فری ٹریڈ ایگریمنٹ سمیت تمام معاہدوں پر نظرثانی ہونی چاہیے سب کو سرمایہ کاری کے برابر کے مواقع فراہم کئے جانے ضروری ہیں عرفان وہاب

بین الاقوامی اور قومی سطح پر اپنے ممبران کے تجربوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فوائد کو اجاگر کرنے میں حکومتِ پاکستان کی مددکرنے کیلئے تیار ہے، او آئی سی سی آئی کے صدر کا خصوصی انٹرویو

فری ٹریڈ ایگریمنٹ سمیت تمام معاہدوں پر نظرثانی ہونی چاہیے سب کو سرمایہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 ستمبر2018ء)اوور سیز انویسٹرز چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری)(او آئی سی سی آئی ) کے صدر عرفان وہاب نے کہا ہے فری ٹریڈ ایگریمنٹ سمیت تمام معاہدوں پر نظرثانی ہونی چاہیے سب کو سرمایہ کاری کے برابر کے مواقع فراہم کئے جانے ضروری ہیں او آئی سی سی آئی بین الاقوامی اور قومی سطح پر اپنے ممبران کے تجربوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فوائد کو اجاگر کرنے میں حکومتِ پاکستان کی مددکرنے کیلئے تیار ہے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم اعلیٰ معاشی اور سرمایہ کاری کے مواقعوں کے بارے میں پرامید ہیں۔

جون 2018میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان کیئے جانے والے اوآئی سی سی آئی سیکیورٹی سروے میں سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کی ہے۔

(جاری ہے)

2014کے بعد سے پاکستان میں غیر ملکیوں کی آمد میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور متعددملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہوں اور غیر ملکی اسٹاف نے پاکستان کے دورے کئے۔

عرفان وہاب نے بتایا کہ اوآئی سی سی آئی کے ممبران کی جانب سے اپنے کاروبارکو توسیع دینے کیلئے ملک میں 2.7ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی۔2017میں او آئی سی سی آئی ممبران کی جانب سے کی گئی یہ سرمایہ کاری گذشتہ سال کے مقابلے میں بیس فیصد زیادہ تھی جس کو زیادہ تر توانائی ، کیمیکل اور ٹیلی کام کے شعبوں میں صرف کیا گیا تھا۔او آئی سی سی آئی کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور حال ہی میں سرمایہ کاروں کے نقطہ? نظر سے متعلق منعقد کئے گئے سروے میں چیمبر کی190میں سے 130ارکان نے حصہ لیاجن کے اثاثوں کی کل مالیت 90ارب ڈالر ہے جبکہ 2017میں ان کمپنیوں کا ریوینیو 30ارب ڈالر تھا۔

اوآئی سی سی آئی کے صدر عرفان وہاب خان نے کہا کہ ایک بار پھر اوآئی سی سی آئی ممبران ملک کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہوں نے 2017میں دس کھرب روپے سے زائد کا ٹیکس ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ 2017کا سروے پاکستان میں موجود غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے جو پاکستان کے اعلیٰ معاشی اور سرمایہ کاری کے مواقعوں کے بارے میں پرامید ہیں۔

موجودہ حکومت کو پیش کی گئی سفارشات سے متعلق عرفان عہاب نے بتایا کہ اوآئی سی سی آئی کے 190ممبران کے مشترکہ نقطہ? نظر کے مطابق نئی حکومت کو جلداز جلد ملکی صلاحیت کے مطابق ٹھوس ترقی اور ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے جرا?ت مندانہ اقدامات کرنے ہوں گیانیوں نے بتایا کہ اوآئی سی سی آئی ممبران نے ایف بی آراور ٹیکس کے معاملات میں اصلاحات اورقرضوں کی ادائیگی جیسے معاملات پر واضح پالیسی کے ذریعے کاروباری اعتماداور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کوفروغ دینے اور کاروبار کو آسان بنانے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی سفارش کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اوآئی سی سی آئی پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے بارے میں پرامید ہے۔او آ ئی سی سی آئی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کے علاوہ حکومت کی جانب سے ترقی پر مبنی اقتصادی اور تجارتی پالیسیاں بنانے سے ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور مسابقتی ماحول میں اضافہ کیا جاسکتاہے۔ ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ بھی ملکی معیشت کو نمایاں طورپر مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ملک میں کاروبار میں آسانی ، شفافیت میں اضافہ، گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اور گورنمنٹ ٹوسیٹیزن خدمات کے مقاصد کے ساتھ پاکستان کو ڈیجیٹل پاکستان میں تبدیل کرنے کے بھی بہت زیادہ مواقع موجودہ ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر خدمات اور برآمدی شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔عرفان وہاب خان نے بتایا کہ او آئی سی سی آئی بین الاقوامی اور قومی سطح پر اپنے ممبران کے تجربوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فوائد کو اجاگر کرنے میں حکومتِ پاکستان کی مددکرنے کیلئے تیار ہے ۔

Your Thoughts and Comments