ایف پی سی سی آئی نے پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ (ایف ٹی اے ) کے لیے اپنی تجا ویز تیار کرلیں

ایف پی سی سی آئی نے پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ (ایف ٹی اے ) کے لیے اپنی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اگست2018ء) پاکستا ن کی چین کو برا ٓمدت با وجو د فیز2پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ اس وقت تک نہیں بڑ ھ سکے گی جب تک چین کیطر ف سے ٹیریف لا ئن میں پاکستان کی مسا بقت بنگلا دیش ،ویت نا م ، بھارت، آسان، چین ایف ٹی اے کے مطا بق نہ ہو۔ جس کی وجہ سے پاکستا نی ما رکیٹ چین کیطر ف رسا ئی میں پیچھے ہے۔ اس با ت کا اظہار ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر وچیئر مین بجٹ ایڈوائز ری کو نسل ایف پی سی سی آئی سید مظہر علی نا صر پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ (ایف ٹی ای) گول میز کا نفر نس کے مو ضو ع پر فیڈریشن ہا ئوس کراچی میںکیا۔

اس گول میز کا نفر نس کو ویڈیو لنک کے ذریعے ایف پی سی سی آئی کے لاہو رآفس ،کیپٹل آفس اسلا م آباد سے بھی چلا یا جا رہا تھا ۔

(جاری ہے)

اس کا نفر نس میں بھا ری تعداد میں اسٹیک ہو لڈر، ٹر یڈرز ، اکیڈمک ، ممتا ز بز نس میں جس میں سارک چیمبر آف کامرس کے سنیئر نائب صدر افتخار علی ملک، ڈاکٹر اختیار بیگ، کیپٹن عبدالرشید ابڑو ، زاہد عمر وغیر ہ شامل تھے جنہو ں نے چیئر پر سن کی تمام تجا ویز سے اتفاق کیا ۔

سارک چیمبر آف کامرس کے سنیئر نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ ٹیر یف میں تبدیلیا ں چین کی جانب براآمد ت کم ہو نے کا سبب ہے ۔ اگر اس چیز کو نظر انداز بھی کر دیا جا ئے کہ کا ٹن یا رن کی پیداوار میں کمی جو ملک کے سامنے حائل ہے ۔ پاکستا ن سے چین کی طر ف بڑا ایکسپورٹ کا ٹن یارن اور فیبر ک ہے ، غیر متوازن سپلا ئی جو پاکستا ن کیطر ف سے ہو رہی ہے اسے اب ویتنا م اور بھارت نے پر کر دیا ہے ۔

پہلے ایف ٹی اے کے بعد خام مال اور سیمی فنشڈاشیاء بھی ہیں مگر اس کے با وجو د چین پاکستانی اشیا ء کی برآمد کیلئے تیزی نہیں دکھا تا۔ انہوں نے کہاکہ یہ وقت کی ضروت ہے کہ تحقیق اور ڈویلپمنٹ سے زرعی سیکٹر میں فی ایکڑ پیداواری صلا حیت میں اضا فہ کر ایا جا ئے اور یہی وہ طر یقہ کا ر ہے کہ ہما ری پیداوار ی صلا حیت اور ایکسپو رٹ کی بنیا د بڑ ھ سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستا ن ایک زرعی ملک ہے اور اس کو اپنی کو الٹی اور مقدار اپنے زرعی پیداور سبزیا ں ، چاول کا ٹن اور شو گر میں بڑھا نا چا ہیے ۔ کانفرنس کے معزز شر کا ء نے کہاکہ پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ (ایف ٹی اے ) پر دستخط نہ کر کہ ٹریڈر انڈ سٹر ی کو بڑ اریلف ملا ہے اور اس سے پاکستان کے کمز ور انڈ سٹر یل سیکٹر کی پر یشانیا ں دور بھی ہو تی ہیں ۔

اور انڈ سٹر یل سیکٹرکی ڈویلپمنٹ معاشی خو د کفالت اور مطلوبہ مقا صد ھاصل کر نے کیلئے ضروری ہے ۔ شرکاء نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہو لڈر کو پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ (ایف ٹی اے ) کو تمام سفارشات کو طے کر تے وقت اعتماد میں لینا چا ہیے۔ شرکا ء نے زور دیتے ہو کہاکہ پاکستا ن ایک تر قی پز یر ملک ہے اور اس کی صنعتی بنیا د چین کے مقا بلے میں کم ہے لہذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پاکستان کی صنعتی گروتھ کو تحفظ دیا جا ئے کیونکہ یہ سیکٹر پہلے ہی سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ۔

نو مبر 2006میں ایف ٹی اے آیا ہے پاکستان کا توازن تجا رت چین کے مقا بلے میں کمز ور ہوگیا ہے اور دو نو ںکے درمیان با ہمی تجا رت 2015-16تک 19بلین ڈالر کی کمی جس میں چین کی امپورٹ 16.5بلین تھی جبکہ صر ف 2.5بلین تجا رتی خسارہ 14بلین ڈالر کا تھا جو پاکستان کی کل ایکسپورٹ 30 بلین ڈالر کے قریب تک پہنچ گیا ہے ۔ جبکہ پاکستان کی ایکسپورٹ چین کی طرف زرعی انڈ سٹر یل سیکٹر کو بڑاھا سکتی ہتے۔

شر کا ء نے مز ید کہاکہ پاکستان اور چین نے 2011سے ہی پاکستان چین ایف ٹی اے 2کے متعلق مذاکرت شر وع کر دیئے تھے ۔ اب تک 10 ویں مر تبہ اس سلسلے میں میٹنگ ہو چکی ہے ۔ چین اب تک پاکستانی تاجروں کوان ایکسپورٹ آئٹم تک رسائی نہیں دے رہا جو کہ اسلام آباد کے مفاد میں ہے۔شر کا ء نے مز ید کہاکہ پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ (ایف ٹی اے ) کیلئے سفا رشات مراتب کی ہیں جس سے پاکستان کی معیشت تر قی کر سکے اور توازن امپورٹ اور ایکسپورٹ کو قائم رکھنے کے لیے اقدامات ہو نے چا ہیے اور پاکستان کے تجا رتی کاخسارہ کو کم ہو نا چاہیے پاکستان کو ایف ٹی اے سے صر ف 4فیصد فا ئد ہ ہو رہا ہے جبکہ چین کو 64فیصد فا ئد ہ ہو ا ہے ۔

پاکستان کو پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ (ایف ٹی اے ) 2کے فیز پر دستخط کر نے سے پہلے دیگر آئٹم جو چین کو ایکسپورٹ ہو رہے ہے انہیں وہی ٹر یف دینا چا ہیے جو چین سے ASEANٹیر یف کو ہیں ۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ چین کو رعایت دیتے ہو ئے پاکستانی اشیاء کو ASEANٹیر یف کے برابر کی سطح ہو نا چا ہیے ۔ پاکستان کو ASEAN 10 ممالک کی ٹیر یف لا ئن کے برا بر ہو نی چا ہیے اگر یا ممکن نہ ہو کہ پاکستان ASEANکا ممبر ہو ں ۔

بھارت نے پہلے ہی سیASEANکی ٹیر یف پر دستخط کیئے ہو ئے ہیں ۔ پاکستان کو فوری طو ر پر اپنے قیمتی اشیاء ، جیمزاسٹون ، ما ربل، کا ٹن کو چین کیطر ف روک دینا چا ہیے اور چین سے طے ہو نا چا ہیے کہ وہ اپنے مینو فیکچرنگ یو نٹس پاکستان میں قا ئم کر ے جس سے پاکستانی اشیاء کی اور انڈ سٹر ی کی قدر اور آئٹم کی قدر میں اضا فہ اور تر قی ہو گی ۔ پاکستان کو چین سے ٹیکنالو جی ٹر انسفر کا معاہد ہ بھی کر نا چا ہیے ۔ زرعی تحقیق سینٹر لا زمی قائم ہونا چا ہیے تا کہ با ئیو ٹیکنالو جی زرعی پیداوار کے لیے حاصل ہو اور کامیاب نتیجہ حاصل ہو ۔ تما م اسٹیک ہو لڈرز کو تمام معاملا ت سفارشات کا پاک چین فر ی ٹر یڈ ایگر یمنٹ کیلئے اعتماد میں لیا جائے۔

Your Thoughts and Comments