اسٹیٹ بینک کا 40ہزار روپے کا بیئررپرائزبانڈکی واپسی بند کرنے کا نوٹیفکیشن

State Bank Ka 40000 Rupees Ka Prize Bond Ki Wapsi Band Karne ka Notification
فرزانہ چودھری
حکومت کی جانب سے ایمنسٹی سکیم کے اجراء اور 40ہزار روپے والے بےئررپرائز بانڈکی مارچ 2020ء تک رجسٹریشن کے اعلان کے بعد اچانک سٹیٹ بینک کی جانب سے ان بےئرر پرائز بانڈزکالین دین بند ہونے پر مارکیٹ میں ڈیلر حضرات نے لوگوں میں افراتفری پھیلا دی ہے۔اس سے قبل اسٹیٹ بینک میں 40ہزار روپے کے پرائز بانڈ کی معمول کے مطابق واپسی ہورہی تھی۔
حکومت نے 14فروری2019ء سے 40ہزار روپے والے بےئر رپرائز بانڈکا مزید اجراء بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔پھر 20جون 2019ء کو وزارت خزانہ کی طرف سے بیان جاری ہوا کہ 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کو اپنے پرائز بانڈ31مارچ2020ء تک رجسٹر کروالیں،اس کے بعد 40ہزار روپے بانڈ کی حیثیت ایک کاغذ کی ماند ہوجائے گی۔
اس دوران حکومت کی عدم توجہ کے باعث مارکیٹ میں پرائز بانڈڈیلروں نے ملی بھگت کرکے لوگوں میں اس حوالے سے تشویش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اصل رقم کے مقابلے میں تین چار ہزار روپے کم قیمت میں پرائزبانڈخریدنا شروع کر رکھا ہے ۔

معمولی مالیت میں 40ہزار والے پرائز بانڈ رکھنے والے عام لوگوں کی جمع پونجھی سستے داموں سمیٹی جارہی ہے ۔بچوں کی شادی بیاہ کیلئے بچت میں بانڈر کھنے والے والدین کو سٹیٹ بینک کے باہرآہ وبکاہ اور حکومت کے خلاف لعن طعن کرتے دیکھا گیا ہے۔
گوکہ ایمنسٹی سکیم کے ہوتے ہوئے اسٹیٹ بینک کا 40ہزار روپے کے بےئرر پرائز بانڈ کی واپسی بند کرنے کا حکومتی اقدام بہت اچھا ہے۔
مگر لوگوں میں یہ نوٹیفکیشن ایک بم کی طرح گرااور لوگ 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ واپس کرنے کے لیے پرائز بانڈڈیلرز کی طرف بھاگے۔کیونکہ ایف بی آر کے خوف کی وجہ سے بلیک منی کو شونہ کرنے والے اکثر لوگ 40ہزار روپے والے بےئر رپرائز بانڈ کی رجسٹریشن سے بچنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔حکومت جانتی ہے کہ اس وقت اربوں روپے کے 40ہزار روپے والے پرائز بانڈمارکیٹ میں موجود ہیں ۔

اس نوٹیفکیشن سے پہلے پرائز بانڈڈیلرز 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ500روپے کم پر یعنی 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ39ہزار 500روپے میں خرید رہے تھے اور جس دن اسٹیٹ بینک کا 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ بند کرنے کا نوٹیفکیشن آیا اس روز40ہزار روپے کا پرائز بانڈ ڈیلرز حضرات نے 38ہزار روپے میں خریدا اور 39ہزار روپے میں فروخت کیا یعنی لوگوں نے 5فیصد کم پر اپنے بانڈز فروخت کئے۔

پرائزبانڈڈیلرز حضرات کی دکانوں پر40 ہزار روپے کا پرائز بانڈ فروخت کرنے والوں کا رش لگا ہوا تھا اور بتایا جارہا تھا کہ 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ36ہزار روپے سے مزید کم قیمت پر فروخت ہونے کا اندیشہ ہے۔پرائزبانڈڈیلر کی دکان پر ایک بوڑھی خاتون کو روتے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ کیوں رورہی ہو اس نے بتایا میں نے تھوڑے تھوڑے پیسے جوڑکر 40ہزار روپے کا پرائز بانڈخریدا کہ میرا انعام لگے گا تو بیٹیوں کی شادی کردوں گی مگر حکومت نے 40ہزار روپے بانڈ کی قرعہ اندازی بند کردی اب سٹیٹ بینک کی بجائے بانڈ فروخت کرنے ڈیلر کے ہاں آئی ہوں تو مجھے کہہ رہے ہیں اس کے 38ہزار روپے ملیں گے۔

یہاں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ حکومت لوگوں کو اس حوالے سے معلومات یعنی آگا ہی دینے میں ناکام رہی ہے ۔حالانکہ حکومت کی طرف سے 40ہزار روپے کے بےئر ر پرائز بانڈ کی رجسٹریشن ہونے کے بعد رجسٹر پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کی جائے گی ۔دوسرا حکومت نے ایمنسٹی سکیم میں بلیک منی کو 4 فیصد ٹیکس دے کر وائٹ کرنے کی سہولت دے رکھی تھی۔لوگوں کو چاہئے تھا کہ وہ 40ہزار روپے والا پرائز بانڈ بینک میں جمع کرواتے اس کی رقم ان کے اکاؤنٹ میں آجاتی اور وہ اس پر 4فیصد ٹیکس دے کر اپنی رقم وائٹ
کر الیتے مگر لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی کا فقدان نظر آیا انہوں نے پانچ سے دس فیصد کم پر اپنے 40ہزار روپے کے پرائز بانڈ،ڈیلرز کو فروخت کیے اس سے نہ صرف پرائز بانڈڈیلرز کی چاندی ہو گئی بلکہ کالادھن رکھنے والوں نے بھی پرائز بانڈڈیلرز 21/2 فیصد کم پر 40ہزار روپے کا بانڈ خریدا یعنی 40ہزار روپے والا بانڈ 39ہزار روپے میں خریدا جس کا انہیں21/2 فیصد کا فائدہ ہوا۔
انہوں نے ڈیڑھ فیصد اپنی طرف سے شامل کیا اور 4فیصد ٹیکس حکومت کو ادا کرکے اپنی رقم وائٹ کرلی ۔
اسی طرح جن کے پاس وائٹ منی تھی انہوں نے بھی پرائز بانڈڈیلر سے 40ہزار روپے کا بانڈ39ہزار روپے میں خرید کر بہت اچھا کاروبار کیا ۔مگر اس میں ناصرف بچت کرنے والے عام لوگوں کا نقصان ہوا بلکہ حکومت کو بھی پرائز بانڈزسے ملنے والا ریونیواکٹھا نہیں ہو سکا۔
لوگوں نے اپنے پرائز بانڈ اپنے اکاؤنٹ میں جمع نہ کرواکر اس پر ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھا کر بہت بڑی غلطی کی ۔ایک تو پانچ سے دس فیصد کم پر 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ مارکیٹ میں فروخت کیا دوسرا ان کے پیسے بلیک منی سے ڈالر میں منتقل کئے جانے کا اندیشہ بھی برقرار ہے ۔
اسے بھی حکومت کی ناکامی ہی کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کے فائلر بننے میں ایف بی آر کا خوف اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔
دوسرا وزارت خزانہ کے حکومتی نمائندوں کابار بار چینلز پر آکر یہ کہنا کہ ہمارے پاس کالا دھن رکھنے والے لوگوں کی فہرست موجود ہے ۔30جون کے بعد ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے۔ان کو سزائیں بھی دیں گے وغیرہ وغیرہ ۔لوگوں میں اس حوالے سے خوف پایا جاتاہے۔
ای سی سی کے فیصلے کے مطابق 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کو جو سہولیات فراہم کی گئی ہیں اس کے تحت بےئر رپرائز بانڈرکھنے والے 31مارچ 2020ء تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان،نیشنل بینک آف پاکستان ،یونائٹڈبینک ،ایم سی بی بینک ،الائیڈبینک،حبیب بینک اور بینک الفلاح کی مجازبرانچز سے اسے رجسٹرڈپرائز بانڈ میں تبدیل کرواسکتے ہیں۔
دوسری سہولت یہ دی گئی ہے کہ 40ہزار روپے کا بےئر ر پرائز بانڈوہ اسٹیٹ بینک،کمرشل بینکس کی مجازبرانچوں اور قومی بچت سے ڈینفس سیونگز سرٹیفکیٹس ،سپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس میں بھی تبدیل کروائے جا سکتے ہیں جس کی منافع کی شرح بھی بہت پر کشش ہے ۔
ای سی سی کی طرف سے تیسری سہولت یہ دی گئی ہے کہ 40ہزار روپے کے پرائز بانڈ کے بدلے میں بینک اکاؤنٹ کے ذریعے کیش کی ادائیگی ہو سکتی ہے۔
اس لیے جو پرائز بانڈہولڈرز 40ہزار روپے کیش کرانا چاہتے ہیں وہ پرائز بانڈ بینک میں اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرائیں رقم ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جائے گی۔اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تمام بینکس ان کی پوری معاونت کریں گے۔ای سی سی میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 40ہزار روپے کے بےئررپرائز بانڈ کی قرعہ اندازی نہیں ہو گی اور مزید وضاحت یہ کی گئی کہ نیشنل پرائز بانڈز قوانین مجریہ 1999ء کے تحت سابقہ قرعہ اندازیوں میں جیتے گئے انعامات قرعہ اندازی کی تاریخ سے 6سال کی مدت کے اندر اندر حاصل کرنے کی سہولت بد ستور برقرار رہے گی۔

سوال یہ ہے کہ حکومت ای سی سی کے ان سہولتوں کے بارے میں عوام تک آگاہی پہنچا سکی؟موجودہ صورتحال جس میں عوام پرائز بانڈ ڈیلرز کے ہاتھوں نقصان اٹھا رہی ہے ۔اس سے تو یہی لگتا ہے حکومت لوگوں تک اپنی آواز پہنچانے میں ناکام رہی۔یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا عام پرائز بانڈہولڈرز کے بینک اکاؤنٹ ہیں؟اب تو بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے کا طریقہ کار بھی پیچیدہ بنا دیا گیا ہے ۔
اکاؤنٹ کھلوانے میں ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ٹی وی چینلز پر عام مارکیٹ میں 40ہزار روپے کا پرائز بانڈ38ہزار روپے میں فروخت ہوتا دکھا یا جارہا ہے مگر وزارت خزانہ اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی۔اگر کسی نے 40لاکھ روپے کے 40ہزار روپے والے بانڈزفروخت کئے ہیں تو اسے دوسے چار لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔اگر حکومت اس دھندے کو کنٹرول کرتی تویہ ساری رقم قومی خزانے میں جمع ہوتی اور لوگ بھی فائلر بنتے۔
حکومت کو چاہئے تھا پہلے FBRکا قبلہ درست کرے اور عوام کو اعتماد میں لے کر فیصلے کئے جائیں۔
ماضی میں حکومت نے کچھ پرائز بانڈ ختم کئے تو لوگوں نے دھڑادھڑ پرائز بانڈز جمع کروادےئے ان میں بہت سے پرائز بانڈز کا انعام نکلا ہوا تھا۔ اس میں بینکر حضرات ان انعام لگے پر ائز بانڈز سے خود فائدہ اٹھایا اور دنوں میں امیر ہو گئے ۔اب پھر وہی صورتحال ہے۔
اب پرائز بانڈڈیلرز انعام لگے پرائز بانڈ جن کے بارے میں عام لوگوں کو پتہ نہیں ہے مگر ڈیلرز حضرات اس سے مستفید ہوں گے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ ایمنسٹی سکیم کی مدت بڑھا دے اور لوگوں کو آگاہی دے کہ وہ اپنے پرائزبانڈز بینک میں جمع کروا کر ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر اپنی رقم وائٹ کرلیں۔ اس میں حکومت اورعوام دونوں کا فائدہ ہے ۔
ایمنسٹی سکیم کی مدت بڑھانے سے پرائز بانڈہولڈرز کو بینک میں اپنا اکاؤنٹ کھلوانے کا بھی وقت مل جائے گا۔
اگر حکومت پرائز بانڈ کو بھی ایمنسٹی سکیم میں شامل کرتی اور اس پر 11/2فیصد ٹیکس رکھتی تو بہتر ہوتا۔اگر موجودہ حکومت پچھلی حکومت کی طرح اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے کی شرط نہ رکھتی تو بہت زیادہ لوگ اسکیم سے فائدہ اٹھاسکتے تھے اور موجودہ حکومت پچھلی حکومت سے زیادہ ٹیکس وصول کر سکتی تھی ۔کیونکہ کاروباری حضرات کے کروڑوں روپے مال کے بدلے میں اُدھار پر ہوتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments