آئندہ دس سال پاکستان کے لئے حوصلہ افزاء دکھائی دیتے ہیں، قومی ریاست کا مستقبل کا اشاریہ پالیسی سازوں کے لئے رہنمائی فراہم کرے گا‘ پاکستان سٹیٹ آف فیوچر انڈکس کی رپورٹ

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 اکتوبر2017ء) پاکستان سٹیٹ آف فیوچر انڈکس کی رپورٹ کے مطابق آئندہ دس سال پاکستان کے لئے حوصلہ افزاء دکھائی دیتے ہیں، قومی ریاست کا مستقبل کا اشاریہ پالیسی سازوں کے لئے رہنمائی فراہم کرے گا۔ ہفتہ کو ایک مقامی ہوٹل میں رپورٹ کا باقاعدہ اجراء کیا گیا۔ یہ رپورٹ فار سائیٹ لیب کی جانب سے مرتب کی گئی ہے۔

رپورٹ میں 2017ء سے 2027ء تک مختلف شعبہ جات میں نمو کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ دس سال پاکستان کیلئے حوصلہ افزاء قرار دیئے گئے ہیں۔ قومی ریاست کا مستقبل کا اشاریہ افتتاحی مطالعہ کی تقریب فور سائیٹ لیب کی جانب سے منعقد کی گئی جو کہ دلچسپی رکھنے والی کمیونٹی کے لئے سہولت کار پلیٹ فارم ہے۔ پاکستان سٹیٹ آف انڈکس آئندہ دس سالہ 30 تغیرات پر مشتمل ہے جو اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل بہتری یا زوال کی طرف جا رہا ہے، یہ 30 سالہ رجحانات میں بہتری اور زوال سے ظاہرہوتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ مغیر پچھلے 20 سالہ مواد پر مبنی پیشن گوئی کرتا ہے جو کہ 10 سالوں میں سے ممکنہ بہتر اور بد ترین کارکردگی کا جائزہ لیتا رہاہے۔ فور سائیٹ لیب کی بانی و صدر پریوش چوہدری نے اس موقع پر بتایا کہ قومی مطالعہ کے ساتھ پاکستان مستقبل میں شعبہ تحقیق میں خطے کی نمائندگی کرے گا، جس کی وجہ سے ملک آگے بڑھے گا۔ افتتاحی رپورٹ میں بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی دلیل ہے کہ انٹرنیٹ کی ترقی بہت اہم ہے۔

قومی ریاست کا مستقبل کا اشاریہ ملینیم پراجیکٹ کی طرف سے ایک کوشش تھی جس سے ملک کے بدلتے ہوئے حالات کی پیمائش کی جا سکے گی۔ تغیرات میں بدلائو قومی اور بین الاقوامی قوتوں کے لئے حالات کے بہتر یا بد تر ہونے کا تعین کرنے میں آسانی پیدا کرے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فور سائیٹ لیب کے معاون بانی اور انٹر ایکٹو گروپ کے چیئرمین شاہد محمود نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ کس طرح سے سٹیٹ آف فیوچر انڈکس ملکی سربراہان اور اداروں کے لئے باہمی ہم آہنگی سے فیصلے کرنے کے لئے راستے متعین کرے گا۔

سو سے زائد پاکستانی افراد جن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ہے، ان افراد نے ریئل ٹائم ڈیلف سٹڈی میں حصہ لیا اور 20 سے زائد مغیرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، یہ تحقیق احساسات اور حساسیت معیار پر ہے جو کہ مستقبل کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ سہیل عنایت اللہ جو کہ یونیسکو میں مستقبل چیئر پر مقرر ہیں، کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاست ماضی کی بنیاد پر ہے، فوج کی حکمرانی اور جاگیردارانہ نظام کی بالادستی ہمیشہ توجہ کا مرکز رہی ہے۔

قومی ریاست کا اشاریہ مستقبل میں ہم سے سوال پوچھتا ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں توجہ کا مرکز بن سکتا ہے، کیا ہم اجتماعی مقصد کا تعین کر سکتے ہیں اور کیا اس مقصد کو نظریہ بنایا جا سکتا ہے۔ کیا سیاست کی بنیاد 2048 کو ذہن میں رکھ کر کی جا سکتی ہے نہ کہ 1947ء کو فور سائیٹ لیب کا مقصد اپنے 25 سے زائد قومی اور بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر مستقبل بنیادوں پر ایک ایسا نظام وضع کرنا ہے جس میں قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر مستقبل کی متوقع ریاست کو ٹریک کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔

Your Thoughts and Comments