شوگرمافیا کی من مانیاں اورکسان

Sugar Mafia Ki Man Manian Aur Kisan
صوبہ پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان میں چند سالوں کے دوران سات شوگر ملیں یکے بعد دیگرے قائم ہو گئی ہیں۔ ان میں غیر قانونی طور پر قائم ہونے والی دو شوگر ملز اتفاق اور چودھری شوگر ملیں قابل ذکر ہیں۔ جو گزشتہ کرشنگ سیزن 2015-16 کے دوران پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کی رٹ پٹیشن پر پاکستان کی بڑی عدالت سپریم کورٹ نے بند کرنے کا حکم دیا جوہنوز بند ہیں۔
دونوں شوگر ملیں شریف برادران کی ملکیتی بتائی جاتی ہیں ایک اخباری اطلاع کے مطابق چنی گوٹھ اور کوٹ سمابہ کے مقام پر قائم ہونے والی شوگر ملوں کو پاور پلانٹ کی آڑ میں نصب کیا گیا جو اپر پنجاب کے کسی مقام پر چالو تھیں کیونکہ ضلع رحیم یار خان کی زرخیز اور سونا اگلتی زمینیں گنے کے لحاظ سے مٹھاس اور معیار میں پنجاب بھر میں اس کا مقابلہ نہیں ہے۔

ان ملوں کی بندش کی وجہ سے کسان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چنی گوٹھ کے مقام پر تین روز تک کے ایل پی روڈ بند رہی۔ بھاری ٹریفک فیرزہ لیاقت پور کے متبادل راستہ سے گزرتی رہی ہے۔ ادھر گنے کے کسانوں سے حکومتی مذاکرات کی ناکامی افسوسناک قرار دیتے ہوئے پاکستان کسان بورڈ نے 19 جنوری کو پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب کی 14 شوگر ملیں اپنے مڈل مینوں کے ذریعے 100 سے 120 روپے من خرید رہی ہیں۔
حکومت کی بدنیتی اور شوگر ملز مالکان کی ناقص منصوبہ بندی سے کسان تباہ ہو رہا ہے۔ ضلع رحیم یارخان میں قانونی طور پر پانچ شوگر ملیں حمزہ شوگر ملز جیٹھہ بھٹہ جو ایشیا کی سب سے بڑی ملز بتائی جاتی ہے ماہ دسمبر 2017ء کے پہلے ہفتے میں اپنا کرشنگ سیزن شروع کیا۔ روزانہ آٹھ لاکھ من گنے کی کرشنگ کی صلاحیت رکھتی ہے جس نے 15 دسمبر تک ادائیگی کر رکھی ہے اور باقی 30 دنوں کی ادائیگی کی مد میں 4 ارب 32 کروڑ روپے کاشتکاروں کے تاحال روک رکھے ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ حمزہ شوگر ملز ہر جمعرات کو سات دن کی ادائیگی کرتی تھی مگر جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے ادائیگی روک رکھی ہے جس سے کسان طبقہ معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملز ہٰذا کے فیلڈ مینوں نے بھاری رشوت لے کر ایسی سینکڑوں پاس بکس جاری کی ہیں جو بوگس جعلی ہیں۔ ایسے فرضی زمینداروں کا انکشاف ہوا ہے جن کو کاشت کاری کی الف ب کا پتہ نہیں ہے کو روزانہ کی بنیاد پر پرمٹ فراہم کئے جا رہے ہیں جو ایک پرمٹ 10 ہزار سے 15 ہزار تک فروخت کر کے سرکل آفس کے اہلکاروں‘ جی ایم اور سی ایم تک یہ پیسے پہنچائے جاتے ہیں۔
قبل ازیں نوائے وقت کی خبر پر ملز انتظامیہ نے دوبارہ سروے کر کے متعدد پاس بکیں بند کرنے کا حکم جاری کیا تھا چند لوگوں کو معطل کیا اس کے باوجود ملز بروکر اور مڈل مین سادہ لوح کاشتکاروں سے 100 روپے من گنا خرید کر کے اس کا استحصال کر رہی ہے۔ اس وقت سالانہ سیزن 40 فیصد چل چکا ہے۔ گنا 15 سے 20 فیصد سپلائی کیا گیا ہے۔ دوسری اتحاد شوگر ملز اکرم آباد تحصیل رحیم یار خان میں واقع ہے جو ساڑے چار لاکھ ٹن گنے کی کرشنگ روزانہ کر سکتی ہے۔
ایک اخباری اطلاع کے مطاق ملز مالکان نے کاشتکاروں کے تقریباً دو ارب روپے سے زائد دبا رکھے ہیں۔ تیسری ملز جمال دین والی کرشنگ 6 لاکھ ٹن صادق آباد میں پنجاب کے سابق گورنر مخدوم سید احمد محمود کی ملکیتی ہے جس نے سپلائی شدہ گنے کی ادائیگی 6 دسمبر تک کی ہے اور دو ارب سے زائد زمینداروں کے واجب الادا ہیں۔ چوتھی ملز آر وائی کے خانبیلہ میں واقعہ ہے جس کے مالک مسلم لیگ ن کے سرکردہ رہنما مخدوم خسرہ بختیار ہیں۔
جہاں پرمٹ اور پیمنٹ کے لئے آئے روز ہنگامہ آرائی رہتی ہے۔ چند روز قبل مظاہرہ کرنے والے زمینداروں پر گولیاں چلا کر زخمی کیا گیا جو چار لاکھ ٹن گنا کرشنگ کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن زون ایریا کا گنا وافر مقدار میں موجود ہے۔ پانچویں شوگر ملز ماچھی گوٹھ میں واقع ہے۔ جو ساڑھے چارلاکھ من گنا کرشنگ کرتی ہے۔ صرف 21 دسمبر تک گنے کی پیمنٹ کر چکی ہے۔
زمینداروں کے بقایا جات تقریباً دو ارب 25 کروڑ دبا رکھے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر کسان تنظیموں کسان بورڈ پاکستان، انجمن کاشتکا ران، ایگری فورم پاکستان، کسان اتحاد نے شوگر مافیا کی غنڈہ گردی، سرمایہ داروں اور ملز مالکان، مینو فیکچرز حضرات کی من مانیوں کے خلاف آئے روز مظاہر کر کے حکومت کی توجہ غریب اور مظلوم کسان طبقہ کی حالت زار کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ میاں برادران کی بند شوگر ملوں کو بحال کیا جائے جن کے علاقوں میں تقریباً ایک لاکھ بیس زار من گنا برباد ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ دیگر پانچ شوگر ملوں کے زون ایریا میں گنا وافر مقدار میں کاشتہ ہے۔ لیکن ملیں زون ایریا کی بجائے غیر زون ایریا کا گنا 100 روپے من خرید رہی ہیں جس سے مقامی گنا تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سیزن 40 فیصد چل چکا ہے اس کے باوجود ایک سے پانچ ایکڑ پر مشتمل پاس بکوں والے زمینداروں کو تاحال ایک پرمٹ بھی جاری نہیں کیا گیا۔
بروقت ریٹ جاری نہ ہونے سے یہاں کاشت کار اپنی زمینوں میں گندم کاشت کرنے سے محروم ہو گئے وہاں ان کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے کیونکہ متوسط کاشت کار نے کھاد، بیج اورکرم کش ادویات بھاری منافع پر ادھار لے رکھی ہیں جن کی عدم ادائیگی پر جہاں تاجر طبقہ مزید ادھار دینے سے گریزاں ہیں وہاں منافع کی شرح ڈبل کر رہی ہے جس سے کاشت کار نے قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملز مالکان چھوٹے کاشت کاروں کا گنا ترجیحی بنیاد پر اٹھائیں۔ آوٴٹ ایریا کی بجائے زون ایریا کو پرمٹ جاری کریں اور سپلائی شدہ گنے کی پیمنٹ ایک ہفتہ کے اندر کریں۔ کاشت کاروں کو بلاسود قرضے فراہم کریں تاکہ وہ فصل خریف کی کاشت کا بوجھ برداشت کر سکیں ورنہ کاشت کار اس کسمپرسی زندگی سے مر جانے کو ترجیح دیگا جو حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

Your Thoughts and Comments