”آئل سٹوریج“ ایک سنگین مسئلہ

Oil Storage Aik Sangeen Masla
پاکستان میں تبدیلی نعروں کی گونج میں دب کر رہ گئی ہے اور یقین ہوچلا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور ان کی ٹیم ایک پیج پر نہیں ہیں ،ایک پیج پر ہوتے تو تبدیلی کا سونامی تباہی کی بجائے زرخیزی لارہا ہوتا۔ٹیم اور کپتان دونوں میں افہام و تفہیم کا فقدان نظر آتا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپنی پوری سچائی اور قوت کے باوجود جسالماری کو اوپر والی منزل تک لیجانے میں لگے ہیں ، ان کے معاون الماری کو اوپر سے نیچے لگانے کے لئے زور لگا رہے ہیں ،دونوں میں سوچ کا فرق ہے یا دونوں ہی اس ایک سوچ پر ایک پیج پر بوجوہ اکٹھا نہیں ہوپارہے حالانکہ سب کچھ ان کے سامنے ہے۔

یہ معاملہ بھی ان کے سامنے ہے کہ ملک میں مہنگائی کا سونامی سب کچھ بہا کر لے جارہا ہے اور اس مہنگائی کے پیچھے آئل انڈسٹری کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔

آئل انڈسٹری ملک کی واحد قوت ہے جس کی مدد سے مہنگائی پر قابو پایا جاسکتا ہے اور لاکھوں نوکریاں پیدا کی جاسکتی ہیں ۔شاید اسی زعم میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سمندر کی پانچ ہزار میٹر گہرائی کو ہی اپنی کاملہ توجہ کا مرکز بنا لیا ہے اور ساری خوشخبریاں اسی ایک کوزے میں بند کرلی ہیں ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سمجھ چکے ہیں کہ پاکستان میں آئل انڈسٹری کو توانا کرکے ملک کو مضبوط معیشت کا تحفہ دیا جاسکتا ہے مگر اس معاملہ میں وہ سمجھ کر بھی اصل حقیقت کا ادارک نہیں کرپارہے ،اسکی وجہ کیا ہوسکتی ہے ۔اس پر ماہرین کو فکر کے سمندر میں غوطہ زن ہونا ہوگا ۔
مثال کے طور پر انہوں نے چند ہفتے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ ریلوے کی مدد سے آئل کو سی پورٹ سے اندرون ملک لانے کے لئے استعمال کریں گے اور ریلوے کے ٹینکروں کی مدد سے جب آئل مختلف شہروں میں پہنچے گا تو اس سے سفری صعبتوں کو کم کرنے کے علاوہ اخراجات بھی کم ہوں گے جس سے تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جاسکے گا ،ان کے پیش نظر یہ تخمینہ ہوگا کہ اربوں روپے جس روڈ ٹرانسپوٹیشن پر اٹھ رہے اسکو کروڑوں تک لایا جاسکتا ہے۔
سفری اخراجات میں دو سے تین سو فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے اور اس پر پہلے سے تخمینے لگائے جاچکے ہیں جن پر بوجہ عمل نہیں کیا جاسکا۔ ان کے اس اعلان کے پیچھے ان کی نیت اچھی ہوسکتی ہے مگر دانائی ہر گز نہیں کیونکہ ریلوے کے آئل ٹینکروں کی حالت زار کا انہیں بتایا ہی نہیں گیا کہ وہ کس حالت میں ہیں ۔اگرچہ ایک زمانہ میں ریلوے کے آئل ٹینکرز پر کراچی سے تیل پورے پاکستان میں جاتا رہا ہے مگر ریلوے ٹریک اور ریلوے کا جو نظام اس وقت موجود ہے کیا اس صورتحال میں ریلوے کے ٹینکروں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو یہ بتایا گیا ہوگا کہ نجی آئل ٹینکرز کے مالکان ایک مافیا بن چکے ہیں اور ان ٹینکرز کی اجارہ داری سے تیل کی ٹرانسپوٹیشن میں زیادہ اخراجات بھی اٹھتے ہیں تو دوسری جانب ان نجی ٹینکرز کے روز روز الٹ جانے سے جو خوفناک حادثے رونما ہوتے ہیں ،ان کو روکنے کے لئے ریلوے پر انحصار کرنا ہوگا ۔اسی ایما پر ریلوے کے آئل ٹینکروں کو فعال کرنے کا اعلان کیا گیا ۔
۔۔مگر اب تک اس پر کتنا عمل ہوا ہے ،کوئی مثبت پیش رفت نظر نہیں آئی۔ہماری اطلاعات کے مطابق ریلوے کے پاس آئل ٹینکرز فرسودہ بھی ہیں اور تیل کو اسکی منزل تک پہنچانے کا انفراسٹرکچر انتہائی کمزور ہے ۔یہاں عام تیزاور نئی ریل گاڑیاں گھنٹوں اور دنوں کے حساب سے لیٹ ہوتی ہیں ،ان حالات میں ریلوے کی مال گاڑیاں کیسے چل پائیں گی،ٹریک تو وہی ہیں ناں سو سال پرانے ۔
۔۔۔
پاکستان میں تیل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے اور انہیں مستقل کرنے کے لئے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ سٹوریج سسٹم میں بہتری لانے سے مسئلہ کا حل نکل سکتا ہے ۔اس پر تحقیقاتی رپورٹس بھی بن چکی ہیں کہ پاکستان میں جب تک آئل سٹوریج کا نظام درست نہیں ہوگا ، تب تک آئل انڈسٹری سے ملک میں خوشحالی بھی نہیں لائی جاسکتی،ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں زیادہ سے زیادہ تیل کو ذخیرہ کرنے کی سٹوریج صرف سات سے دس دن تک ہے جبکہ عالمی معیارات کے مطابق اسکو اکیس دنوں تک ہونا چاہئے ۔
حکومت نجی سطح پر ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہی کہ آئل کمپنیاں آئل سٹوریج کو ذخیرہ کرنے کے لئے گنجائش بڑھا سکیں ۔دوسری جانب کراچی میں چندٹرمینلز میں آئل سٹوریج کرنا ناکافی ہے ،دنیا میں چھوٹے چھوٹے ملکوں میں درجنوں سی آئل ٹرمینلز ہوتے ہیں جو آئل بردار جہازوں کو زیادہ دیر تک ساحلوں پر لنگر انداز کرکے ان کا کرایہ بھرنا پسند نہیں کرتے بلکہ فٹافٹ ان سے تیل اپنے ٹرمینلز میں لے جاتے ہیں ۔
اپنے ہاں کیا ہورہا ہے ،تیل سے لدے جہازوں کو لائن میں لگادیا جاتا ہے۔اور کرائے بھرے جاتے ہیں۔ چند ماہ پہلے پورٹ قاسم کے چئرمین نے اعلان کیا تھا کہ وقت کی ضرورت کے مطابق پورٹ قاسم پر مزید ایک ٹرمینل تعمیر کیا جائے گا ،اس پر کام ہورہا ہے ۔۔۔مگر اب تک کتنا کام ہوا؟ بہرحال ملک میں اس وقت آئل سٹوریج کی گنجائش بڑھانے کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے پہلو میں تین ملکوں چین بھارت اور ایران میں آئل کی سٹوریج کے لئے تیزی سے کام ہورہا ہے ۔
سی پیک اسی کی علامت ہے۔چین عنقریب آئل انڈسٹری کا بھی کنگ بن جائے گا ،ہمارے خطہ میں اقتصادی تبدیلیوں کے لئے آئل انڈسٹری کو بنیادی حیثیت دی جارہی ہے لہذا پاکستان جو ان ممالک میں مرکزیت رکھتا ہے،سب سے پہلے اسکو آئل انڈسٹری میں اپنے قدم مضبوط کرنے چاہئیں۔

Your Thoughts and Comments