خام خیالی ثابت ہوئی۔ عوام کی توقعات کے برعکس پچھلے ڈیڑھ سال میں ان کے مصائب شدید ہو گئے ہیں۔ بالخصوص آسمان کو چھوتی گرانی نے ان کے اوسان خطا کر دئے ہیں۔ اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جو موجودہ دورِ حکومت میں سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔
گزشتہ ڈیڑھ سال میں مہنگائی تین سو فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ دال جسے غریب کی خوراک کہا جاتا تھا اب وہ بھی اس کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہے۔ صرف گزشتہ 6 ماہ میں تمام قسم کی دالوں کے نرخ دو سو فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔ موجودہ دورِ حکومت میں مہنگائی کے عفریت نے جس تیزی سے عوام کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس کے پیشِ نظر یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی ایسا قانون ہے اور نہ کوئی ادارہ جو حسبِ منشا مصنوعات کے نرخ بڑھانے والے صنعت کاروں، مل مالکان، تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں کی پکڑ کر سکے۔
حکومت نے خود بھی گرانی کو مہمیز دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ڈیڑھ سال میں پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کے نرخ کئی بار بڑھائے گئے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے۔
 حکومت اگر واقعتا یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ معاشی صورت حال بہتر ہوئی ہے تو بجلی اور پیٹرول کی مدوں میں عوام کو رعائتیں دینے کا آغاز کرے۔ بجلی کی قیمت اتنی نہیں ہوتی جتنے اس پر مختلف ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔
ان ٹیکسوں کو کم کیا جائے، اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات پر بے تحاشا منافع کمانے کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے نیچے لا کر عوام کو ریلیف دیا جائے۔ ان مدات میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آئے گا تو مارکیٹ میں دیگر اشیاء بھی سستی ہو جائیں گی۔ اب اس بیانیے سے عوام کو کب تک بہلایا جائے گا کہ یہ سب پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔
پچھلی حکومتوں نے تو مہنگائی کو ایسے بے لگام نہیں چھوڑا تھا، جیسے اس دور میں نظر آ رہی ہے۔ کچھ چیک اینڈ بیلنس بھی تھا اور کچھ سبسڈی دینے کی روایت بھی تھی۔موجودہ حکومت پر ناکامی کا جو الزام لگ رہا ہے اس کی بڑی وجہ بھی بے تحاشا مہنگائی ہی ہے۔ اس مہنگائی کو عوام کب تک برداشت کریں گے جب کہ ان کی قوتِ خرید ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس پہلو کی طرف آئے بغیر عمران خان عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے ۔

 ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوام کے مصائب بالخصوص مہنگائی کا حقیقی معنوں میں ادراک کرتے ہوئے اس کی کمی کے لئے اقدامات کرے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عائد ٹیکس میں کمی کی جائے، بجلی کے نرخ نیچے لائے جائیں اور اشیائے صرف پر ناجائز منافع کمانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ ان اقدامات سے گرانی کی شرح نیچے آئے گی اور حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا جو اس وقت پستیوں کو چھو رہی ہے۔
s

Your Thoughts and Comments